0
Wednesday 31 Jul 2019 16:30
محکمہ صحت مسائل کا گڑھ ہے

ڈاکٹر برادری سیاسی جماعتوں کی آلہ کار بن چکی ہے، ڈاکٹر ہشام انعام اللہ

ہمارا کام نوکریوں کا تحفظ نہیں بلکہ مریض اور عام عوام کی زندگیوں کا تحفظ کرنا ہے
ڈاکٹر برادری سیاسی جماعتوں کی آلہ کار بن چکی ہے، ڈاکٹر ہشام انعام اللہ
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان صوبے اور ملک کے معروف دیرینہ سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ 25 دسمبر 1982ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ بیکن ہاؤس اسکول میں ہفتم تک تعلیم حاصل کی، جسکے بعد مزید تعلیم کیلئے امریکہ چلے گئے۔ انہوں نے 12 گریڈ تک تعلیم امریکہ سے حاصل کی۔ سال 2000ء میں وہاں سے ایف ایس سی کیا۔ چار سالہ ہائی اسکول میں 99.6 فیصد نمبر حاصل کر کے سکول ٹاپ کیا، جس پر اُسوقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے انکو بہترین اکیڈمک ایوارڈ سے نوازا۔ جب 2018ء کے عام انتخابات قریب آئے تو انکے خاندان کے بڑوں اور علاقہ مشران نے انتخابات میں حصہ لینے کا کہا۔ غزنی خیل کے عوام کی محنت اور بھرپور سپورٹ سے الیکشن میں انہیں سب سے زیادہ 38 ہزار 500 ووٹ ملے اور اپنے مخالف امیدوار کو 10 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ پی ٹی آئی میں شمولیت مارچ 2018ء میں کی، لیکن اس سے قبل مقامی سطح پر ایک گروپ تشکیل دیا، جسکا نام مروت اتحاد رکھا گیا، جسکا اپنا جھنڈا اور نعرہ تھا۔ ڈاکٹر ہشام انعام اللہ عمران خان کو کرکٹ کے زمانے سے پسند کرتے ہیں، جب خاندان کے بڑوں اور علاقہ مشران نے الیکشن لڑنے کو کہا تو پھر انکے پاس بہترین آپشن تحریک انصاف اور عمران خان ہی تھا۔ الیکشن کے بعد جب کابینہ کے ممبران کے انتخابات کیلئے انٹرویوز ہوئے تو عمران خان نے تمام ایم پی ایز کا خود انٹرویو کیا۔ جب عمران نے انکی خواہش پوچھی تو انکا جواب تھا کہ مجھے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا قلمدان سونپ دیا جائے۔ عمران خان نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میرے علاقے میں پینے کے صاف پانی کا بڑا مسئلہ ہے تو وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگ بڑے محکموں کی وزارتیں مانگتے ہیں، میں تمہیں صحت کا قلمدان دے رہا ہوں، لہٰذا انہوں نے عمران خان کے اعتماد پر وزارت کو ایک چیلنج کے طور پر لیا ہے، کیونکہ وہ خود بھی اسی فیلڈ سے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے صوبائی وزیر صحت سے خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کی نذر ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: جب آپکو محکمہ صحت کا قلمدان سونپا گیا تو محکمے کو کون سے مسائل درپیش تھے، ان 11 ماہ میں ان مسائل پر کس حد تک قابو پایا گیا ہے۔؟
ڈاکٹر ہشام انعام الله خان:
میری جو عادت ہے، میں سچ سچ کہوں گا، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ محکمہ صحت مسائل کا گڑھ ہے۔ 5 سال پی ٹی آئی کی حکومت میں بہت کام ہوا، لیکن اس سے قبل یہ نظام کیسے چل رہا تھا، یہ جان کر حیرانی ہوتی ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ محکمے میں افرادی قوت کی کمی ہے، ڈاکٹروں کی مطلوبہ تعداد موجود نہیں، اسپشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی ہے، طبی آلات کم ہیں، البتہ انفراسٹرکچر اور عمارتیں بہت ہیں، لیکن ان کا استعمال ٹھیک طرح سے نہیں ہو رہا ہے۔ جب آپ کے پاس بلڈنگ، ڈاکٹر نرسیز، پیرامیڈیکس اور طبی آلات آجائیں پھر ایک مربوط سسٹم درکار ہوتا ہے، جس کیلئے مضبوط اور اہل مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کیساتھ چیک اینڈ بیلنس کا مربوط نظام ناگزیر ہے۔ بدقسمتی سے اس جانب توجہ نہیں دی گئی تھی۔ تحریک انصاف کی سابق حکومت نے ایم ٹی آئی اور اب ہم نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی (ڈی ای اے) اور ریجنل ہیلتھ اتھارٹی (آر ایچ اے) کا نظام متعارف کرایا ہے۔

ہمیں اسوقت 6 ہزار مزید ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، تاکہ چترال سے لے کر ڈی آئی خان تک ہر ہسپتال میں اسپشلسٹ ڈاکٹر موجود ہوں، پھر اسپیشلٹی میں بھی ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ ہم خالی آسامیوں کے اشتہارات دیتے ہیں، لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ سسٹم کو مزید کتنے ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، ہم نے حال ہی میں جدید ہیومن ریسورس سیل قائم کیا ہے۔ ڈاکٹروں کا ڈیٹا بیس ماڈل تیار ہے، اس میں ہم نے ہر ڈاکٹر کے رینک کا تعین کیا ہے۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اس سے قبل محکمہ صحت کے پاس ڈاکٹروں کا ریکارڈ موجود نہیں تھا، اب ہمیں پتہ چلا کہ ہمارے سسٹم میں 6600 ڈاکٹر ہیں، ان میں کتنے اسپشلسٹ ہیں، کسی نے ٹی ایم او شپ یا ایف پی ایس پارٹ ٹو کیا ہے، یا ساده ایم بی بی ایس، ایم سی پی ایس یا ڈپلومہ ہولڈر ہیں، یہ ڈاکٹر کہاں کہاں تعینات ہیں اور کس ڈومیسائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے 34 اضلاع (بشمول قبائلی اضلاع) میں ہمارے پاس اسپشلسٹ ڈاکٹروں کی پوسٹیں موجود ہیں، لیکن ڈاکٹر نہیں، ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی میں کوئی ٹرینڈ نہیں ہے، پتھالوجی، ریڈیالوجی، انستھیزیا میں متعلقہ لوگ دستیاب نہیں۔

ہم صرف سرجنوں پر زور لگا رہے ہیں، ہر ایک ڈاکٹر سرجری کی ٹرینگ کیلئے جا رہا ہے، لیکن سرجری کیلئے انستھیزیا کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اس جانب کسی نے توجہ نہیں دی۔ ماڈرن ہیومن ریسورس سیل کے قیام سے اب ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ ہماری آئندہ 5 سال کی کیا کیا ضروریات ہیں، کون سے اسپشلسٹ کی ضرورت ہوگی، انہیں کیا مراعات دی جائیں، ہیلتھ سسٹم میں کیا کیا کمی ہے، کیا ہم محدود وسائل میں سب کچھ پورا کرسکتے ہیں، ہم نے ڈیٹا بیس کی بنیاد پر ترجیحات کا تعین کر لیا ہے۔ شروع میں ہم نے ہیلتھ پالیسی ایڈوائزری کونسل بنائی تھی، اس میں مقامی ماہرین کے ساتھ 14 بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا تھا، جس کی سفارشات پر ایک ہیلتھ پالیسی بنائی گئی۔ اس میں ہم نے مختلف علاقوں کا تعین کیا، وہاں فوری طور پر صحت سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی، میں نے اپنے بین الاقوامی پارٹنرز پر بھی واضح کیا ہے کہ ہمیں وہاں کام کرنا ہے، جہاں پر ضرورت ہوگی۔

میں آپ کو بتاتا چلوں کہ 34 ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں سے ایک میں بھی لیول ٹو ٹراما سنٹر نہیں ہے۔ ہمارے لوگ اپنی صحت کے بارے میں اتنے حساس نہیں ہیں کہ ہر تین ماہ بعد جا کر اپنے ٹیسٹ کرائیں، تاہم جب انہیں ایمرجنسی ہو جائے تو ہم فوری طور پر ہسپتال کا رُخ کرتے ہیں، لیکن کسی بھی ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایمرجنسی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ اگر قسمت سے ماہر امراض قلب کے پاس خود کو پہنچایا جائے تو کچھ علاج ممکن ہے، لیکن ٹریفک حادثہ یا فائرنگ سے کوئی شدید زخمی ہو جائے تو ہمارے ڈی ایچ کیوز میں ایک سنگل لیول ٹراما سنٹر نہیں ہے۔ پورے صوبے میں ایل آر ایج (لیڈی ریڈنگ ہسپتال) میں لیول ون ٹراما سنٹر قائم ہے، یہ پورے صوبے کے ٹراما کو دیکھتا ہے۔

حادثہ ہو یا فائرنگ کے واقعات، زخمیوں کو ایل آر ایچ پہنچایا جاتا ہے، جس کیلئے کئی کئی گھنٹوں کی مسافت طے کی جاتی ہے۔ اس دوران مریض کے زخموں سے خون رستا رہتا ہے اور وہ ایل آر ایچ پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ جاتا ہے۔ اسی تناظر میں ہم نے رواں مالی سال کی اے ڈی پی میں ایک اسکیم رکھی ہے، جس کے تحت صوبے بھر کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی سنٹر اور لیول ٹو ٹراما سنٹر قائم کئے جائیں گے۔ ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی سنٹر میں کارڈیک ایمرجنسی، گائنی ایمرجنسی اور لیول ٹو ٹراما سنٹر میں گن شارٹ، ٹریفک حادثات اور آگ سے جلے ہوئے مریضوں کا علاج ہوگا، اس منصوبے کیلئے 3.5 ارب مختص کئے گئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ہسپتالوں میں موجود سروسز مریضوں کو فائدہ نہیں پہنچا رہیں، ایک مریض کو ایمرجنسی میں ٹرالی یا اسٹریچر دستیاب نہیں ہوتا، پھر پرچی کیلئے قطار میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، اسکے بعد ڈاکٹروں کے کمروں تک رسائی الگ سے امتحان ہے، موجودہ سسٹم کو کس طرح سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔؟
ڈاکٹر ہشام انعام الله خان:
ان مسائل کا بخوبی ادراک ہے، سسٹم کو آہستہ آہستہ ٹھیک کر رہے ہیں، جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ صوبے میں صرف لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں لیول ون ٹراما سنٹر قائم ہے، اس لئے یہاں پورے صوبے کا ہمہ وقت رش رہتا ہے۔ اس رش اور ہسپتالوں کی موجودہ سروسز کو بہتر بنانے کیلئے ڈی ایچ کیوز میں ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی سنٹر اور لیول ٹو ٹراما سنٹر بنا رہے ہیں۔ ہر ڈی ایچ کیو میں کم سے كم 7 بستروں کا آئی سی یو ہونا چاہیئے۔ دراصل چیک اینڈ بیلنس کے دو تین مراحل ہیں، قانون سازی کے ذریعے اصلاحات لائی جاسکتی ہیں۔ اضلاع کو اختیار دے کر ضلعی ہسپتالوں کے مسائل ختم کئے جاسکتے ہیں، اگر ڈی ایچ کیوز میں کوالیفائیڈ ڈاکٹرز اور نرسیں موجود ہونگی تو پھر پشاور کے ہسپتالوں پر رش کم ہوگا۔ ہم ایسے لوگوں کو سامنے لا رہے ہیں، جو رضاکارانہ طور پر صحت کے شعبے کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد ہم اضلاع میں واقع ہسپتالوں کو مالی اور انتظامی اختیار دے رہے ہیں۔

حکومت انہیں سال میں ایک مرتبہ ون ٹائم بجٹ دے گی، اضلاع کے ہسپتالوں کو کن چیزوں کی ضرورت ہے، ہم سے زیادہ انہیں معلوم ہے۔ اس لئے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکس کی بھرتی کا اختیار انہیں دیا جا رہا ہے، انہیں ادویات کتنی چاہئیں، کس کس مشینری کی ضرورت ہے، پہلے وہ ایس این ای بھجواتے تھے اور پھر 2، 2 سال تک محکمہ خزانے سے منظوری کا انتظار کرتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ اب اضلاع کے ہسپتال خود ہی مالی اور انتظامی فیصلہ کرسکیں گے۔ اس سسٹم میں جتنے سرکاری ملازم ہیں، ان کی حیثیت برقرار رہے گی، لیکن مزید بھرتیاں ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے کے قانون کے تحت ہونگی۔ اوپن مارکیٹ سے تعلیم یافتہ اور تجربہ کار لوگ لائیں گے۔ دوسری بات کہ میں ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ ہوں، میں عوام کو جواب دہ ہوں، مجھے مریضوں کی مشکلات کم کرنی ہیں، کیونکہ اگر ایک مریض بھی کسی کی غفلت سے مر جائے تو میں خود کو قصوروار ٹہراؤں گا۔

اگر میری سوچ فلاں ٹینڈر سے حاصل ہونے والی آمدنی پر نہیں ہوگی اور میں اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کا نہیں سوچوں گا تو تب ہی میں اس سسٹم کو ٹھیک کر پاؤں گا۔ ہم ایسا سسٹم لا رہے ہیں، جس کے ذریعے ادویات کی ضرورت اور فراہمی آن لائن ہوگی، یہ ادویات کس کس کو فراہم کی گئی ہیں، اس کی تفصیلات بھی آن لائن ہی میسر ہوگی۔ پھر ڈاکٹر اور دیگر سٹاف کی حاضری کا نظام بھی کمپیوٹرائزڈ ہوگا۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھ کر ہر ہسپتال کی حاضری چیک کر سکوں گا۔ ایک اور پروگرام بھی لا رہے ہیں، جس کے تحت ہر ہسپتال میں سرویلنس کیمرے اور بائیو میٹرک سسٹم نصب ہوگا۔ اکثر ہسپتالوں کی انتظامیہ کا یہ بہانہ ہوتا ہے کہ بجلی نہیں ہوتی، اس لئے وہ 24 گھنٹے کام نہیں کرسکتے، اس بہانے کو ختم کرنے کیلئے ہسپتالوں کو ایکسپریس لائن فراہم کی جائے گی، تاکہ 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔

اسلام ٹائمز۔ آبادی کے تناسب سے صحت کی دستیاب سہولیات کافی ہیں اور کیا ہمارے ہسپتال صحت کے عالمی معیار پر پورا اُتر رہے ہیں۔؟
ڈاکٹر ہشام انعام الله خان:
مجموعی طور پر ہم ہر سطح پر کمی کا شکار ہیں۔ صحت کی دستیاب سہولیات سے استفادہ حاصل نہیں کیا جا رہا، پالیسی تو یہ ہے کہ جتنے بیڈز ہیں، اتنے ہی مریض ہونے چاہئیں، ہمارے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی تعداد کسی حد تک تو ٹھیک ہے، لیکن نرسوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ میں نے حال ہی میں چار نئے نرسنگ کالجوں کیلئے ایم او یو کئے ہیں، یہ پبلک سیکٹر کے پہلے نرسنگ کالجز ہونگے، جو باجوڑ، لکی مروت اور سوات میں قائم ہونگے۔ ہمارے سسٹم میں اس وقت 6 ہزار نرسیں ہیں، پرائیورٹ کو ملا کر 23 ہزار بنتی ہیں۔ ہمیں اب بھی ایک لاکھ 32 ہزار نرسوں کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہسپتالوں میں ایک نرس 25 بیڈوں کی نگرانی کرتی ہے، لیکن عالمی معیار میں ایک نرس 3 بیڈوں کی نگرانی کرتی ہے۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اب بین الاقوامی معیار میں ہمیں ایک اور کیڈر سامنے آگیا ہے، جو ڈاکٹر اور نرس کے درمیان ہے۔ یعنی اسپیشلائزڈ نرسیں اور پیرامیڈیکس، ڈاکٹروں کی عدم موجودگی پر یہ اسپیشلائزڈ نرسیں مریضوں کا علاج معالجہ کرسکیں گی۔

اسلام ٹائمز: قبائلی اضلاع ویسے تو ہر شعبے میں پسماندہ ہیں، اب جبکہ یہ اضلاع صوبے کا حصہ بن چکے ہیں تو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے۔؟
ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان:
میں آپ کو بتاؤں کہ بندوبستی علاقوں سے زیادہ ہم نے ضم شدہ اضلاع میں صحت کی سہولیات پر فوکس کیا ہے، ہم بیشتر پروگرام کو قبائلی اضلاع تک توسیع دے رہے ہیں۔ ایل ایچ ڈبلیو پروگرام کی توسیع کے ساتھ وہاں پر ایمبولینس نظام کو مربوط کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے قبائلی اضلاع میں بی ایچ یوز مکان کے حجروں میں قائم تھے، اب ہم جیو میپنگ کے ذریعے وہاں پر سی ایچ یوز بنائیں گے۔

اسلام ٹائمز: محکمہ صحت آئے روز نئے ایکٹ نافذ کرتا ہے، جس پر صوبہ بھر کے ڈاکٹر سراپا احتجاج ہیں، آخر حکومت اور ڈاکٹروں میں آنکھ مچولی کب تک جاری رہے گی۔؟
ڈاکٹر ہشام اللہ خان:
آپ نے دیکھا ہوگا کہ مساجد میں بھی چوری ہوتی ہے، پنکھے اور جوتے غائب کر دیئے جاتے ہیں، یہ تو پھر ہسپتال ہیں، لوگ اچھے برے آئیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ ایم ٹی آئی کا سسٹم بہت بہترین ہے، سروسز اچھی ہوئی ہیں۔ اگر ایم ٹی آئی اور رولز اینڈ ریگولیشنز کو فالو کیا جائے تو براہ راست مریضوں کو فائدہ ہوگا۔ ایم ٹی آئی کے تحت مینجمنٹ اچھی آئی ہے، اہل لوگ ہسپتالوں کا حصہ بنے ہیں۔ دراصل بعض ہسپتالوں کے بی او جیز ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہے، اس لئے ہم وقتاََ فوقتاََ بورڈز تحلیل کرکے نئے بورڈ تشکیل دیتے ہیں۔ یہ ہماری روایات رہی ہیں کہ جب بھی احتساب کی بات آتی ہے تو ہم چیختے ہیں۔ ایم ٹی آئی، ڈی ایچ اے، آر ایچ کیا ہیں؟ دراصل یہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہے۔ میں ایک ڈاکٹر ہوں، میں نے ایک سال کام کیا ہے، اگر میں نے اچھی کارکردگی دکھائی تو میں سسٹم کا حصہ رہوں گا، لیکن ہم صرف اپنے مفادات کے رکھوالے ہوتے ہیں، مریضوں کی حالت کیا ہے، اس سے کسی کا کوئی لینا دینا نہیں، لیکن یہ سلسلہ اب مزید نہیں چلے گا، مریضوں کی مشکلات کو کم کرنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کیا ایم ٹی آئی، ڈی ایچ اے اور آر ایج سرکاری ملازمین کا تحفظ کرتے ہیں، اصل مسئلہ تو ڈاکٹروں کو اپنی ملازمتوں کا ہے۔؟
ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان:
ہمارا کام نوکریوں کا تحفظ نہیں بلکہ مریض اور عام عوام کی زندگیوں کا تحفظ کرنا ہے۔ میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ ایکٹ انگریزی میں ہے، چینی زبان میں نہیں کہ کوئی سمجھ نہیں پاتا۔ ایکٹ میں واضح طور پر تحریر ہے کہ جو ڈاکٹر یا طبی عملہ سرکاری ملازم ہے، وہ اپنی ریٹائرمنٹ تک سرکاری ملازم ہی رہے گا۔ دراصل ان ڈاکٹروں کو فکر 2047ء کے بعد بھرتی ہونے والے ڈاکٹروں کی ہے، کیونکہ موجودہ سرکاری ڈاکٹر یا دیگر طبی عملہ 2047ء تک ریٹائر ہو جائے گا۔ موجودہ ڈاکٹر خود کس طرح سے اس سسٹم کا حصہ بنے ہیں، یہ معاملہ بھی مشکوک ہے، یہ کیسے ڈاکٹر ہیں جو گالیاں دیتے ہیں اور پتھر مارتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: حکومت کی پالیسیوں کے باعث سینیئر ترین ڈاکٹرز ملازمتیں چھوڑ رہے ہیں یا پھر طویل چھٹیوں پر جا رہے ہیں، کیا سینیئرز کے جانے سے مسائل پیدا نہیں ہونگے۔؟
ڈاکٹڑ ہشام انعام اللہ خان:
ان ڈاکٹروں کے جانے سے ہمیں نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہو رہا ہے، اہل لوگ ہسپتالوں کا حصہ بن رہے ہیں، نقصان تو اس وقت ہو رہا تھا، جب ایل آر ایچ کے شعبہ امراض قلب میں 6 کارڈیک سرجن موجود تھے اور ان کی سرجریوں کے دوران ہر 100 میں 36 افراد مر جاتے تھے۔ یعنی دل کے مرض میں مبتلا لوگ اپنی زندگی کیلئے بائی پاس آپریشن کراتے تھے اور یہ لوگ ان کی زندگی بچانے کی بجائے انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں، جب ہم نے معلومات لیں تو پتہ چلا کہ 6 سرجنوں میں 3 ٹرینڈ ہی نہیں ہیں، جنہیں فوری طور پر ٹریننگ پر بھجوا دیا گیا ہے، جبکہ باقی تینوں کو بائی پاس آپریشن کے دورانیہ اور دوران آپریشن اموات کی شرح 36 سے کم کرکے 4 تک لانے کا ہدف دیا گیا، لیکن یہ لوگ اس میں بھی کامیاب نہیں ہوئے، لہٰذا ہمیں خوشی ہے کہ ایسے لوگ ہمارے سسٹم سے نکل رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ڈومیسائل کی بنیاد پر تبادلوں پر بھی ڈاکٹر برادری سراپا احتجاج ہے، تبدیل ہونیوالے ایک ہزار ڈاکٹروں نے ابھی تک چارج نہیں لیا۔؟
ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان:
حکومت اور ڈاکٹروں کے مابین ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، جس کی رپورٹ جلد آجائے گی، اس کے بعد تبدیل ہونے والے ڈاکٹر اپنا چارج لیں گے۔ میں انہیں بارہا بتا چکا ہوں کہ ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے سے کوئی سرکاری ہسپتال پرائیویٹ نہیں ہوگا، یہ تو صرف مینجمنٹ اصلاحات کا قانون ہے، لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں ان کے اپنے علاقوں میں کیوں تبدیل کیا جا رہا ہے، کیا کسی ڈاکٹر کے دل میں اپنے علاقے کی خدمت کا جذبہ موجود نہیں؟ ابھی بھی کئی اضلاع کے ہسپتالوں میں اسپشلسٹ ڈاکٹروں کی پوسٹیں خالی پڑی ہیں، کیونکہ یہ لوگ اپنے آبائی علاقوں میں نہیں جانا چاہتے۔ ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے سے اب ہم اضلاع کی سطح پر کنٹریکٹ پر ڈاکٹر بھرتی کرسکیں گے۔ بدقسمتی سے کیٹگری اے، بی اور سی ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات کسی طور اپنی کیٹگری سے میچ نہیں کرتیں۔ اب ہم ہر ہسپتال کو اس کی کیٹگری کے مطابق کریں گے۔ دراصل ڈاکٹر برادری سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بن چکی ہے۔

اسلام ٹائمز: ہیلتھ کیئر کمیشن کا کام صحت سہولیات کی فراہمی کے نجی و سرکاری اداروں کو ریگولیٹ کرنا ہے، لیکن اب بھی پشاور اور صوبے میں غیر رجسٹرڈ طبی اداروں کیساتھ غیر مستند طبی عملہ ایک بڑا مسئلہ ہے، اس مسئلے سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔؟
ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان:
میں نے آئندہ پانچ سال کیلئے اپنی ترجیحات کا تعین کیا ہے، البتہ میں انسان ہوں اور انسان سے غلطی ہوسکتی ہے۔ میں نے ایچ سی سی کا بورڈ تبدیل کیا ہے، دراصل ایکٹ مجھ سے پہلے بنا تھا، ایچ سی سی کے حکام سے ملاقاتوں میں، میں نے انہیں کہا ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے پاس طبی اداروں کو ریگولیٹ کرنے کا فارمولہ ہے، تو یہ اسی صورت میں ہوگا، جب ایچ سی سی کے پاس خود اس فیلڈ سے متعلق لوگ ہونگے۔ ایچ سی سی کو خود معلوم نہیں کہ ایک ہسپتال، لیبارٹری یا ڈاکٹر کے کلینک میں کیا کیا ہونا چاہیئے، تو پھر وہ کس طرح انہیں قواعد میں لاسکیں گے۔ میں نے محکمہ صحت میں بھرتیوں پر پابندی عائد کی تھی جبکہ ایچ سی سی نے بھرتیوں کا اشتہار دے رکھا تھا، تاہم جب ان بھرتیوں کی تفصیلات معلوم کی گئیں تو کوئی بھی متعلقہ فیلڈ کا بندہ بھرتی نہیں کیا جاتا تھا۔

لہٰذا میں نے اشتہار کو فوری طور پر منسوخ کرنے کی ہدایت کی۔ دیکھیں جی، ایچ سی سی کے انسپکٹر کے پاس کم سے کم میڈیکل کا تجربہ تو ہونا چاہیئے، کیا ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ڈاکٹر نہیں ہونا چاہیئے؟ وہ پورا ادارہ چلا رہا ہے لیکن وہ خود اس فیلڈ سے تعلق ہی نہیں رکھتا۔ دراصل غلطی ان کی نہیں بلکہ ایکٹ کی ہے، کرائی ٹیریا ہی ایسا ہے، لہٰذا اب ہم ایکٹ میں ترامیم لا رہے ہیں، ایچ سی سی مکمل نہیں بلکہ نیم خود مختار ادارہ ہے، اس کے عملے کی تنخواہیں سرکار ادا کرتی ہے، یہ خود لوگوں کے پیسوں سے چلتا ہے، لیکن ایچ سی سی خود مختاری کا غلط فائدہ اُٹھا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: صحت انصاف کارڈ کا دائرہ پورے صوبے تک پھیلا دیا گیا ہے، عملی اقدامات کا آغاز کب سے ہوگا۔؟
ڈاکٹر ہشام انعام الله خان:
وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلٰی محمود خان کا ویژن تھا کہ پورے صوبے کو صحت کی مفت سہولیات دستیاب ہوں، اس حوالے سے میں وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کو خراج تحسین پیش کرونگا۔ ویسے تو وہ خزانے کے منہ کو بڑا ٹائیٹ بند کرکے رکھتے ہیں، لیکن جب بات عوام کی صحت کی ہوئی تو انہوں نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحت انصاف کارڈ کیلئے فنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ صحت انصاف کارڈ جیسے پہلے تقسیم ہوئے تھے، اسی طرح پوری آبادی کیلئے بھی وہی سسٹم رائج رہے، البتہ پہلے 63 فیصد اور اب صوبے کی 100 فیصد آبادی کور ہوگی۔ پہلے فی خاندان کو 5 لاکھ 40 ہزار تک صحت سہولیات دی جاتی تھیں، اب فی خاندان 10 لاکھ 30 ہزار کا علاج کرا سکے گا۔

اسلام ٹائمز: تمام تر کوششوں کے باوجود پولیو وائرس ختم ہونیکا نام ہی نہیں لے رہا، اس پروگرام سے وابستہ لوگ بھاری بھر کم تنخواہیں اور مراعات حاصل کر رہے ہیں، کیا پولیو خاتمے کا خواب کبھی شرمند تعبیر بھی ہوگا۔؟
ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان:
میں واضح کرتا چلوں کہ پولیو پروگرام محکمہ صحت کے زیر انتظام نہیں ہے، انسداد پولیو پروگرام عالمی ادارہ صحت کا پراجیکٹ ہے، ہم تو صرف ان کو لاجسٹک سپورٹ دیتے ہیں۔ میری ذمہ داری تب ہوگی، جب پولیو پروگرام میرے زیرِ انتظام ہوگا، جب منصوبہ بندی ڈبلیو ایچ او کرتا ہے، دوائی وہ فراہم کرتا ہے، وہ تو ہمیں ہدایات کرتے ہیں کہ ڈی سی کو کیا کرنا چاہیئے اور ڈی ایچ او کی کیا خدمات ہونگی۔ جہاں تک آپ کی بات ہے کہ گذشتہ 10، 10 سال سے اس پروگرام میں ڈاکٹر اور دیگر لوگ براجمان ہیں، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں وزیر صحت ہوں اور مجھ سے ڈیلیور نہیں ہو رہا تو پھر مجھے خود ہی الگ ہو جانا چاہیئے یا پھر مجھے ہٹا دیا جانا چاہیئے۔ ڈبلیو ایچ او تو ہماری تجاویز کو بھی خاطر میں نہیں لاتا، چند ماہ قبل پشاور میں پولیو ڈرامہ ہوا، میں پورا دن خود اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتا رہا، لیکن کیا یہ معلوم کیا گیا کہ اس ڈرامے سے کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہوا۔؟
خبر کا کوڈ : 807774
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب