0
Wednesday 31 Jul 2019 18:38
گلگت بلتستان میں ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کی ٹریننگ کی ضرورت ہے

آن لائن ویزا سسٹم سے ملکی سیاحت میں انقلاب برپا ہوا، کرار حیدری

آن لائن ویزا سسٹم سے ملکی سیاحت میں انقلاب برپا ہوا، کرار حیدری
الپائن کلب آف پاکستان کوہ پیمائی کی ملک گیر تنظیم ہے، اس کا قیام 1974ء میں عمل میں لایا گیا، ملکی سیاحت کے فروغ اور پالیسی سازی میں الپائن کلب کو کلیدی کردار حاصل ہے، اس وقت اس تنظیم کے سیکرٹری کرار حیدری ہیں، ان کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے سے ہے، انہیں سیاحت اور کوہ پیمائی سے متعلق وسیع تجربہ حاصل ہے، جی بی میں اس وقت سیاحت اور کوہ پیمائی عروج پر ہے، اسلام ٹائمز نے کرار حیدری سے جی بی کی سیاحت، مشکلات اور مسائل کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے جو کہ محترم قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ (ادارہ) 


اسلام ٹائمز: آپ کا تعلق سیاحت اور کوہ پیمائی سے ہے اور ان شعبوں میں وسیع تجربہ بھی حاصل ہے تو جاننا چاہیں گے کہ گلگت بلتستان میں اس وقت سیاحت کی کیا صورتحال ہے اور کوہ پیمائی سے متعلق تفصیلات سے بھی آگاہ فرمایئے گا۔
کرار حیدری:
رواں سال ابھی تک جی بی میں چالیس کے قریب ایکسپیڈیشن آئی ہے، چوٹیوں پر مہم جوئی کیلئے ایک سو بیس کے قریب کوہ پیما تیار تھے، لیکن چونکہ اس سال برف باری زیادہ ہوئی ہے تو بہت سارے لوگ واپس آگئے ہیں، تاہم وہ کے ٹو کیمپ فور تک پہنچے تھے، آگے موسم بہت خراب تھا، پھر برفباری بھی زیادہ ہوئی تھی، اس لئے بعض کوہ پیما کیمپ فور اور بعض کیمپ تھری سے واپس آگئے۔ پچھلے سال 64 کوہ پیماؤں نے کے ٹو سر کیا تھا، رواں سال ایک سو بیس کے قریب کوہ پیما تیار تھے، ابھی تک تیس کے قریب کوہ پیماؤں نے کے ٹو سرکر لیا ہے، ان میں تین پاکستانی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 20 کوہ پیماؤں نے براڈ پیک جبکہ دس کے قریب کوہ پیماؤں نے جی ون اور جی ٹو کو بھی سرکر لیا ہے۔

برفباری زیادہ نہ ہوتی تو اس سال کوہ پیمائی کا نیا ریکارڈ قائم ہونا تھا، سخت موسم میں مہم جوئی کے سلسلے میں نیپالی کوہ پیماؤں نے اہم کام کیا، رواں سال سب سے پہلے نیپالی کوہ پیماؤں نے کے ٹو سر کیا، جس کیوجہ سے دیگر کوہ پیماؤں کو بھی حوصلہ ملا۔ اگر ہم سیاحت کے حوالے سے دیکھیں تو پلوامہ واقعہ کے نتیجے میں پاک انڈیا ٹینشن کی وجہ سے ہماری فضائی حدود بند رکھی گئیں، جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ نہیں آسکے، کیونکہ اکثر ایشیائی ممالک کے سیاح اور کوہ پیما مشرقی روٹ استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً تھائی لینڈ، سنگاپور اور دیگر ممالک وغیرہ، اب یہ فضائی حدود بحال ہو گئی ہیں جس سے کافی بہتری آ رہی ہے۔

 اسلام ٹائمز: شعبہ سیاحت میں بہتری کی سب سے بنیادی وجہ آپ کیا سمجھتے ہیں؟
کرار حیدری:
دیکھیں سکیورٹی فورسز کی کوششوں کی وجہ سے ملک بھر میں امن قائم ہو چکا ہے، جس کیوجہ سے غیر ملکی سیاح بھی اب پاکستان کا رخ کرنے لگے ہیں۔ نائن الیون کا اثر پورے خطے پر پڑا، بعد میں دہشتگردی کے واقعات نے جلتی پر تیل کا کام کیا، سانحہ نانگا پربت کی وجہ سے بہت برا اثر پڑا، سیاحت ختم ہونے کے قریب تھی، لیکن پاک فوج کی کوششوں کی وجہ سے جہاں ملک بھر میں امن قائم ہوا وہاں اس کا اثر گلگت بلتستان پر بھی پڑا، سیاحت اپنے عروج پر پہنچ گئی، میں سمجھتا ہوں جس چیز کی وجہ سے سیاحت عروج پر پہنچ گئی وہ آن لائن ویزا سسٹم ہے۔ اس کی وجہ سے ملکی سیاحت میں انقلاب برپا ہوا۔ میں پندرہ سال پہلے چین گیا تھا، کاشغر میں ایک خوبصورت جھیل ہے، یہ پاک چین سرحد کے بالکل نزدیک ہے، وہاں سے تین گھنٹے میں ہنزہ پہنچ سکتے ہیں، وہاں پر کئی سو بسیں لائن میں کھڑی تھیں۔

ملکی و غیر ملکی سیاح سب شامل تھے، میں نے ان سے پاکستان خصوصا گلگت بلتستان کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ پاکستان آنا چاہتے تھے کیونکہ انہیں گلگت بلتستان کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل تھیں، لیکن وہ کہہ رہے تھے کہ انہیں ویزے کیلئے بیجنگ جانا پڑے گا، اب بیجنگ کاشغر سے دو ہزار کلومیٹر دور ہے، جبکہ کاشغر سے ہنزہ تین گھنٹے کا راستہ ہے، اب ان لوگوں کو ہنزہ یا گلگت بلتستان آنے کیلئے پہلے دو ہزار کلومیٹر کا سفر کر کے بیجنگ جانا پڑتا تھا، پھر وہاں سے  ویزا لے کر دوبارہ دو ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے ہنزہ آنا پڑتا تھا، یہ نظام بہت بڑی رکاوٹ تھا۔ ویزہ آن لائن ہونے سے لوگوں کو بیجنگ جانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ وہیں سے آن لائن سارا پراسیس کر لیتے ہیں، بعض لوگ ٹور آپریٹر کے ذریعے آتے ہیں، تو اس کیلئے انہیں صرف ایک لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے جو ٹور آپریٹر فراہم کرتے ہیں، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ویزا آن لائن ہونے سے ایک طرف تو سیاحوں کی مشکلات کم ہو گئیں، دوسری طرف سسٹم آسان ہونے سے خطے کی سیاحت پر اچھا اثر پڑا۔ ویزا آسان ہونے سے سال بہ سال بہت زیادہ سیاح آئیں گے لیکن اس سے پہلے ہمیں یہاں کا انفراسٹرکچر ٹھیک کرنا ہوگا۔ 

اسلام ٹائمز: ہوٹل انڈسٹری اور سیاحت میں گہری تعلق ہے، یہ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزم ہے، آپ بیرون ممالک جاتے رہتے ہیں اور وہاں کی ہوٹل انڈسٹری کو بھی قریب سے دیکھا ہے، گلگت بلتستان اور بیرون ممالک کی ہوٹل انڈسٹری میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟
کرار حیدری:
دیکھیں بات یہ ہے کہ بیرون ممالک میں ہر کٹیگری کے ہاسٹل اور ہوٹل موجود ہوتے ہیں، یہ ٹینٹ سروس بھی ہر ملک میں ہے، فائیو سٹار ہوٹل بھی ہے، تھری سٹار اور ٹو سٹار بھی، سیاحوں میں ہر قسم کی کٹیگری کے لوگ شامل ہوتے ہیں، جن لوگوں نے فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرنا ہوتا ہے، وہ ہر صورت میں فائیو سٹار ہوٹل کو ہی ترجیح دینگے، لیکن جو مڈل کلاس کے لوگ ہیں وہ ٹینٹ سروس اور چھوٹے ہوٹل کو ترجیح دینگے، کیونکہ یہ سروس ان کیلئے سستی پڑتی ہے۔ ٹینٹ ہونا چاہیئے اور ہاسٹل کا سسٹم بھی ہونا چاہیئے۔ یہ چیزیں سیاحوں کو سستی پڑتی ہیں، جس کی وجہ سے سیاح زیادہ آئیں گے، جب سیاح زیادہ آئیں گے تو بزنس بھی بڑھے گا۔ اس وقت ہوٹلوں میں کرایے بہت بڑھا دیئے ہیں، ابھی پچھلے سال خزاں میں ہمارے ساتھ ایک گروپ تھا، اس وقت ہنزہ یا سکردو میں جس ہوٹل میں ہم رہے وہاں دو ڈھائی ہزار کرایہ تھا

لیکن سیزن میں وہی ہوٹل آٹھ ہزار اور دس ہزار سے نیچے آنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا، ہمارے جی بی میں ٹیکس نہیں ہے اور آپ دیکھیں کہ پانچ ہزار میں اسلام آباد میں بہترین کمرہ مل جاتا ہے، حالانکہ اسلام آباد میں ہر چیز پر ٹیکس بھی ہے اس کے باؤجود اس میں تمام سہولیات ہوتی ہیں لیکن جی بی میں دس ہزار کا بھی کمرہ ہے تو وہاں پراپر سہولیات نہیں ہوتیں، جبکہ یہ ٹیکس فری زون ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنا سسٹم بہتر کریں اور کرایے کم کریں، کرایے کم کرنے سے سیاحت سارا سال چلتی رہے گی، اس سے بزنس بڑھے گا۔ جب بزنس بڑھ جاتا ہے تو فائدہ ہمارے لوگوں کا ہی ہوتا ہے۔ لوگ سردیوں میں بھی وہاں جانا چاہتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان میں ہر موسم میں الگ الگ خوبصورتی ہوتی ہے، خزاں کی الگ خوبصورتی ہے اسی طرح سردیوں کا ہی الگ ماحول ہوتا ہے جسے لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: تو کیا جی بی میں اس انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کی باقاعدہ ٹریننگ ہونی چاہیے؟
کرار حیدر ی:
جی ہاں، جی بی میں ہوٹل انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی پراپر ٹریننگ کی ضرورت ہے، انہیں ہر طر چونکہ یہ سرد علاقہ ہے اس لئے یہاں پر ہر وقت گرم پانی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اکثر ہوٹلوں میں ایسا کوئی بھی نظام نہیں، خاص طور پر جو ایشیائی ممالک سے لوگ آتے ہیں، جیسا کہ سنگاپور سے جو سیاح آتے ہیں، سنگاپور کا آب و ہوا مختلف قسم کا ہوتا ہے، وہاں سردیوں میں بھی درجہ حرارت 25 کے قریب رہتا ہے، جبکہ گرمیوں میں 45 سے 50 تک بڑھ جاتا ہے، جب ایسے ممالک سے لوگ یہاں آتے ہیں تو جی بی کی معمولی سردی بھی وہ برداشت نہیں کر سکتے، اس لئے انہیں ہر وقت گرم پانی چاہیئے، جو کہ اکثر ہوٹلوں میں نہیں ہوتا، کیونکہ ہم سرد علاقے کے لوگ ہیں تو ہمیں اتنی سردی نہیں لگتی، لیکن گرم ممالک کے لوگوں کو یہاں گرمیوں میں بھی سردی لگتی ہے، اس لئے ایسے سیاحوں کو ہر وقت گرم پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اس حوالے سے انہیں آگاہی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

میرا بہت سارے ملکوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے جہاں پر سیاحوں کیلئے بہت ساری آسانیاں ہیں، یہاں تک کہ یورپ میں سویٹزرلینڈ میں ہم نے دیکھا کہ وہاں سیاحوں کیلئے ایک خاص کارڈ دیا جاتا ہے، اس کارڈ کے ذریعے سیاحوں کو بہت ساری ڈسکاؤنٹ حاصل ہوتی ہے، ریلوے اور ہوٹلوں میں اس کارڈ کے ذریعے بہت ساری رعایتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ پھر وہاں ہاسٹل ٹائپ ہوٹل بھی ہوتے ہیں، مطلب وہاں بجٹ بیس سیاحت کو فروغ دیا گیا ہے۔ فرض کریں ایک سیاح پیسے والا ہوتا ہے، لیکن بعض مڈل کلاس کے بھی ہوتے ہیں، ان کیلئے ہر کٹیگری کے ہوٹل متعارف کرائے گئے ہیں، ہمارے یہاں بدقسمتی یہ ہے ہم نے سب کو ایک ہی کٹیگری میں رکھا ہوا ہے، ہم یہ نہیں دیکھتے کہ جو سیاح ہمارے ہوٹل میں ٹھہرنا چاہتے ہیں کیا وہ استطاعت بھی رکھتے ہیں؟ ان کیلئے کوئی پریشانی تو نہیں، کیونکہ بعض دفعہ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ روڈ بلاک ہونے یا موسم کی خرابی کی وجہ سے جو سیاح کئی دن تک پھنس کر رہ جاتے ہیں تو ان کے پاس پیسہ ختم ہو چکا ہوتا ہے، یہاں تک کہ عورتوں کو اپنی زیورات بیچ کر بھی گزارہ کرنا پڑا، بڑی مشکل سے انہوں نے دن گزارے۔

اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بہت سارے لوگ جو آنا چاہتے ہیں وہ نہیں آتے۔ اس کیلئے مکمل انفراسٹرکچر ہو اور ہوٹل اور ٹرانسپورٹ والوں کے اوپر چیک اینڈ بیلنس ہونا ضروری ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ روڈ کے حوالے سے ہے، گلگت سکردو روڈ زیر تعمیر ہونے کی وجہ سے جو چار سے پانچ گھنٹے کی مسافت تھی، وہ اب دس بارہ گھنٹے تک جا پہنچی ہے، اس وجہ سے سیاحوں میں ایک غلط تاثر جاتا ہے، اس تاثر کو دور کرنے کی ضرورت ہے، انہیں باقاعدہ بریف کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ کرایوں میں بھی ان بیلس ہے، ہوٹلوں کے کرایوں کے حوالے سے بہت زیادہ شکایتیں ہیں، یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کرایوں کو بیلنس رکھے۔ ایک اور ضروری نکتہ یہ ہے کہ فیس بک ٹور آپریٹر پر پابندی ہونی چاہیے، لائسنس یافتہ ٹور آپریٹر کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے، ان کو سہولیات فراہم کی جانی چاہیئں۔

اسلام ٹائمز: فیس بک ٹور آپریٹرز پر پابندی کیوں؟
کرار حیدری:
فیس بک ٹور آپریٹروں کے پاس لائسنس نہیں ہوتا، ان کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہوتا، یہ لوگ فیس بک پر مشتہر کر کے لوگوں کو لے جاتے ہیں، یہ ٹور آپریٹر سیاحوں کو وہ سہولیات نہیں فراہم کرتے جو ان کا حق ہوتا ہے، اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کم سہولیات کی وجہ سے سیاحوں میں علاقے کے حوالے سے منفی تاثر پیدا ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں جو لائسنس یافتہ ٹور آپریٹرز ہوتے ہیں وہ قانون کے پابند ہونے کی وجہ سے سیاحوں کو مکمل سہولیات دینے کے بھی پابند ہوتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ چونکہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں سے ملتے رہتے ہیں، تو ان کے تاثرات کے تناظر میں جی بی میں ان کمزوریوں اور مسائل کی نشاندہی کیجئے گا، جو سیاحت کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہیں اور حکومت کو ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے؟
کرار حیدری:
ایک تو روڈ کا مسئلہ ہے، جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ گلگت سکردو روڈ زیر تعمیر ہے، جس کیوجہ سے سیاحوں کو تھوڑی پریشانی کا سامنا ہے، کے کے ایچ کی حالت بھی خراب ہے، معمولی بارش پر بھی شاہراہ بند ہو جاتی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ مقامی سیاح بہت بڑی تعداد میں جانا چاہتی ہے، لیکن انفراسٹرکچر وہاں پر بہتر نہیں ہے، ہنزہ میں اگر آپ دیکھیں تو وہاں بجلی ہی نہیں، گلیشیر اور برفانی تودے کی وجہ سے بجلی کا پورا نظام تباہ ہو گیا ہے، یہاں تک کہ ہنزہ میں پانی کا بھی بہت مسئلہ ہے کیونکہ وہاں پر پینے کا پانی گلیشئر سے ہی آتا ہے۔ جگلوٹ سکردو روڈ پر کام کی وجہ سے تھوڑی مشکل تو ہے، روڈ پر ایسا نظام ہونا چاہیئے کہ لوگ کم از کم بروقت پہنچ سکیں، یا انہیں زیادہ پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ اب کام ہو رہا ہوتا ہے تو روڈ بند کر دیا جاتا ہے، مسافروں کے ساتھ ان کے بچے اور فیملی ہوتی ہے، ایسی جگہوں پر فیملی کیلئے کوئی متبادل انتظام نہیں ہوتا، میں جس ملک میں بھی گیا ہوں وہاں آپ جہاں کہیں بھی جائیں وہاں مسافروں اور سیاحوں کیلئے بہترین انتظام  دیکھنے کو ملا۔

وہاں پر ہر جگہ واش روم کی سہولت ہوتی ہے، یہاں پاکستان میں ایسا کوئی نظام نہیں، سیاح کہیں پھنس جائے تو کھلے آسمان تلے گزارنا پڑتا ہے، بیرون ممالک صفائی کا بہترین نظام ہوتا ہے، ہمیں اپنے خطے میں بھی صفائی کو خاص ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ سکردو روڈ بنے گا تو سیاحوں کی بڑی تعداد آئے گی، اس کیلئے ہر جگہ قیام و طعام کا نظام بہت ضروری ہے، سیاح اکثر فیملیز کے ساتھ جاتے ہیں، بہت ہی کم ہوں گے جو اکیلے سفر کرتے ہوں، تو ایسے میں فیملیز کیلئے جگہ جگہ سہولیات ہونا ضروری ہے۔ دوسرا اہم ترین مسئلہ فلائٹ کا ہے، فلائٹ کے حوالے سے مسائل بہت گھمبیر ہیں، سکردو ایئرپورٹ ہر قسم کے طیارے اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن پھر بھی یہ آل ویدر نہیں ہے، یہاں کرایے بہت زیادہ ہیں، کراچی کا بھی وہ ہی کرایہ ہے اور سکردو کا بھی، بعض اوقات کراچی سے بھی زیادہ سکردو کا کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ 45 منٹ سکردو کی فلائٹ ہے اور کراچی دو گھنٹے کی مسافت ہے، لیکن کرایے سکردو کے بہت زیادہ ہیں۔

اسلام ٹائمز: لوگوں کے رویوں کے بارے میں کوئی شکایات تو نہیں؟ 
کرار حیدری:
نہیں نہیں، ابھی تک ایسی کوئی شکایات نہیں آئیں، کیونکہ خصوصاً  بلتستان میں عام لوگوں کا رویہ بہت اچھا ہوتا ہے، نرم مزاج کے لوگ ہیں، وہ سیاحوں کے ساتھ بڑے اچھے انداز میں پیش آتے ہیں، بلتستان میں جب بھی لوگ جاتے ہیں تو وہاں کے مقامی کلچر اور مشرقی روایات کا احترام بہت ضروری ہوتا ہے، سیاحوں کو اس چیز کا خاص طور پر خیال کرنا ہوگا، کیونکہ بلتستان میں پردہ اور حیا والا کلچر ہے، وہاں کے عام لوگ مغربی کلچر کو پسند نہیں کرتے، اس لئے جو سیاح وہاں جاتے ہیں انہیں اس چیز کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 808165
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے