0
Wednesday 28 Aug 2019 08:40

خلافت و ملوکیت کے درمیان حد فاصل کھینچنے کیلئے بہترین کردار امام حسین (ع) اور کربلا ہے، مولانا غلام علی گلزار

خلافت و ملوکیت کے درمیان حد فاصل کھینچنے کیلئے بہترین کردار امام حسین (ع) اور کربلا ہے، مولانا غلام علی گلزار
مقبوضہ کشمیر کے مایہ ناز مفکر، سماجی کارکن اور قلمکار مولانا غلام علی گلزار فعلاً کشمیر طبیہ کالج سرینگر میں بحثیت پروفیسر مصروف ہیں، اسکے علاوہ مذکورہ ادارے سے شائع ہونیوالے جریدے علم و حکمت کے مُدیر بھی ہیں، ساتھ ہی ساتھ مجلس اتحاد ملت جو اسلامی انجمنوں و دانشوروں کا ایک فورم ہے، کے جوائنٹ سیکرٹری کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، غلام علی گلزار 1976ء تک انجمن تحفظ اسلام کے جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں، 1972ء سے 1976ء تک مسلم پرنسل لاء فورم کے سیکرٹری رہ چکے ہیں، اسکے علاوہ تنظیم المکاتب معاون کمیٹی کشمیر کے نگران سیکرٹری کے فرائض تقریباً 24 سال انجام دیئے، وہ تحریک مکاتب امامیہ اور تحریک نفاذ شریعت کے بانی بھی ہیں، مولانا غلام علی گلزار 90 سے زائد کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور انکی چند ایک کتب ابھی زیر طبع بھی ہیں، اسلام ٹائمز نے مفکر اسلام مولانا غلام علی گلزار سے محرم الحرام کی مناسبت پر ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)
 
اسلام ٹائمز: مسلم اکثریتی ممالک میں اسلامی حکومت کے تصور کے بارے میں آپ کیا نظریہ رکھتے ہیں؟
مولانا غلام علی گلزار:
دیکھئے رسول اکرم (ص) کی تعلیمات اور سیرت کا مطالعہ کرنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ جہاں کہیں بھی مسلم اکثریت ہو وہاں اسلامی حکومت قائم کی جانی چاہیئے۔ ایسے ممالک کے ذمہ داروں اور باشعور افراد چاہے ان کا تعلق مسلمانوں کے کسی بھی فرقے سے ہو کو چاہیئے کہ جب تک قرآن و سنت اور اجتہاد کے تناظر میں اسلامی حکومت وہاں قائم نہ ہو تب تک چین سے نہ بیٹھیں۔ لیکن جہاں مسلمانوں کی اکثریت نہ ہو وہاں تسلط اور زور و زبردستی سے اسلامی حکومت کو قائم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ خلافت راشدہ نے ایک عملی حکومت مسلمانوں کے سامنے رکھی تھی اس اسلامی حکومت کی بازیابی ہونی چاہیئے۔ بادشاہت اور ملوکیت کی اسلام اجازت نہیں دیتا بلکہ اسلام ایک منظم اور متحرک اسلامی حکومت کا خواہاں ہے۔ جس ملک میں مختلف مذاہب کے لوگ رہ رہے ہوں وہاں قرآن و سنت کے مطابق اور تمام مسالک کے حقوق کو ملک کے آئین میں جگہ دی جائے اور انکے پرسنل لاء کو انکے فقہ کے مطابق چلایا جائے، تو ایسے ممالک بھی اسلامی حکومت کے قیام سے بری نہیں ہوسکتے ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: کربلا کو مرکزی مقام حاصل ہے، کربلا تقدیر ساز ہے، اس حوالے سے آپ کیا کہنا چاہیں گے؟
مولانا غلام علی گلزار:
تقریباً دو دہائیوں سے ایسا ہو رہا ہے کہ واقعہ کربلا کو اختلاف کا شکار کیا جا رہا ہے۔ دو دہائیوں سے پہلے تمام مسلمان امام حسین (ع) کو حق اور یزید کو باطل سمجھتے تھے۔ کربلا مسلمانوں میں حق و باطل کا معیار تھا۔ دنیا میں انقلاب برپا کرنے کے لئے تمام مسلمانوں کے لئے کربلا مشعل راہ تھا، ہاں کوئی ماتم کرتا تھا تو کوئی ماتم نہیں کرتا تھا یہ ثانوی مسئلہ تھا، اگر کوئی شیعہ بھی ماتم و سینہ زنی نہیں کرتا ہم اسے بھی شیعہ ہی کہتے ہیں، کربلا باطل کے خلاف قیام کا زندہ واقعہ ہے۔ افسوس کہ ہم نے ایسے عظیم واقعہ کو بھی اختلاف کا ذریعہ قرار دیا۔ ہمیں آج کی تاریخ میں قرآن و سنت کی روشنی میں یزید کے خلاف امام حسین (ع) کا  قیام زیر بحث لانا چاہیئے۔ قیام امام حسین (ع) کیوں ہوا، امام حسین (ع) نے ظالم و جابر بادشاہ کے خلاف قیام کیوں کیا، امام حسین (ع) نے وقت کے ڈکٹیٹر کے خلاف کیسے قیام کیا اس کا جائزہ ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں لینا چاہیئے۔ امام حسین (ع) کا قیام قرآن و سنت میں ثابت ہے تو یہ چیزیں مسلمانوں کے تمام مسالک کے درمیان زیربحث لانا ہوگا۔ خلافت و ملوکیت کے درمیان حد فاصل کھینچنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے بہترین کردار امام حسین (ع) اور کربلا ہے۔ امام حسین (ع) حق پر تھے یا نہیں تھے یہ مسلمانوں کا جزوی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ امام حسین (ع) حق پر تھے اور حق کے علمبردار ہیں۔ یزید جیسے ظالم و جابر بادشاہ کو تحفظ فراہم کرنا ناقابل برداشت ہے۔ اگر ایسی باتیں ہورہی ہیں تو یہ سامراج اور طاغوت کی آواز ہے، جس کا جواب ہمیں سیمیناروں اور مذاکروں کے ذریعے دینا چاہیئے۔ جب تک یہ بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوگا مسلمانوں کے درمیان منافرت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
 
اسلام ٹائمز: رسول نازنین (ص) بھی مسلمانوں کی مشترکہ نعمت ہے، جس پر مسلمان متحد ہوکر آگے بڑھ سکتے ہیں، آپ اس حوالے سے کیا  کہنا چاہیں گے؟
مولانا غلام علی گلزار:
رسول اکرم (ص) کی ذات پر مسلمان متحد نہیں ہونگے تو کہاں ہونگے۔ رسول اللہ (ص) کی ذات پاک حقیقت میں مسلمان کے درمیان نکتہ اتحاد ہے۔ ہمیں لا الہ الا اللہ کے ساتھ ساتھ محمد رسول اللہ (ص) کی اہمیت سمجھنا چاہیئے۔ یہ کافی نہیں ہے کہ ہم صرف لا الہ الا اللہ بڑھیں اور سمجھیں لیکن محمد رسول اللہ (ص) کا عقیدہ نہ رکھیں۔ ہم اگر لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے رہیں، نعرے دیتے رہیں اور اللہ کی وحدانیت کا دم بھرتے رہیں، لیکن رسول اکرم (ص) کے نکتہ عشق اور نکتہ اتحاد پر جمع نہ ہوجائیں، تو ہمارا ایمان ناتمام ہے۔ حسان بن ثابت سے کہا کہ شاباش جو آپ نے میرے تعریف میں قصیدہ لکھا اور اسے انعام و اکرام سے نوازا، رسول اللہ (ص) کو اپنی تعریف کی ضرورت نہ تھی بلکہ رسول کی تعریف مقصود تھی۔ اللہ کا رسول ہونا اعزاز ہے اور یہ اللہ کے نمائندے کی تعریف تھی۔ اس لئے جب تک ہم لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ (ص) کا دل سے اعتراف نہ کریں اور اس پر ایمان نہ رکھیں ہمارا دین ادھورا ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اگر حضرت رسول اللہ (ص) کو نکتہ وحدت نہ مانیں تو کس کی طرف ہم رجوع کریں اور کون ہے جسے ہم نکتہ وحدت قرار دیں۔ آج المیہ یہ ہے کہ ہم نے حیات النبی (ص) پر بھی بےجا بحثیں شروع کی ہوئی ہیں۔ کیسے ہم اپنی عظیم میراث کو بھی تضاد کا شکار بناتے ہیں، جو چیز ہمیں متحد کرنے کے لئے آئی ہے ہم نے اس سے بھی اختلاف کیا۔ آج کچھ مسلمان حیات کا ایک معنی لیتے ہیں، تو دوسرے مسلمان حیات کا دوسرا معنی لیتے ہیں اور آپ میں لڑتے ہیں۔ تو علماء کو ایک جگہ جمع ہوکر اور یہ جذیات پر ہو رہی جنگ کا خاتمہ کرنا چاہیئے۔ کیوں مسلمانوں میں اس قدر توھمات اور خرافات پیدا ہوگئے ہیں، علماء کرام ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنا چاہیئے اور عوام کے سامنے ایک واضح راہ و روش ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
 
اسلام ٹائمز: خرافات کی آپ نے بات کی، مسلمانوں میں ایک طرف شدت پسندی اور دوسری طرف خرافات نے جنم لیا ہے، اس پر کیا تشویش ہے؟
مولانا غلام علی گلزار:
مسلمانوں میں ہی دو طرح کے لوگ پیدا ہوگئے ہیں۔ ایک وہ ہے جو قبرستان اور آستانوں کو بم و بارود سے اڑا ہی دیتا ہے، دوسرا وہ ہے جو  قبروں کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ اسلام نے دونوں کی نفی کی ہے۔ اسلام دین اعتدال ہے۔ ان مقدس مقامات کا بھی ایک اپنا احترام ہوتا ہے۔ ایک حدیث ہے کہ اگر کسی کی جان کنی میں سختی ہو تو اسے اس جگہ لے جاؤ جہاں وہ نمازیں اور قرآن پڑھتا آیا ہو، اس عمل سے اسکی جان کنی کی حالت میں آسانی آ جاتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی کوئی مرد مومن، اولیاء اللہ، امام یا نبی آرام فرما رہا ہو، وہاں لوگ جاکر نمازیں اور درود و اذکار پڑھتے ہیں تو اس جگہ کی فضیلت ہوگی۔ اس مقام کو داعش یا دیگر شدت ہسند عناصر کے نظریئے کے تحت بم سے اڑانا سراسر غلط ہے۔ ان مقامات کو ہزاروں بار ڈھایا جائے پھر تعمیر ہونگے، اس شدت پسندی سے وہ ختم نہیں ہونگے۔ لوگوں کو بتانے کی ضرورت ہے کہ شریعت اور قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں کس چیز کا مصرف کیا ہے۔ میں مسلمانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ دعائے جوشن کبیر پڑھیں اور پھر اللہ کی وحدانیت کے جلوے دیکھیں۔ کیوں اہلبیت (ع) کی دعاؤں کو جو دعائیں اللہ کی وحدانیت کی طرف لے جاتی ہیں فقط شیعوں کے حوالے کئے گئے ہیں۔ کیوں مسلمانوں کے تمام فرقے اس عظیم سرمایے سے استفادہ نہیں کرتے۔ اگر خلافت پر بحث ہے کیا اس پر بھی بحث ہے کہ ’’انا مدینۃ العلم و علی بابھا‘‘۔ کیوں اس علم سے استفادہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ کیوں اس علم سے جس میں سائنس، ٹیکنالوجی، ترقی اور پیشرفت ہے ایک خاص طبقے تک محدود سمجھا جا رہا ہے۔ امام جعفر صادق (ع) نے جو فقہ پیش کیا۔ تمام مسلمان اس فقہ کو نہ مانیں بلکہ مسلمان امام ابو حنیفہ (رہ) کے فقہ کو مانیں، یہ لڑائی نہیں ہے، لیکن اگر آپ ان علوم کو نہیں مانتے ہیں، جو حضرت محمد اکرم (ص) نے حضرت علی (ع) کو منتقل کئے تو آپ ایک بڑی چیز سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اگر خلافت پر بات نہیں کرنی ہے تو باب العلم کو کیوں نظر انداز کیا جائے گا۔ دعائے کمیل، دعائے جوشن کبیر اور دعائے مشلول سے مسلمان کیوں خود کو بےخبر رکھیں گے۔ صحیفہ سجادیہ سے مسلمان استفادہ کریں، ان علوم کے خزانوں سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ہے۔
 
اسلام ٹائمز: کیا عالمی سطح پر مسلمان ایک دوسرے کے قریب آتے جا رہے ہیں، یا تناؤ اور منافرت مزید بڑھتی جا رہی ہے؟
مولانا غلام علی گلزار:
دیکھئے ایک مثال سے اس بات کی وضاحت کروں گا کہ رسول اللہ (ص) نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں ساتھ ساتھ بھی پڑھی ہیں اور الگ الگ بھی پڑھی ہیں۔ تو اسلام اس قدر تنگ و محدود نہیں ہے، جتنا ہم نے سمجھا ہے۔ آج اگر کوئی شیعہ بھی ظہر و عصر یا مغرب و عشاء کو الگ الگ اوقات میں انجام دیتا ہے تو لوگ اسے کہتے ہیں کہ سُنی ہوگیا ہے، یہ ایک المیہ ہے۔ کیا رسول اللہ (ص) نے دونوں طریقے ہمارے سامنے نہیں رکھے۔ امت کی سہولت کے لئے آپ (ص) نے دونوں کام کئے۔ کیوں ہم نہ اس چیز کو بھی مسلک بنایا۔ ایک ساتھ پڑھنے والوں کا الگ مسلک اور دو اوقات میں پڑھنے والوں کا الگ مسلک۔ آخر یہ کیا ہو رہا ہے۔ اس قسم کی سوچ اب زیادہ پنپتی دکھائی دیتی ہے۔ پہلے لوگ خود مقامی سطح پر چندہ کر کے کچی مساجد تعمیر کرتے تھے، لیکن وحدت و ملنساری اور باہمی روابط کا خاص خیال رکھتے تھے، اب مساجد کے لئے بڑے ادارے اور ممالک فنڈنگ کرتے ہیں اور شاندار مساجد تعمیر ہوتی ہیں لیکن گروہ بندی اور فرقہ پرستی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ پہلے لوگ اللہ، رسول (ص) سے ڈرتے تھے اور اللہ و رسول (ص) کی خوشنودی ملحوظ نظر رکھتے تھے، اسلام کو اہمیت حاصل تھی۔ آج اس خلوص کو مراعات اور مفادات نے ختم کیا ہے۔ آج راتوں رات مساجد تعمیر ہوتی ہیں لیکن کسی خاص مقصد و ہدف کے تحت، وہاں نفرتیں پھیلائی جاتی ہیں، فرقہ واریت کی تبلیغ ہوتی ہے۔ یہ تفرقہ کا کام بڑے ممالک کی پشت پناہی سے ہو رہا ہے، اس میں بڑی طاقتیں اور ایجنسیاں شامل ہیں ورنہ عوامی سطح پر تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ عام لوگ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ لوگوں کے درمیان جو ڈر پایا جا رہا ہے اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مساجد کو اسلام کے لئے مورچوں کی حیثیت حاصل ہے۔ مساجد اتحاد کی جگہ ہے تفرقہ کی نہیں۔ ہمیں مساجد کی روح کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مساجد کا آئین قرآن و سنت کے مطابق ہونا چاہیئے۔
 
اسلام ٹائمز: مسلمانوں کے مقتدر علماء کرام نے آج تک وحدت اسلامی کے حوالے سے کیا کاوشیں سرانجام دی ہیں؟
مولانا غلام علی گلزار:
اتحاد اسلامی کے لئے ہمیشہ کوششیں ہوئی ہیں، بھی زیادہ تو کبھی کم، کبھی واضح طور پر اتحاد کے لئے کوششیں کی گئی ہیں تو کبھی پنہاں طریقے سے۔ ہوا یہ کہ جب جب ملوکیت و بادشاہت کو کرسی ہاتھ آئی تو انہوں نے علماء کو خریدنا چاہا ہے، اب جہاں کربلائی کردار موجود تھا وہاں ملوکیت و بادشاہت کے خلاف مقاومت کی گئی اور جہاں کربلائی کردار نہ تھا وہاں قدر آسانی سے بادشاہت اور ملوکیت کو قبول کیا گیا یا انکی آلہ کار کی گئی۔ کسی دوسرے معاشرے کے مقابل میں کربلائی معاشرے میں بادشاہت کے خلاف نفرت اصولی طور پر موجود ہوتی ہے، اس لئے کربلائی معاشرے میں بادشاہت کی آلہ کاری کم دیکھی جاسکتی ہے، اگرچہ اس معاشرے میں بادشاہت و ملوکیت کی آلہ کاری بالکل بھی نہیں ہونی چاہیئے، علماء کو مرنا چاہیئے تھا لیکن بادشاہت و ملوکیت کو تسلیم نہیں کرنا چاہیئے تھا اور ایسا ہوا بھی کہ بعض مقامات پر علماء اٹھے اور انہوں نے ذاتی مفادات اور مراعات کو ٹھکرا کر شہید ہونا پسند کیا۔ انہوں نے معاشرے کو خرافات سے بچایا اور دین کی دعوت دیتے رہے۔ وحدت امت کے لئے بارہا کوششیں ہو رہی ہیں اور علماء تشیع و علماء تسنن نے اس کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ کیا امام اسخلانی، علامہ جلال الدین سیوطی، حضرت عبید اللہ امرتسری، علامہ مودودی جیسے علماء تسنن نے وحدت امت اور اہلبیت (ع) کے علوم اور مقام کو دوبارہ زندہ نہیں کیا، جبکہ وہ مٹایا جا چکا تھا۔ آج انٹرنیٹ کا زمانہ ہے آج مسلمان اس چیز کو زیادہ اچھے طریقے سے انجام دے سکتے ہیں، آج مسلمان زیادہ نزدیک آ سکتے ہیں، لیکن اسلام کی تبلیغ کا جذبہ ہونا چاہیئے، خلوص ہونا چاہیئے اور ڈر ہرگز نہیں ہونا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 812854
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب