0
Saturday 24 Aug 2019 12:25

پاکستان کیخلاف جنگ میں اسرائیل سمیت بھارت کے ہر مددگار کو شکست ہوگی، ندیم افضل چن

پاکستان کیخلاف جنگ میں اسرائیل سمیت بھارت کے ہر مددگار کو شکست ہوگی، ندیم افضل چن
منڈی بہاوالدین سے تعلق رکھنے والے ندیم افضل چن 1975ء میں پیدا ہوئے، پنجاب یونیورسٹی سے قانون میں گریجویٹ ہیں، سابق رکن قومی اسمبلی، وزیراعظم کے ترجمان اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء ہیں۔ سیاسی پس منظر رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2008ء سے 2013ء تک پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین رہے، 2013ء کے قومی انتخابات میں سرگودہا سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 64 سے الیکشن میں حصہ لیا، اگرچہ کامیاب نہیں ہوئے، لیکن اس سے قبل رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے پارلیمنٹ میں ہمیشہ نمایاں رہے۔ کشمیر میں بھارتی جارحیت، وزیراعظم کی جانب سے بھارت کے ساتھ مذاکرات کا امکانات ختم ہونیکے بیانات، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور پاک بھارت کشیدگی میں اضافے کی صورت میں ہماری قومی حکمت عملی سمیت اہم ایشوز پر پنجاب کے ہر دلعزیز سیاسی رہنما کی اسلام ٹائمز کیساتھ گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ بھارت سے مذاکرات کے دروازے بند کر رہے ہیں، کیا کشمیر کیلئے ایک جنگ اور ہوگی۔؟
ندیم افضل چن:
عمران خان کا شروع سے موقف ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، ملک تباہ ہو جاتے ہیں، معیشتیں ختم ہو جاتی ہیں، وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے سے دو دن قبل بھی انہوں نے بھارت کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنیکی پیش کش کی، اس میں بھی کشمیر کا ذکر کیا اسی طرح پلوامہ واقعہ کے بعد بھی مذاکرات کی دعوت دی، امریکہ دورے میں بھی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں بھی امن کیلئے مذاکرات پر زور دیا، امریکی ثالثی کی بات بھی اسی لیے کی تاکہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں نہ آئے، اس کے باوجود کشمیر میں بھارتی مظالم بڑھتے گئے، انہوں نے کشمیر کی حیثیت ہی تبدیل کر دی، عالمی برداری نے خاطر خواہ اس پر رسپانس نہیں دیا، اب جا کے جب کوئی آپشن نہیں بچا تو عمران خان نے یہی مناسب سمجھا کہ مذاکرات کی بات اب نہ کریں، ابھی بھی انہوں نے جنگ کا اعلان نہیں کیا۔ لیکن بھارت مجبور کر رہا ہے، جس کے لیے حکومت بھی تیار ہے اور فوج بھی۔ جب بھی مذاکرات کی بات کی گئی بھارت نے ایل او سی پہ معصوم جانیں لینا شروع کر دیں، یہ موقف عالمی برداری کی توجہ مبذول کروانے کیلئے ہے کہ اگر بھارتی پٹ دھرمی جاری رہی تو خطہ جنگ کی لپیٹ میں جا سکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا امن کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں، کشمیر میں تو عزتیں محفوظ نہیں ہیں، ہماری فوج کیخلاف حملے بھی جاری ہیں، بھارت تو جنگ شروع کرچکا ہے، کیا جواب نہ ملنے کیصورت میں ہمیں کمزور نہیں سمجھا جائیگا۔؟
ندیم افضل چن:
اس سے مجھے اتفاق ہے کہ جب عزت اور وقار کی بات ہو تو پس و پیش نہیں کرنی چاہیے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اسکی نوبت نہ آئے، لیکن جنرل باجوہ اور عمران کی موجودگی میں اگر پاک بھارت تعلقات معمول پہ نہ آئے تو شاید کبھی نہیں آئینگے، ایسا فیصلہ کرنے میں اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہونیکی حیثیت سے متبادل آپشنز کو استعمال کر رہا ہے، اگر ایسا ہوا تو ہمیں کوئی پروا نہیں، معیشت کا سوال اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ضرروت پڑی تو ہم جنگ میں کود پڑینگے، یہ ہمارے لیے اب ممکن نہیں ہوگا کہ کشمیری پاکستان کے پرچم کو کفن بنا کر جانیں دیتے رہیں اور دنیا بھی خاموش رہے، ادھر ہم بھی ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں، پھر جنگ تو جنگ ہوتی ہے، اس میں سب چیزیں پھر ثانوی ہو جاتی ہیں۔

ہماری تو تاریخ یہ بتاتی ہے کہ قلت نے اکثریت کیخلاف فتوحات حاصل کی ہیں، پھر اب میڈیا کا زمانہ ہے، ہماری قوم بھی روز روز بھارتی مظالم کی خبریں دیکھ اور سن کر مایوس ہو رہی ہے، اگر آج بھی صرف مذاکرات کا آپشن ہی سامنے رکھا جائے تو عوام کے جذبات اور عوامی نمائندوں یا حکومت کے درمیان خطرناک خلاء اور فاصلہ پیدا ہو سکتا ہے، ہمیں امید
ہے کہ دنیا اسے سمجھے گی۔ محدود جنگ کا تو سامنا پاکستان کو کئی سالوں سے ہے، اسکا جواب بھی ہم نے فروری میں دیا ہے، لیکن مودی کے سر سے جنگ کا بھوت اتارنا ضروری ہے۔ پھر جو حالات ہونگے دیکھا جائیگا۔ پاکستان ہر صورت میں امن برقرار رکھے گا، چاہیے اس کے لیے جنگ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

اسلام ٹائمز: جنگ ایک مجبوری اور آخری آپشن ہے، اس سے پہلے حکومت نے کوئی قابل ذکر اقدامات کیوں نہیں اٹھائے، تاکہ قوم مایویسی کا شکار نہ ہو اور کشمیر کے مسلمانوں کی مدد ہوتی بھی نظر آئے۔؟
ندیم افضل چن:
یہ معاملہ اتنا گھبیر اور حساس ہے کہ حکومتوں کو کئی پہلو دیکھنا پڑتے ہیں، لیکن اس دن حکومت خاموش نہیں بیٹھی، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، اس میں فیصلے کیے گئے، پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا، تمام اہم ممالک سے سفارتی سطح پر رابطے ہو چکے ہیں، چین، ایران اور ترکی نے بانگ دہل بھارتی اقدام کی مذمت کی ہے، سلامتی کونسل کو کظ لکھا گیا اور انہوں نے اجلاس بلایا، امریکی صدر نے چند بار رابطہ کیا ہے، اس کے باوجود چونکہ یہ ہمارا قومی سلامتی کا مسئلہ ہے تو ہم پیچھے نہیں ہٹے، ابھی چیلنج موجود ہے، کشمیری خود احتجاج کر رہے ہیں، انہوں نے لاک ڈاون توڑا ہے، عالمی میڈیا تک انکی آواز پہنچنا شروع ہو گئی ہے، وزارت خارجہ میں کشمیر سیل فعال ہو چکا ہے۔ قوم کو حکومت اور فوج پر مکمل اعتماد ہے، اگر جنگ بھی ہوتی ہے تو پاکستان کامیابی سے ہمکنار ہوگا، مودی سرکار کو پچھتانا پڑیگا۔

اسلام ٹائمز: بھارت تو آئے روز جارحانہ حکمت عملی پر عملدرآمد کر رہا ہے، ہماری طرف سے جن منفی اثرات کی بات ہو رہی ہے، کیا بھارت کو انکا احساس دلایا جا سکے گا۔؟
ندیم افضل چن:
یہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت کی بحیثیت مجموعی جو سوچ ہے اور بی جے پی کی سوچ ہے اس میں فرق ہے، اس پر پاکستان کی طرح بھارت متحد نہیں ہے، وہاں بڑی تقسیم پائی جاتی ہے، کشمیر پر جس طرح پورا پاکستان ایک ساتھ کھڑا ہے، بھارت میں ایسا نہیں ہے، 370 پر بھارت میں بہت بڑی ڈیبیٹ ہے، پوری کانگریس ایک طرف کھڑی ہے، کشمیر پر بھارت کی طرف داری کرنیوالی کشمیری قیادت بھی حریت رہنماؤں کیساتھ کھڑی ہے، اس وقت وہ جیلوں میں ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے غلطی کی ہندوستان کی بات مان کر، دو قومی نظریہ ایک حقیقت ہے، بھارت نے ساری کشمیری پولیس کو غیر مسلح کر دیا ہے، انہیں وہاں نکال کر وفاقی دستوں کو کشمیر بھیجا ہے، اسکا کیا مطلب ہے، بھارتی حکومت کو اس بات کا پتہ ہے کہ کوئی ان پر اعتماد نہیں کر رہا ہے، کانگریس کا موقف اور کشمیری قیادت نے جو کچھ کہا ہے، یہ بتاتا ہے بھارت میں اس مسئلے پر زبردست تقسیم ہے۔

چدم برم کو دیکھ لیں، ان پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں، مودی کی فاشسٹ سوچ کو بھارتی حلقوں میں بھی مزاحمت کا سامنا ہے، اس لیے ہمارا نیریٹیو بالکل قبول کیا جا رہا ہے کہ مودی بھارت کو منہدم کرنے جا رہا ہے، شدت پسندی سے نہ صرف دوسرے ممالک اور اقلیتیوں کو خطرہ ہے بلکہ خود بھارت کا وجود خطرے میں پڑ چکا ہے، خود بھارتی عوام، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کیلئے الگ حکمت عملی کیساتھ چلنا ہوگا اور باقی دنیا تک اپنا موقف پہنچانے کیلئے اسے استعمال کرنا ہوگا۔ اس کو پوری دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے، دنیا کا شاید کوئی قابل ذکر مقام ایسا ہو جہاں کشمیریوں کے حق میں مظاہرہ نہ ہوا ہو، وہاں سکھوں نے بھارتی مظالم کی بات نہ کی ہو، یہ بھارت میں موجود تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ اب بات ہمارے اپنے اوپر آ چکی ہے، یہ جو کہا جا رہا ہے کہ فلاں ہمارے ساتھ نہیں، امریکہ ہماری بات نہیں کریگا، بھئی وہ کیوں ہماری بات کریں، ہمیں اس بات کا پتہ ہونا چاہیے کہ یہ ہم نے اپنے بل بوتے پر کرنا ہے، اپنی طاقت کو آزمانا ہے، طاقت صرف سفارتی ہی نہیں بلکہ اس سے مراد جنگ
بھی مراد ہے۔

اسلام ٹائمز: آپکے خیال میں مودی حکومت اگر فاشسزم کا شکار ہے تو پھر تو انکا مقصد ہی جنگ ہوگا، دنیا دوطرفہ مذاکرات کی بات کر رہی ہے، ہمارے لیے سب سے بہتر راستہ کیا ہوگا۔؟
ندیم افضل چن:
دنیا کی بات کریں گے تو ہر ملک کی اپنی ترجیحات اور مسائل ہیں، زیادہ تر ممالک جن کی طرف ہم دیکھ رہے ہیں، وہ خود جنگ کا شکار ہیں، انہیں زیادہ اس کی پروا نہیں کہ کسی اور خطے میں بھی جنگ ہوتی ہے تو اس سے ان پر زیادہ اثرات نہیں پڑینگے، وہ اس لیے بھی بھارت کا اندرونی مسئلہ ہی قرار دیتے ہیں، لیکن ہم اس طرح نہیں بیٹھ سکتے، دنیا کے رحم و کرم پر کشمیریوں کو نہیں چھوڑا جا سکتا، مودی اگر قصاب ہے، درندگی پہ مبنی اقدامات کر رہا ہے تو شاید پاکستان کے علاوہ کوئی ملک بھی ایسا نہیں ہوگا، جو یہ کہے کہ مودی ایک قصاب ہے، ظالم ہے، نہ ہی کوئی یہ چاہتا ہے کہ کسی دوسرے ملک کی خاطر بھارت کیساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات خراب کرے، یہ سب حقائق ہیں، سفارت کاری ہو یا جنگ دونوں صورتوں میں ہمیں اس حقیقت کو سامنے رکھنا ہے۔

اگر پاکستان جنگ کرتا ہے تو بھی یہ جنگ پاکستان نے خود لڑنی ہے، جس طرح عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم اپنی فوج کو کسی اور ملک کی خاطر جنگ کا حصہ نہیں بنائیں گے، اسی طرح ہم نے اگر جنگ لڑنی ہے تو وہ ہم نے خود لڑنی ہے۔ اسی طرح اگر کسی کو یہ لگے کہ دنیا کی کوئی طاقت بھارت کا ساتھ دیگی، کوئی ملک نہیں جو پاکستان کیخلاف بھارت کا ساتھ دیگا، میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل بھی اگر بھارت کیساتھ سازش میں شریک ہے تو ان میں یہ جرات نہیں کہ وہ کھل کر پاکستان کیخلاف جنگ میں آ کر مقابلہ کریں۔ کامیاب سفارت کاری اور جنگ میں اپنے زور بازو پر اعتماد ہی میں کامیابی ہے۔ پوری قوم کشمیر پر متحد ہے، دنیا کی کوئی طاقت بھارتی قبضے کو برقرار نہیں رکھ سکتی، نہ کوئی کالا قانون کشمیر کی آزادی کو روک سکتا ہے، کشمیری جوان ہی کافی ہیں جو مودی کے ہوش ٹھکانے لگا دینگے۔

پوری دنیا میں عالمی ضمیر کو جگائیں گے اور مودی کا پیچھا کرینگے، چونکہ ہمارا موقف حق ہے، کشمیری سچے ہیں، مودی کے جھوت کا پول کھل جائیگا اور کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔  اسی لیے وزیراعظم نے واشگاف الفاط میں کہا ہے کہ ہندو بالادستی کی خواہاں فاشسٹ مودی سرکار کو سمجھنا چاہئیے کہ برتر عسکری قوت کے ذریعے فوجوں، عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کو تو شکست دینا ممکن ہے، مگر تاریخ شاہد ہے کہ جب کوئی قوم آزادی کیلئے یکجا ہوکر موت کے خوف سے چھٹکارا پالے تو کوئی قوت اسے اپنی منزل تک پہنچنےسے نہیں روک سکتی۔ ‏یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار میں ہندوتوا کا پجاری ٹولہ مقبوضہ کشمیر میں اپنے تمام سفاکانہ حربوں اور ہتھکنڈوں سمیت منہ کے بل گرے گا اور کمشیریوں کی جدوجہد آزادی کا گلہ گھونٹنے کی انکی تمام کوششیں بری طرح ناکام ہوں گی۔

اسلام ٹائمز: اسرائیل نے تو اپنی فضائیہ کے پائلٹس بھیجے ہیں، بھارت اور انٹیلی جنس آلات سمیت دفاعی ساز و سامان فراہم کیا جا رہا ہے، پاکستان دشمنی میں تو بھارت اکیلا نہیں ہے۔؟
ندیم افضل چن:
مودی حکومت سے پہلے بھی اسرائیل کے بھارت سے قریبی تعلقات ہیں، دفاعی نوعیت کا تعاون بھی جاری ہے، لیکن جب پاکستان کیخلاف جنگ کی نوبت آئیگی تو پاکستان جس انداز میں بھارت کو جواب دیگا اس کے بعد اسرائیل سمیت کسی ملک میں ہمت نہیں ہو گی کہ اپنے پاؤں جما سکیں۔ ایسی ہی خبریں فروری میں بھی پاکستان کیخلاف بھارتی فضائی حملوں کے دوران آئیں تھیں، لیکن اسرائیل کو یا وہاں کی فوج کو ہمت نہیں ہوئی کہ اس کاروائی کو قبول کر سکیں، اگر بھارتی جہاز نہ بھی گرائے جاتے تب بھی ممکن نہیں تھا کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے، اسکا مطلب یہی ہے کہ پاکستان کی فوج اور ایٹمی طاقت کے سامنے جرات نہیں رکھتے
کہ کسی جنگ کا حصہ بنیں۔ پھر ہمارے سامنے ایک سب سے بڑی مثال خود فلسطین کی ہے، جہاں صرف 25 لاکھ کی آبادی تھی، لیکن پوری دنیا اسرائیل کی پشت پہ کھڑی تھی، اس کے باوجود چونکہ اخلاقی طور پر فلسطینی حق پر ہیں۔

اس لیے پوری دنیا کی طاقتیں آج تک اسرائیل کی سیکورٹی کی خاطر علاقے سے جنگ ختم نہیں کروا سکی ہیں، اگر اسرائیل بھارت کا ساتھ بھی دے رہا ہے تو اس سے پاکستان کی طاقت ثابت ہوتی ہے، لیکن جب عملی طور پر جنگ چھڑتی ہے تو ممکن نہیں ہوگا کہ کوئی بھی ملک بھارت کیساتھ پاکستان کیخلاف اس جنگ کا حصہ بنے۔ یہ الگ بات ہے کہ انڈیا نے ہو بہو اسرائیلی ماڈل کے مطابق کشمیری مسلمانوں کیخلاف اقدامات شروع کیے ہیں، اس کا جواب بھی ایسے ہی آئیگا۔ کشمیریوں کے سامنے بھی عوامی جد و جہد اور عسکری طور پر مزاحمت کا آپشن موجود ہے، اسی لیے بھارت اب دہشت گردی کا بہانہ بنا کر جھوٹا آپریشن کرنا چاہتا ہے، لیکن اب اگر کشمیریوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی نہ رکے تو کشمیر بھارتی فوج کا قبرستان بن جائیگا، اسرائیل سمیت جو ملک یا قوت بھارت کا ساتھ دیگی، پاکستان جنگ میں انہیں شکست دیگا۔

اسلام ٹائمز: آپکے خیال میں موجودہ کشیدہ صورتحال میں جنگ کے خطرات کیوجہ سے ہی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے۔؟
ندیم افضل چن:
اس وقت پاکستان کو جس چیلنج کا سامنا ہے، اگر کوئی اور ملک ہوتا تو کسی بڑے بحران کا شکار ہو جاتا، پاکستان کے استحکام میں ہر محاذ پہ جو کردار پاک فوج نے ادا کیا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی، پھر آرمی چیف نے تمام دوست ممالک کو پاکستان کے قریب لانے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھتے ہوئے خطرات کم کیے ہیں اور پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، میرے خیال میں آرمی چیف کی صلاحیت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ایک طرف چین کے کردار اور اعتماد کی تعریف کر رہا ہے اور دوسری طرف چین کا دنیا میں سب سے بڑا حریف امریکہ آرمی چیف کا اکیس توپوں کی سلامی دے رہا ہے۔

پھر آج جو حالات ہیں ان میں کشمیر سمیت تمام ایشوز پہ ہر آپشن کیلئے ایک مثالی یکجہتی اور لیڈرشپ کی سطح پر یکسوئی کی ضرورت ہے، اور یہ چیز عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان مثالی طور پر موجود ہے، جسکا اعتراف اور اظہار ہر مرحلے میں ہو رہا ہے، چاہے وہ بھارتی جارحیت کے بعد ابھی نند کی واپسی کا معاملہ ہو یا کرتار پورہ راہداری ہو، ایل او سی پر بھارتی فائرنگ کا جواب ہو یا حکومت کی معاشی پالیسیوں کی حمایت ہو، آرمی چیف نے ثابت کیا ہے کہ فوج اب پہلے والی فوج نہیں، انہوں نے یہ تاثر ختم کیا ہے کہ آرمی پروفیشنل کی بجائے سیاسی کردار ادا کر رہی ہے، اسی لیے انہوں نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپوزیشن سمیت سب لوگ حکومت کی معاشی اور سیاسی پالیسی میں کامیابی کیلئے انکا ساتھ دیں، یہ انکی اس سوچ کی غمازی ہے کہ فوج سول اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔

فوج جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، مشکل ترین حالات اور بھارت کیساتھ کشیدگی کے باوجود فوج نے بجٹ میں اضافے کیلئے کوئی دباؤ نہیں ڈالا، یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اسوقت پاکستان میں ایک ایسی حکومت موجود ہے جو عسکری قیادت کیساتھ کسی قسم کی تلخی نہیں رکھتی، نہ ہی کسی موقع پر عسکری قیادت نے حکومت کے متعلق بداعتمادی کا اظہار کیا ہے، یہی وقت کا تقاضا ہے۔ اسی لیے تمام سیاسی اور صحافتی حلقوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ عمران خان نے یہ فیصلہ بڑا بروقت کیا ہے، ورنہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایسے ایشوز کا مہینوں اچھالا جاتا ہے، جس سے منفی تاثر جاتا ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، جس سے سول اور عسکری قیادت کے متعلق طرح طرح کی بدگمانیاں پیدا ہو جاتی ہیں، اب ایسا نہیں ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 812343
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب