0
Tuesday 27 Aug 2019 09:13
بھارت نے کبھی نہیں چاہا کہ مسلمان متحد ہوں

آل سعود نے ہمیشہ ذاتی مفادات کو دینی معاملات پر ترجیح دی ہے، ڈاکٹر تسلیم رحمانی

آل سعود کو مسلمانوں پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے
آل سعود نے ہمیشہ ذاتی مفادات کو دینی معاملات پر ترجیح دی ہے، ڈاکٹر تسلیم رحمانی
ڈاکٹر تسلیم رحمانی بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے تعلق رکھتے ہیں، وہ مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا نامی تنظیم جسکی بنیاد 2001ء میں پڑی، کے صدر ہیں، یہ تنظیم قومی سطح پر مسلمانوں کو سیاسی مشاورت فراہم کرنے کا واحد و منفرد پلیٹ فارم ہے، یہ پلیٹ فارم ایک پریشر گروپ کی حیثیت سے کام کر رہا ہے، مسلم پولیٹیکل کونسل کے بھارت بھر کے تمام صوبوں میں مشاورتی بورڈ موجود ہیں، ڈاکٹر تسلیم رحمانی ایک سینیئر تجزیہ نگار بھی ہیں، جنھیں عالمی امور پر کمال کی دسترس حاصل ہے، اسکے علاوہ وہ روزنامہ اخبار ‘‘مشن’’ اور ہفتہ روزہ ‘‘مشن’’ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے ڈاکٹر تسلیم رحمانی سے عالم اسلام کی موجودہ صورتحال اور حالات حاضرہ پر ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: آپکی تنظیم بھارتی مسلمانوں کیلئے کیا لائحہ عمل اپنائے ہوئے ہے۔؟
ڈاکٹر تسلیم رحمانی:
دیکھیئے اس وقت بھارت کے حالات بہت ہی سنگین ہیں۔ ہمارے ملک کے بعض حصوں میں حالات بہت خراب کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور ہمارے لیڈروں، ذمہ داروں اور عوام کو اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ ہمارے ملک کا شمال مشرقی حصہ جیسے بہار، بنگال، آسام، وہاں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد رہ رہی ہے۔ مسلمانوں کی کُل آبادی کا تقریباً بیس فیصد حصہ وہاں رہ رہا ہے تو وہاں ان کی ناخواندگی اور پسماندگی کا فائدہ اٹھا کر ان کا قتل عام کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ان قصبوں میں مسلمانوں کو زیر عتاب کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ دن بدن اس تشویشناک امر میں اضافہ کا خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس لئے ہماری تنظیم نے بھی اس خطے کو اپنا مرکز بنایا ہوا ہے اور وہاں لوگوں کو ان کے اصل مسائل سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے ان قصبوں میں کیا کام جاری رکھا، کیسے لوگوں کو آگاہ کیا۔؟
ڈاکٹر تسلیم رحمانی:
اولاً تو ہم نے وہاں جاکر ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں تمام ذی فہم افراد کو شامل کیا گیا، ان کے مسائل سنے اور ان کے ساتھ حکومتی سطح پر جو سازشیں کی جا رہی ہیں، انہیں آگاہ کیا۔ ابھی حال ہی میں دیگر ریاستوں کے سیلاب کا رخ بہار، بنگال اور آسام کی جانب کیا گیا، اس پر بھی بات چیت ہوئی اور پھر بہار حکومت کے سامنے ایک مکمل رپورٹ رکھی گئی۔ حکومت کو ایسی صورتحال کے لئے جواب دہ بنایا گیا۔ اہم ترین مسئلہ علاقائیت کا مسئلہ تھا تو اس پر بھی گفت و شنید ہوئی کہ وہاں بنگلہ دیش سے آنے والے پناہ گزیں کو حراساں کرنے کی آڑ میں مقامی لوگوں کی شہریت خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔ غرض وہاں مسلمانوں کا کیا لائحہ عمل رہنا چاہیئے، اس کے لئے وہاں رائے عامہ قائم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ حکومتوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں مسلمانوں پر مظالم میں کیا فرق رہا ہے۔؟
ڈاکٹر تسلیم رحمانی:
دیکھیئے بھاجپا حکومت میں میڈیا کے ذریعہ ایک منظم طریقے سے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ ہندو عقائد کے نام پر مسلمانوں پر پے در پے حملے کیا جا رہے ہیں، ان حملوں میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ایک واضح فرق ہم دیکھ رہے ہیں۔ اس تفریق سے مسلمانوں میں خوف کا ماحول دیکھا جا رہا ہے۔ ورنہ ترقی اور پیشرفت اور حکومت کی کارکردگی کو اگر دیکھیں تو کوئی زیادہ فرق محسوس نہیں کی جا رہی ہے۔ بھاجپا سے پہلے کانگریس کی حکومت میں مسلم دشمنی کو واضح ترویج نہیں دی جاتی تھی، اگرچہ موجودہ حکومت میں ہندو انتہا پسندوں کو واضح ترویج دی جا رہی ہے۔ آج مجروموں کے خلاف کوئی واضح کارروائی نہیں ہوتی ہے اور مسلم دشمنی کو میڈیا پر بھی اچھالا جا رہا ہے۔ کانگریس حکومت میں مجرموں کے خلاف نام کی ہی صحیح کارروائی ہوتی تھی اور تب میڈیا اس پروپیگنڈے کا حصہ نہ تھا۔

اسلام ٹائمز: ایسی صورتحال کے ہوتے ہوئے مسلم لیڈروں اور سرکردہ افراد کی کیا ذمہ داری بنتی ہے۔؟
ڈاکٹر تسلیم رحمانی:
دیکھیئے لیڈروں کا ایک ایسا طبقہ ہر زمانے میں موجود ہوتا ہے، جو اپنا قد اونچا کرنے کے لئے اختلاف کو ہوا دیتا ہے، لیکن اس کا اثر جلدی زائل ہوتا ہے اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ بے نقاب ہوتے ہیں۔ عوام پر جب کبھی بھی کوئی حملہ ہوتا ہے تو عموماً وہ متحد ہی ہوتے ہیں۔ عوام کا اتحاد ان نام نہاد علماء کے مفادات پر اکثر پانی پھیرتے نظر آتے ہیں۔ مشکل وقت میں عوام ہمیشہ متحد ہی نظر آتی ہے۔ اس متحد عوام کو اگر متحد قیادت میسر آجائے تو ان کے تمام مسائل حل ہوتے دکھائی دیں گے۔ ایسے میں وقت کی ضرورت ہے کہ دلسوز علماء کرام آگے آجائیں اور اپنا کردار ادا کریں۔

اسلام ٹائمز: بابری مسجد کے حوالے سے بھی کچھ مسلم لیڈروں کے بیانات تشویشناک ہیں، اس حوالے سے آپ کیا کہنا چاہیں گے۔؟
ڈاکٹر تسلیم رحمانی:
درحقیقت ایسے مسلم لیڈر اپنی سیاسی حیثیت کھوچکے ہیں، یہ ہر میدان میں ناکام ہوچکے ہیں، اب آر ایس ایس کی پشت پناہی میں یہ ایسے بیانات دے رہے ہیں، تاکہ مسلمانوں میں تفریق پیدا کرکے اپنا سیاسی قد اونچا کریں، اپنی کھوئی ہوئی شناخت بحال کریں۔ لیکن  تمام مسلمانوں جانتے ہیں کہ ایسے لیڈروں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بابری مسجد کا مسئلہ کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری ملت اسلامیہ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ ہاں ان لیڈروں کو حکومت کی جانب سے مراعات تو حاصل ہونگے، لیکن عوام میں ان کے بیانات کا کوئی اثر ہرگز نہیں ہوسکتا۔

اسلام ٹائمز: آپ محسوس کر رہے ہیں کہ اگر بھارتی مسلمان اتحاد کیجانب قدم بڑھائیں گے تو حکومت کیجانب سے انہیں عتاب کا نشانہ بنایا جائیگا۔؟
ڈاکٹر تسلیم رحمانی:
بھارت کی حکومت نے کبھی نہیں چاہا کہ مسلمان متحد ہوں۔ بھارت کی حکومتوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو تفرقہ اور انتشار کا نشانہ بنایا۔ مسلمانوں میں مسلکی تضاد و منافرت کو پروان چڑھایا۔ جواہر لعل نہرو کے دور سے ہی ایسا ہوتا آیا ہے، بھارت میں بھائیت کو ترویج دینے میں حکومت نے اچھا خاصا رول ادا کیا۔ قادیانیت کو حکومت نے پروان چڑھایا۔ پھر دیوبندیوں اور بریلویوں کے درمیان اختلافات ایجاد کئے۔ ایسے میں اگر آج مسلمان متحد ہوتے ہیں اور مسلمان اپنے ذمہ داریاں کا احساس کرنے لگتے ہیں تو یہ بھارت کی حکومت کے لئے خوشی کی بات تو نہیں ہوسکتی ہے۔ اسی لئے حکومت علماء کو خرید کر مسلکی منافرت پھیلانے کی کوششیں کرتی ہے، پھر کبھی وہ کامیاب ہوتے ہیں تو کبھی نہیں ہوتے ہیں۔ یہاں یہ بھی واضح کروں کہ ہندوستان میں ضرور ایسے علماء ہیں، جو مسلمانوں میں مسلکی اختلافات کو ہوا دینے میں سرگرم ہیں، لیکن شدت پسندی اور انتہاء پسندی کی جانب عوام کو ڈھکیلنا ایسا کوئی کام ہرگز نہیں ہو رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر مسلمانوں کو تقسیم کرنیکی کوششیں ہو رہی ہیں، اس پر آپکی تشویش جاننا چاہیں گے۔؟
ڈاکٹر تسلیم رحمانی:
یہ صحیح ہے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں میں تین قسم کی تقسیم برپا کی جا رہی ہے، اس میں صوفی ازم کے نام پر، شیعہ کے نام پر اور سنی کے نام پر مسلمانوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اس تقسیم کے لئے بڑی قوتوں نے اپنا بڑا سرمایہ خرچ کیا ہوا ہے اور اس میں تینوں مسلک کے لوگ آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مسلم حکومتیں بھی دشمن کی آلہ کاری کے لئے واضح رول ادا کر رہی ہیں۔ اس کے برخلاف ترکی میں یہ مثبت کام ہوا کہ انہوں نے مسلکی تفریق کو اپنے یہاں پنپنے نہیں دیا۔ اگرچہ ترکی میں تصوف کے ماننے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، اہل سنت کی بھی اچھی خاصی تعداد وہاں پائی جاتی ہے اور شیعہ حضرات بھی وہاں رہ رہے ہیں، لیکن کوئی مسلکی منافرت نہیں ہے۔ گذشتہ برسوں ترکی نے ایران کو قریب لانے کی کوشش کی اور ایران نے بھی اسکا مثبت جواب دیا۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ ایام میں ترکی کی وحدت اسلامی کے حوالے سے ایک مثبت پیشرفت سامنے آسکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: ترکی اگر وحدت اسلامی کیجانب پہل کر رہا ہے، تو سعودی عرب جسے مسلمانوں میں ایک مرکزی مقام حاصل ہے، وہ ابھی تک کوئی اقدام نہیں کر رہا ہے۔؟
ڈاکٹر تسلیم رحمانی:
سعودی عرب کو مرکزیت حاصل ہے، یہ لوگوں کا خیال ہے۔ یہ مرکزیت کن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، ہمیں سمجھنا چاہیئے۔ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا ہے کہ سعودی عرب کا حاکم حرمین شریفین بھی ہو۔ یہ سلسلہ آل سعود نے شروع کیا ہے کہ وہ حاکم بن کر حرمین شریفین پر قابض ہوئے ہیں۔ خدمت حرمین کے نام پر انہوں نے اپنی آمدنی بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے اور انکا تمام فوکس اسی پر ہے۔ مسلکی منافرت کو بڑھانے میں وہابیت کی شکل میں دنیا بھر میں انہوں نے بڑا سرمایہ خرچ کیا ہوا ہے۔ ان کی اس روش سے مسلکی انتشار میں اضافہ ضرور ہوا ہے، اس میں کوئی دہرائی نہیں ہے۔

آل سعود نے ہمیشہ قومی جذبات و مفادات کو دینی معاملات پر ترجیح دی ہے، اسی لئے دیگر مسلم ممالک میں کیا کچھ ہو رہا ہے اور مسلمانوں کیساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے، انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے، نہ انکا اس حوالے سے کبھی کوئی رائے یا بیان سامنے آیا ہے۔ اس عمل اور روش کے پیش نظر سعودی عرب کو مسلمانوں پر کوئی برتری یا مرکزی مقام حاصل نہیں ہے۔ آل سعود نے کبھی یہ بھی نہیں کہا ہے کہ ہم خلیفۃ المسلمین ہیں یا انہوں نے کبھی خلافت کو قائم کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کئے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ ملت اسلامیہ کو نقصان سے دوچار کیا ہے، لہذا انہیں کوئی مرکزیت حاصل نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر مسلمانوں کی تقدیر بدلتی نظر آرہی ہے، کیا اس بدلتے منظرنامے کو دیکھ کر آل سعود بھی ہوش کے ناخن لے گی یا پھر۔؟
ڈاکٹر تسلیم رحمانی:
دیکھیئے سعودی عرب میں جو حکومت ابھی ہے، وہ خود اندرونی خلفشاری کا شکار ہے۔ آل سعود کی یہ حکومت بہت دیر تک جاری رہے گی، اس کے آثار بہت کم دکھائی دے رہے ہیں۔ آپ نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایک بدلاؤ دکھائی دے رہا ہے، اس  بدلاؤ کا نتیجہ آل سعود کے لئے خوش آئند ہرگز نہیں ہوگا۔ آل سعود خاندان کے اندر جو تضاد و اختلاف پیدا ہوا ہے، اس کا آئندہ دیدنی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اگر عالمی سطح پر کوئی تبدیلی رونما ہوگی تو سعودی عرب کا اس میں کوئی رول دکھائی نہیں دیتا، تو تبدیلی کی جانب اس کی عدم توجہی اسے بہت بڑے نقصان سے ہمکنار کر دے گی۔
خبر کا کوڈ : 812853
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے