0
Wednesday 24 Jul 2019 11:37
اب کشمیر پر عالمی ضمیر خاموش نہیں رہیگا

عمران خان نے امریکہ پر واضح کر دیا کہ پاکستان ایران کیخلاف ہر قسم کی مہم جوئی کیخلاف ہے، فرخ حبیب

امریکہ میں وزیراعظم مرعوب نہیں ہوئے بلکہ سب کو متاثر کیا ہے
عمران خان نے امریکہ پر واضح کر دیا کہ پاکستان ایران کیخلاف ہر قسم کی مہم جوئی کیخلاف ہے، فرخ حبیب
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی فرخ حبیب پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی رہنماء ہیں۔ 2018ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے رکن ہیں۔ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دوران مسئلہ کشمیر، افغانستان اور امریکہ ایران کشیدگی سمیت زیر بحث آنیوالے امور اور عمران خان کے دورہ امریکہ کے اثرات سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: وزیراعظم کے دورہ امریکہ کی سب سے بڑی خصوصیت کیا رہی، جس سے کہا جا سکے کہ انہیں کامیابی ملی ہے؟
فرخ حبیب:
سب سے پہلے تو یہ تاثر تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہاء ہے، پاکستان پرامن ملک نہیں، نہ ہی دنیا میں امن چاہتا ہے، جس وجہ سے پاکستان کی معاشی صورتحال خراب ہو چکی ہے، لیکن عمران خان کے دورہ امریکہ سے یہ تاثر زائل ہوا ہے، اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت کو کشمیر پر اپنے موقف سے ہٹنا پڑیگا۔ کیونکہ پاکستان کے حوالے سے بھارت کا رویہ ہمیشہ منفی رہا ہے، بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جائے، 24 سے 72 گھنٹوں کے دوران پاکستان نے امریکہ کے ساتھ نہ صرف تعلقات استوار کیے، بلکہ بھارت کی جو کوشش رہی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں توقعات سے زیادہ کامیابی ملی ہے، اس دورے سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے، دونوں ممالک میں اعتماد بڑھے گا۔

وزیر اعظم کے ساتھ ملٹری قیادت کے ہونے سے امریکی خوش ہیں، اب وعدے صرف وعدے نہیں رہیں گے، بلکہ ان پر عمل بھی ہوگا، امریکہ نے اسے مثبت انداز میں دیکھا ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ عمران خان کے دورے سے ایک طویل المعیاد عمل کا آغاز ہوا ہے، یہ نکتہ آغاز ہے، چونکہ اب منظر بدلنے میں ایک طویل وقت لگے گا، لیکن اس میں بے یقینی کی کوئی کیفیت نہیں ہوگی، سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ ٹرمپ اور عمران خان کے درمیان ذاتی طور پر بغیر کسی الجھن کے بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی ایشو ہو اس پر دونوں شخصیات کے درمیان براہ راست بات ہو سکتی ہے، آئندہ کی پیش رفت کیلئے اچھی بنیاد ثابت ہو گی، ورنہ معاملات بیوروکریسی کے درمیان جا کر الجھ جاتے ہیں، مجھ ایسا لگ رہا ہے کہ اب دونوں رہنماؤں کے درمیان اس حد تک ذہنی ہم آہنگی پیدا ہو گئی ہے کہ وہ آپس میں طے کردہ یا زیربحث آنیوالے امور پر پیش رفت کا جائزہ لیتے رہینگے۔

اسلام ٹائمز: مریم نواز نے کہا تھا کہ عمران خان فوجی قیادت کیساتھ دورے پر جا رہے ہیں، جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ وہ سیلیکٹڈ وزیر اعظم ہیں، کیا کہیں گے؟
فرخ حبیب:
یہ شاید لوگوں کو معلوم نہیں کہ عمران خان کا حالیہ دورے سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے آرمی چیف سے بات کی تھی کہ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کو کیسے کامیاب بنایا جاسکتا ہے، یہ بات چیت کئی گھنٹوں جاری رہی، پھر آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ وزیراعظم سے ملے، امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے آرمی چیف سے بات چیت کی وجہ مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ پاکستان کیلئے امریکہ میں یہ تاثر ہے کہ خارجہ پالیسی اور خارجہ امور بالخصوص امریکہ کیساتھ تعلقات کے متعلق فیصلوں میں پاک آرمی زیادہ موثر ہے، لیکن آرمی چیف، وزیراعظم اور وزیرخارجہ سمیت انکی کابینہ نے عمدہ ٹیم ورک کیا، جس کی وجہ سے امریکیوں کو یہ تاثر ملا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے، جس سے پاکستان کو اپنا موقف پیش کرنے، سمجھانے اور نتیجے تک پہنچنے میں آسانی ہوئی، دو ملکوں کے درمیان اعتماد کا جو فقدان تھا وہ ختم ہوا ہے۔ مزید بھی اس میں بہتری آئیگی۔ اسکی تعریف
بلاول بھٹو نے بھی کی ہے۔ جو خوش آئند ہے، نون لیگ اب کرپٹ سیاستدانون کا ٹولہ ہے، جو منفی کردار ادا کر رہا ہے۔

عمران خان کے دورے میں نواز شریف کے دورے میں بڑا فرق یہی ہے کہ عمران خان چونکہ پاکستان کی بات کرتے ہیں تو سب کو ساتھ لیکر چلتے ہیں، سچی بات کرتے ہیں تو سب اعتماد کرتے ہیں، کسی غیرملکی طاقت کا سہارا نہیں لیتے، جس سے شکوک شبہات پیدا نہیں ہوتے، نواز شریف نے کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں بنایا، انہیں پاکستان کا مفاد عزیز ہی نہیں تھا، اس لیے وہ دوسرے ملکوں کیساتھ تعلقات کو بھی اپنے ذاتی مفاد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے، بطور وزیر اعظم انہوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا، فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کو نقصان پہنچایا اور پاکستان کو کمزور کیا، جس سے امریکہ سمیت تمام ملکوں کیساتھ ہمارے تعلقات میں غلط فہمیاں بڑھ گئیں، تعلقات نچلی ترین سطح پہ چلے گئے۔ نواز شریف کے غلط رویے کی وجہ سے پاکستان اورامریکہ کے تعلقات میں خرابی دونوں ممالک کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بدگمانیاں تھیں، پینٹا گان اور جی ایچ کیو، سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان بدگمانیوں نے جنم لیا، جنہوں نے دونوں ممالک میں دوریاں پیدا کیں۔

پاکستان میں سیاسی قیادت میں تبدیلی کے ساتھ جس طرح سول ملٹری قیات ایک صفحہ پر اکٹھی ہوئی ہے، جس طرح سول اور ملٹری قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کو مسلح جتھوں سے آزاد کروانا ہے، اس نے پاکستان کے امیج کو بہتر کیا، امریکہ نے اس کو نوٹس کیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پینٹا گون کو انگیج کیا اور پاکستان کیخلاف بدگمانیوں کو دور کیا، آرمی چیف نے ٹھوس دلائل سے امریکی بدگمانیوں کو دور کیا ہے، ان کوششوں کا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری لانے میں اہم کردار ہے، پاکستان میں صاف ستھری حکومت ہوگی، منی لانڈرنگ سے چھٹکارا پایا جائے گا، مسلح جتھوں سے پاکستان کو پاک کیا جائے گا، ان یقین دہانیوں نے دونوں ممالک میں اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ عمران خان نے اپنی جگہ صدر ٹرمپ اور امریکی کانگریس اور سیکرٹری خارجہ سے دٹوک اور واضح انداز میں بات چیت کی ہے، اس کے اثرات دور رس ہونگے۔ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا رکھنے کی سازش کرنے والوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ مخالفین کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔ وزیراعظم عمران خان پاکستان کی ترقی، خوشحالی کیلئے نئی سوچ اور نئے وژن کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے، مسئلہ کشمیر کا بھی ذکر کیا گیا ہے، لیکن بھارت کا ردعمل بڑا سخت آیا ہے، عمران خان اس حوالے سے کیا کرینگے؟
فرخ حبیب:
چونکہ عمران خان نے پہلے بھی سچے دل کیساتھ بھارت کو بات چیت کی پیشکش کی تھی، پلوامہ واقعہ کے بعد انہوں نے اسوقت بھی کہا کہ بھارت یہ بات سمجھے کہ کشمیری بھارت کا حصہ نہیں رہنا چاہتے، وہی بات انہوں نے پوری صداقت اور جرات کیساتھ امریکہ میں بھی کہی کہ جس نوجوان نے پلوامہ میں حملہ کیا وہ کشمیری تھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کشمیری انڈیا سے آزادی چاہتے ہیں، امریکہ سمیت دنیا کو یہ بات سمجھنی چاہیے، یہ عمران خان کی طرف سے امن کی خواہش کے اظہار کیساتھ کشمیر پر بات چیت کا ذکر تھا، جس کی وجہ سے صدر ٹرمپ نے خود کہا کہ کشمیر پہ ثالثی کروانے کیلئے تیار ہیں۔

پاکستان کو عالمی سطح پر یہ بڑی کامیابی صرف اس وجہ سے ملی ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے دلیری سے بلا خوف خطر یہ کہا ہے دنیا کشمیر اور پاکستان کی صورتحال اور موقف کو درست طور پر نہیں جانتی، نہ ہی پہلی حکومتوں نے یہ کام کیا ہے، بلکہ مختلف بہانوں
سے سارا ملبہ فوج اور غیرریاستی گروہوں کے متعلق پاکستانی قیادت کے درمیان موجود اختلاف کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہے ہیں، کیونکہ دنیا میں جب بھی کشمیر پہ بات چیت ہوتی ہے تو وہ جہادی تنظیموں اور بھارتی پروپیگنڈے کی وجہ سے تحریک آزادی اور دہشت گردی کو مخلوط کر کے پیش کیے جانے کی وجہ سے ابہام سامنے آتا تھا، اسے بڑی وضاحت سے دور کر دیا گیا ہے، جس کے بعد عالمی ضمیر کشمیر کی صورتحال پہ خاموش نہیں رہیگا۔ اب بھارت میں مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس پر پاکستانی میڈیا کو کشمیر پر تیسرے فریق کی ثالثی سے متعلق مودی کے موقف کی تائید کرنی چاہیے۔

اسلام ٹائمز: ایران پاکستان کا پڑوسی اسلامی ملک ہے، کیا وزیراعظم کے امریکہ ایران کشیدگی کے متعلق موقف سے خطے کے حالات پر اثر پڑیگا؟
ٖفرخ حبیب:
دیکھیں اسوقت امریکہ کو پاکستان کی سخت ضرورت ہے، اگر اس میں ذرا بھی شک ہوتا تو ٹرمپ انتظامیہ باقاعدہ تیسرے فریق کے ذریعے پاکستانی وزیراعظم کو امریکہ کے دورے کیلئے نہ بلاتی، اس کا مطلب ہے پاکستان کی پوزیشن بہت بہتر ہوئی ہے، پاکستان کی پوزیشن کو نظرانداز نہیں کیا جائیگا، پھر کشمیر، افغانستان اور امریکہ ایران کشیدگی کے متعلق عمران خان بنیادی موقف ایک ہی ہے کہ امن ہو، تنازعات کو مذاکرات اور بات چیت سے حل کیا جائے، جس کے لیے انہوں نے اپنی کوششوں کا بھی ذکر کیا ہے کہ ایران کیساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں، ان کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب تھے اس دوران سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کی، اس دوران سعودی عرب اور ایران کیساتھ مسائل ہیں، پاکستان اس مسئلہ پر ثالثی کر سکتا ہے۔ ایران تنازع کے فریق ملکوں کو معاملے کی سنگینی کا ادراک ہونا چاہیے۔

ہمسایہ ملک کے تنازع سے پاکستان زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کچھ لوگ ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں، ہم افغانستان کیساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتے ہیں، کچھ عرصہ قبل افغان صدر اشرف غنی بھی پاکستان آئے تھے، ہم امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس بار پاکستان، امریکا سمیت تمام لوگ ایک پیج پر ہیں کہ طالبان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہمیں مذاکرات کرنا ہونگے۔ واپس جا کر طالبان سے ملوں گا اور افغان حکومت کیساتھ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرینگے۔ کچھ لوگ مذاکرات سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ان میں ہمسایوں کا تعلق ہے۔ ظاہر ہے اس سے مراد بھارت ہے، جو افغانستان کے حالات خراب رکھنا چاہتا ہے، عمران خان کو یہ بھی پتہ ہے کہ امریکہ بھارت کو استعمال کر رہا ہے، اس کے باوجود انہوں نے جراتمندی اور بغیر کسی لگی لپٹی کے کھل کر بات کی ہے۔

اسلام ٹائمز: ماضی کے تجربات اور واقعات یہ بتاتے ہیں کہ کچھ وعدے وعید اور معاہدے سامنے نہیں لائے جاتے، کیا اس دفعہ بھی گزرتے وقت کیساتھ منفی انکشافات ہونگے، یا یہ امریکہ اور ایران کیساتھ پاکستان کے تعلقات کے متعلق حتمی موقف ہی ہوگا؟
فرخ حبیب:
میں یہ بات سمجھ رہا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو ایران کیخلاف تعاون کیلئے آفر دی ہو یا دباؤ ڈالا ہو لیکن اس پر پاکستان کو موقف چھپائے رکھنے کی ضمانت دی ہو کہ اندر خانے کوئی سازش رچائی جا رہی ہو اور عمران خان نے جو بیانات دیئے ہیں یہ ظاہری طور پر کسی خفیہ ڈیل سے مختلف ہوں، ایسا نہیں ہے، نہ ہی ایسا ہوگا، ہم جانتے ہیں کہ اسوقت پاکستان کو بھی معاشی طور پر پریشر کا سامنا ہے، عالمی اداروں کی باگ ڈور امریکہ کے ہاتھ میں ہے، اس کے باوجود عمران خان نے امریکی قیادت، قانون سازوں اور امریکی میڈیا کو یہ بتایا ہے
کہ افغان امن کا تعلق صرف امریکہ اور پاکستان سے ہی نہیں، بلکہ ایران سمیت خطے کے پورے ممالک کیساتھ ہم اچھے تعلقات چاہتے ہیں، اس سے امریکہ کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستان کا ایران کے متعلق کیا موقف ہے، کہ پاکستان کسی قیمت پر ایران کیخلاف نہیں جائیگا، نہ ہی ایران کیخلاف کسی جارحیت کو پسند کرتا ہے، بلکہ مضبوط تعلقات چاہتا ہے، گرمجوشی پیدا کرنا چاہتا ہے، تجارت بڑھانا چاہتا ہے، کسی صورت میں ایران کیساتھ تعلقات کو کمی کی سطح پہ نہیں لانا چاہتا۔ ایران کیساتھ امریکہ کے تنازع کو خطے کے امن کیلئے خطرہ تصور کرتا ہے۔

اسکا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ایران کیساتھ جنگ ہو گی تو اس سے پوری دنیا کا امن تہہ و بالا ہو جائیگا۔ میرے خیال میں اتنی جرات کسی پاکستانی سیاستدان میں نہیں کہ وہ اس طرح کھل کر ایران کی حمایت میں بات کرسکیں، امریکہ سے کہہ سکیں کہ چاہے سعودی عرب نے ہماری امداد کی ہے لیکن ایران کیساتھ سعودیہ کے تنازعات کے باوجود پاکستان نے ایران کیساتھ تعلقات خراب نہیں کیے، عمران خان نے ایران کیساتھ تعلقات کو تقویت اور وسعت دینے پر زور دیا ہے۔ جس طرح مسئلہ کشمیر پہ وہ بھارت کو پرامن حل کی دعوت دیتے ہیں، عمران خان ایک پرعزم انسان ہیں، جب انہون نے امریکہ میں بیٹھ کر ایران کو اہم ملک قرار دیا اور پاکستان جو اہمیت ایران کو دیتا ہے اس کی بات کی اور ایران کیخلاف کسی بھی قسم کی جنگ کو خطے اور دنیا کیلئے بھیانک قرار دیا، اس سے امریکیوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے عمران خان نے چین کیساتھ تعلقات پر دوٹوک انداز میں موقف پیش کیا۔ جو بھی بات چیت ہوئی ہے اسکا دائرہ کار افغان امن عمل ہی تھا۔

اسلام ٹائمز: کیا عمران خان کے دورہ امریکہ اور وہاں پیش کیے گئے موقف سے کشمیر، افغانستان اور امریکہ ایران کشیدگی کی وجہ سے جو جنگ کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں یہ چھٹ جائینگے اور خطہ پرامن ہو جائیگا؟
فرخ حبیب:
یہ کہنا قبل از وقت نہیں، جس انداز میں عمران خان کا کردار ابھر کر سامنے آیا ہے، شاید ہی کوئی پہلو ہو جسکا تعلق پاکستان، پاک امریکہ تعلقات، ایران امریکہ کشیدگی، پاک بھارت تعلقات، افغانستان امن عمل سمیت پاکستان یا خطے سے ہو، جسکا ذکر عمران خان نہ کیا ہو، میں سمجھتا ہوں انہوں نے یہ جو کہا ہے کہ پاکستان کی پوزیشن اور پاکستان کی حقیقی صورتحال اس سے پہلے کبھی دنیا کو بتائی ہی نہیں گئی، اسکا مطلب ہی یہی ہے کہ پاکستان اپنی اہم جیواسٹریٹیجک پوزیشن کی وجہ سے دنیا میں جو کردار ادا کر سکتا ہے، اسے سمجھا ہی نہیں گیا، لیکن اب جس مضبوط انداز میں عمران خان نے امن کی بات کی ہے، ترقی کی بات ہے، اور اس میں حائل رکاوٹوں کو بیان کرتے ہوئے، ان مسائل کا حل بیان کیا ہے۔

اسکو اچھے انداز میں سنا گیا ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے اس طرح پاکستان کا بیانیہ بیان کیا کہ امریکہ کا بیانیہ بہت حد تک پاکستان کے حق میں تبدیل ہو گیا ہے۔ دوطرفہ تعلقات میں بگاڑ تھا، اب سدھار آئیگا، ٹرمپ کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ وہ پتہ نہیں کیا کہیں اور عمران خان مشتعل ہو کر کچھ بھی کہہ دینگے، لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہوا ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرمپ عمران خان سے مل کر مبہوت رہ گئے، عمران خان کی باڈی لینگوئج بھی بتا رہی تھی، انہوں نے ازحد اعتماد کیساتھ بات کی ہے، انکی بات کو رد کرنا امریکہ اور دنیا کیلئے آسان نہیں ہوگا۔ امریکہ جس زبان میں بات سمجھتا ہے، سفارتی آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے عمران خان نے اسی زبان میں بات کی ہے۔ نواز شریف کے برعکس وہ مرعوب ہونیوالے نہیں بلکہ انہوں نے سب کو مرعوب اور متاثر کیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 806729
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے