0
Sunday 28 Jul 2019 21:13

ہجومی تشدد کیخلاف اگر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں، پروفیسر بھیم سنگھ

ہجومی تشدد کیخلاف اگر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں، پروفیسر بھیم سنگھ
جموں و کشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کے چیئرمین پروفیسر بھیم سنگھ کا تعلق جموں و کشمیر کے ان ماہرینِ سیاست سے ہے، جنہوں نے ہر سطح پر حق گوئی کا سہارا لیکر میدان سیاسیات میں اپنا لوہا منوایا ہے، پروفیسر بھیم سنگھ 45 برسوں سے عرب ممالک کے سیاسی عمل سے وابستہ ہیں، نیشنل انٹگریشن کونسل کے رکن اور ہند عرب یکجہتی کونسل کے چیئرمین پروفیسر بھیم سنگھ نے ملک شام کے سنگین حالات کا قریب سے جائزہ لیا ہے، اسلام ٹائمز کے نمائندے نے پروفیسر بھیم سنگھ کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: بھارت بھر میں ہندو انتہاء پسندوں کیجانب سے اقلیتی طبقے خاص طور پر مسلمانوں کو ہجومی تشدد کا شکار کیا جا رہا ہے، اس پر آپ کیا کہنا چاہیں گے۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ:
ہجومی تشدد اور قتل و غارتگری کے واقعات کا یہ پہلو انتہائی تشویشناک ہے کہ بعض انتہاء پسند عناصر زور و زبردستی اور تشدد سے مذہبی نعرے لگواتے ہیں۔ تبریز انصاری کا واقعہ ہو یا ضلع اُناؤ (یوپی) کے مدرسہ کے بچوں کا واقعہ ہو یا مظفر نگر کے اخلاق الرحمٰن کا واقعہ ہو، اس طرح کے بے شمار واقعات انتہائی افسوسناک ہیں۔ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے ہم بطور ہندو بہت شرمندہ ہیں۔ ماب لینچنگ Mob Lynching کے واقعات کی کسی بھی مذہب میں کوئی بھی اجازت ہرگز نہین ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو اس حوالے سے سوچنا چاہیئے، اگر وہ کوئی کارروائی نہیں کرتے ہیں تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: بھارت میں حالیہ انتخابات میں بی جے پی کی واضح اکثریت کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ:
دیکھیئے مبصرین کا ماننا ہے کہ حالیہ الیکشن صاف شفاف نہیں ہوئے۔ بھارت کی تاریخ کا پہلا الیکشن ہے، جس میں سب سے زیادہ الیکشن کمیشن کے رویئے اور کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے۔ ای وی ایم کے تئیں بھی اب تک عوام کا شک اور تذبذب برقرار ہے۔ عام عوام کا ماننا ہے کہ ہمارے حق رائے دہی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے عوام کے درمیان پائی جانے والی بے چینی کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا، جس سے عوام کا شک دور ہوسکے اور انہیں لگے کہ واقعی یہ انتخابات صاف ستھرے ماحول میں منعقد ہوئے ہیں۔ بہرحال اب تبدیلی ممکن نہیں ہے لیکن الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اپنا وقار کھویا ہے۔ ایک آئینی اور خود مختار ادارہ ہونے کا فرض نبھانے سے کمیشن قاصر رہا، جو جمہوریت کے لئے بہتر نہیں ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیئے کہ نریندر مودی اور امت شاہ نے ان تھک محنت اور جارحانہ انتخابی مہم چلائی، جس کے مقابلہ میں حزب اختلاف جماعتوں نے انتہائی کمزوری، سستی اور انتشار کا ثبوت دیا۔ اس کے علاوہ مین اسٹریم میڈیا نے بھی بھاجپا کے پروپیگنڈے میں برابر کا ساتھ نبھایا۔

اسلام ٹائمز: بھارت کے علاوہ بھی اگر دیکھا جائے تو دنیا بھر مین مختلف شکلوں میں ظلم و ستم عیاں ہے، اس پر آپ کیا رائے رکھتے ہیں۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ:
بھارت کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں جو حالات ہیں اور انسانیت جس سطح پر پہنچ گئی ہے، اخلاقی قدریں جس طرح سے مٹتی جا رہی ہیں، انسانیت کا خون جس طرح بہہ رہا ہے، انسان انسانیت کے مقام و مرتبہ کو چھوڑ کر حیوانیت اور درندگی کے جس مقام پر پہنچ گیا ہے، اس کا نقشہ کھینچنا بھی دشوار اور مشکل ہے۔ ہر جگہ جنگل راج اور لاقانونیت کا ماحول ہے، دنیا جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی مصداق بنی ہوئی ہے۔ آج اگر کہیں قانون اور ضابطہ ہے تو وہ صرف کمزور طبقے کے لئے ہے۔ ایسے میں معاشرے کے ذمہ داروں کو بھی اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیئے۔ اگر ہم اپنا محاسبہ کریں گے تو ظلم و ستم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہماری تمنا ہے کہ پوری دنیا امن و شانتی اور محبت و آشتی کا گہوارہ بن جائے۔

اسلام ٹائمز: مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی درجے دفعہ 370 کیخلاف بھارتی حکومت سازشیں رچا رہی ہے، اس قانون میں ترمیم کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ:
میرا ماننا ہے کہ دفعہ 370 کو عارضی طور پر بھارت کے آئین میں جوڑنا جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ دفعہ 35 اے ایک غیر قانونی قدم تھا۔ بھارتی صدر کو بھارتی آئین کے تحت ایسا قانون بنانے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ میری نظر میں دفعہ 370 کی وجہ سے جموں و کشمیر کے عوام کو بھارت کے آئین میں مراعات سے محروم رکھا گیا۔ جی ہاں، دفعہ 35 اے سے جموں و کشمیر میں رہنے والے لوگوں کو ان کے انسانی حقوق سے آج تک محروم رکھا گیا ہے۔ یہ معاملہ آج پھر بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں دہلی کی حکومتیں لوگوں کو بھیڑ بکری سمجھ کر ان کے انسانی حقوق پر چھاپہ مارتی رہی ہیں۔ جموں و کشمیر پنتھرس پارٹی نے اس بات کا عہد کر رکھا ہے کہ وہ کشمیری عوام کو انسانی حقوق دلانے کے لئے قانونی جنگ جاری رکھے گی۔

اسلام ٹائمز: بابری مسجد، رام مندر یا تین طلاق کے نتیجے میں بھارتی مسلمانوں کی صورتحال کیا ہے اور مسلمانوں کو ایسے صورتحال میں کیا لائحہ عمل اپنانا چاہیئے۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ:
بابری مسجد اور تین طلاق وغیرہ ایسے مسائل ہیں، جن کی آڑ میں بے شک اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ ان ایشوز پر مسلمانوں کو بڑی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ گائے کی آڑ میں بھاجپا کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد مسلمان نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اس پر زوردار انداز میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے اور لوگوں کے سامنے یہ بات بھی لانے کی ضرورت ہے کہ گائے کے گوشت اور دوسرے جانوروں کی کھال کے بڑے بڑے بیوپاری کون ہیں۔ ملک سے باہر ان کو بڑے پیمانہ پر کون سپلائی کرتا ہے۔ اس کے لئے مسلمانوں کو بڑے پیمانہ پر عام ہندوؤں سے قربت اختیار کرنی پڑے گی اور بند کمروں میں رہنے کی عادت کو ترک کرنا ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف مشترک ایشوز پر مسلمان ہندو سماج کے لیڈروں سے بات کریں۔

اسلام ٹائمز: کہا جارہا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کو عسکریت پسندی کیجانب زبردستی دھکیلا جا رہا ہے، انہیں تشدد کی راہ چننے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے، آپ اس حوالے سے کیا رائے رکھتے ہیں۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ:
میں آپ کے ذریعے سے کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ بندوق کا راستہ چھوڑ کر خود سپردگی کریں۔ بندوق کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ میں یہ بھی کہتا چلوں کہ بھارت کے حکمرانوں کو کشمیریوں کے حالات کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔ کشمیری مسلمانوں نے بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کے حق میں اور 1947ء سے لے کر آج تک ملک کے لئے قربانیاں پیش کی ہیں، ان کو بھی یاد رکھنا چاہیئے۔ جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کا جو الحاق بھارت کے ساتھ کیا تھا، اس کو بھارتی حکومت نے آج تک قبول نہیں کیا ہے۔ میں جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ اپنے بچوں کو سنبھالیں اور نوجوان بندوق کا راستہ چھوڑ دیں، بندوق مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ میں بھارتی حکمرانوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ جموں و کشمیر میں تین ماہ کے لئے پُرامن ماحول بناکر فائر بندی کریں، پھر میں اکیلا کشمیر جانے کے لئے تیار ہوں۔ پھر میں خود کشمیری نوجوان سے بات کرنے جاؤں گا۔
خبر کا کوڈ : 807008
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب