0
Sunday 28 Jul 2019 16:14

الیکشن کے دوران میرے حق اور مخالفت میں ووٹ ڈالنے والے ہر فرد کی بلا امیتاز خدمت کرونگا، سید اقبال میاں

الیکشن کے دوران میرے حق اور مخالفت میں ووٹ ڈالنے والے ہر فرد کی بلا امیتاز خدمت کرونگا، سید اقبال میاں
سید اقبال میاں کا تعلق ضلع کرم کے علاقے غربینہ کے معروف میاں سادات خاندان سے ہے۔ وہ اسوقت تحریک انصاف کے ضلعی صدر ہیں۔ گذشتہ قومی انتخابات کے دوران تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا معرکہ لڑا، تاہم 16 ہزار اور کچھ ووٹ لیکر ناکام ہوگئے تھے۔ اس سے قبل بھی 2013ء میں قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑکر ناکام ہوگئے تھے، جبکہ اس مرتبہ صوبائی الیکشن کے معرکے میں فقط کرم ہی نہیں بلکہ قبائلی اضلاع کا ریکارڈ توڑ کر ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے انتخابات میں کامیابی کے بعد پہلی مرتبہ انکے ساتھ خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: میاں صاحب کئی مرتبہ ہارنے کے بعد اس مرتبہ انتہائی بھاری اکثریت کیساتھ جیت جانے کا سبب کیا ہوسکتا ہے۔؟
سید اقبال میاں
:
جیتنے کا ایک راز تو یہی ہے کہ کسی نیک مقصد تک پہنچنے کی خاطر راستے میں آنے والے مشکلات سے ہمت نہیں ہارنا چاہیئے۔ کامیابی کا سب سے بڑا راز بلند حوصلہ ہے، یعنی کہ انسان کسی حال اور کسی صورت میں حوصلہ اور ہمت نہ ہارے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی مقصد کے حصول کیلئے اپنی ضروریات، خواہشات اور احساسات سے زیادہ دوسروں کی خواہشات و احساسات کا خیال رکھا جائے۔ جب آپ دوسروں کے احساسات کو مدنظر رکھیں گے تو اس کے نتیجے میں آپکے لئے دوسروں کے ساتھ کمپرومائز اور اتحاد و اتفاق کی راہ ہموار ہو جائے گی، جبکہ کمپرومائز اور اتحاد و اتفاق ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ چنانچہ عرض یہ ہے کہ میں اور میری ٹیم نے اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے اپنے ووٹروں کے علاوہ پچھلی دفعہ مخالفت کرنے والے ووٹرز نیز اپنے مدمقابل امیدواروں کے ساتھ مذاکرات کئے، انکی حمایت حاصل کرنے کی بار بار کوشش کی اور انکی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

اسلام ٹائمز: اتنی بھاری لیڈ کیساتھ کامیابی کرم کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ممکن ہوسکی ہے، اسکی بنیادی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔؟
سید اقبال میاں:
میرا منشور بیشتر قومی اتحاد و یگانگت پر مشتمل تھا۔ جس کی وضاحت ہم نے اپنے جلسوں میں بھی کی۔ ہم نے اپنے جلسوں اور انتخابی مہم کے دوران سب سے زیادہ زور اتحاد و یکجہتی پر دیا، جبکہ اہلیان کرم انتہائی تعلیم یافتہ اور مہذب طبقہ ہے۔ پچھلی مرتبہ ہونے والی تلخیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے ہوالے نقصانات کو انہوں نے بخوبی درک کیا ہے۔ انہیں علم ہے کہ قوم کو پیش آنے والے نقصانات کا اصل سبب نفاق اور نفرتیں تھیں۔ انہیں یہ بھی علم ہے کہ یہ قوم اب مزید ایسی سازشوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ اس مرتبہ انہوں نے خالصتاً نفرتوں کے خلاف ووٹ دیا۔ انہوں نے صرف اور صرف اتحاد و یگانگت کے حق میں ووٹ دیا۔ یہی وجہ تھی کہ بندہ کے حق میں اتنی بڑی تعداد میں ووٹ پڑے۔

اسلام ٹائمز: منتخب ہو جانے کے بعد اسمبلی ممبران عوام اور انکے ساتھ کئے گئے وعدوں کو بھول جاتے ہیں، آپکا کیا خیال ہےَ؟ انہی کے نقش قدم پر چلیں گے یا پھر عوام کی خدمت کا خیال دل میں ہے۔؟
سید اقبال میاں:
نہیں، ان شاء اللہ ایسا  کبھی نہیں ہوگا، مستقبل میں بھی اچھی اور مثبت سیاست کا ارادہ ہے، بلکہ ملک کی اہم اور اکثریتی پارٹی کے ساتھ وابستگی ہے، اس کی وجہ سے بھی عوام کے ساتھ رہنا سیاسی مجبوری ہے۔ چنانچہ عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو ممکنہ صورت میں نبھاؤں گا۔ ہاں ایک بات ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے فنڈز نہ مل سکے تو ایسی صورت میں مشکل پیش آسکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: ممبران اسمبلی عموماً اپنے ہی ووٹرز کیلئے کام کرتے ہیں، اس حوالے سے کی رائے ہے۔؟ 
سید اقبال میاں:
میرا تو ارادہ اس طرح نہیں۔ اگر اللہ نے زندگی اور توفیق دی، تو اپنے ووٹرز کے ساتھ ساتھ دیگر کا بھی اسی طرح خیال رکھتے ہوئے سیاسی روایات کو یکسر تبدیل کرونگا۔ بلکہ ارادہ تو یہ ہے کہ جن مقامات پر بندہ کے حق میں نہایت کم ووٹ پڑ گئے ہیں۔ انکے پاس بھی جاکر وہاں موجود اپنے حامی اور مخالف ووٹرز کا شکریہ ادا کروں۔ اسکے علاوہ ضروری امور انجام دینے کے بعد ایک سیاسی ٹیم تشکیل دونگا، جو عوام کے مسائل سن کر نوٹ کریں گے۔ اور بندہ اسکے حل کے لئے کوشش کرونگا۔

اسلام ٹائمز: آپ کے پیش نظر کون کونسے اہم مسائل ہیں۔ جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے؟
سید اقبال میاں:
میرا خیال تو یہ ہے کہ ذاتی اور نجی کاموں کی بجائے قومی اور اجتماعی مسائل پر توجہ دی جائے، تاکہ ایک یا دو افراد کے مسئلے کی بجائے ایک گروپ، ایک علاقے اور پورے قبیلے کے مسئلے کو مدنظر رکھ کر اس پر کام کیا جائے۔ تاکہ ایک یا دو افراد کی بجائے زیادہ لوگوں کی رضامندی اور خوشنودی حاصل کی جاسکے۔

اسلام ٹائمز: سنا ہے کہ تمام امیدواران کا بشمول جناب عالی کے کروڑوں کا خرچہ  ہوا ہے، لوگوں کا خیال ہے کہ چار پانچ سال تک یہ صرف اپنے ہی اخراجات پورے کرسکیں گے، اس حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں۔؟
سید اقبال میاں
:
الیکشن لڑنے پر بیشک اخراجات آتے ہیں، تاہم ہمارا اتنا خرچہ نہیں ہوا ہے اور جو کچھ خرچہ ہوچکا ہے، وہ بندہ نے قرض لیکر نہیں کیا ہے، بلکہ الحمد للہ بندہ کا فیملی پس منظر بھی عوام کے سامنے ہے۔ اللہ کا دیا ہوا سب کچھ موجود ہے۔ کسی دیوالیہ خاندان سے تعلق نہیں، چنانچہ ایسی کوئی بات ان شاء اللہ نہیں ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 807580
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب