0
Tuesday 20 Aug 2019 17:19
انڈین وزیر دفاع کے بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ انڈیا خطے کیلئے خطرہ ہے

امت مسلمہ کے حکمران مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں کا ساتھ نہیں دے رہے، طاہر حسین مشہدی

عسکری قیادت خارجہ پالیسی میں موجودہ حکومت کو نہ صرف سپورٹ کرتی ہے بلکہ وہ گائیڈ لائن بھی دیتی رہتی ہے
امت مسلمہ کے حکمران مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں کا ساتھ نہیں دے رہے، طاہر حسین مشہدی
کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی کا تعلق کراچی سے ہے، وہ 1967ء میں پاکستان آرمی سے وابستہ ہوئے۔ طاہر حسین مشہدی بہت اچھے کالم نگار بھی ہیں اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ اسکے علاوہ سینیٹ آف پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر بھی رہے ہیں، جمشید ٹاؤن کراچی کے میئر بھی رہ چکے ہیں۔ 2006ء میں یہ سینیٹ میں آئے، 2012ء میں دوبارہ منتخب ہو کر سینیٹ میں رہے۔ گذشتہ برس ایم کیو ایم سے مستعفی ہو کر پاکستان مسلم لیگ نواز کے قافلے میں شامل ہوگئے۔ اسلام ٹائمز نے سابق سینیٹر سے حالات حاضرہ پر خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کی نذر ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: سلامتی کونسل میں کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کو کس حد تک کامیابی ملی ہے؟ اور بھارت کی رسوائی کے بارے کیا کہیں گے۔؟
طاہر حسین مشہدی:
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کو بہت بڑی کامیابی ملی ہے۔ کونسل نے بھارت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کو متنازعہ علاقے قرار دیا ہے اور بھارت پر واضح کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر ان کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ سلامتی کونسل کے اس اجلاس کا کریڈٹ چین کو جاتا ہے۔ بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کی حیثیت تبدیل کرکے عالمی ممالک کی خود مختاری چیلنج کی ہے۔ کشمیریوں کی آواز سب سے بڑے عالمی فورم پر سنی گئی، اب ان کی آواز دبائی نہیں جاسکتی۔ بھارت نے سلامتی کونسل کا اجلاس رکوانے کیلئے تمام حربے استعمال کئے، تاہم اسے کامیابی نہیں ملی۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی موقف کو تقویت ملی، بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث اسے پوری دنیا میں خفت اُٹھانا پڑی ہے۔ اب مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ بھارت گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جو پریس کانفرنس کی ہے، ان کے اس موقف سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ کی جانب سے ایٹمی جنگ شروع کرنے کی دھمکی اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے سے مسئلہ کشمیر و تقویت ملی ہے۔

پاکستان نے جو موقف اختیار کیا تھا، وہ درست ثابت ہوا، انڈیا کی حماقت سے مسئلہ کمشیر کو تقویت ملی ہے۔ اب پوری دنیا نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر انڈیا کا حصہ نہیں بلکہ ایک متنازع علاقہ ہے۔ امت مسلمہ کے حکمران مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں کا ساتھ نہیں دے رہے، ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، اس کے تعاون سے مقبوضہ کشمیر متنازعہ علاقہ قرار پایا۔ پاکستان کو ایک جانب سلامتی کونسل میں کامیابی کی تو دوسری جانب انڈین وزیر دفاع کے بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ انڈیا خطے کیلئے خطرہ ہے، اب دنیا بھر میں انڈیا کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بھارت دنیا کیلئے بڑی تجارتی منڈی ہے، مگر اس کے باوجود سلامتی کونسل میں اسے شرمندگی اُٹھانا پڑی۔

اسلام ٹائمز: سلامتی کونسل نے کشمیر کے حوالے سے جو موقف پیش کیا ہے، کیا وہ کمشیریوں کے حقوق کے عین مطابق ہے۔؟
طاہر حسین مشہدی:
دیکھیں ہمیں چند حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے بات کرنی چاہیئے۔ ماضی میں ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے یو این ممالک فیصلے دیتے تھے۔ اسوقت یو این سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کی بھارت سے سالانہ تجارت 215 ارب ڈالر ہے، جبکہ اسکے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ تجارت صرف 21.3 ارب ڈالر ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک جانب مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیا ہے تو دوسری جانب اس نے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مسلسل کرفیو پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انڈیا نے عید الاضحیٰ پر کشمیریوں کو نماز عید کی ادائیگی اور سنت ابراہیمی کی پیروی کرنے سے روکے رکھا، اسی طرح انہیں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انڈیا کی جانب سے پابندی کے باوجود ہزاروں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور ان کی انڈین فورسز سے جھڑپیں ہوئیں۔ انڈیا کے مظالم جاری ہیں، تاہم انڈیا سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف دائر پانچ درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے کرفیو ہٹانے، انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بحال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

جس طرح بھارت کی حکومت ہٹ دھرمی کر رہی ہے تو اسی طرح ان کی عدلیہ بھی ایک فریق کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فیصلہ آنے سے اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کشمیری عوام کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ پوری دنیا کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ خطے میں قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور ممکنہ جنگ کے خطرے کو کم کرنے کی سعی کرے۔ جنگ دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں، جنگ سے خطے کی سلامتی داؤ پر لگ سکتی ہے۔ اس لئے اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دونوں پڑوسی ممالک ایٹمی صلاحیت کے حامل ہیں۔ ان کے درمیان کشیدگی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا دونوں کو محتاط رویہ اپنانا چاہیئے، بے احتیاطی اور جذباتیت خطے کیلئے نقصان دہ ہے۔

اسلام ٹائمز: مسلم امہ کی مسئلہ کشمیر پر خاموشی کے متعلق کیا کہیں گے اور یہاں پر آکر ہماری خارجہ پالیسی کیوں ناکام ہوگئی۔؟
طاہر حسین مشہدی:
ہم سب پر یہ بات واضح ہے کہ مسلم ممالک نے بھارت میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے، جنتی ان کی پاکستان کے ساتھ اٹیچمنٹ ہے، اس سے کہیں زیادہ انڈیا کے ساتھ ہے، جس کی وجہ سے اسلامی ممالک مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔ امت مسلمہ کے حکمران اتحاد کی بات کرتے ہیں، مگر مفادات بھارت سے منسلک ہیں۔ پاکستان کی بڑی بدقسمتی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اسلامی دنیا ہمارا ساتھ نہیں دے رہی ہے، جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ناقص ہے۔ اسلامی ممالک کو ایک جانب رکھ دیں، مسئلہ کشمیر پر چین کے سوا دیگر دوست ممالک بھی ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ ناقص خارجہ پالیسی کی بدولت پاکستان نے دوست ممالک کو بھی ناراض کر دیا ہے۔

اپنے آپ کو امریکہ کے مفادات کے تابع کرنے سے پاکستان نے دوست ممالک کو ناراض کر دیا ہے۔ موجودہ حکمرانوں اور حکومت کے مقابلے میں میاں محمد نواز شریف کی خارجہ پالیسی کامیاب رہی تھی۔ میاں محمد نواز شریف پر ہمیشہ سے ہی تنقید ہوتی رہی کہ ان کے دور حکومت میں وزیر خارجہ نہیں ہوا کرتے تھے۔ نواز شریف کے دور حکومت میں چین اور پاکستان کے تعلقات مثالی تھے، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات تھے۔ مسئلہ کشمیر پر امت مسلمہ کے حکمرانوں کی جانب سے ساتھ نہ دینے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان تنہائی کا شکار ہے۔ نواز شریف کے دور حکومت میں عسکری قیادت ان کی خارجہ پالیسی سے متعلق گاہے بگاہے رکاوٹ پیدا کرتی رہی۔ اب عسکری قیادت عمران خان اور ان کی حکومت کو سپورٹ کرتی چلی آرہی ہے۔ عسکری قیادت خارجہ پالیسی میں موجودہ حکومت کو نہ صرف سپورٹ کرتی ہے بلکہ وہ گائیڈ لائن بھی دیتی رہتی ہے۔

حکمرانوں کی ہٹ دھرمی اور غیر دانشمندانہ فیصلوں سے پاکستان کے دوست کم اور دشمن بڑھنے لگے ہیں۔ حکمرانوں کے اقدامات سے دوست ممالک ناراض ہیں۔ پاکستان کے پڑوس میں افغانستان، چین، ایران اور روس کی ناراضگی لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان کو حال ہی میں قرضہ دینے والے ممالک سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے انڈیا کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر پاکستان کا ساتھ دینے پر خاموشی اختیار کر لی، جس سے حکمرانوں کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ عسکری قیادت کو بھی اس بات کا احساس ہوا ہوگا کہ اب مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر امہ کے حکمرانوں نے ان کا ساتھ نہ دے کر ہماری خارجہ پالیسی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: آپکے مطابق خارجہ پالیسی کو کس طرح درست کیا جاسکتا ہے۔؟
طاہر حسین مشہدی:
پہلی بات، خارجہ پالیسی کو از سرِنو مرتب کرنا چاہیئے، دوسری بات، پالیسی کو مرتب کرتے وقت پارلیمنٹ اور تھینک ٹینک کو اعتماد میں لینا چاہیئے۔ سابق دور حکومت میں ریاست پاکستان اور حکومت نے ایک امریکہ کو ناراض کیا تھا، لیکن دوست ممالک کو اپنے ساتھ رکھا تھا، اب ایک امریکہ کی دوستی نبھانے کیلئے دوست ممالک کو ناراض کرنا پڑا۔ امریکہ کا ساتھ دینے سے چین، ترکی، ایران اور کئی دیگر ممالک ناراض ہیں۔ انڈیا کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پائیدار نہیں، یہ پالیسی خواہشات کی تابع ہے۔ خارجہ پالیسی تشکیل دینا حکومت کا کام ہے، اسے عسکری قیادت کی قید و بند سے آزادی دلانا ہوگی۔ خطے میں چین، روس اور ایران سمیت پاکستان پر مشتمل ایک بلاک بنا تھا، جس کے خاطر خواہ اچھے نتائج برآمد ہوئے تھے، مگر افسوس کہ ہم نے ایک اچھا موقع گنوا دیا ہے۔

اسلام ٹائمز: افغان امن مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے کیا رائے رکھتے ہیں۔؟
طاہر حسین مشہدی: قطر کے دارالحکومت میں افغانستان کے قیام امن اور 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر اتفاق بلاشبہ علاقائی اور عالمی امن کیلئے انتہائی خوش آئند ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن تمام شراکت داروں کے درمیان افہام و تفہیم ہی سے ممکن ہے۔ افغانستان میں امن کا قیام خطے کی ناگزیر ضرورت ہے۔ 18 سال بعد بھی طالبان کو امن مذاکرات میں کلیدی اہمیت حاصل ہے، جس کے بعد اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی معقول جواز نہیں کہ افغان عوام کی ایک بڑی تعداد آج بھی طالبان اور ان کے تصور اسلامی مملکت کی حامی ہے۔ ممکنہ امن معاہدے کے تحت طالبان کو افغانستان کی موجودہ حکومت سے مذاکرات اور افغانستان میں جنگ بندی پر آمادہ ہونا ہوگا، جبکہ امریکہ اس معاہدے کے تحت افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلاء کا پابند ہوگا۔ امریکہ کو چاہیئے کہ اب جبکہ اس نے افغانستان کو باجگزار بنانے میں اپنی ناکامی تسلیم کر لی ہے تو افغانیوں کو اپنا مستقبل خود طے کرنے دے اور اس میں فریق بننے کے بجائے پاکستان، روس اور چین کی طرح سہولتکار کا کردار ادا کرے۔ توقع ہے کہ افغان طالبان اور کابل حکومت بھی مزید تباہی سے بچنے کیلئے مفاہمانہ کردار ادا کریں گے۔

اسلام ٹائمز: تحریک انصاف حکومت کا کہنا ہے کہ معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہے، جلد ہی عوام کو ریلیف ملے گا، آپ اس بات سے کس حد تک اتفاق کرتے ہیں۔؟
طاہر حسین مشہدی:
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 4 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کم ہوگئے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے شروع کے دنوں میں معاشی مشکلات کا سامنا تھا، جن سے دوست ممالک کے بڑے بڑے پیکج ملنے پر نکالنا ممکن ہوسکا، آئی ایم ایف سے ایک بڑا قرض بھی لیا گیا۔
گو کہ قرض ایک بوجھ ہے مگر بامر مجبوری ہی قرض لینا پڑتا ہے۔ حکومت کی طرف سے قرض اور پیکج ملنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ معیشت کو اب سنبھالا مل گیا ہے اور یہ مضبوط خطوط پر استوار ہو رہی ہے۔ اس کے عوام کو ریلیف کی صورت میں ثمرات سامنے آنے چاہیئے تھے، مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کا عرصہ حیات مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت گذشتہ 10 سال کے قرضوں کا سختی سے آڈٹ کرا رہی ہے، جبکہ خود دھڑا دھڑا قرض لئے جا رہی ہے، تاہم اس کے زرمبادلہ کے ذخائر پر منفی اثرات مرتب نہیں ہونے چاہئیں تھے۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی عروج پر ہے، اس کے اثرات سٹاک مارکیٹ پر ہونے کے خدشات موجود تھے، ان کا بروقت تدارک کیا جانا چاہیئے تھا۔ حکومت کی طرف سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے اسباب سے قوم کو آگاہ کرنے کے ساتھ نئے قرضوں کی مالیت اور ان کے مصرف کے حوالے سے اعداد و شمار قوم کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ عوامی سطح پر حکومت اصلیت سامنے آسکے۔
خبر کا کوڈ : 811258
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب