1
Wednesday 28 Aug 2019 08:34

دشمن نے عمران خان کی کمزور شخصیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو زچ کر دیا ہے، برجیس طاہر

دشمن نے عمران خان کی کمزور شخصیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو زچ کر دیا ہے، برجیس طاہر
اپوزیشن رہنماء اور مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی چوہدری برجیس طاہر 1949ء میں پیدا ہوئے، پنجاب یونیورسٹی لاہور سے لاء اور سیاسیات میں ماسٹر کیا۔ 1990ء، 93ء اور 97ء میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے، مشرف کے مارشل لاء میں گرفتار ہوئے، پھر 2008ء میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے، 2013ء میں الیکشن جیت کر اسمبلی کے رکن بنے اور کشمیر و شمالی علاقہ جات کے وزیر بنے، 2015ء میں کشمیر افیئرز کے وزیر اور گلگت بلتستان کے گورنر مقرر ہوئے، 2018ء میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال، عالمی طاقتوں کے جھکاؤ، حکومتی لائحہ عمل اور اسکے متعلق اپوزیشن کے تحفظات سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: وزیراعظم نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آدھ گھنٹہ روزانہ دفتروں سے نکل کر کھڑے ہونے کی اپیل کی ہے، کیا اپوزیشن ساتھ دیگی؟
برجیس طاہر:
وزیراعظم شاید اس سے آگاہ نہیں ہیں کہ لوگ روزانہ کی بنیاد پہ احتجاج کر رہے ہیں، سب سے زیادہ اپوزیشن کے لوگ ہی ہیں جو کشمیر پہ آواز بلند کر رہے ہیں، ہمیں وزیراعظم کی باتوں، بیانات اور بیرون ملک رابطوں کے حوالے سے کوئی کامیابی نظر نہیں آئی، یہ افسوسناک ہے، وہ مودی کی سیاست ہی نہیں سمجھتے، وہ کیا بات کرینگے، جس شخص نے یہ کہا ہو کہ مودی کی حکومت آئے گی تو مسئلہ کشمیر کے حل کے امکانات بڑھ جائیںگے، ان سے دہشت گردی کے معاملے پر بات کر کے ان کو مطمئن کرینگے، وہ کشمیر کیلئے کس طرح کی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہونگے، یہ یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، جہاں بات کرنا تھی، جہاں احتجاج کرنا چاہیئے تھا، وہاں وہ کچھ بھی نہیں کر سکے۔

انکے تو بڑے دعوے تھے کہ دنیا کے بادشاہ انکے ساتھ رابطے میں ہیں اور اپوزیشن کے گرفتار رہنماؤں کیلئے این آر او کی سفارش کر رہے ہیں، کیا وہ ان کے دوست بادشاہ انکی سن رہے ہیں؟، نہیں سن رہے، وہ تو کہہ رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، یو اے ای نے مودی کو اعلٰی ایوارڈ دیا ہے، ویسے بھی جس شخص کی ملک میں کوئی ساکھ نہیں، جو خود الیکٹیڈ نہیں ہے، دنیا اس کی کیا بات سنے گی، انہوں نے حکومت میں آنے سے پہلے کیا وعدے کئے تھے، انکا کیا ہوا، سب جھوٹ ثابت ہوا، دنیا یہ سب جانتے ہوئے کیسے انکی بات سنے گی، میرے خیال میں صرف انکی اپنی پارٹی فوٹو سیشن کرے گی اور سوشل میڈیا پہ چڑھا دیگی، اور انہوں نے کچھ نہیں کرنا، اپوزیشن کا اسی لئے الگ لائحہ عمل ہے۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم نے کشمیر کا سفیر بن
کر آخری قطرے تک لڑنے کا اعلان کیا ہے، اس سے بڑھ کر کس طرح وہ اپنے عزم کا اظہار کریں؟
برجیس طاہر:
گذارش یہ ہے کہ پاکستان کا شاید ہی کوئی بچہ، عورت مرد یا بزرگ ایسا ہو جسکی کشمیر کاز کے حوالے سے کمٹمنٹ نہ ہو، پہلے وزیراعظم یہ بتائیں کہ انہوں نے امریکہ سے واپسی پر کیوں کہا کہ میں ایک معرکہ فتح کر کے آیا ہوں، حالانکہ بالکل پاکستانی پالیسی اور موقف کیخلاف واقعہ ہو رہا ہے، انہوں نے اس پر کسی افسوس کا اظہار نہیں کیا، بلکہ ابھی تک امریکی صدر کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں اور انہیں افغانستان میں مدد کرنے کی یقین دہانیاں کروا رہے ہیں، اسکا جواب دیں، قوم فکر مند ہے، کیا عمران خان نے یہ ثالثی طے کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو چند گھنٹوں میں بھارت کا حصہ قرار دیدیا گیا، دوسرا سوال یہ ہے کہ عمران خان بتائیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ابھی ٹرمپ نے اپنا کردار ادا نہیں کیا اور آگے جا کر انہوں ثالثی اور مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق اپنا کردار ادا کرنا ہے، وہ کیا ہے، وہ کہاں طے ہوا ہے، وہ مودی حکومت کے اس اقدام کے علاوہ کیا ہے؟ کچھ تو بتائیں۔

ٹرمپ تو کہہ رہے ہیں کہ مودی نے کہہ دیا ہے پریشانی والی کوئی بات نہیں پاک بھارت اپنے ایشوز خود حل کر لیں گے، حالانکہ پاکستان کا موقف اور حقیقت یہ ہے کہ کشمیر بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، اگر انہوں نے ٹرمپ کی ملاقات کے بعد اسے اپنی فتح قرار دیا تھا تو آج صدر ٹرمپ سے بات کیوں نہیں کرتے کہ وہ منحرف ہو رہے ہیں، مودی کی کامیابی کیلئے خان صاحب نے نیک خواہشات کا اظہار کیوں کیا تھا، حالانکہ مودی کے منشور میں تھا کہ وہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرینگے، کیا عمران خان نے قوم سے جو مطالبہ کیا ہے، ان کے پاس ان سوالوں کے جواب ہیں، نہیں ہیں، انکا موقف ہر روز بدل رہا ہے، یہ ملک کیلئے اچھا شگون نہیں۔ مجھے شک ہے کہ اگر فوج بھارت کیخلاف جنگ لڑتی ہے تو عمران خان یوٹرن لے لینگے، یہ ملک اور قوم کو دھوکا دے رہے ہیں، یہ کسی بھی حالت میں ملک سے بے وفائی کر سکتے ہیں۔

قوم کشمیر کاز کیساتھ کھڑی ہے، شہ رگ تو پوری قوم کی ہے، کسی ایک جماعت کی نہیں، لیکن حکومت سے سوال ضرور پوچھیں گے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کسی ملک کی قیادت کو زیب دیتا ہے کہ وہ کشمیر جیسے حساس ایشو پہ دوسری جماعتوں بالخصوص اپوزیشن جماعتوں سے اسپورٹ جلسوں میں مانگے، سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد یہ ہمارے لئے بڑا سانحہ تھا کیا عمران خان کو اکھٹے بیٹھا کر اجتماعی اپروچ لیکر آگے بڑھیں، ابھی
اپنی ٹی وی کی تقریر سے پہلے انہوں آدھا گھنٹا اپوزیشن کیخلاف سخت طعنہ زنی کی ہے، مذاق اڑایا ہے، وہ بھی ایک تعلیمی ادارے میں، یہ انکی سنجیدگی کا حال ہے، قوم پر اندرون ملک اور بیرون ملک دونوں طرف سے مصیبتیں نازل ہو رہی ہیں، ہمیں ہوش میں آنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: یہ مسئلہ آج کا تو ہے نہیں، گذشتہ دہائیوں میں اگر حکومتوں نے سنجیدگی سے اپنی ذمہ داری نبھائی ہوتی تو آج جس ظلم کا کشمیری شکار ہیں، نہ ہوتے، کیا یہ درست نہیں کہ سابق حکومتوں نے ذاتی مفادات کی خاطر بھارت سے دوستی پینگیں بڑھائیں؟
برجیس طاہر:
یہ ایک بےبنیاد بات ہے، موجودہ حکومت نے اپنی نااہلی اور بے وقوفی سے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں نہ ماضی کا پتہ ہے اور مستقبل کی کوئی خبر ہے، انہیں ابھی جو کچھ ہو رہا ہے اسکی اہمیت کا اندازہ نہیں، کشمیر ستر سالہ پرانا مسئلہ ہے، کسی حکومت نے اتنی غیر ذمہ داری سے کام نہیں لیا جو انہوں نے کیا ہے، پہلے بھی مذاکرات ہوئے ہیں، لڑائیاں ہوئی ہیں، لیکن ایسی صورتحال پیدا ہی نہیں دی گئی، شاید بھارت اس انتظار میں تھا کہ عمران خان جیسا بے وقوف حکمران پاکستان میں مسند اقتدار سنبھالے اور وہ پوری دنیا کو پس بشت ڈال کر یہ اقدام کریں، جس طرح عمران خان نے مودی حکومت کیلئے اپنا اندازہ بیان کیا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو مودی ایک غیر روایتی حکمران ہونے کے ناطے کشمیر پہ بات کرینگے اور مسئلہ حل ہو جائیگا۔

اسی طرح بھارتی سکیورٹی ادارے، بیوروکریسی، ایجنسیاں اور شاطر آر ایس ایس بھی یہ اندازے لگا رہے تھے کہ عمران خان کیسا بے وقوف لیڈر ہے، ساتھ وہ منتخب نمائندہ بھی نہیں، یہ چال چلنے کا موقع عمران خان کی وجہ سے ملا ہے، یہ حقیقت ہم جتنا جلدی سمجھ جائیں گے، پاکستان اتنی جلدی مسائل کی دلدل سے نکل آئیگا۔ ہمیں ملکی اداروں پر بھروسہ ہے، لیکن دشمن چالاک اور شاطر ہے، کس قدر ہوشیار ہے اسکا اندازہ عمران خان کو نہیں۔ آج بھی انہیں اسکا ہوش نہیں، وہ صرف الزامات لگا رہے ہیں، جب وہ ایک زبان سے اپوزیشن اور پاکستان کو کرپٹ ملک ثابت کر رہے ہوتے ہیں تو اسی زبان سے جب دنیا کو یہ کہتے ہیں کہ میں کشمیریوں کا سفیر ہوں تو یہ بھارتی اقدامات کو تقویت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ اگر پچھلی حکومتوں یا حکمرانوں کے تعلقات تھے بھارتی حکمرانوں سے تو ایسا کبھی نہیں ہوا۔

اب تک نہ بھارت کو جرات ہوئی کہ وہ کشمیر کی حیثیت پر بات کریں، انگلی تک اٹھائیں، یہ یکایک عمران خان کے آنے سے ہوا ہے۔ ہر حکومت نے امن کی بات کی ہے، کشمیریوں
کی حمایت کی ہے، کشمیر کو فلیش پوائنٹ قرار دیا ہے، جدوجہد آزادی کیخلاف بھارتی الزامات کا جواب دیا ہے، کشمیری مجاہدین کا دفاع کیا ہے، آزادی کی جنگ کو دہشت گردی کا لیبل نہیں لگانے دیا، دنیا کی پابندیوں اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے ہیں، کشمیر کے جہاد کی حمایت کی ہے، پاکستان کی گلی گلی میں جہاد کشمیر کا پرچم بلند رہا ہے، یہ عمران خان ہے جنہوں نے اپنے زعم میں عالمی لیڈر بننے کیلئے کشمیر کو جہنم میں دھکیل دیا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا موجودہ صورتحال سے زیادہ کبھی پاکستان کو یکجہتی اور اتحاد کی ضرورت تھی، الزامات کے جواب میں الزامات کی بجائے قومی یکجہتی کے اظہار کیلئے اپنی توانائی صرف نہیں ہونی چاہیئے؟
برجیس طاہر:
پاکستان کو تو پہلے بھی اتحاد کی ضرورت تھی، اب بھی ہے، کوئی ملک بھی قومی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، بات ہو رہی ہے کہ عمران خان کی نیت ٹھیک ہوتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا، یہ شہرت اور مقبولیت کی خاطر اپنے آپ کو نوبل انعام کا حقدار بنانا چاہتے تھے، کشمیر پاکستان کا ہے، لیکن عمران خان نے بھارت کی گود میں ڈال دیا ہے، اب پاکستانی قوم کو بےبہا قربانیاں دینا پڑیں گی، کشمیر میں خون کی ندیاں بہیں گی، عمران خان کو نہ اپنی عزت کا خیال ہے نہ ملکی وقار کا، انکا کام صرف دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا ہے، دشمن نے عمران خان کی کمزور شخصیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو زچ کر دیا ہے۔ پاکستانی قوم کیلئے مودی سے بڑا چیلنج عمران خان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ کیا ایسے شخص کی موجودگی میں قومی اتحاد ممکن ہے، جو نہ صرف غیرسنجیدہ ہے بلکہ قیادت کی ابجد سے بھی نابلد ہے۔

نہ اسکی اپنی پارٹی میں اتحاد ہے، خود ایک کم ظرف آدمی ہے، جنہوں نے حزب مخالف کی خواتین تک کو نہیں بخشا، جو شخص اپنی کارکردگی یہ بتاتا ہے کہ میں نے سب سیاسی مخالفین کو جیل میں بند کر دیا ہے، جسکا ویژن یہ ہے کہ کسی سیاسی قوت کو میدان میں نہیں رہنا چاہیئے، جسکی حکمت عملی صبح شام یوٹرن لینا ہو، بھلا دنیا کسیے ایسے شخص کی بات پہ یقین کریگی، جسکی سیاست انتقام ہو، جسکی نہ کوئی پالیسی ہے نہ سوچ۔ جو ہر تقریر میں یہ کہے کہ مجھے کہتے تھے کہ میں وزیراعظم نہیں بن سکتا، دیکھو میں وزارت عظمٰی تک پہنچ گیا ہوں، اقتدار حاصل کرنے کے بعد پوری دنیا میں نام کمانے کی خواہش نے عمران خان کو حواس باختہ کر دیا ہے، جسکا خمیازہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پسنے والے پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں۔

ابھی
پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے امریکہ کو جس تعاون کا پابند بنایا گیا ہے، اسکی باری نہیں آئی، جوں جوں وقت گذرتا جائیگا، ہوش رُبا واقعات رونماء ہونگے۔ یہ کوئی الزام نہیں حقائق ہیں، جنکا ہمیں سامنا ہے، عمران خان کی اناہلی اور بے وقوفی ایک کھلی حقیقت کے طور پر ثابت ہو چکی ہے، جس سے دشمن فائدہ اٹھا رہا ہے اور پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے۔ ایک سال میں موجودہ حکومت کی پالسییوں سے صرف عالمی اداروں اور طاقتوں نے فوائد حاصل کئے ہیں، پاکستان کو امریکہ کی باج گذار ریاست بنا دیا گیا ہے، اصل حکومت آئی ایم ایف کی ہے، پاکستان کے عوام کی قسمت کے فیصلوں کا اختیار غیر ملکی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے۔ پاکستان کے عوام کو خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیئے۔

عمران خان کا کشمیریون کیساتھ یکجہتی کیلئے باہر نکلنے کا اعلان صرف اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کیلئے ہے، عمران خان اور مودی دونوں کیخلاف آواز بلند کرنیکی ضرورت ہے۔ تبھی کشمیر بچ سکتا ہے، ورنہ سانحہ مشرقی پاکستان دہرایا جائیگا، دوسرا نیازی غداری میں کامیاب ہو جائیگا۔ آج پاکستان کو سارا کام زیرو سے شروع کرنا پڑ رہا ہے، پچھلی حکومتوں، پاک فوج، مجاہدین اور کشمیریوں نے جو قربانیاں دیں وہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے، پہلے اسکا کبھی احتمال نہیں رہا۔ بھارت میں تجارت کے طعنے دینا آسان ہے، ملک کی خارجہ پالیسی اور قومی مفاد کو محفوظ بنانا مشکل ہے۔

اسلام ٹائمز: آرمی چیف سمیت تمام مقتدر حلقے حکومت کی تائید کر رہے ہیں، پی ٹی آئی میں بھی کوئی واضح تقسیم نہیں، کیا یہ تلخی اپوزیشن قیادت کیخلاف مقدمات کا نتیجہ نہیں؟
برجیس طاہر:
یہ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ جو لوگ عمران خان کو لائے ہیں وہ اب مایوس ہو چکے ہیں، یہ بدلتے حالات ہیں، جو ایک کے بعد ایک نازک مرحلے پہ لا کھڑا کرتے ہیں، جس سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو توقف کرنا پڑتا ہے، یہ کوئی معمولی صورتحال نہیں، لیکن ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کی تاریخ یہ ثابت کریگی کہ عمران خان کی سلیکشن ایک فاش غلطی تھی۔ جہاں تک پی ٹی آئی کی بات ہے، صرف وزیراعظم ہاؤس میں ہی کئی گروپ ہیں، جنکے درمیان اقتدار کی جنگ ہر وقت جاری رہتی ہے، سب عمران خان کو بے وقوف بنا رہے ہیں، ایک طرف عالمی اداروں سے منسلک ٹیکنو کریٹس ہیں، اور دوسری طرف مشرف کی ٹیم میں کام کرنے والے امریکی پھٹو ہیں، مجھے یقین ہے کہ ملکی اداروں کو بیرونی سے زیادہ اندرونی طور پر مشکلات کا سامنا ہے۔

اسکی وجہ صرف عمران خان کی لاابالی طبیعت اور انکی سلیکشن کا غلط فیصلہ
ہے۔ عمران خان کیوجہ سے پاکستان کا بڑا نقصان یہ ہوگا کہ لوگوں کا سیاست اور سیاستدانوں سے اعتماد ختم ہو جائیگا اور پاکستان ایک انتظامی اسٹیٹ بن جائیگا، حالانکہ پاکستان عوامی جدوجہد سے قائم ہوا ہے اور اسے عوامی ریاست ہونا چاہیئے۔ سب سے بڑا نقصان جمہوریت کا ہو رہا ہے، جسکی وجہ سے ملکی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، یہ ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ موجودہ حکومت کو بےنقاب کرے، اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اس میں کسی کو شک ہے تو جلد ہی اسے ختم کر لیں کہ مودی نے موجودہ اقدامات سے پہلے ٹرمپ، برطانیہ اور فرانس سب سے بات کر لی تھی، لیکن اس دوران ہماری غفلت کی وجہ سے وہ کامیاب رہا، ابھی بھی وقت ہے کہ عمران خان پر بھروسہ نہ کریں، ملک بھی بچائیں اور کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ بھی ختم کروائیں۔

پاکستان اب بھی اس ریس میں پیچھے ہے، مودی نے باقی اتحادیوں سے بھی بات کی ہوگی، ورنہ انہوں نے ڈالر ہمیں دیئے اور تمغے مودی کو کیوں پہنانے تھے، یہ سب باتیں مقتدر حلقوں کو بھی معلوم ہونگی، وہ اپنی چارہ جوئی کر رہے ہونگے، لیکن ابھی وقت ایسا ہے کہ پاکستان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑ رہا ہے، بصورت دیگر اگر سب کچھ عمران خان کے ہاتھ میں ہوتا تو ہم بہت کچھ گنوا چکے ہوتے۔ مودی اور ٹرمپ کی رفتار بہت تیز ہے، انکا مقابلہ کرنیکے لئے حکمت عملی بدلنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں کہ جب تک عمران خان اقتدار میں موجود ہے۔ بظاہر ہم نے بھارتی طیارے گرا لئے، لیکن موجودہ بھارتی اقدام سے مودی بہت آگے نکل رہا ہے، اس کے لئے کاؤنٹر اسٹراٹیجی کہیں نظر نہیں آ رہی۔

نہ ہی کسی کو سمجھ آ رہا ہے کہ آگے کیا کریں، یہ ہمارا موقف ہے، جس پر توجہ نہیں دی جا رہی، نہ ہی سلیکٹڈ حکمران کسی کی بات سننے کیلئے تیار ہیں۔ دورہ امریکہ کے دوران ٹرمپ نے عمران خان کو نشے کی ایسی گولی دی ہے کہ وہ ابھی ہوش سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں، ٹرمپ کی فیملی کیساتھ فوٹو سیشن کو کامیابی اور فتح قرار دیکر وہ کشمیر کو بھول گئے، انہوں نے جشن منایا اور کشمیریوں کے زخموں پہ نمک چھڑکا، سب سے بڑا دھوکا کشمیریوں کیساتھ ہوا ہے، جو پاکستانی پرچم کا کفن بنا کر بھارت ظلم و بربریت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہم یہ بھول رہے ہیں کہ جنگی جہاز اور عسکری مہارت سیاسی قیادت کے فقدان کا نعم البدل نہیں ہیں۔ اس سیٹ اپ کیوجہ سے ملک کو پہنچنے والے نقصان سے چشم پوشی کا پاکستان متحمل نہیں، لوگوں کو شعور دینے اور گھروں سے نکالنے کی ضرورت ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 813028
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب