0
Monday 26 Aug 2019 14:33
مشکل وقت میں دوست اور دشمن کی پہچان ہوتی ہے، جو حکومت اور عوام نے کر لی ہے

مودی کو ایوارڈ سے نوازنے والوں سے وہ غیر مسلم اچھے جو مسئلہ کشمیر پر ہمارے ساتھ ہیں، محمد ندیم قریشی

مودی کو ایوارڈ سے نوازنے والوں سے وہ غیر مسلم اچھے جو مسئلہ کشمیر پر ہمارے ساتھ ہیں، محمد ندیم قریشی
محمد ندیم قریشی یکم اکتوبر 1971ء کو اندرون شہر ملتان میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول پاک گیٹ سے حاصل کی، بہائوالدین زکریا یونیورسٹی سے بی ایس سی (آنرز) کی ڈگری حاصل کی، 1998ء میں بطور کونسلر میونسپل کارپوریشن سیاست کا آغاز کیا، بعدازاں اپنے خاندانی بزنس میں مصروف ہوگئے، موجودہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے قریبی سمجھے جانے والے محمد ندیم قریشی نے پی ٹی آئی میں 2018ء کے الیکشن سے قبل شمولیت اختیار کی، ملتان کے شہری حلقے پی پی 216 سے اپنے کیریئر کا پہلا صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا، جماعت کے ضلعی صدر کی جانب سے مخالفت کے باوجود سابق صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی اُمور اور تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن بننے والے والے حاجی احسان الدین قریشی کو بھاری اکثریت سے شکست دی، بعدازاں اُنہیں صوبائی پارلیمانی سیکرٹری (داخلہ) نامزد کیا گیا، گذشتہ روز ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اُنکا انٹرویو کیا، جو حاضر خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گذشتہ حکومتوں کی نسبت اس حکومت کی کیا انفرادیت ہے۔؟
محمد ندیم قریشی:
5 اگست کو جب بھارت نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں آرٹیکل 370 میں ترمیم کے حوالے سے قرارداد پیش کی اور اُس کے بعد کشمیر میں ایک جنگ جیسی کیفیت بنا دی گئی، ہزاروں بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں اپنی بربریت کا مظاہرہ کرنے کیلئے وقفے وقفے سے پہنچے، دوسری جانب 5 اگست کو ہی پاکستان کے وزیرخارجہ اور وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزراء کا اجلاس طلب کیا اور پھر جوائنٹ سیشن بلایا گیا، متفقہ قرارداد پاس کی گئی، کشمیر کمیٹی جتنی آج فعال ہے ماضی میں اتنی فعال کبھی نہیں تھی، اگر آپ ماضی کی بات کریں تو ماضی میں ایک شخص نے کشمیرکمیٹی پر قبضہ کر رکھا تھا دنیا بھر میں کشمیرکمیٹی کا نام استعمال کیا لیکن ایک ٹکے کا کام تک نہیں کیا، موجودہ حکومت نے وزارت خارجہ میں ایک الگ سے ڈیسک قائم کردیا ہے اور مسلسل دنیا کے تمام مسلمان ممالک سے روابط قائم کیے گئے ہیں اور اُنہیں کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کر کے کشمیری مسلمانوں کی حمایت کا مطالبہ کیا گیا، جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک بہت اہم کامیابی ہے، اس وقت دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتی مشن میں کشمیر کے حوالے سے خصوصی ڈیسک قائم کر دیے گئے ہیں، آج اپوزیشن جتنی تنقید کر رہی ہے اگر اتنا ہی کام اپنے دور حکومت میں ان لوگوں نے کیا ہوتا تو آج کشمیر مسئلہ یوں نہ ہوتا۔

اسلام ٹائمز: وزارت خارجہ کیجانب سے عالمی سطح پر جو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوششیں کی گئیں ہیں، اُن میں قابل ذکر کیا ہیں۔؟
محمد ندیم قریشی:
پہلی بات تو یہ ہے کہ مشکل وقت میں دوست اور دشمن کی پہچان ہوتی ہے، کشمیر سمیت پاکستان اس وقت مشکل میں ہے اور جن لوگوں نے اس موقع پر ہمارا ساتھ دیا ہے ہم اُنہیں کبھی فراموش نہیں کرسکتے، نمایاں کوششوں میں ایک یہ ہے کہ ہم نے اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو احسن انداز میں اُٹھایا ہے، آج مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر نمایاں ہوچکا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس، سیکیورٹی کونسل، انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل، جینوسائیڈ واچ نے آج کشمیری مظالم پر لب کشائی کی ہے، اس کے علاوہ سب سے بڑی کامیابی پاکستانی حکومت نے ہمسایہ ملک ایران سے رابطہ کیا ہے اور حمایت کی اپیل کی ہے جس پر عالمی حکمرانوں میں ایک قدآور شخصیت ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا دوٹوک موقف ہے، جس میں اُنہوں نے کشمیری مسلمانوں کی حمایت اور بھارتی اقدامات کی مذمت کی ہے۔

گذشتہ روز ایرانی پارلیمنٹ میں کشمیری مسلمانوں کے حق میں ایک قرارداد پیش کی گئی میں سمجھتا ہوں کہ یہ دنیا کا پہلا پارلیمنٹ ہے جہاں اس انداز میں کشمیری مسلمانوں کی بھرپور انداز میں حمایت کی گئی، یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے، اس کے علاوہ ایرانی پہلی قوم نے جس نے مظلوم کشمیری مسلمانوں کے حق میں بھارتی سفارتخانے کے سامنا احتجاج کیا، اس کے علاوہ کئی ایرانی علماء نے مسئلہ کشمیر میں پاکستان کی حمایت کی ہے جس پر میں اور میری پوری قوم ایرانی قیادت اور عوام کی مشکور ہے۔ اسی طرح سری لنکن حکومت، ترکی کی حکومت نے کشمیری موقف کی تائید کی ہے۔

اسلام ٹائمز: مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کا کردار مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیسے دیکھتے ہیں۔؟
محمد ندیم قریشی:
یہ افسوسناک پہلو ہے، اس وقت اگر صرف مسلم ممالک ہی کشمیریوں کا ساتھ دیتے تو بھارت اس طرح کے جارحانہ اقدامات نہ کرتا، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کا کردار وہی ہے جو فلسطین، شام، عراق اور برما ہے حوالے سے ہے، او آئی سی اس وقت ایک یرغمالی حالت میں ہے، ابھی تک او آئی سی کا کوئی ٹھوس موقف سامنے نہیں آیا بلکہ گزشتہ سیشن میں مسلم ممالک کی اس تنظیم میں بھارت کو بطور مبصر مدعو کیا گیا جو او آئی سی کے کردار پر سوالیہ نشان ہے، مشرق وسطیٰ اس وقت خود مشکلات کا شکار ہے جبکہ خلیجی ممالک کا رویہ منافقانہ ہے، حالانکہ تاثر تو یہ دیا جا رہا تھا کہ ایران کے بھارت کے ساتھ چاہ بہار پورٹ کے حوالے سے تجارتی تعلقات ہیں وہ کبھی بھی کھل کر پاکستان کی حمایت نہیں کرے گا۔

لیکن ایرانی حکومت اور عوام نے یہ تاثر زائل کر دیا اور ثابت کر دیا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اپنی تجارتی تعلقات کی پروا کیے بغیر کشمیریوں کی حمایت کی، دوسری جانب جن ممالک کے ساتھ ہمارے عرصے سے قریبی تعلقات ہیں اور مراسم ہیں انہوں نے بے وفائی کی، بجائے کشمیری مسلمانوں کی حمایت کرنے کے بھارتی خونخوار وزیراعظم نریندر مودی کو سب سے بڑا سول ایوارڈ دینے کا اعلان کیا جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ کشمیری شہداء کی قربانیوں پر نمک پاشی کے برابر ہے، متحدہ عرب امارات، دبئی، ابوظہبی، عمان، سعودی عرب کا رویہ عالم اسلام کے حق میں نہیں بلکہ اپنے مفاد کے لیے ہے۔

اسلام ٹائمز:سعودی عرب کی سربراہی میں بنائے گئے 41 ممالک کے اتحاد کی کشمیری مسلمانوں کے حوالے سے کیا خدمات ہیں۔؟
محمد ندیم قریشی:
(مسکراتے ہوئے) یہ ایسا سوال ہے جس پر ہنسنا بھی آتا ہے اور رونے کا بھی جی کرتا ہے، اس اتحاد کے قیام سے لے کر آج تک اسلامک ملٹری الائنس نے دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں کوئی اقدام تو دور کوئی بیان دینا گوارا نہیں کیا، کاش 56 سے زائد اسلامی ممالک یکجا ہوتے تو آج دنیا بھر میں مسلمانوں ظلم کے شکنجے میں نہ پسِ رہے ہوتے، ہماری نااتفاقی اور انا کے باعث اس وقت فلسطین، کشمیر، روہنگیا، برما، شام، عراق، یمن، بحرین میں مسلمان ظلم سہہ رہے ہیں، مجھے بار بار کشمیری حریت بزرگ رہنما سید علی گیلانی کا وہ پیغام یاد آتا ہے جس میں وہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑ رہے ہیں کہ بروز قیامت تم کیا جواب دو گے؟ کاش مسلمان ممالک متفق ہوتے تو آج عالم اسلام اتنا بے بس نہ ہوتا، سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اسلام ملٹری الائنس بھی سعودی حکومت کی مانند ہے جب اُس نے کشمیری مسلمانوں کی حمایت اور بھارتی مظالم کی مذمت نہیں کی تو یہ اسلامک الائنس کیوں کرے گا، خلیجی ممالک کو عالم اسلام سے زیادہ اپنے تعلقات اور تجارت سے غرض ہے، بہرحال اس مشکل نے حکومت اور عوام کو دوست اور دشمن کی پہچان کرادی ہے۔

اسلام ٹائمز: متحدہ عرب امارات اور بحرین کیجانب سے لاکھوں مسلمانوں کے قاتل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو امن کے ایوارڈز سے نوازنا پاکستان کی سفارتی ناکامی ہے یا بھارتی خارجہ پالیسی کی کامیابی۔؟
محمد ندیم قریشی:
سب سے پہلے تو یہ ایک افسوسناک پہلو تھا جسے سن کر ہر پاکستانی نے دکھ کا اظہار کیا، میں اسے پاکستان کی سفارتی ناکامی یا بھارت کی سفارتی فتح قرار نہیں دیتا بلکہ یہ ان ممالک کی مجبوری ہے ان ممالک کے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ہیں، ان ممالک نے انسانی قدروں اور تعلقات کو پس پشت ڈالتے ہوئے تجارت اور معیشت کو اہمیت دی ہے، چیئرمین سینٹ نے اس حوالے سے اپنا دورہ ملتوی کر دیا ہے، بہرحال یہ افسوسناک پہلو ہے کہ ایک طرف ہم اُمت مسلمہ کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف مودی جیسے قاتل کو امن کے ایوارڈ سے نوازتے ہیں۔ جنہوں نے مودی کو ایوارڈ سے نوازا ہے ان سے وہ غیرمسلم اچھے ہیں جو مسئلہ کشمیر میں ہمارے ساتھ ہیں۔

اسلام ٹائمز: جنوبی پنجاب صوبے حوالے سے پی ٹی آئی نے جولائی کا وعدہ کیا تھا جبکہ اب اگست بھی اختتام پذیر ہونیوالا ہے، پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے گذشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی یہ فائنل نہیں ہوسکا کہ صوبے کا مرکز ملتان ہوگا یا بہاولپور۔؟
محمد ندیم قریشی:
اس حوالے سے بہت سے معاملات طے ہوچکے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ابھی بہت سارے معاملے حل طلب ہیں، پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے کلیئر ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں اس وقت پھر سیاست کر رہی ہیں وہ کہتی ہیں کہ اگر ہمارے زمانے میں الگ صوبہ نہیں بنا تو عمران خان کو بھی نہیں بنانے دیں گے، جب پی ٹی آئی حکومت ملتان کو صوبے کا مرکز بنانے کا پلان فائنل کرچکی تھی ٹھیک اُسی وقت ایک سازش کے تحت بہاولپور صوبے کی قراداد لائی گئی اور اس منصوبے کے راستے میں روڑے اٹکائے گئے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی حکومت اس حوالے سے سنجیدہ ہے وہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنا کر ہی دم لے گی، ہم نے اپنی عوام سے جو وعدہ کیا ہے اُسے ضرور پورا کریں گے۔ سازشیں کرنے والے اس وقت جنوبی پنجاب کے ساتھ کھیل رہے ہیں لیکن ہمارے دور اقتدار میں ضرور اس وعدے کو پُورا کیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 812743
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے