0
Wednesday 7 Aug 2019 12:23

ٹرمپ کے ٹریپ میں آنیوالے عمران خان قومی مجرم ثابت ہونگے، تسنیم احمد قریشی

ٹرمپ کے ٹریپ میں آنیوالے عمران خان قومی مجرم ثابت ہونگے، تسنیم احمد قریشی
سابق وزیر مملکت برائے داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء تسنیم احمد قریشی اپوزیشن کے اہم رہنماء ہیں۔ پارٹی فیصلوں میں کلیدی کردار کے حامل ہیں۔ 2002ء اور 2008ء میں رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ موجودہ ملکی سیاسی صورتحال، کشمیر پر بھارت کے غیر آئینی اقدام، عمران خان کے دورہ امریکہ کے متعلق خدشات، تحفظات اور مولانا فضل الرحمان کے الزامات، سینیٹ میں چیئرمین کیخلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی سمیت اہم ایشوز سمیت اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹوریو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: پاکستان پیپلز پارٹی جمہوری روایات کی پاسداری کی دعویدار ہے، چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کو بھی کھل دل سے تسلیم کیا جانا چاہیے، اس میں ہچکچاہٹ کیسی؟
تسنیم احمد قریشی:
اس بار پھر ہماری ناکامی حقیقی نہیں تھی، عملی طور پر تو ہم نے یہ الیکشن جیتا ہے، جب ہم نے لوگوں کو کھڑا کیا تو64 لوگ تھے، یعنی کے جب سنجرانی کے خلاف قرارداد کی بات ہوئی تو64 آدمیوں نے کھڑے ہوکرفیصلہ کردیا تھا، اسی طرح سے سلیم مانڈوی والا کے خلاف انہوں نے قرارداد دی ہوئی تھی، اس کے لئے رائے مانگی گئی تو32 لوگ کھڑے تھے، تو64 اور32 کا مقابلہ تھا، عملی طور پر یہی ہمارا موقف تھا، لیکن جو کچھ خفیہ رائے دہی سے سامنے لی گیا وہ نشر مکرر تھا 2018ء کے الیکشن کا، کہ جب پورا ملک ایک طرف تھا، جیت پی ٹی آئی گئی، بلکہ جتوا دیا  گیا، اسی لیے انہیں آج تک لوگ سلیکٹر کہہ رہے ہیں، تو یہ بھی دوبارہ سے یہی چیز ہوئی ہے، سنجرانی اچھے آدمی ضرور ہیں، لیکن ان کی ذات کو تو نقصان پہنچا ہے کہ جنہوں نے یہ کام کیا ہوگا یا کیا ہے، ان کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہے، اس لئے کے اگر آپ لوگوں کو ان کی رائے کا حقیقی استعمال نہیں کرنے دیں گے تو پھر جمہوریت کو نقصان پہنچے گا، جمہوریت کو نقصان پہنچنے کا مقصد اس ملک کی ریاست کو نقصان پہنچانا ہے، چند لوگوں کی خوشی کے لئے چند لوگوں کی ضد کے آگے یا چند لوگوں کے اپنے پروگرام کو آگے چلانے کے لئے ملک کو سزا دی جارہی ہے، جمہوریت کو سزا دی جارہی ہے اور اس لحاظ سے اگر کوئی نتیجہ آرہا ہے تو اس کو کون ناکامی کہے گا۔

اسلام ٹائمز: سیاسی جماعتیں ایسے افراد کو ٹکٹ کیوں دیتی ہیں جو اپنا ضمیر بیچ دیتے ہیں؟
تسنیم احمد قریشی:
اصل میں جمہوریت کیساتھ کھیلواڑ کرنیولے بے ضمیر ہیں۔ آدھا گھنٹے پہلے کھڑے ہوکر بتا رہے ہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ ہیں اور ایک دفعہ نہیں بتایا مختلف کھانے لنچ برنچ اس میں کہیں 62 لوگ ہیں، کہیں61 لوگ ہیں کہیں64 ہیں، میرے حساب سے سینیٹ میں پوزیشن کو 65  ووٹ پڑنے تھے ایک ووٹ ادھر سے اختر مینگل نے کہہ دیا تھا کہ ہم دیں گے کھڑے ہوکر انہوں نے دکھایا بھی ہے اور اس کے بعد بہت ساری چیزیں اور بھی چل رہی ہیں 54 ووٹ پڑے تھے، نہیں پڑے تھے، اب اس کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر تو ہمیں ناکام کرنے کی 14 پنکچر لگائے ہیں، اصل میں اپنے اپنے آپ کو پنکچر لگا لیا ہے، اس لئے کے اصل چیز پاکستان کی عوام ہیں۔ حکومت کو ہم ڈرا نہیں رہے ہیں، ہم ڈراتے کسی کو بھی نہیں ہیں، ہم تویہ کہہ رہے ہیں کہ 2018ء کا الیکشن دھاندلی زدہ تھا، ہم نہیں کہہ رہے ساری دنیا کہہ رہی ہے، ساری سیاسی جماعتیں کہہ رہی ہیں، میڈیا بھی کہہ رہا ہے، اس کا بہت بڑا حصہ کچھ کہہ رہا ہے کچھ نہیں کہہ رہا، ہم تو چاہ رہے ہیں اس کی اصلاح کریں جو حقیقتاً جیتے ہیں انہیں ہی حکومت کرنے کا حق ہے، کیوں کہ حقیقی حکومت نہیں ہے۔

سلیکٹڈ ہے، اس لئے آپ دیکھ لیں کے پچھلے ایک سال میں عوام کا کیا حال ہوا ہے، ہم یہ چاہتے ہیں کے عوام کا حال بہتر ہوبہتر ہوگا تو اس کی بنیادیں ٹھیک کرنا پڑیں گی، جس میں 2018ء کے انتخابات کا نتائج ہیں، دوسرا یہ اب نشر مکرر جو ہوا ہے، اس کو بھی دیکھیں گے مگر 2018ء کا الیکشن کرانے کے باوجود عوام تو ان کے ساتھ نہیں ہے، آج انہوں نے اور عوام کو اپنے سے دور کرلیا ہے اور ہمارے قافلے میں اس لئے زور آجائے گا، اگر وہ ایوانوں کو تسلیم نہیں کریں گے ایوانوں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کریں گے، تو پھر سڑک پر فیصلہ ہوجائے گا۔ انہوں نے ہی ہے جنہوں نے2018ء کا الیکشن رگڈ کروایا تھا، پوزیشن کی تحریک عدم عتمد کے حوالے سے بھی کچھ سرگرمیاں ہورہی تھیں دو تین دن سے، بڑے زور و شور سے، لیکن تمام دھاندلیوں اور پنکچرز لگانے کے باوجود اپوزیشن کو 50 ووٹ پڑے ہیں، جو کے اصل میں نہیں تھے، جن کے خلاف پڑے ہیں انہیں تو پھر بھی 32 ہی پڑے ہیں تو کیسے وہ جیتے یا تو وہ 50 سے زائد ووٹ لیتے پھر ہم کہتے چلو انہیں ووٹ زیادہ پڑے، اگر ووٹ کے حساب سے دیکھیں تو ہمیں نقصان اس کے باوجود نہیں ہے کہ اربوں روپے بھی خرچ ہوئے ہیں، کچھ باتیں کچھ چیزیں چل رہی ہیں، اس کی تحقیقات کرکے ہم انشاء اللہ سامنے رکھیں گے۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن کی اہم جماعت نون لیگ نے پی پی پی کے سینیٹرز کے استعفوں کو ڈرامہ قرار دیا ہے، کیا یہ اتحاد آگے چلے گا؟
تسنیم احمد قریشی:
پارٹی نے یہ فیصلہ نیک نیتی سے کیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف قراداد کی ناکامی کے معاملے پر منحرف ہونے والے سینیٹرز کے نام عوام کے سامنے لائے جائیں گےاور ان کے خلاف ایکشن بھی ہوگا، یہ بھجے بھی درست لگتا ہے کہ نون لیگ کے کچھ احباب کو یہ اتحاد پسند نہیں ہے، وہ چاہتے ہیں اپوزیشن ساتھ نہ رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے بھی یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ نون لیگ تقسیم کا شکار ہے، اراکین اسمبلی نے عمران خان سے ملاقاتیں بھی کی ہیں، شریف برادران کے درمیان بھی اختلافات کی خبریں آتی رہتی ہیں، اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پر پارٹی میں ٹکٹ لینے والے کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جنکی وفاداریاں مشکوک رہتی ہیں، یہ ہماری سیاست کا حصہ ہے۔ ایسے عناصر ہمیشہ موجود رہے ہیں جو ماحول خراب کرتے ہی رہتے ہیں، وہ کسی اور ایجنڈے پر ہی کام کرتے ہیں، لیکن یہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپوزیشن کو متحد رکھیں، ورنہ سب کا نقصان ہوگا۔ اس میں شک نہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کو توڑنے کیلئے دباؤ بڑھایا جاتا رہیگا، اسکا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اسی لیے سوشل میڈیا پر بھی ایک لسٹ جاری کی گئی ہے تاکہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان غلط فمہیوں کو ہوا دی جا سکے۔ لیکن اس کے باوجود ابھی بھی اپوزیشن کے پاس مطلوبہ ووٹ ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والے کچھ نام درست ہوں گے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ کشمیر پر امریکی ثالثی کی پیشکش کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیا کشمیر پر عالمی برادری کا کردار ضروری نہیں؟
تسنیم احمد قریشی:
سب یہی سمجھ رہے تھے کہ مسئلہ کشمیر پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش خوش آئندا مر ہے۔ لیکن اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ امریکی پیشکش بھی ماضی کی طرح محض بیانات کی حد تک نہیں تھی بلکہ اس کا کوئی اور نتیجہ ہی نکلے گا، اب بھی ضروری ہے کہ پاکستان کا دفتر خارجہ اپنا بھرپور کردار ادا کرے اور دنیا کو باور کرایا جائے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے بغیر خطے میں امن و امان کا قیام ممکن نہیں ہے۔ پاکستانی قوم اور کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مناسب پیش رفت کے منتظر ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی بھارت مذاکرات کی ٹیبل پر آیا اس نے ان کوششوں کو سبوتاژ کیا اور پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا۔ پاک امریکہ تعلقات کیا رنگ لاتے ہیں؟ اور مسئلہ کشمیر جلد حل ہونے میں امریکہ نے کیا کردار ادا کرنا ہے، اب اسکا اندازہ ہو جانا چاہیے، امریکہ اور بھارت کی ملی بھگت سے پاکستان کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

امریکہ افغانستان میں شکست کھا چکا ہے وہ افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی باتیں کر رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ دوحہ میں طالبان سے مذاکرات کر کے افغانستان سے نکلنے کے راستے ڈھونڈ رہا ہے تو دوسری طرف دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وزیراعظم کو اپنے دورئہ امریکہ کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔ ماضی میں پاکستان نے امریکی اشاروں پر بہت کچھ کیا ہے۔ 17برسوں تک جاری رہنے والی امریکی جنگ میں پاکستان کے 70ہزار بے گناہ افراد شہید اور 150ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ افغانستان میں عدم استحکام کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی غلامی سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے۔ امریکہ سمیت تمام ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات استوار کیے جائیں اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب امداد کے لئے کشکول اٹھانے کا سلسلہ بند ہو گا۔

اسلام ٹائمز: عالمی برادری کا ردعمل تو بیانات کی حد تک ہے پاکستان کس طرح مسئلہ کشمیر کو دنیا میں اجاگر کر سکتا ہے؟
تسنیم احمد قریشی:
مایوسی والی کوئی بات نہیں، مقبوضہ کشمیر سے متعلق مودی سرکار کے متنازعہ فیصلے پر عالمی میڈیا میں دوسرے دن بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیاہے۔ دنیا میں مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کرنے کے عمل پر مودی سرکار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے خطے کے امن کیلئے انتہائی خطرناک اقدام قرار دیا ہے۔ اس صورتحال میں دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان کا کشمیر کی خودمختاری چھیننے سے خطے میں مزید بدامنی پھیلے گی۔ کشمیر پر ایک خطرناک جنگ چھڑ سکتی ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کرکے اسےدنیا کی خطرناک ترین جگہ بنا دیا ہے۔ یہ ایک غیر قانونی اقدام ہے کہ بھارتی راجیہ سبھا میں ایک گھنٹے میں بغیر کوئی بحث کرائے 72 سالہ کشمیر سے متعلق پالیسی بدل دی گئی۔

اب اس میں شک نہیں کہ مودی سرکار کے اس اقدام سے خون خرابے میں اضافہ ہوگا۔ یہ وہ موقف ہے جس سے دنیا کو آگاہ کرنے اور متنبہ کرنیکی ضرورت ہے۔ اگر یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آیا تو یہ آگ پوری دنیا میں پھیل سکتی ہے، اس لیے خطے میں پائیدار امن کے لیے کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رؤ سے کسی بھی یکطرفہ فیصلے کے ذریعے کشمیریوں کے حقوق غصب نہیں کیے جاسکتے۔ لیکن موجودہ حکومت تو بغیر کسی تیاری کے آئی ہے، بلکہ لائی گئی ہے، اب بھی ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے، وزیراعظم کو صرف یہ فکر ہے کہ انکا نام پورا لی جائے، ملک کی انہیں کوئی فکر نہیں۔ قوم تو اب بھی مایوس ہے۔ کیونکہ وہ قوم کی نمائندگی کرنا جانتے ہی نہیں۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا ہے کہ وہ ٹیپو سلطان کی طرح خون کے آکری قطرے تک لڑینگے، ان کے عزم و ارادے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے، کیا پاکستان کی بقاء کیلئے پوری قوم کو ایک صفحے پہ نہیں ہونا چاہیے؟
تسنیم احمد قریشی:
قوم بھی منتظر ہے اور اپوزیشن بھی دن گیارہ بجے سے پارلیمنٹ میں وزیراعظم کا انتظار کر رہی تھی، اس کے باوجود انہوں نے کوئی پالیسی نہیں دی، قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی تقریر انتہائی مایوس کن تھی۔ وہ ٹیپو سلطان کی باتیں کرتے ہیں لیکن جب فیصلہ قائد حزب اختلاف سے پوچھتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے۔ بھارت کلسٹر بم گرا رہا ہے تو کیا آپ لاشیں اٹھاتے رہیں گے، 70 سال سے فوجی شہید ہورہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ میں کیا کروں۔ وزیراعظم کو بھارتی اقدام کا پتہ تھا تو ٹرمپ ملاقات کے بعد شادیانے کیوں بجائے جا رہے تھے۔ وزیراعظم کو بھارتی اقدام کا علم تھا کہ تو پھر اس سے بڑی غلطی نہیں ہوسکتی، عمران خان ساری دنیا کو فون کر رہے ہیں ٹرمپ کو کیوں نہیں کرتے۔ عمران خان کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں اگر وہ مسئلہ کشمیر پر سب جانتے تھے، وہ ٹیپو سلطان کی طرح باتیں کرتے ہیں اور بہادر شاہ ظفر کی طرح عمل کرتے ہیں۔ عمران خان ٹرمپ سے ملاقات کے شادیانے بجا رہے تھے اور اب کوئی پی ٹی آئی رکن امریکی صدر کے بیان کو دہرانا نہیں چاہتا۔

بھارت نے ہر لحاظ سے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور جو ہونا تھا ہوگیا اب پاکستان کو سوچنا چاہیے کہ کیا کر سکتا ہے۔ ہمیں 70 سال بعد بحث کا رخ تبدیل کرنا ہوگا اور پاکستان کو حقیقت پسند ہو کر سوچنا چاہیے۔ سیکیورٹی کونسل کی شق 48 اور 49 پاکستانی موقف کی بنیاد ہے۔ پاکستان کشمیر پربھارت کے ساتھ تین جنگیں لڑچکا ہے لیکن برہان وانی کی شہادت سے اس تحریک کو عروج ملا۔ اس وقت کوئی بھی کشمیری خوفزدہ نہیں اور نہ موت سے ڈرتے ہیں۔ جنگ مسئلے کا آخری حل ہوتا لیکن پاکستان کے پاس فی الحال مذاکرات کا راستہ کھلا ہے۔ عالمی طاقتیں پاکستان کے ساتھ نہیں حالات کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔ ہمیں اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنی چاہیں۔ یہ درست ہے کہ کوئی بھی پاکستانی کشمیر کا سودا نہیں کر سکتا، جو ہونا تھا ہو چکا اب پاکستان کو چاہیے کہ عالمی برادی کو ساتھ لے کر چلے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت اور وزیراعظم کی نااہلی کیوجہ سے پاکستان اور کشمیر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے ہمیں سامنے رکھن ہوگا۔ حالانکہ اب مودی کی پالیسی کی مخالفت بھارت میں بھی ہو رہی ہے، جن لوگوں نے پاکستان کیساتھ الحاق کی مخالفت کی تھی وہ بھی اب مودی حکومت کے اقدام کی سخت مذمت کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کپتان نے امریکہ میں کشمیر کا سودا کر دیا تھا، کیا آپ اس سے اتفاق کرینگے؟
تسنیم احمد قریشی:
بظاہر مودی حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے، یہ ایک فوری اور سرپرائز تھا، یہ ممکن نہیں کہ انہوں نے اس پر ہوم ورک نہ کیا ہو اور وہ نہ جانتے ہوں کہ اسکے اثرات کیا ہونگے، پاکستان، بھارت اور پوری دنیا کے قانونی نظام پر کیا فرق پڑیگا، خطے اور عالمی سیکورٹی صورتحال کس طرح بگڑے گی، اس قانون کالودم کر کے کشمیر کو صوبہ یا یونین کا حصہ قرار دینا خالی یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ کام آج کل میں ہی کر دیا گی ہو، ممکن ہے یہ کئی ماہ سے اس کی پلاننگ کی جا رہی ہو، اسکی بنیاد کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے منشور ور الیکشن کے نعروں میں موجود ہے، دنیا میں انڈیا میں مخالفت کے باوجود انہوں نے صدر سے دستخط کروئے ہیں اور اسمبلی میں بل پیش کیا ہے، کشمیر میں اضافی فوج بھیج کر وہاں کرفیو لگا دیا ہے، تمام سہولیات ختم کر دی ہیں، ایل او سی پر فائرنگ کر رہے ہیں، انڈیا یہ کام اکیلے نہیں کر رہا ہے.

دوسری ریاستوں کی طرح کشمیر کی خودمختاری ختم کر کے اسے وفاق کی اکائی بنایا جا رہا ہے، اس میں بھارت نے عالمی اتحادیوں کو ضرور اعتماد میں لیا ہوگا، اس کے باوجود کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے بھارتی جمہوریت زیرسوال آ چکی ہے، لیکن مودی اسے کشمیریوں کی فتح قرار دے رہے ہیں، اس پر غور کرنے سے بہت کچھ سمجھا جا سکتا ہے۔ عمران خان کے دورہ امریکہ میں ہونیوالی کشمیر کے متعلق بات چیت سے یہ لگتا ہے کہ پاکستان کو پہلے ہی پابند کر لیا گیا تھا کہ سفارتی طور پر کوئی کوشش نہ کی جا سکے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے دورہ امریکہ میں کشمیر کہیں بھی ایجنڈے میں نہیں تھا، اس لحاظ سے دیکھیں تو یہ ہماری قیادت کی ناکامی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا کر دیا ہو گا لیکن وہ دوست ملک کی سفارش پر جس طرح امریکہ میں ٹرمپ سے ملاقات کو ورلڈ جیتنے جیسی کامیابی قرار دے رہے تھے۔

اس سے انکی ناپختگی اور جلد باز طبیعت کی وجہ سے پاکستان کے وسیع تر مفاد کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار انہیں ہی قرار دیا جائیگا۔ یہ بات کوئی بھی ذی ہوش تسلیم نہیں کریگا کہ ٹرمپ نے ایک ہی ملاقات میں ہمارے وزیراعظم کو ٹریپ کر لیا اور کشمیر مودی کی گود میں پھینکنے کی کوشش کی۔ اب یہ ضروری ہے کہ پاکستان افغانستان میں امریکی انخلاء کیلئے اپنے کردار کو امریکہ کے کشمیر پر کردار سے مشروط کر دے۔ پھر پتہ چلے گا کہ عمران خان کا دورہ کامیاب تھا یا نہیں، کیا مودی حکومت کے غیر آئینی اقدام کو امریکہ کی تائید حاصل تھی یا نہیں، اور کیا ایسا تھا تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں سب سے بڑی اور شرمناک شکست ہوگی۔ اس سے دنیا نواز شریف کو پرچیوں پڑھ کر سنانے والے طعنوں کو بھول جائینگے، اور عمران خان کو قومی مجرم قرار دینگے۔
خبر کا کوڈ : 809300
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب