0
Saturday 31 Aug 2019 21:19
ٹیکس کلچر کو تبدیل کئے بغیر ملک کا اوپر اُٹھنا کسی بھی صورت ممکن نہیں،

ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے حکومت کو کڑے اور سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں، تیمور سلیم جھگڑا

پختونخوا کو 40 سال سے انکے آئینی حق سے محروم رکھا گیا، مگر اسکے باوجود پختونوں کے جذبہ حب الوطنی میں فرق نہیں آیا
ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے حکومت کو کڑے اور سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں، تیمور سلیم جھگڑا
صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا تعلق پشاور کے دیرینہ سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے بزرگ ابراہیم جھگڑا تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن رہے ہیں، جبکہ ان کے والد سلیم خان جھگڑا صوبے کے سینئر بیوروکریٹ رہے، تیمور سلیم جھگڑا نے پشاور میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں میٹرک تک تعلیم بیرون ملک سے حاصل کی۔ پشاور سے انٹر کرنے کے بعد جے آئی کے انسٹیٹیوٹ ٹوپی صوابی سے مکینکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، اس کیساتھ لندن سے ایم بی اے بھی کیا۔ تیمور سلیم جھگڑا کافی عرصہ پاکستان سے باہر رہے جہاں انہوں کئی عالمی کمپنیوں کے ساتھ کام کیا اور انتظامی تجربہ حاصل کیا۔ 2017ء میں پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بن گئے۔ اگلے سال 2018ء میں ہونے والے عام انتخابات میں ان کو پارٹی نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ کیلئے امیدوار نامزد کیا۔ پہلا الیکشن ہی اپنے آبائی علاقہ کی بجائے دوسرے علاقہ سے لڑنا پڑا، مگر پھر بھی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ تیمور سلیم اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے صوبائی کابینہ میں وزیر خزانہ نامزد کئے گئے۔ پی ٹی آئی حکومت کا 100 دن کا پلان انہی کے ذہن کی تخلق تھا۔ تیمور سلیم جھگڑا غیر روایتی انداز میں کام پر یقین رکھتے ہیں، افسر شاہی کے کلچر سے خائف ہیں اور عزم کئے ہوئے ہیں کہ افسر شاہی کو نوکر شاہی بنا کر دم لیں گے۔ اس مقصد کیلئے اصلاحاتی ایجنڈا تیار کر رہے ہیں، باتوں کی بجائے عمل پر یقین رکھنے والے تیمور سلیم جھگڑا نے اسلام ٹائمز سے خصوصی گفتگو کی جو قارئین کی نذر ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: صوبے کے اوپر بہت زیادہ قرضہ ہے جبکہ مالی صورتحال ٹھیک نہیں، ایسے میں قرضوں کی ادائیگی کیسے ہوگی؟
تیمور جھگڑا:
میں اس سے اتفاق نہیں کرتا، اس قسم کی اطلاعات بالکل بے بنیاد ہیں کہ صوبے نے بہت زیادہ قرض لیا ہوا ہے، ہم نے کوئی بڑا قرض نہیں لیا۔ اسوقت صوبے کے اوپر صرف 10 ارب روپے کے کرضے کا بوجھ ہے، جبکہ دوسری طرف ہمارا بجٹ 618 ارب روپے بنتا ہے، یوں یہ رقم کل بجٹ کے ایک سے ڈیڑھ فیصد تک ہی بنتی ہے۔ قرضوں کا معاملہ وفاق میں زیادہ گھمبیر ہے، جہاں 6 ہزار ارب کے بجٹ میں قرضوں کا جم ایک تہائی تک بنتا ہے، لیکن اس حوالے سے یہ بھی ضرور کہنا چاہوں گا کہ قرض لینا بڑی یا بری بات نہیں، اصل بات قرض کی رقم کا استعمال اور قرض واپسی کی استطاعت ہے۔ قرض کی بجائے اصل پریشان کن امر یہ ہے کہ ہمارے بجٹ کا بہت زیادہ بلکہ کافی زیادہ دارومدار وقاق پر ہے، ہم نے اس حوالے سے پوری تیاری کر لی ہے کہ اپنے وسائل میں اضافہ کر کے مرکز پر انحصار کم سے کم کیا جائے اور اس سلسلے میں بعض جگہوں پر ہمیں کافی کامیابی بھی ملی ہے، امید ہے کہ جلدی مزید کامیابیاں بھی نصیب ہوں گی۔

اسلام ٹائمز: مگر قبائلی اضلاع کے انضمام سے جو مالی دباؤ آیا ہے اور پھر صوبائی حکومت نے 3 فیصد اضافی فنڈ اپنے حصے سے قبائلی اضلاع کو دیا ہے اس سے بندوبستی اضلاع کے بجٹ پر بہت اثر پڑے گا؟
تیمور جھگڑا:
پہلی بات تو یہ ہے کہ قبائی اضلاع اب صوبے کا حصہ بن چکے ہیں، اس لئے اگر اس پر اضافی رقم بھی خرچ کریں گے تو گویا اپنے لوگوں پر خرچ ہوگی، اس لئے اس میں تشویش کی کوئی بات نہیں۔ قبائلی اضلاع کیلئے جب پہلی بار (ن) لیگ کے دور میں منصوبہ بندی ہوئی تو یہ طے پایا تھا کہ 10 سالہ پلان کے تحت پہلے 3 سال کے دوران سالانہ 60 ارب روپے اضافی قبائلی اضلاع کیلئے فراہم کئے جائیں گے، مگر ہماری کوششوں سے پہلے سال ہی یہ رقم 60 ارب کی بجائے 80 ارب روپے ہوگئی ہے، جبکہ قبائلی اضلاع کا کل بجٹ 163 ارب روپے ہے، جو بہت بڑی کامیابی ہے۔ قبائلی اضلاع کیلئے 3 فیصد اضافی فنڈ مختص کرنے سے بندوبستی علاقوں کے بجٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ ہم نے پہلے سے تمام پلاننگ کر رکھی تھی۔ ہم نے وعدہ پورا کرتے ہوئے اپنے حصے کے 11 ارب روپے دے دیئے ہیں، جبکہ وفاق نے بھی اپنا حصہ دیا ہے۔ ساتھ ہی ہم عسکری قیادت کے بھی شکرگزار ہیں کہ انہوں نے بھی بہت بڑی قربانی دیتے ہوئے اپنے ہی کے اربوں روپے قبائلی اضلاع کیلئے مختص کر دیئے۔ امید ہے کہ باقی صوبے بھی جلد اپنا وعدہ پورا کریں گے۔

اسلام ٹائمز: پنجاب میں بھی تو پی ٹی آئی کی حکومت ہے اس نے اپنا حصہ کیوں نہیں دیا؟
تیمور جھگڑا:
(ہنستے ہوئے) بہتر ہوگا کہ یہ سوال پنجاب کے کسی نمائندے سے پوچھا جائے، میں اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ پنجاب کی طرف سے بھی جلد وعدہ پورا کرنے کی خبریں آجائیں گی۔ اصل مسئلہ سندھ حکومت کا ہے جہاں اسوقت پی پی پی کی حکومت ہے، ایک طرف تو پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری قبائلی اضلاع کے حقوق کے چیمپئن بننے کی کوشش کر رہے ہیں اور بڑے بڑے دعووں میں مصروف ہیں، مگر دوسری طرف بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود پی پی پی کی صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کیلئے اضافی تین فیصد دینے سے صاف انکاری ہے، جو ان کی منافقانہ سیاست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کو قبائلی عوام کے دکھ درد کا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: بجٹ کا توازن برقرار رکھنے کیلئے حکومت نے کیا حکمت عملی تیار کی ہوئی ہے؟
تیمور جھگڑا:
اصل حل صرف اور صرف ٹیکس کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات ہیں، کیونکہ جب تک ہم ٹیکس کلچر کو فروغ نہیں دیں گے مالی مشکلات سے پیچھا چھڑانا مشکل ہی رہے گا۔ ملکی ترقی کیلئے اب وقت آگیا ہے کہ ٹیکس کلچر کو مکمل طور پر تبدیل کیا جائے۔ ٹیکس کلچر کو تبدیل کئے بغیر ملک کا اوپر اُٹھنا کسی بھی صورت ممکن نہیں، ہر کوئی ٹیکس دینے سے گریزاں ہے، جبکہ سہولیات کا حصول اپنا حق سمجھتا ہے۔ فرسودہ ٹیکس کلچر کی وجہ سے ہی ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا چلا گیا، مگر اب پہلی بار حقیقی ٹیکس کلچر کے فروغ کیلئے کوششوں کا آغاز کیا جا چکا ہے، سب کو اپنانا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں وفاق اور صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، تاکہ بغیر کسی رکاوٹ کے ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کیا جا سکے۔ کس قدر تشویشناک امر ہے کہ ملکی اکانومی میں ریٹیل بزنس کا حصہ 20 فیصد تک ہے، مگر اس کی طرف سے ملکی ٹیکسوں میں حصہ صرف 0.02 فیصد ہے، کیا اس سے بڑا مذاق کچھ اور ہوسکتا ہے؟

اسلام ٹائمز: اعتراض ہے کہ مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کے باوجود صوبے کو اس کا حصہ نہیں مل رہا اس کی بڑی وجہ کیا ہے؟
تیمور جھگڑا:
جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ ہمارے بجٹ کا بہت زیادہ دارو مدار وفاق سے ہونے والی ادائیگیوں پر ہے، جس میں تیل و گیس کیساتھ ساتھ پن بجلی رائلٹی بھی شامل ہے، پن بجلی منافع کیلئے اصل قضیہ جو حل کرنا ہے وہ اے جی این قاضی فارمولے پر عملدر آمد ہے۔ فی الوقت جو انٹرم فارمولہ چل رہا ہے اس کے تحت ادائیگیوں میں با قاعدگی لانا اور 35 ارب کے بقایاجات کا حصول ہنگای ترجیحات میں سے ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ پن بجلی رائلٹی کی رقم میں ماہانہ بنیادوں پر ملتی رہے جبکہ بقایاجات بھی فوری ادا ہوں۔ اس سلسلے میں بجٹ کے فوراََ بعد میری وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے جس میں بقایاجات کی ادائیگی اور نئے میکنزم کی تیاری کیلئے شیڈول پر اتفاق ہو چکا ہے۔ اب اگلے ہفتے امید ہے کہ دوسری ملاقات میں اس حوالے سے اہم پیشرفت ہوگی۔ مرکز کیساتھ دو اہم ایشوز پر رابطے جاری ہیں، پن بجلی منافع کی ادئیگی اے جی این قاضی فارمولے کے تحت یقینی بنانے کیساتھ ساتھ موجودہ انٹرم میکنزم میں بہتری لانے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ مرکز سے اپنے حصے کے واجبات کی وصولی کیلئے رابطے میں ہیں۔ قاضی فارمولے کو تسلیم کرلیا جائے تو قربانی دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ پن بجلی کا منافع ماہانہ بنیادوں پر ادائیگی کا سٹم متعارف کرایا جائے جس کی وجہ سے پھر اہداف کا حصول ممکن و آسان ہوسکے گا۔ اس معاملے پر وفاق اصولی رضامندی ظاہر کر چکا ہے اور جلد ہی اچھی خبریں ملیں گی۔ قاضی فارمولے کا معاملہ دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا کو 40 سال سے ان کے آئینی حق سے محروم رکھا گیا، اس سے بڑی ناانصافی اور کیا ہوسکتی ہے؟ مگر اس کے باوجود پختونوں کے جذبہ حب الوطنی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ جہاں تک اے جی این قاضی فارمولے کا تعلق ہے تو ماضی میں کسی بھی حکومت کی طرف سے اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئی، یہ کہنا کہ آج مرکز اور صوبے میں ایک ہی جماعت برسراقتدار ہے اور صوبے کو پھر بھی اس کے حقوق نہیں مل رہے تو تاریخی طور پر غلط بات ہے، کیونکہ ماضی میں کئی مواقع پر پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی صوبے اور مرکز میں حکومتیں رہ چکی ہیں۔ اسی طرح اے این پی جب صوبے میں برسرِ اقتدار تھی تو مرکز میں بھی اتحادی حکومت کا حصہ تھی۔ ان تمام جماعتوں نے اس طرف توجہ کیوں نہیں دی اور ان مواقع سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا، جہاں تک صوبائی حکومت کا تعلق ہے تو وہ آج پہلی بار کھل کر اے جی این قاضی فارمولے پر عملدرآمد کرانے کیلئے میدان میں نکلی ہوئی ہے، تاہم یہ ذمہ داری صرف صوبائی حکومت ہی کی نہیں ہے، اس سلسلے میں میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اپوزیشن کا بھی فرض بنتا ہے کہ حکومت کو سپورٹ کرے کیونکہ یہ پورے صوبے کا ایشو ہے کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں۔ پھر ہمارے صوبے کے جتنے بھی ایم این ایز اور سینیٹرز مرکز میں موجود ہیں ان کو بھی کھل کر سامنے آ کر قومی اسمبلی میں اور سینیٹ میں حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کو ذاتی دلچسپی لینی ہوگی، کیونکہ ان کا تعلق بھی تو اسی صوبے سے ہے۔ اے جی این قاضی فارمولے کے تحت صوبے کا سالانہ حصہ 130 ارب روپے تک بنا ہے۔ وفاقی حکومت اس خدش کا اظہار کر رہی ہے کہ یہ رقم دینے سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔ اب ہماری کوشش ہے کہ مشترکہ ٹیم بنا کر کوئی قابل قبول حل نکالیں کیونکہ اس درینہ مسئلے کے حل کا وقت اب آ چکا ہے۔

اسلام ٹائمز: گویا یہ ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے؟
تیمور جھگڑا:
بالکل آسان الفاظ میں اس کو زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا جاسکتا ہے اور ہم صوبے کے مفاد کیلئے ڈٹے ہوئے ہیں اور پوری توانائی کے ساتھ یہ جنگ لڑیں گے، کیونکہ یہی ایک ذریعہ منافع باقی رہ جاتا ہے جس سے صوبے میں تعمیر و ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ آپ دیکھیں سندھ کے پاس اپنا سمندر ہے جبکہ اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ اسکے پاس کراچی ہے جو پورے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس اکھٹا کرتا ہے۔ بلوچستان کے پاس بھی سمندر ہے اور اب گوادر کی صورت میں اس کے پاس سنہری موقع بھی آ رہا ہے۔ پنجاب کے پاس آبادی کی صورت میں وافر افرادی قوت اور بہترین زراعت ہے، ان میں سے کوئی بھی چیز ہمارے پاس نہیں، اُلٹا سمندر سے دوری ہماری مشکلات بڑھا دیتی ہے۔ ان حالات میں اگر ہم مراعات نہ دیں، خصوصی پیکج کا اعلان نہ کریں تو کون آکر ہمارے صوبے میں صنعت کاری اور سرمایہ کاری کرے گا۔ اس لئے ہماری کوشش ہے کہ اب بجلی منافع کی حقیقی رقم جو آئین کے تحت ہمارا حق ہے ہمیں ملے، جس سے پھر ہم صوبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو مراعات دے سکیں گے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمیں تو گذشتہ چند سال کے بقایاجات مل رہے ہیں نہ ہی اس پر وصول ہونے والے انٹرسٹ سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: این ایچ پی کے ساتھ ساتھ این ایف سی کا معاملہ بھی لٹکا ہوا ہے، اس حوالے سے بھی رابطے جاری ہیں؟
تیمور جھگڑا:
این ایف سی کوئی پیچیدہ ایشو نہیں ہے اصل چیز وسائل کی تقسیم پر تمام یونٹوں کا اتفاق رائے ہے۔ ہم ملک کو بدلنا ہے ہم چاہتے ہیں کہ این ایف سی فارمولے کو پروگریسیو بنایا جائے۔ صوبوں کو زیادہ وسائل کی فراہمی پر بھی توجہ ضروری ہے۔ ہماری ترجیح فوری نہیں، بلکہ بہتر این ایف سی ایوارڈ ہے اور انشاء اللہ اس میں کامیابی ملے گی۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے عمل میں صوبوں کو بھی حصہ دار بنایا جائے اس مقصد کیلئے ایف بی آر کے بورڈ میں صوبوں کو مناسب نمائندگی ملنی چاہیئے۔ اسوقت اس اہم ترین ادارے پر اسلام آباد کی بیوروکریسی حاوی ہے، حالانکہ سب کی نمائندگی ضروری ہے۔

اسلام ٹائمز: آبی بقایاجات کا معاملہ بھی اُٹھانے کا ارادہ ہے؟ کیونکہ متبادل کے طور پر چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال کا وعدہ تاحال ادھورا ہی ہے؟
تیمور جھگڑا:
صوبے کے حوالے سے جتنے بھی ایشوز ہیں یا مالی معاملات ہیں، ہم کسی سے بھی غافل نہیں۔ آبی بقایاجات کا مسئلہ زندہ رکھا ہوا ہے اور این ایچ پی سے فارغ ہوتے ہی اس محاذ پر کوششیں تیز کر دی جائیں گی۔ اسوقت تمام تر توجہ پن بجلی منافع کے ایشو پر مرکوز کی ہوئی ہے۔

اسلام ٹائمز: بجٹ تقریر میں حکومت کی طرف سے بیوروکریسی میں اصلاحات کیلئے کمیٹی کے قیام کی بات گئی تھی، اس جانب کتنی پیشرفت ہوئی ہے؟
تیمور جھگڑا:
نظام حکومت چلانے کیلئے بیوروکریسی کی انتظامی صلاحیتیں بڑھانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ہماری حکومت اب پہلی بار بنیادی اصلاحات لانے کیلئے مصروف عمل ہے۔ ماضی میں سرکاری ملازمین کی ترقی کا طریقہ کار نامناسب تھا۔ سینیارٹی کی بنیاد پر ترقی نے کئی مسائل کو جنم دیا، اب یہ طریقہ کار تبدیل کیا جائے گا اور ترقی کا معیار کارکردگی کو بنایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ہم نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں بل جلد منظور کرلیا جائے گا جس سے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

اسلام ٹائمز: مگر ابھی سے بعض سرکاری حکام اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس سے ترقی اور بھرتی کا عمل متاثر ہوگا؟
تیمور جھگڑا:
ایسی باتیں مخصوص ذہنیت کی علامت ہیں، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں 3 سال کے اضافہ سے ترقیوں اور بھرتیوں کے عمل پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، بلکہ رواں برس ہم تاریخی 47 ہزار بھرتیاں کرنے والے ہیں۔ گویا اس سال ریکارڈ بھرتی ہوگی۔ 30 ہزار بھرتی بندوبستی جبکہ 17 برار بھرتیاں قبائلی اضلاع میں ہوں گی۔ گذشتہ 10 سال کے دوران کسی ایک سال میں اس سے زیادہ بھرتی بھی نہیں ہوسکی۔ اس عرصہ میں سب سے زیادہ سالانہ بھرتی 29 ہزار رہی ہے۔ ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے سے 20 ارب تک کی سالانہ جو بچت ہوگی اسے ہم سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس رقم سے اکانومی کا پہیہ جس طریقہ سے چلے گا اس سے نجی شعبہ میں کم ازکم 50 ہزار ملازمتیں پیدا ہونگی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس پہلے سے اب ارلی ریٹائرمنٹ کی حد بھی بڑھا دی گئی ہے کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ 45 سال کی عمر میں 25 سال پر ریٹائرمنٹ لینے والا صحتمند انسان بھاری پنشن وصول کرنے کیساتھ ساتھ دوسری نوکری بھی کرتا ہے، خوشحال بندے کو پنشن دینا زیادتی نہیں تو اور کیا ہے، اس سے یہ سلسلہ بھی رک جائے گا۔ جہاں تک اصلاحات کا تعلق ہے تو اس حوالے سے کمیٹی بن چکی ہے جو اپنا کام تیز کرے گی۔ اندھا دھند ترقیوں کا زمانہ اب ختم ہوچکا ہے۔ اب صرف کارکردگی ہی ترقی کی بنیاد ہوا کرے گی، جس سے سرکاری اداروں کو حد درجہ فعال بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔ اے سی آر اور سینیارٹی کی بنیاد پر ترقیوں سے ہی تو سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ آپ خود جانتے ہیں کہ جتنے بھی سرکاری ملازمین ہیں سب کے اے سی آرز آوٹ سٹینڈنگ ہی آتے رہتے ہیں، اگر واقعی ان کی کارکردگی اتنی آوٹ سٹینڈنگ ہوتی تو ہمارا ملک فرانس اور انگلینڈ سے بھی آگے نکل چکا ہوتا۔ اس سلسلے میں جو کمیٹی بنی ہوئی ہے اب رواں ہفتہ سے کام شروع کرنیوالی ہے، رولز آف بزنس پر نظرثانی کی جائیگی، اب مستقبل میں اپ گریڈیشن بھی صرف کارکردگی کی بنیاد پر ہوگی، مسابقت کی بنیاد پر نہیں۔

اسلام ٹائمز: پشاور نے پورے صوبے کا بوجھ اُٹھایا ہوا ہے، ایک عرصے کے بعد پشاور سے تعلق رکھنے والا وزیر خزانہ آیا ہے، مگر بجٹ میں پشاور والوں کی توقعات پوری نہ ہوئیں کیوں؟
تیمور جھگڑا:
پشاور میرا شہر ہے اور اس کا مجھ پر بہت حق ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اس نے پورے صوبے کا بوجھ اُٹھایا ہوا ہے، مگر اس کو ماضی کی حکومتوں نے نظرانداز کئے رکھا، تاہم پشاور کیلئے مختص بجٹ پر بات کرنے سے پہلے میں یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے پورے صوبے کیلئے بجٹ پیش کیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ یہ تاثر ختم کیا جائے کہ بجٹ چند مخصوص اضلاع کیلئے ہی بنتا ہے، جس طرح پنجاب میں کل اے ڈی پی کا 56 فیصد تک لاہور میں میاں شہباز شریف خرچ کیا کرتے تھے۔ ہم اس طرح کی غیر منصفانہ حکمت عملی پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم نے پورے صوبے کو دیکھنا اور آگے بڑھانا ہے کیونکہ ہمارا کام انصاف کرنا ہے۔ پھر بھی پہلی بار ہم نے پشاور کیلئے بہت زیادہ فنڈ مختص کر دیئے ہیں۔ اس کے تمام بڑے ہسپتالوں میں سہولیات کی تمام کمی پوری کی جائے گی۔ نکاسی و فراہمی آب کے مسائل حل کرنے کیلئے ڈبلیو ایس ایس پی کی شہری علاقوں میں دوسری شفٹ شروع کی جا رہی ہے، جبکہ نیم شہری علاقوں تک اس کی خدمات کو توسیع دی جا ری ہے، جس کیلئے 2 ارب روپے مختص کر دیئے ہیں۔ پشاور کیلئے اپ لفٹ پروگرام کو بھی حتمی شکل دیدی ہے۔ پھر پشاور کیلئے تو سب سے بڑا تحفہ بی آر ٹی ہے جس سے ٹریفک مسائل حل ہونے میں بہت مدد ملے گی، ہم شہر کی سڑکوں کے حالات مزید بہتر بنا رہے ہیں۔ شہر میں ٹریفک مینجمنٹ کے ذریعے ٹریفک کی صورتحال بہتر بنائی جائے گی۔ پشاور کو آئی ٹی کا حب بنا رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: یہ تمام باتیں اپنی جگہ مگر عام آدمی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے جس طرح پریشان ہے اس پر بھی حکومت کی توجہ ہے؟
تیمور جھگڑا:
پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو غریب آدمی کی تکلیفات اور مسائل کا بخوبی اندازہ ہے، سیاسی جماعتیں مہنگائی کا رونا رو کر اور حکومت کے معاشی اقدامات اور اصلاحات پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر کے عوام کی توجہ حاصل کرنے کی بے مقصد کوششیں کر رہی ہیں، لیکن عوام باشعور ہیں اور وہ ان کی سیاسی چالوں سے بخوبی واقف ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ماضی میں انکی سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کی لوٹ کھسوٹ اور غلط معاشی پالیسیوں کی سزا آج عوام مہنگائی اور معاش کی غیر یقینی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کی ترقی، معاشی خوشحالی اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بھر پور وسائل مختص کئے ہیں، جن کو بروئے کار لانے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ مہنگائی سے سب سے زیادہ غریب آدمی متاثر ہوتا ہے، مگر یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ اس کا حوصلہ سب سے زیادہ بلند ہوتا ہے۔ ہم اپنے عوام کو بھولے نہیں، غریب آدمی کیلئے صرف روٹی کا حصول ہی ضروری نہیں بلکہ اس کو سماجی انصاف کیساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کا انصاف بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔ ماضی میں حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آج نہ صرف عوام بلکہ حکومت کو بھی ہر سطح پر مشکلات کا سامنا ہے، لیکن ملک وقوم کی تقدیر بدلنے اور نظام کی خرابی کو دور کرنے کیلئے حکومت کو کڑے اور سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ اسوقت ہم معیشت اور ملک کے معاشی استحکام کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہماری قوم بھر پور طریقے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کیساتھ کھڑی ہے اور زنده قوموں کی یہی نشانیاں ہیں کہ وہ قومی مقاصد کے حصول کیلئے وقتی طور پر قربانیاں دیتی ہیں۔ عوام کو وقتی طور پر تکلیف کم اور مستقبل میں فائدہ زیادہ ہوگا۔ خیبر پختونخوا وہ پہلا صوبہ ہوگا جہاں صوبے کے ہر خاندان کو صحت انصاف کارڈ کے تحت 10 لاکھ روپے تک کے علاج معالجے کی سہولیات فراہم ہوں گی۔ صوبے کا ترقیاتی بجٹ سندھ سے بڑا اور پنجاب کی سطح تک لانے کی کوشش کی گئی ہے، مزدور کی کم سے کم اجرت 17500 روپے کر دی گئی ہے۔ صوبے میں تعلیم کے شعبے کی بہتری کیلئے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے علاوہ مزید 25 ہزار اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے۔ مقامی سطح پر عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز، تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں، بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کیلئے اسپیشل پیکج لے کر آ رہے ہیں۔ ضم ہونیوالے اضلاع سمیت پورے صوبے میں سڑکوں کے نظام کو بہتر بنانے کے علاوہ بجلی انفراسٹرکچر کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔ میڈیا کا بھی اس سلسلے میں فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کو صرف تصویر کا ایک رُخ نہ دکھائیں، بلکہ معیشت کی بہتری اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے حکومتی اقدامات سے بھی عوام کو ضرور آگاہ کرے اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔
خبر کا کوڈ : 812574
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے