0
Tuesday 13 Aug 2019 23:58
مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے

مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی مذموم منصوبے کے پیچھے امریکا و اسرائیل ہیں، شہزاد میرٹھی

مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی مذموم منصوبے کے پیچھے امریکا و اسرائیل ہیں، شہزاد میرٹھی
شہزاد میرٹھی پاکستان عوامی تحریک سندھ کے نائب صدر ہیں، آپ نے ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا فلسفہ نظام کی تبدیلی سے متاثر ہو کر 1983ء میں PAT میں شمولیت اختیار کی، آپ مصطفوی اسٹوڈنٹس موومنٹ جامعہ کراچی اور پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ کے بھی صدر رہ چکے ہیں، آپ طویل عرصے تک کراچی کے جنرل سیکریٹری بھی رہے ہیں، آپ بین الاقوامی حالات اور پاکستانی سیاست پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز’’ نے شہزاد میرٹھی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر سے متعلق حالیہ بھارتی اقدام کے حوالے سے ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: امریکی ثالثی کی پیشکش کے ایک ہفتے بعد ہی بھارت کا کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے خلاف فیصلہ اور ٹائمنگ کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا بھارتی اقدام مسئلہ کمشیر پر امریکی ثالثی کی پیکش کا ردعمل تھا۔؟
شہزاد میرٹھی:
میری نظر میں امریکا کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش پاکستان کے ساتھ ایک مذاق تھا۔ ٹرمپ کو بھارت کی اس حرکت کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ امریکا اس وقت افغانستان اور ایران کے مسئلے میں پھنسا ہوا ہے اور الجھا ہوا بھی ہے، شاید امریکا نے یہ حرکت کروا کر پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی ہو۔ امریکا ایران کے خلاف پاکستان کی حمایت سے ابھی تک ناکام ہے، اس کے علاوہ سی پیک منصوبے سے پاکستان، چین، روس کی قربت سے بھی امریکا کافی پریشان ہے۔ امریکا کسی صورت چین کی معیشت کو مضبوط ہوتا نہیں دیکھ سکتا، اس لئے وہ سی پیک منصوبے کو ناکام کرانے اور اپنے مطالبات منوانے کیلئے بھی یہ حرکت کروا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کے اس مذموم منصوبے کے پیچھے امریکا اور اسرائیل شامل ہیں۔

اسلام ٹائمز: بھارتی فیصلے کے بعد مقبوضہ وادی کا مستقبل کیا نظر آتا ہے۔؟
شہزاد میرٹھی:
بھارت کا یہ فیصلہ اس کے اپنے گلے پڑے گا۔ بھارت کب تک کرفیو لگا کر انسانی حقوق کی پامالی کرے گا، کب تک لوگوں کو جیلوں میں رکھے گا، دو لاکھ سے زائد جانیں قربان کرنے والا کشمیر بھارت کو کیسے معاف کر سکتا ہے۔ جس دن کرفیو ہٹا لوگ سڑکوں پر ہونگے۔ کشمیری اپنی شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ایک ایک کشمیری کٹ مر سکتا ہے، مگر اپنی آزادی اور خودمختاری کا سودا نہیں کر سکتا۔ بھارت کے اس اقدام سے جدوجہد آزادی اور جذبہ کشمیری عوام میں دگنا ہو گیا ہے۔ کشمیر کی اس وقت حیثیت اس وقت 1947ء والی ہو گئی ہے۔ بھارت امریکا کی طرح تنگ آکر کشمیر سے اپنی فوجیں واپس کرے گا۔

اسلام ٹائمز: بھارتی اقدام پر پاکستانی حکومت کے رد عمل سے آپ مطمئن ہیں۔؟
شہزاد میرٹھی:
بھارتی اقدام کے بعد پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس انتہائی مایوس کن تھا، پی ٹی آئی حکومت اور اپوزیشن دونوں کا رویہ غیر دانشمندانہ تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریر بغیر تیاری کے تھی، اتنا بڑا ایشو اور نان سیریس رویہ لمحہ فکریہ تھا۔ البتہ کور کمانڈر کانفرنس کشمیری مسلمانوں کی ترجمانی اور حوصلہ افزا تھی، اسی لئے پوری قوم نے پاک فوج کے اسٹینڈ کو سراہا۔ حکومت کے قومی سلامتی کے فیصلوں میں وزن تھا، جن میں تجارت کی معطلی، سفیر کی ملک بدری، اپنا سفیر واپس بلانے کا فیصلہ قابل تعریف ہے۔ اس کے علاوہ شیخ رشید کا سمجھوتہ ایکسپریس روکنے کا فیصلہ بھی اچھا ہے۔ پارلیمنٹ کا دوسرے دن کا بھی اجلاس مایوس کن اور ہمیشہ کی طرح ویثرن سے خالی تھا۔

اسلام ٹائمز: کچھ لوگوں کا خیال ہے وزیراعظم عمران خان نے امریکا میں کشمیر کا سودا کر لیا ہے۔؟
شہزاد میرٹھی:
اسکا اصل جواب تو پی ٹی آئی ہی دے گی، البتہ میں سمجھتا ہوں یہ الزام ہو سکتا ہے، حقیقت نہیں۔ ایسی باتیں عوام بھی کر رہی ہے، کیونکہ عمران خان کا کشمیر کے حوالے سے خیال تھا کہ مقبوضہ کشمیر انڈیا کو دے دیا جائے اور آزاد کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنایا جائے، تو عمران خان کی حکومت میں ہوتے ہوئے اسی پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: بھارتی اقدام کے بعد مسلم امہ خاموش ہے، کیا یہ خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں؟
شہزاد میرٹھی:
اس میں دوسری کوئی رائے نہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔ اس حکومت کو تو آئے ابھی سال ہوا ہے، مگر خارجہ پالیسی ہماری پچھلے پانچ سال میں صفر رہی ہے۔ نواز حکومت میں خارجہ پالیسی نام کی کوئی چیز نہیں تھی، جس کی وجہ سے ہم مسلم امہ سمیت دیگر ممالک سے دور ہوئے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے ہمارے پڑوسی اسلامی ممالک جن میں ایران اور افغانستان شامل ہیں، ہم سے زیادہ انڈیا کے قریب ہیں، اسکا مطلب یہ ہوا کہ ہماری اپنے گھر میں یا پڑوس میں کوئی اہمیت نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں مسلم امہ نے مسئلہ کشمیر پر اس وقت بے حسی کا مطاہرہ کیا ہے، ہر ملک اپنے اپنے مفادات میں جکڑا ہوا ہے۔

اسلام ٹائمز: حالیہ بھارتی اقدام کے جواب میں پاکستان کے اقدامات کیا ہونے چاہیے؟
شہزاد میرٹھی:
سب سے پہلے بھارت سے تمام تعلقات ختم کئے جائیں، اس مسئلہ کو اقوام متحدہ اور او آئی سی میں اٹھایا جائے۔ تمام مسلم ممالک سمیت چین، روس، برطانیہ وغیرہ کو اعتماد میں لیا جائے اور ان ممالک کی حمایت حاصل کی جائے، عالمی عدالت انصاف میں بھی جایا جائے۔ اس سلسلے میں پاکستان کو ایران، چین، ترکی، افغانستان کو اعتماد میں لینے کیلئے کوشش کرنا ہوگی۔ جنگ مسائل کا حل نہیں، جنگ آخری آپشن ہونا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان عوامی تحریک مسئلہ کشمیر کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟
شہزاد میرٹھی:
ڈاکٹر طاہر القادری کا شروع سے مؤقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ایک صدی ہونے کو ہے، اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل نہیں ہوا۔ کشمیری اگر انڈیا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، انکا حق ہے، اگر پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، انکا حق ہے، اگر خودمختار رہنا چاہتے ہیں، تو یہ بھی انکا حق ہے، یہ حق ان کو ملنا چاہیے۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی غفلت کی نیند سونے کے بجائے ہوش کے ناخن لیں، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عملی اقدامات کریں۔ حق خودارادیت کے ذریعے کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، زبردستی مسلط کرنا قبول نہیں۔ پاکستان عوامی تحریک ہمیشہ کی طرح مظلوم کشمیری مسلمانوں پر مظالم کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔ بھارت فی الفور کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلائے اور کشمیر میں جاری انسانیت کے حقوق کی پامالی بند کرے۔ عالمی طاقتیں بھارت سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کریں۔ پاکستان سفارتی کوششوں کو تیز تر کر دے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھائے۔
خبر کا کوڈ : 810349
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب