1
Monday 29 Jul 2019 09:58
آئل ریفائنری کے ذریعے صوبہ میں مزید فرقہ واریت ہوگی

سعودی عرب کے ذریعے امریکا کو بلوچستان لایا جا رہا ہے، سینیٹر عثمان کاکڑ

بلوچ اور پشتونوں کو راضی کیے بغیر سی پیک کامیاب نہیں ہوسکتا
سعودی عرب کے ذریعے امریکا کو بلوچستان لایا جا رہا ہے، سینیٹر عثمان کاکڑ
سینیٹر عثمان کاکٹر ایک دبنگ سیاست دان ہیں، اپنی بات بےباک انداز میں کرتے ہیں، وہ پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما ہیں، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر اور رکن ایوان بالا (سینٹ) ہیں۔ 21 جولائی 1961ء کو ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں پیدا ہونیوالے عثمان کاکڑ نے معیشت میں ماسٹرز اور ایل ایل بی کر رکھا ہے۔ دورِ طالب علمی سے سیاسی زندگی کا آغاز کیا، 1977ء میں پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شامل ہوئے اور تنظیم کے مرکزی اول سیکرٹری (سربراہ) کی حیثیت سے کام کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پشتونخوامیپ کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست شروع کی۔ 2002ء میں بلوچستان اسمبلی کی نشست کیلئے انتخاب لڑا، لیکن کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ عثمان خان کاکڑ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی کنوینئر اور پشتونخوا نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس کی مرکزی کنویننگ کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ موجودہ ملکی صورتحال اور خصوصاً صوبہ بلوچستان اور خطے کے حالات پر ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے ان کیساتھ ایک نشست کی، جسکا احوال قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سی پیک سے مقامی بلوچ لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا اور انہیں اس منصوبہ کو ویلکم کہنا چاہیئے۔؟
سینیٹر عثمان کاکٹر:
دیکھین بلوچستان میں اللہ نے اتنے خزانے پیدا کیے ہیں کہ انسان تصور بھی نہیں کرسکتا، سونا، تانبے اور کاپر کے خزانے ہیں، سمندر ہے، تیل اور گیس کے ذخائر ہیں، گرم ترین موسم بھی ہے، سرد موسم بھی اور معتدل موسم بھی ہے، میوہ جات کی اپنی شان ہے، لوگ بھی جفاکش ہیں، لیکن افسوس ہے کہ بہتر سال سے حکمرانوں نے محروم رکھا ہے، اس میں سول اور ملٹری دونوں شامل ہیں، عوام کو محروم رکھا گیا ہے، ان خزانوں کے اثرات عام عوام تک نہیں پہنچنے دیئے گئے، آپ سوچیں کہ اگر تعلیم عام ہو جائے اور لوگ پڑھے لکھے ہو جائیں تو اپنے حقوق سے متعلق سوال کریں گے، یہ بھی ظلم ہوا ہے کہ وہاں پر ملائیت مسلط کی گئی ہے، اکثریت سرداروں اور ملکوں کی ہے، جو اسٹیبشلمنٹ کی خدمت کر رہے ہیں اور اپنے آپ کو غلام بنا رکھا ہے، میں بلوچستان کو مقبوضہ علاقوں کی طرح دیکھتا ہوں۔

اسلام ٹائمز: سی پیک سے بلآخر عام لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا، سڑکیں گزریں گی، کام کے مواقع پیدا ہونگے، روزگار ملے گا، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس سے فائدہ پہنچے گا۔؟
سینیٹر عثمان کاکٹر:
مسئلہ یہ ہے کہ سی پیک کا جو ڈھونڈورا پیٹا جا رہا ہے اور سارے لوگ بھی خوش ہیں، لیکن بدنصیبی اور بدخواہی سمجھیں، جس میں ملٹری بیوروکریٹس، سیاستدان، صنعت کار اور میڈیا کے لوگ بھی ہیں، ان لوگوں نے اس منصوبے کو پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبہ کے بجائے پنجاب چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ بنا دیا ہے۔ یہ منصوبہ ہمارے لیے نقصاندہ ہے اور پنجاب کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس لئے میں کہوں گا کہ چین والے بھی اس میں شامل ہیں، وہ پاکستان کے بجائے پنجاب والوں سے دوستی کرنا چاہتے ہیں، پانچ فیصد بھی نیچرل ریسورسز پنجاب میں نہیں، میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کا چیئرمین بھی ہوں، آپ کو بتاوں کہ 95 فیصد نیچرل ریسورسز ان علاقوں میں پائے جاتے ہیں، جو بالکل غیر ترقیاتی علاقے ہیں، جو ہر لحاظ سے محروم ہیں۔

اسلام ٹائمز: تو بلآخر اسکا حل کیا ہے۔؟
سینیٹر عثمان کاکٹر:
دیکھیں اس کے لیے ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی تھی، جس میں فیصلہ ہوا اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ پہلے مغربی روٹ کو مکمل کیا جائے، پھر مشرقی روٹ پر کام کیا جائے، پہلے منصوبے میں صرف مغربی روٹ تھا، مگر نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر شرقی روٹ جسے پنجاب کا روٹ کہتے ہیں، اس کی منظوری دی اور کام شروع کرا دیا۔ مشرقی روٹ مکمل ہونے والا ہے اور مغربی روٹ پر ابھی تک کام بھی شروع نہیں کیا گیا۔ ابھی تک ڈی آئی خان سے ژوب، کوئٹہ تک ایک پتھر بھی نہیں رکھا گیا، بجلی کے 16500 میگاواٹ کے منصوبے شامل ہیں، جس میں مغربی روٹ پر ایک میگاواٹ منصوبہ بھی شامل نہیں، کیا یہ ظلم نہیں ہے؟ بہترین سولر انرجی ہمارے علاقوں میں موجود ہے، سی پیک کے فنڈز سے لاہور کا 300 ارب روپے کا میٹرو ٹرین کا منصوبہ بنایا گیا۔

میں کہتا ہوں کہ کوئٹہ میں بھی یہ منصوبہ بناو نا، یہ بہت زیادتی ہوئی ہے، اقتصادی زون ابھی تک نہیں بنے، ٹرین کا منصوبہ اس میں گوادر کہاں ہے؟، مغربی روٹ پر ایک بھی کلومیٹر موٹروے نہیں ہے، اب آپ خود ریلوے کا اندازہ لگائیں۔ انگریز نے ہمیں ریلوے کا ٹریک دیا تھا، مگر انہوں نے نہیں دیا، ہم کہتے ہیں کہ ہمیں انگریز والا ٹریک ہی دے دو، ہم سی پیک سے بیزار ہیں۔ گوادر میں پانی کی یہ صورت حال ہے کہ پندرہ ہزار روپے کا ٹینکر فروخت ہو رہا ہے، چینی زبان سیکھنے کے لیے پنجاب سے لوگ جا رہے ہیں، لیکن پشتون بلوچوں کو نہیں بھیجا جا رہا۔

اسلام ٹائمز: آپ لوگوں کے آخر مطالبات ہیں کیا، جس سے آپ راضی ہو جائیں۔؟
سینیٹر عثمان کاکٹر:
دیکھیں ہمارا مطالبہ یہ تھا اور ہے کہ مغربی روٹ کو مکمل کریں، انرجی کے منصوبے اس روٹ پر شروع کریں، ہم نے کہا کہ سی پیک میں ہمارے ڈیمز کو بھی شامل کر لیں، بیشک چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنا دیں، تاکہ پانی کا مسئلہ حل ہو جائے۔ سنٹرل حکومت نے اس کو شامل نہیں کیا، چائنیز بھی نہیں چاہتے، وہ پنجاب کو خوش رکھنا چاہ رہے ہیں، پھر یہ بلوچستان کے لوگ کیوں اس منصوبہ کی حمایت کریں۔؟ ووکیشنل سنٹرز، ماس ٹرین منصوبہ اور پانی کے منصوبے نہیں دے رہے تو پھر حمایت کیوں کریں۔؟ ان رویوں اور پالیسی کی وجہ سے حمایت نہیں کر رہے۔ یہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ چاینیز کو بلوچ اور پشتونوں کو اعتماد میں لینا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: پشتون اور بلوچ نشینل پارٹیاں کہتی ہیں کہ انکی عوام میں پذیرائی ہے اور ووٹ لیکر اسمبلیوں میں آتی ہیں، پھر یہ جماعتیں فرقہ وارانہ اور کراس بارڈر دہشتگردی اور کلنگز کو کیوں نہیں روک پاتیں۔؟
سینیٹر عثمان کاکٹر:
دیکھیں ایک مسئلہ ہے، ہماری پشون خواہ عوامی ملی پارٹی ہے، ہم ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف ہیں، چاہے وہ نسلی ہو، فرقہ وارانہ ہو یا اسیٹیٹ کی طرف سے ہو، ہم نے شہادتیں دی ہیں، آپ جانتے ہیں کہ افغانستان میں مداخلت ہے، اس میں ایران، پاکستان اور روس سمیت سب شامل ہیں، دنیا بھر سے لوگ افغانستان میں ہیں، زیادہ تر پنجاب سے ہیں، ہم اس کے مخالف ہیں، اگر ہماری پارٹی نہ ہوتی تو اس کا بیس کیمپ ہمارا علاقہ ہوتا، ہم نے لوگوں کو شعور دیا اور اپنے علاقے کو بیس کیمپ نہیں بننے دیا، ضیاء الحق اور مشرف دور میں ریاستی پالیسی ترتیب دی گئی، اداروں کی طرف سے پالیسی ترتیب دی گئی، اب یہ کہتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کریں گے، یہ باتیں کرتے ہیں لیکن عملاً ایسا دکھائی نہیں دیتا، فاٹا میں ستر ہزار افراد شہید ہوگئے، لاکھوں افراد بےگھر ہوئے۔ مرے بھی پختون اور دہشتگرد بھی پختون بنے۔ یہ جتنا زور لگا لیں، سی پیک منصوبہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا، جب تک بلوچستان کے عوام کو مطمئین نہیں کیا جاتا۔ افغانستان میں امن ہوگا تو یہ منصوبہ کامیاب ہوگا، سنٹرل ایشیاء تک نہیں جاسکتا، پختون اور بلوچ عوام کو مطمئین کرنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: بلوچ علیحدگی پسندوں سے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب کیوں نہیں ہو پاتے۔؟
سینیٹر عثمان کاکٹر:
بلوچ علیحدگی پسندوں کی بات سنی جاتی ہے، نوجوانوں میں ان کا اثر زیادہ ہے، سرداروں اور ملکوں کی کوئی بات نہیں سنتا، ان کا بیانیہ مضبوط ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کا حل مذاکرات ہی ہیں، اختر مینگل خود کہتے ہیں کہ نوجوان ہماری سنتے ہی نہیں۔

اسلام ٹائمز: عبدالمالک مالک صاحب کے دور میں بھی مذاکرات ہوئے تھے، وہ کیوں ناکام ہوئے۔؟
سینیٹر عثمان کاکٹر:
جی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، عبدالمالک صاحب ایک وفد لیکر ناراض بلوچوں سے مذاکرات کرنے گئے تھے، مگر اسٹیبشلمنٹ نہیں مانی تھی، انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات ختم کر دو، پھر بات کیسے آگے بڑھتی۔؟ یہ جنداللہ اور دیگر گروپس کے سربراہ ادھر ہی ہیں نا، میں سمجھتا ہوں کہ دہشتگردی کسی کو بھی سوٹ نہیں کرتی، اس کی حمایت نہیں کرنا چاہیئے، طاقت آئین کی حکمرانی میں ہے، جمہوریت اور عوامی طاقت مں پنہا ہے۔ قومی برابری ہونی چاہیئے۔ اس ملک کو صحیح رخ پر لیکر جانا چاہیئے۔ اس ملک میں صاف و شفاف الیکشن ہونا چاہیئے، ابھی تک کچھ نہیں ہوا، اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے حکمران لائے جاتے ہیں، میڈیا کو پابند نہیں ہونا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: گلف میں ٹنشن ہے، بلوچستان ایران کا پڑوسی ہے، کیا امریکا اور ایران تنازعے کا اثر اس صوبے پر بھی پڑ سکتا ہے۔؟
سینیٹر عثمان کاکٹر:
میرا آپ سے سوال ہے کہ کیا افغانستان کا پاکستان سمیت دنیا پر اثر ہوا یا نہیں؟، کیا اس سے پاکستان محفوظ رہا۔؟ جواب نفی میں ہے نا۔ پھر ہم کیسے محفوظ ہوں گے اور اثر نہیں پڑے گا؟، افغانستان میں مداخلت ہوئی، جہادی تنظیمیں بنیں، القاعدہ بنی، طالبان بنے اور پھر داعش تک بنی۔ افغان جنگ سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے۔ بلوچستان ضرور متاثر ہوا، اس میں کوئی شک نہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم یہ جنگ خود لانا چاہتے ہیں، ہم نے ہر دور میں امریکا کے غلام رہے ہیں، سپاہی بن کر جنگ لڑتے ہیں، کرائے کے لیے کام کرے ہیں، درپردہ سودا کیا گیا ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عرب ممالک امریکہ کی مرضی کے بغیر تین سو روپے بھی دے دیں گے یا تیس لیٹر تک تیل دے دیں گے؟، جبکہ انہوں نے تین ارب ڈالر دے دیئے ہیں، درپردہ ہمارا سودہ کیا گیا ہے، وہ سودا کیا ہے، جلد نظر آجائے گا۔ امریکہ سعودی عرب کے ذریعے صوبے میں آئے گا، اب تو بلوچ بیلٹ میں اور بھی زیادہ فرقہ واریت ہوگی، آپ نے سیاسی مقاصد کی خاطر آئل ریفائنری دے دی، اس کے اثرات مرتب ہوں گے، ریکوڈک بھی دے رہے ہیں۔ ان کی پالیسی کہیں اور بن رہی ہے، سب پنڈی اور آپبارہ میں بن رہا ہے، خارجہ، داخلہ پالیسی پارلیمنٹ کے بجائے باہر بن رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: بلوچستان میں فرقہ واریت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ قوم پرست جماعتیں بھی شامل ہیں۔ ہزارہ والوں پر حملے ہوئے، اسکا اظہار بھی کیا گیا، کیا کہتے ہیں۔؟
سینیٹر عثمان کاکٹر:
ہزارہ والوں کو شکایت ہے، لیکن جن لوگوں نے ان فرقہ پرستوں کو پالا ہے، یہ ان کے کنٹرول میں ہیں، ہزارہ والوں کے نعرے بالکل واضح تھے، وہ بلوچ نیشنلسٹ کے خلاف نہیں تھے، ہم لوگ فرقہ واریت پر ایمان نہیں رکھتے، یہ کوئی انفرادی فعل نہیں ہے۔ اس میں نہ بلوچ ملوث ہیں، نہ ہی پشتون۔ بلوچ اور پشتون یہ بات پسند بھی نہیں کرتے۔
خبر کا کوڈ : 807639
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے