0
Sunday 11 Aug 2019 18:50
کشمیر جغرافیائی اور علاقائی ہی نہیں اسلامی اور انسانی المیہ بھی ہے

جب بھی پاکستان نے امریکہ کیطرف رخ کیا ہمارے منہ پر طمانچہ پڑا ہے، سینیٹر غوث محمد نیازی

جب بھی پاکستان نے امریکہ کیطرف رخ کیا ہمارے منہ پر طمانچہ پڑا ہے، سینیٹر غوث محمد نیازی
سینیٹر غوث محمد نیازی پاکستان مسلم لیگ نون خوشاب کے سربراہ ہیں، 2015ء میں سینیٹ کی جنرل سیٹ سے سینیٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1986ء میں پنجاب سے ایم بی بی ایس مکمل کرنے بعد سے میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کیساتھ ساتھ سیاست میں بھی فعال ہیں۔ خارجہ امور، علاقائی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ سینیٹ آف پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ، قومی ورثہ، واٹر اینڈ پاور اور نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوارڈینشین کمیٹیز کے ممبر کا اسلام ٹائمز کیساتھ کشمیر کی موجودہ صورتحال، امریکہ کی کشمیر پر ثالثی، چین اور ایران کیساتھ تعلقات سمیت اہم ایشو پر انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: بھارت کیساتھ تعلقات محدود کرنے سے متعلق حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں، کیا یہ موجودہ صورتحال میں کافی ہیں۔؟
غوث محمد نیازی:
اس میں تو یہی ٹھیک ہے، ان اقدامات کی تائید بھی کر رہے ہیں، اسی لیے ایوان میں قرارداد بھی پاس کی گئی ہے، وہ ان فیصلوں کو سپورٹ کرنیکے لیے ہے۔ ان فیصلوں سے کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن یہ ایک پالیسی جسکی وجہ سے ایک سمت کا تعین اب کر لیا گیا ہے، اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، ابھی بھی ہمیں سفارتی طور پر تنہائی کا سامنا ہے، عالمی برادری میں بھی اور اسلامی دنیا میں بھی ہمیں سپورٹ حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوسکی ہے، اس کے لیے مزید کام کرنیکی ضرورت ہے، یہ آئی سولیشن ختم ہونی چاہیئے، جو حکومت کا کام ہے، اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو رہی، جسکا نقصان ہوگا۔

اسلام ٹائمز: اسکی کیا وجہ ہے؟ اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے، آپکی نظر میں اسکا حل کیا ہے۔؟
غوث محمد نیازی:
یہ دیکھنے کی بات ہے، مسلم ممالک دو بلاکوں میں تقسیم ہیں، یو اے ای کے سفیر نے انڈیا میں جو بیان دیا ہے، وہ ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے، یو اے ای سعودی عرب کے قریب ہے، ہم نے کھل کر یمن پہ سعودی عرب کا ساتھ نہیں دیا، اس لیے وہ ہمارے ساتھ نہیں کھڑے، ایران کیساتھ ہم نے سعودی عرب کی وجہ سے فاصلے پیدا کر لیے، یہ سمجھنے کے بعد اس صورتحال کو بہتر کرنیکی ضرورت ہے، جو ممکن ہے، کیونکہ کشمیر کی صورتحال جغرافیائی اور علاقائی ہونے کے ساتھ ایک اسلامی اور انسانی المیہ بھی ہے، اگر اچھی سفارت کاری کی جائے تو کم از کم مسلم ممالک کو احساس دلایا جا سکتا ہے کہ یہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے، جس پر ہمیں ایک موقف اختیار کرنا چاہیئے۔ اسی طرح کافی حد تک جو تناؤ اور مشکلات سعودی عرب کیساتھ تعلقات میں پیدا ہوئی تھیں،
اب وہ کافی حد تک کور کر لی گئی ہیں، آگے بڑھنے میں زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔

اسٹریٹیجک، سیاسی اور معاشی سطح پر عرب ممالک کیساتھ تعلقات کو دوبارہ پہلے والی سطح پہ لانا ہوگا، ورنہ ہم ان کی حمایت سے محروم رہینگے۔ عرب ممالک کیساتھ تعلقات میں ایک اور دراڑ اس وجہ سے بھی آئی ہے کہ عربوں نے اسرائیل کیساتھ تعلقات بہتر کر لیے ہیں، سمجھوتہ کر لیا ہے، لیکن پاکستان ایسا نہیں کرسکا، اس کے بھی اثرات ہیں۔ اسرائیل اب انڈیا کیساتھ کھڑا ہے، دوسری طرف عرب ممالک ہمیں سپورٹ نہیں کر رہے، اسکا مطلب یہی بنتا ہے کہ عرب ممالک اور اسرائیل اب دشمن کی بجائے ایک اتحاد کی صورت میں کھڑے ہیں، لیکن اس اتحاد کا فائدہ پاکستان کو نہیں بلکہ بھارت کو پہنچ رہا ہے۔ دوسری طرف ایران پہلے کھل کر ہمارے موقف کی تائید کر رہا تھا، صدر روحانی اور ایران کے روحانی پیشواء کھل کر کشمیریوں کی حمایت کرتے ہیں، لیکن اس دفعہ انہوں نے بھی کھل کر پاکستان کے موقف کی تائید نہیں کی۔

اسلام ٹائمز: ایران سمیت اسلامی ممالک کیطرف سے دوٹوک حمایت نہ ملنے کی کیا وجہ ہے۔؟
غوث محمد نیازی:
اس کی وجہ ایک تو یہ محسوس ہوتی ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے ذریعے مسئلہ کشمیر کی ثالثی کو آخری حل سمجھ لیا تھا، اس کا ہمیں اور بھی نقصان ہوا ہے۔ عمران خان نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اب ہمیں کسی اور کی ضرورت نہیں، جیسا کہ انہوں نے کہا کہ مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ میں ایک بار پھر ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں، وزیراعظم نے یہ تاثر غلط دیا کہ وہ پوری دنیا فتح کرکے آگئے ہیں، اب دنیا میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ صرف مودی اور ٹرمپ کے درمیان پہلے سے طے شدہ نہیں تھا بلکہ عمران خان بھی اس میں شامل ہے، اب جبکہ ایران جیسے ممالک جو پہلے ہی امریکی پابندیوں اور عرب اسلامی ممالک کی دشمنی کا شکار ہیں، انکے اگر تحفظات ہونگے تو بالکل اپنی جگہ درست ہونگے، ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ ایران ہو یا چین، یہ ہمارے پڑوسی ممالک ہیں۔

پہلے بھی ہمارے تعلقات میں سرد مہری امریکہ کیوجہ سے رہی ہے، اس دفعہ بھی دنیا یہی سمجھ رہی ہے کہ امریکہ نے ایک تیر سے دو شکار کر لیے ہیں، ایک طرف مغربی سرحد پہ دباؤ ڈالا گیا ہے، وہ بھی بھارت کے ذریعے، دوسری طرف مشرقی سرحد پہ ہمیں جنگ کے دہانے پہ لا کھڑا کیا ہے، تیسرا یہ کہ ہمارے اہم ترین ہمسایہ ممالک ایران اور چین کو یہ تاثر ملا ہے کہ پاکستان کے فیصلے اور پاکستانی حکومت کا جھکاؤ امریکہ کیا جانب ہے، انکا بدگمان ہونا اور کوئی واضح تاثر نہ دینا اپنی جگہ پہ درست ہے۔ چین نے پھر
بھی کھل کر بھارت کیخلاف اپنا موقف دیا ہے، لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اسے بھی ہم اپنے حق میں استعمال نہیں کر پائیں گے، کیونکہ جب تک ہمارا جھکاؤ امریکہ کی طرف ہی رہیگا، کوئی ہم پر بھروسہ نہیں کریگا۔

اسلام ٹائمز: پاکستان نے تو شروع سے ہی بھارت کیجانب امن کیلئے ہاتھ بڑھایا تھا، لیکن اسکا جواب منفی صورت میں ہی آیا ہے، اس پر کیا کہیں گے۔؟
غوث محمد نیازی:
میرے خیال میں عمران خان نے حکومت میں آنے کے بعد جو مودی سرکار کیساتھ امن کیلئے بات چیت کی پیش کش کی، انہیں جب اسکا جواب نہیں ملا تو اس پر اصرار نہیں کرنا چاہیئے تھا، یہ بار بار انہیں فون کالز کرتے رہے، لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا، پھر امریکہ میں بھی انہوں نے اسی موقف کو دہرایا، اس پر اپوزیشن سمیت اہم افراد نے انہیں توجہ دلائی، وہ مگن رہے، اب بھی انکی پوزیشن وہی ہے، وہ شہباز شریف سے پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے، جب آپ کو پتہ ہے کہ آپ سفارت کاری نہیں کرسکتے تو شروع سے ہی سب کو اعتماد میں لیں، اگر ایسا کیا جاتا تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔

اسلام ٹائمز: یہ پالیسی تو نون لیگ نے بھی اختیار کی تھی، دنیا میں عمران خان کو اسی لیے سراہا گیا کہ وہ ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں۔؟
غوث محمد نیازی:
ہم نے بھارت کی منت سماجت کبھی نہیں کی، معمول کے مطابق جو عالمی برادری میں رائج طریقہ کار ہے، اس کے مطابق ہی انڈیا کو بھی اینگیج کیا، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پاکستانی وزیراعظم نے کبھی بھارت ٹیلی فون کیا ہو اور انہوں نے فون ہی نہ سنا ہو، مختلف عالمی فورمز پر بھی اپنا موقف بیان کیا گیا، اقوام متحدہ میں گفتگو ہوتی رہی، مختلف ممالک میں ہمارے اراکین اسمبلی جاتے رہے، کشمیر کی صورتحال پر دنیا کو درست حقائق بتائے گئے۔ ابھی تو کوئی بھی ہمارے ساتھ نہیں کھڑا، چین نے بھی لداخ پہ بات کی ہے، ورنہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ پاک بھارت مذاکرات ہی کیے جائیں، ایسے میں کشمیر کا حقیقی مسئلہ پس پشت چلا جائیگا۔

موجودہ صورتحال ہمارے لیے بہت بڑا سیٹ بیک ہے، ہمیں اس کو مان کر نئی حکمت عملی بنانا ہوگی، ہم نے جو سونگ بنایا ہوا تھا اور افغانستان اور بھارت کے درمیان بال پھینک رہے تھے، ہماری ساری سفارتکاری کا انحصار اسی سونگ پر تھا، وہ اب ختم ہوگیا ہے، ہم سمجھتے رہے کہ افغانستان پر دنیا کو ہماری ضرورت ہے، اس لیے ساری دنیا ہماری مٹھی میں ہے، لیکن امریکی صدر نے مودی کے ساتھ مل کر غضب کی چال چلی ہے، اب ہمارے پاس سوائے آنکھیں کھولنے اور خود انحصاری پہ مبنی پالیسی اختیار کرنیکے کوئی راستہ نہیں، دنیا میں پہلے
بھی امریکی ثالثی مسلمانوں کیلئے مہلک ثابت ہوئی ہے، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکہ ہمیں اتحادی بناتا ہے تو اس کے پیچھے انکے مفادات ہوتے ہیں، ورنہ امریکہ کسی مسلمان ملک کا خیر خواہ نہیں۔

نہ ہی اس نے اپنے مفادات کی خاطر کبھی مسلمانوں کیخلاف جنگ سے گریز نہیں کیا، نہ ہی کسی مسلمان ملک کو بخشا ہے، جس پاکستانی وزیراعظم نے کشمیر کی خاطر ہزار سال تک لڑنے کی بات کی، اسے امریکہ نے ہی تختہ دار تک پہنچایا، اگر عمران خان اس زعم میں مبتلا رہینگے کہ امریکی صدر نے انہیں وقت دیا ہے، باتیں کی ہیں، تو یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیئے کہ صدر ٹرمپ نے جس زبان سے کشمیر پر ثالثی کی بات کرتے ہوئے عمران خان کی تعریف کی، وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی ایک گریٹ سیاستدان ہیں، اس کا کیا مطلب ہے، موجودہ حکومت اس پر کوئی بات سننے کیلئے تیار نہیں، یہ پاکستان کو لے ڈوبیں گے اور کشمیر انکی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھ جائیگا۔

اسلام ٹائمز: اگر فرض کر لیا جائے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان کشمیر کے ایشو پر پہلے سے کوئی منصوبہ طے شدہ تھا تو اس سے امریکہ کیا چاہتا ہے۔؟
غوث محمد نیازی:
مجھے یاد ہے کہ بہت سارے لوگوں نے یہ کہا تھا کہ عمران خان جلد بازی کر رہے ہیں، اچانک امریکی رویئے میں تبدیلی ویسے تو نہیں ہوسکتی، کشمیر جو عمران خان اور ٹرمپ کی ملاقات میں طے شدہ نکتہ ہی نہیں تھا، اس پہ گھما پھرا کے امریکی صدر نے شوشہ چھوڑ دیا، عمران خان دراصل یہ سن کر ہی حواص باختہ ہوگئے تھے کہ جیسے انہیں منزل مل گئی ہو، یہ دراصل اقتدار کی ہوس ہے اور نفرت پہ مبنی رویئے ہیں، جنکی وجہ سے عمران خان کی آنکھوں پہ پٹی بندھ گئی ہے۔ امریکہ جو افغانستان کی وجہ سے دباؤ میں تھا، وہ سارے کا سارا اب شفٹ ہوگیا ہے، پاکستان کی طرف۔ سی پیک پر اب ایک عرصے تک سنجیدگی سے پیش رفت نہیں ہوسکے گی، خلیج میں جو امریکی پالیسی کو مسلسل ناکامی کا سامنا تھا، اب وہاں سے توجہ ہٹ جائیگی، اسرائیل کو تقویت ملے گی، چین ایران اور پاکستان کے درمیان فاصلے بڑھیں گے۔

داعش جیسے گروپوں کو افغانستان اور برصغیر میں قدم جمانے کا موقع ملے گا۔ امریکہ اب کشمیر کو بھارت کا داخلی مسئلہ قرار دیکر وہاں نمائشی انداز میں صرف انسانی حقوق کی بات کریگا، اس سے کشمیر سمیت بھارت میں ہر جگہ اسرائیل کو اپنے اڈے مضبوط بنانے کا جواز بھی ملے گا۔ پلوامہ واقعہ کے بعد پاک فوج کا مورال جیسے سربلند ہوا تھا، اب سفارتی ناکامی کی صورت میں حوصلے پہلی سطح پر نہیں رہینگے، اس سے تو بہتر تھا کہ ہم بھارت کیساتھ دوطرفہ مذاکرات ہی کرتے اور جنگ کی صورت میں اپنی پہلی
پوزیشن برقرار رکھتے۔ اب صورتحال کارگل جیسی بنتی جا رہی ہے، جس میں پاکستانی مجبوری ہوگی کہ وہ عالمی طاقتوں کے پاس جائے، اس کے بعد وہ اپنی شرائط پہ خطے میں امن واپس لانے کی باتیں کرینگے اور سارا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال دینگے۔ امریکہ نے بھارت کیساتھ مل کر پورا تال میل بنا کر یہ چال چلی ہے، پہلے لشکر طیبہ اور جیش محمد پر پابندیاں لگوائیں۔

اب یہ انکے پاس ایک ثبوت ہوگا کہ پاکستان نے امریکہ اور بھارت کا موقف تسلیم کر لیا تھا کہ کشمیر میں جنگ آزادی نہیں ہو رہی تھی، نہ ہی آزاد کشمیر جنگ آزادی کا بیس کیمپ تھا، بلکہ دہشت گردی پر بھارتی موقف ہی سچ مانا جائیگا۔ اسی طرح امریکہ نے جب ثالثی کی بات کی تو کشمیریوں اور کشمیری قیادت کا کوئی ذکر نہیں کیا، نہ عمران خان نے بات کی، بلکہ وہ تو جو کچھ ٹرمپ نے مانگا ہی نہیں تھا، وہ عطا کرتے چلے گئے، اب امریکہ نے عمران خان پہ یہ ذمہ داری بھی ڈال دی ہے کہ وہ افغان حکومت سے افغان طالبان کی بات چیت کروانے کے پابند ہیں، لیکن امریکہ کشمیر پر پاکستانی موقف سننے کا پابند نہیں، کیونکہ پاکستان نے تو امریکہ سے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے یا مدد کرنیکا کہا ہی نہیں تھا، وہ تو صدر ٹرمپ کی اپنی بات تھی، جو انہوں نے عمران خان سے ملاقات سے پہلے کہی، جس پر بعد میں کوئی بات نہیں ہوئی، صرف پی ٹی آئی حکومت نے جشن منایا۔

اس دوران یہ بھول گئے کہ چین، ایران اور روس بڑی طاقتیں ہمارے خطے میں موجود ہیں، روس کیساتھ پچھلے چار پانچ سال میں تعلقات مضبوط ہو رہے تھے، اب روس بھی کہہ رہا ہے کہ کشمیر پر نئی بھارتی کوشش انکا اندرونی مسئلہ ہے۔ یہ پاکستان کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ حالانکہ ہم نے روس سے ہتھیار خریدنے کی بات کی ہوئی ہے، مشترکہ مشقیں ہوچکی ہیں، دہشت گردی کیخلاف ملک کر کارروائیوں کی بات ہوچکی ہے، تعلقات ایک نئے موڑ پہ آچکے تھے، روس میں افغانستان کے مختلف گروپوں کو مل کر بٹھانے میں کردار ادا کیا ہے، روسی صدر سے ملاقاتیں ہوئیں، روسی وزیر دفاع پاکستان آئے تھے، ہمارا یہ سارا نقصان صرف اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ ہم نے سب کو پس پشت ڈال کر اپنا رخ امریکہ کی طرف موڑ لیا، اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑیگا۔ یہ حقیقت ہمیں مان لینی چاہیئے کہ جب جب پاکستان نے امریکہ کی طرف منہ کیا ہے، ہمیں طمانچہ پڑا ہے۔

اسلام ٹائمز: چین نے تو پلوامہ کے مسئلے پر بھی پاکستان کی حمایت نہیں کی تھی، نہ ہی روس نے کوئی بیان دیا تھا، تو کیا ایسے میں افغانستان کے مسئلے کو کھٹائی میں ڈال کر پاکستان امریکہ سے تعلقات منقطع کرسکتا ہے۔؟
غوث محمد نیازی:
ہاں یہی تو
اصل بات ہے سمجھنے والی، جو عمران خان کے ذہن میں دور دور تک کہیں نہیں ہے، جب پلوامہ واقعہ کے بعد صورتحال خراب ہوئی تو بھارتی وزیر خارجہ چین میں تھیں، لیکن چین نے کوئی بات نہیں کی، کیونکہ چین کا بھارت کیساتھ اب تجارت کا سلسلہ ہے، یہ بات چینی ہمارے حکام کو بارہا بتا چکے ہیں، اس کا کیا مطلب ہے کہ اب پاکستان چین سے بھی منہ موڑ لے، نہیں، بات یہ ہے کہ پاکستان کے امریکہ سے دیرینہ تعلقات ہیں، لیکن اس دوران محتاط رہنا پڑتا ہے کہ اپنے ملک کے مفاد کو ہمیشہ مدنظر رکھیں، لیکن چین سے تعلقات کی قیمت پر امریکہ سے تعلقات کا کوئی جواز نہیں۔ نہ ہی ہم یہ کرسکتے ہیں کہ چین پاکستان کی قیمت پر بھارت سے تعلقات رکھے، انہیں پاکستان کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت کیساتھ تعلقات رکھنا چاہیں، چاہے تجارت کریں، چاہے انکے ساتھ جنگ کریں، چین اور بھارت کے درمیان جنگ بھی ہوچکی ہے۔

پھر بھی چین نے کبھی اپنے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر بھارت سے کوئی ڈیل نہیں کی، نہ پاکستان کی خاطر کبھی بھارت سے تعلقات خراب کیے ہیں، لیکن امریکہ پاکستان کو ہمیشہ اپنے مفاد کیلئے استعمال بھی کر لیتا ہے اور دوست ممالک کے نزدیک بھی نہیں جانے دیتا، جس پاکستان کا دہرا نقصان ہو جاتا ہے، یہ عمل کئی دہائیوں سے چل رہا ہے، اب ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہیئں اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تعلقات استوار کرنے چاہیئں، آخر اس میں کیا قباحت ہے کہ پاکستان کشمیر سمیت کسی بھی مسئلے پر بھارت یا کسی دوسرے ملک کیساتھ خود مختار حیثیت میں بات کرے، کسی پر انحصار نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پوری تاریخ گواہ ہے کہ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے مطابق بھی ہمیں کچھ نہیں ملا، کشمیر پر تو ہم نے سب کچھ امریکہ کو دیدیا اور جو کچھ بچا تھا، وہ بھارت نے امریکہ کے ذریعے لے لیا۔

ہمیں اپنے قومی مفاد کا پتہ نہیں یا اپنی صلاحیت پر اعتماد نہیں، آگے بڑھ کر خود بات کریں، جو بھی کرنی ہے، جب پاکستان امن چاہتا ہے اور کشمیریوں کا موقف ساری دنیا میں پیش کیا جاسکتا ہے تو اس میں کیا رکاوٹ ہے کہ کسی عالمی طاقت کو اینگیج کیا جائے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، لیکن ہم نے بے وقوفی اور جلد بازی میں امریکہ کے ذریعے مودی جیسے قصائی کے حوالے کر دی ہے۔ اب بھی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئں، اپنا موقف درست کرنا چاہیئے، امریکہ سے دوٹوک بات کرنی چاہیئے، بھارت کو کشمیر سے نکال باہر کرنا چاہیئے، ورنہ ہم پاکستان کو ایک بار پھر دولخت کرنیکے ذمہ دار ہونگے، جس سے ملک کی بنیادیں کمزور پڑ جائینگی، ہماری قوم کا وقار بھی مجروع ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 810110
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب