0
Friday 26 Jul 2019 12:53
جج کی ویڈیو تیر باہدف ثابت ہوئی

قاتل امریکی فوج کے غیر مشروط انخلاء کی حامی بھرنا افغانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترداف ہے، قیصر احمد شیخ

امریکہ صرف اپنے مفادات کیلئے پاکستان سے تعلقات بناتا اور بگاڑتا ہے
قاتل امریکی فوج کے غیر مشروط انخلاء کی حامی بھرنا افغانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترداف ہے، قیصر احمد شیخ
پاکستان مسلم لیگ نون پنجاب کے رہنماء قیصر احمد شیخ 1946ء میں پیدا ہوئے، کراچی چیمبر آف کامرس کے رکن رہے۔ 2013ء میں جھنگ سے الیکشن لڑا اور چنیوٹ کی نشست سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، 2018ء میں چنیوٹ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ، مسئلہ کشمیر، افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء، پاک امریکہ تعلقات اور دورے سے حکومت کیطرف سے سیاسی فائدوں سمیت اہم ایشوز پر اپوزیشن کے نقطہ نظر پر انکے ساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: عمران خان کے دورہ امریکہ کے جاری کیے گئے اعلامیہ میں کہیں ڈومور کا ذکر نہیں، کیا یہ وزیراعظم کی ذات کا کرشمہ ہے یا حقائق بعد میں سامنے آئینگے۔؟
قیصر احمد شیخ:
اس وقت امریکہ افغانستان میں ویتنام جیسی عبرتناک شکست سے بچنا چاہتا ہے، جس کیلئے وہ پاکستان کو استعمال کریگا، اسی لیے ٹرمپ نے ایٹم بم کے بعد دنیا میں موجود سب سے خطرناک بم کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی بات شروع کی، لیکن اس کے باوجود جس طرح عمران خان اس دورے کو کیش کروا رہے ہیں، اسی طرح امریکی صدر بھی آئندہ الیکشن میں یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان سے انخلاء کیلئے امریکہ کی خواہش کے مطابق مطلوبہ کردار ادا کر رہا ہے، لیکن یہی کام کیسے انجام پائے گا اور اس میں پاکستان کا کیا کردار ہوگا، اس کا کہیں ذکر نہیں، نہ ہی تفصیلی مذاکرات کی معلومات ابھی سامنے آئی ہیں، پی ٹی آئی کا یہ خاصہ ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، یہ تو امریکہ کا دورہ اور امریکی صدر سے ملاقات کا معاملہ ہے، وہ اسے یوں ہی پیش کرینگے، جیسے خود عمران خان نے ایئرپورٹ پہ آتے ہی کہا کہ انہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے انہوں نے ورلڈ کب جییت لیا ہو۔ اصل حقائق سامنے آنے میں وقت لگے گا۔

مجھے لگتا ہے کہ عمران خان نے ٹرمپ کی طرف سے کچھ مانگنے سے پہلے ہی ان تمام چیزوں کی حامی بھر لی، جو وہ چاتے تھے، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ۔ جیسے جب نائن الیون کے بعد کولن پاؤل نے جنرل مشرف کو ٹیلی فون کیا تو مطالبات کی جو فہرست انہوں نے انکے سامنے رکھنی تھی، جنرل مشرف نے اس سے بھی زیادہ کرنے کی حامی بھر لی، جس کا ذکر بعد کولن پاؤل نے اپنی کتاب میں کیا، تھوڑا انتظار کیا جائے، جب اس وقت کے سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو اپنی کتاب لکھیں گے تو ایسی ہی یا اس سے ملتی جلتی بات سامنے آئے گی۔ جب سے عمران خان حکومت میں آئے ہیں، ہم یہ تو دیکھ چکے ہیں کہ وہ غیر محتاط اور غیر ذمہ دار ہیں، اپنے خیالات کی ہی بسائی ہوئی دنیا میں رہتے ہیں، اسی کا مظاہرہ انہوں نے امریکہ میں کیا۔ تفصیلی ملاقات سے پہلے ہی انہوں نے ٹرمپ کیساتھ میڈیا ٹاک میں کہہ دیا کہ وہ واپس جا کر طالبان سے ملاقات کرینگے اور انہیں افغان حکومت کیساتھ بات چیت کیلئے کہیں گے، یہ قبل از وقت ہے۔ میرے خیال میں عمران خان نے ٹرمپ کو ڈومور کہنے کا موقع ہی نہیں دیا، بلکہ انکی زبان پہ انکے مطالبات آنے سے پہلے ازخود حامی بھر لی۔

اسلام ٹائمز: کیا امریکی افواج کا افغانستان سے انخلاء خطے اور پاکستان کے امن کیلئے ایک بہتر قدم نہیں۔؟
قیصر احمد شیخ:
المیہ یہ ہے کہ عمران خان کو معلوم ہی نہیں کہ انخلاء کے دوران زیادہ جنگی نقصان کا خدشہ ہوتا ہے، یہ انخلاء امریکی افواج کا انخلاء ہے، جنہوں نے افغانستان کو برباد کیا، اسے محفوظ بنانے کی ذمہ داری صدر ٹرمپ نے عمران خان کو دی ہے، اسکا مطلب افغانوں کو اعتماد میں لیے بغیر یہ کیسے ممکن تھا، جبکہ امریکہ نے افغانوں کا جو نقصان کیا، اس پر کوئی بات نہیں ہو رہی، صرف امریکی دھمکیاں سامنے آرہی ہیں کہ پاکستان ان کے محفوظ انخلاء کی ذمہ داری لے، ورنہ وہ اپنا طاقتور ترین غیر ایٹمی بم استعمال کرینگے۔ اتنی آسانی سے یہ کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا،
پورے ملک کو بارود کا ڈھیر بنا دیا، اب وہ کہہ رہے ہیں کہ امریکی فوج نے قربانی دی ہے، اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، یہ ایک حساس نوعیت کی بارگیننگ ہے، یہ بچوں کا کھیل نہیں، امریکہ کو اسکا ہرجانہ دینا چاہیئے۔

لیکن کس کی جرات ہے کہ وہ امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈالے۔ کیا عمران خان کو پتہ ہے کہ افغان کیا چاہتے ہیں، کوئی پتہ نہیں، جیسے انہیں معیشت، سیاست، حکمرانی، گورننس اور انصاف کے تقاضوں کا علم نہیں۔ لاکھوں قیمتی جانیں اور مسلمان ملک تباہ کرنیوالوں کے محفوظ انخلاء کی ذمہ داری ایک حساس معاملہ ہے، یہ صرف عمران خان کی ہمت ہے۔ دوسری طرف دیکھیں تو امریکہ نے آئی ایم ایف اور فنانشل ٹاسک فورس اداروں میں پاکستان کو نرمی دینے کا کوئی عندیہ نہیں دیا، نہ سی پیک اور پاک چین تجارت کے متعلق اپنے تحفظات واپس لیے ہیں، فوجی امداد کی بحالی کا نہیں کہا، بس وعدہ لیا ہے اور عمران خان نے کہا ہے کہ میں پورا کرونگا۔ اس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ اگر عمران خان حکومت میں رہتے ہیں تو یہ پاکستان اور خطے کیلئے نقصان دہ گا۔ انہوں افغانوں کے زخم پر نمک چھڑکا ہے، جو پاکستان کے مفاد کیخلاف ہے۔

اسلام ٹائمز: واشنگٹن میں پاکسانیوں کے تاریخی جلسے سے خطاب کرکے وزیراعظم نے اپنی مقبولیت کی امریکی انتظامیہ پر دھاک بٹھائی ہے، جسکی وجہ سے  امریکی کانگریس میں انکی تعریف کی جا رہی، اس موقع پہ اپوزیشن کو وسیع تر مفاد میں پاکستان کا امیج بہتر بنانے کیلئے کیا کردار ادا کرنا چاہیئے۔؟
قیصر احمد شیخ:
میرے خیال میں امریکہ کا ہمارے ساتھ تعلق نیا نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ امریکہ صرف اپنے مفادات کیلئے پاکستان سے تعلقات بناتا اور بگاڑتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2016ء میں جب سرتاج عزیز مشیر خارجہ تھے، تو ہم نے کہا کہ اب ہم امریکہ کیلئے کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، انہی امریکیوں نے پاکستان پر جھوٹ، فریب کاری اور دھوکہ دہی کے الزامات لگائے، امریکہ نے کولیشن اسپورٹ فنڈ بند کر دیا، پاکستانی طلبہ کو داخلے نہیں دیئے، اب آپ دیکھیں یہ صورتحال کوئی چند لمحوں یا دنوں میں تبدیل تو نہیں ہوئی، کل ہی صدر ٹرمپ نے پاکستان کو جھوٹا کہا کہ اربوں ڈالر لیکر ہمارے ساتھ فراڈ کرتا رہا ہے، یکایک کوئی تبدیلی اس وجہ سے نہیں آئی جو کہا جا رہا ہے کہ پاکستانیوں کے اجتماع سے امریکی انتظامیہ مرعوب ہوگئی اور عمران خان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے انہوں نے، اصل صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ پھر ممالک کے درمیان تو اصل تعلقات کی نوعیت کا پتہ تب چلتا ہے جب کوئی معاہدے ہوں، یاداشتوں پر دستخط ہوں، کوئی ایسی چیز تو سامنے آئی نہیں۔

اسلام تائمز: ان حقائق کی روشنی میں یہ ضروری نہیں کہ اس بحرانی کیفیت سے پاکستان کو نکالنے کیلئے جسطرح فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں، اپوزیشن بھی تعاون کرے، جیسے بلاول بھٹو نے پیشکش کی ہے۔؟
قیصر احمد شیخ:
جہاں تک ملکی مفاد پہ موقف کے ایک ہونے کی بات ہے، اس میں رکاوٹ اپوزیشن نہیں بلکہ عمران خان ہیں، جو پوری دنیا میں جا کر پاکستانی سیاسی قیادت کو بدنام کر رہے ہیں، جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں، الزامات لگا رہے ہیں، جیلوں میں اذیتیں دے رہے ہیں، ادویات نہیں دی جا رہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے جو پیشکش کی ہے، اس پر ہر پاکستانی متفق ہے، اگر مفاہمت پر کسی کو اتفاق نہیں تو وہ عمران خان ہے۔ جتنا زور وہ مودی کیساتھ بات چیت پر دے رہے ہیں، جبکہ بھارت کی پاکستان دشمنی میں کسی کو شک نہیں، اس کے مقابلے میں وہ پاکستان کے اندر سیاسی قوتوں اور جمہوری ماحول کو خراب کرنیکے لیے نفرتیں پھیلا رہے ہیں۔ میڈیا کو یرغمال بنا لیا گیا ہے، حزب اختلاف کو احتجاج اور اجتماعات کی اجازت نہیں ہے۔ فیصل آباد، لاہور، سیالکوٹ، چنیوٹ، جھنگ، راولپنڈی، نارووال، گوجرانوالا ہر جگہ پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے، مریم نواز جہاں جلسے کا اعلان کرتی ہیں،
حکومت بوکھلا کر پولیس گردی شروع کر دیتی ہے۔ حکومت لڑکھڑا رہی ہے، اس کے باوجود کہ یہ حکومت چند دن کی مہمان ہے، پھر بھی ہماری طرف سے میثاق معیشت کی پیشکش ہوئی، لیکن عمران خان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے معیشت تباہ ہوگئی، مجھے خدشہ ہے کہ موجودہ طرزعمل کے اثرات پاکستان کے خارجہ تعلقات پر پڑیں گے اور ملک کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ کشمیر پر امریکہ نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، اسکے باوجود یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کے دورے سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔؟
قیصر احمد شیخ:
جہاں تک کشمیر کی بات ہے تو کل ہی تو کالعدم تنظیموں کے متعلق نواز شریف کی پالیسی کو اس لیے تنقید کا نشانہ گیا کہ کالعدم جماعتوں کیخلاف ایکشن لینے یا انہیں ختم کرنے سے کشمیر پر پاکستان کے موقف میں کمزوری ظاہر ہوگی۔ نواز شریف بھی یہ اقدامات اسی لیے اٹھانا چاہ رہے تھے، تاکہ کشمیر کے مسئلے کو عالمی برادری میں اٹھایا جائے، آج وہی اقدامات کیے گئے، انکی تعریفیں ہو رہی ہیں، لیکن ذرا ماضی میں چلے جاتے ہیں، کل ہی کی بات ہے کہ نواز شریف کیخلاف جو چارج شیٹ بنائی گئی تھی، آج انہیں کاموں کا کریڈٹ عمران خان کو دیا جا رہا ہے، کل کہا گیا کہ کالعدم تنظیموں کیخلاف ایکشن لینے کی بات، غداری ہے، اسی پہ ڈان لیکس کا ڈرامہ رچایا گیا، بمبئی حملوں کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے جو کچھ نواز شریف نے کہا، وہی بات عمران خان کے امریکہ جانے سے قبل جیسے حافظ سعید کو گرفتار کیا گیا۔

صدر ٹرمپ بمبئی حملوں کا ملزم قرار دیتے ہوئے حافظ سعید کے متعلق کہا کہ یہ وہ بندہ ہے، جس کی تلاش دس سال سے جاری تھی، آج مجھے خوشی ہوئی کہ پاکستانی حکومت نے اس کو گرفتار کر لیا ہے، کیا عمران خان نے امریکی انتظامیہ کو کہا کہ نہیں بمبئی حملوں سے کسی پاکستانی کا کوئی تعلق نہین، بلکہ حافظ سعید کی گرفتاری پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔ یہاں بھی اور واشنگٹن کے جلسے میں بھی وہ کہتے رہے کہ ایڈ نہیں ٹریڈ کرینگے، تو کوئی ایسا معاہدہ سامنے آیا، کوئی میکنزم، کوئی مفاہمتی یاداشت سامنے نہیں آئی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کیسی سادگی ہے کہ ابھی عمران خان امریکہ سے واپس پاکستان پہنچے ہی نہیں تھے کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ کشمیر پر امریکہ کا موقف وہی پہلے والا ہے کہ پاک بھارت دونوں ممالک اسے دوطرفہ طور پر مذاکرات سے حل کریں۔ ایک اہم چیز یہ ہے کہ اگر ٹرمپ نے کشمیر کا ذکر کیا ہے تو اسکی وجہ عمران خان نہیں بلکہ مودی ہے، یعنی امریکہ کا جھکاؤ اب بھی بھارت کی جانب ہے، جب تک مودی نے ٹرمپ سے نہیں کہا کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر اپنا کردار ادا کریں۔

جسکا ذکر ٹرمپ نے بھی کیا کہ مجھے وزیراعظم مودی نے کہا ہے، اسوقت تک امریکہ نے کبھی زبان تک نہیں ہلائی، بلکہ پاکستان پر ہمیشہ زور ڈالا جاتا رہا کہ وہ بھارت کیساتھ مذاکرات کرے، جبکہ بھارت مذاکرات میں کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کرنے پر کبھی رضامند نہیں ہوا۔ اب بھی پاک بھارت بات چیت ہونی چاہیئے، لیکن ماضی میں جب بھی مذاکرات کی بات ہوئی، یا پاکستان میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا یا بھارت کہیں نہ کہیں دھماکے شروع ہوگئے۔ اگر غور سے جائزہ لیں تو ٹرمپ کیساتھ عمران کی ملاقات نے بزدل خان کی اصل شکل بے نقاب کر دی ہے، ٹرمپ نے یہ خود کہا کہا کہ پچھلی حکومتوں نے ہماری بات نہیں مانی، لیکن اب ہم نے عمران خان کو اس لیے دعوت دی ہے کہ یہ ہماری بات مان رہے ہیں، یہ نواز شریف کی قیادت کا قابل فخر نمونہ ہے کہ امریکی صدر نے تصدیق کی کہ لیگی حکومت نے پاکستان کے مفاد کی سودے بازی نہیں کی، بلکہ ملکی مفاد کو مقدم رکھا۔

اسلام ٹائمز: نواز شریف کیخلاف فیصلہ دینے والے جج کی ویڈیو کے ذریعے عدلیہ کا وقار مجروح کرنیکی کوشش کی گئی، اس مقصد کیلئے 5 کروڑ روپے میں خریدا گیا، بہتر نہیں تھا کہ اسے عدالت میں پیش کیا جاتا۔؟
قیصر احمد شیخ:
ہم ایک سیاسی
جماعت ہیں، جماعت کے اندر فیصلے کرنے کا ایک میکنزم ہے، اس کے مطابق ہی اس ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کروایا گیا، یہ کوئی بغیر سوچے سمجھے نہیں کیا گیا، باہر سے بیٹھے ہوئے لوگوں نے ہمارے عمل کو اپنے حساب سے دیکھنا ہے، لیکن ہم تو اپنی پارٹی کے فیصلوں کے مطابق سیاست کرینگے، پھر ہم نے دیکھا ہے کہ تیر ٹھیک نشانے پہ لگا ہے، اس میں جو کمی تھی، وہ جج صاحب کے بیان حلفی نے پوری کر دی، اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ جج کا کنڈکٹ آئین، اخلاقی اصولوں اور مروجہ قوانین کیخلاف ہے۔ اسی لیے انہیں اپنے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ ہمیں جو لگا ہم نے ٹھیک کیا، فردوس عاشق اعوان سمیت ساری حکومتی پارٹی نے کہا کہ ہم اس ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کروائیں گے، ایک دم میدان سے بھاگ گئے۔

اس سے ہمارا یقین اور مضبوط ہوا ہے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں، یہ درست ہے۔ یہ ضروری ہے کہ عدل کے تقاضے پورے ہونے چاہیں، ایسی کوئی بات نہیں کہ شریف فیملی نے کسی جج کو بلیک میل یا بدنام کرنے کیلئے یہ پلان بنایا ہو، جہاں تک کیس کی بات ہے، جج ارشد ملک نے جو فیصلہ دیا ہے، اس میں ایسی کسی چیز کی نشاندہی ہوئی ہو کہ جج کا جو بطور منصف کردار ہونا چاہیئے تھا، وہ نہیں تھا، یہ الگ بات ہے کہ ان کی ذات ایک متنازعہ شخصیت بن گئی ہے، کچھ انہوں نے خود اعترافات بھی کر لیے ہیں، ویڈیو ہے کہ وہ غیر اخلاقی حرکات انجام دے رہے ہیں، جس پر انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ دباؤ میں تھے، اسی طرح دوران ٹرائل بھی وہ دباؤ میں تھے، لیکن انہوں نے اس دباؤ کا کسی سے ذکر نہیں کیا، مانیٹرنگ جج کو بھی نہیں بتایا، حالانکہ قانونی طور پر اس حوالہ سے ایف آر بھی کٹوا سکتے تھے، پھر ٹرائل کے بعد کے واقعات بھی ایسے ہیں، جو انہوں نے خود بیان کیے ہیں۔ اب یہ الزام جو نون لیگ پر رہے ہیں، اس کی کوئی اہمیت اس لیے نہیں کہ اسے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے، قانون میں اسکی گنجائش نہیں ہے۔

جج صاحب نے اپنی گفتگو میں بہت ساری چیزیں مان لی ہیں، وہ یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ یہ انہی کی آواز ہے، ان کا اپنا بیان ہے، جو کچھ انہوں نے کہا وہ اپیل کیلئے مشورہ تھا، انہوں نے جو الزامات لگانے کی کوشش کی ہے، وہ سارے اعترافات ہیں۔ اب اپیل کی درخواست میں ان چیزوں کو شامل کر لیا گیا اور انکا احاطہ ایک دفعہ پھر اعلیٰ عدلیہ کریگی، اس سے ہمارے موقف کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ مقدمات بھی مشکوک تھے، فیصلے بھی جانبدارانہ تھے۔ یہ ہمارا دعویٰ ہے حکومت نے خفیہ طور پر فرانزک آڈٹ کروایا اور پھر کہا کہ یہ عدلیہ کروائے۔ عمران خان کو پتہ چل چکا ہے کہ نواز شریف کیخلاف فیصلہ دینے والے جج کو ڈروانے خواب آتے ہیں، اسکا ضمیر ملامت کرتا ہے، وہ بولے گا، اس لیے انہوں نے پہلے کہا اور پھر مکر گئے کہ فرانزک آڈٹ نہیں کروائیں گے۔

اسلام ٹائمز: جج کا کہنا ہے کہ انہوں نے بلیک میلنگ سے مجبور ہو کر حسین نواز اور نواز شریف سے ملاقاتیں کیں، کیا ممکن ہے کہ وہ بغیر کسی دباؤ کہ اتنا سفر کرکے گئے ہوں۔؟
قیصر احمد شیخ:
حقیقت یہ ہے کہ جج کو یہ احساس ہوچکا ہے کہ اسے قربانی کا بکرا بنایا جائیگا، اس کے باوجود جب آدمی کا ضمیر زندہ ہو تو وہ چاہے ایک آدھ قدم ہی سہی اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ کرتا ہے، جس شخص کو راتوں کو نیند نہیں آتی، اسے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اللہ مجھے معاف نہیں کریگا، بلکہ جس شخص کیخلاف میں نے زیادتی کی ہے، اس سے مل کر ہی میرے ضمیر کو تشفی ہوسکتی ہے، اسی لیے انہوں ہزاروں میل کا سفر طے کیا، اللہ کے گھر بھی گئے، ناصر بٹ کے ذریعے نواز شریف کے بیٹے کو بھی ملے، اپنے ہی دیئے ہوئے فیصلے کیخلاف اپیل کیلئے نوٹس بھی لکھوائے، کیا کوئی جج ایسا کرتا ہے۔ یہ وقت جوں جوں گزرتا جائیگا، جج صاحب کا موقف مزید سامنے آجائیگا۔ اب یہ کیس کھلے گا تو مزید حقائق سامنے آئینگے، نہ صرف نیب قوانین بلکہ ہمارے نظام عدل میں اصلاحات کی ضرورت مزید اجاگر ہوگی، شکریہ۔
خبر کا کوڈ : 807153
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے