0
Thursday 29 Aug 2019 12:45

فلسطین کے حوالے سے بھارت کی پالیسی شک و شبہات کا شکار ہوکر رہ گئی ہے، مولانا مقصود الحسن قاسمی

فلسطین کے حوالے سے بھارت کی پالیسی شک و شبہات کا شکار ہوکر رہ گئی ہے، مولانا مقصود الحسن قاسمی
مولانا مقصود الحسن قاسمی کا تعلق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے ہے، آپ 12 سال سے امام کونسل آف انڈیا کے صدر ہیں، امام کونسل آف انڈیا کے ساتھ کشمیر، اترانچل، دہلی، اترپردیش، ممبئی سمیت بھارت کی مختلف ریاستوں کے جید علماء کرام و مفتی عظام جڑے ہوئے ہیں، امام کونسل آف انڈیا کا قیام بھارت میں فعال علماء کرام کے درمیان ہم آہنگی اور ہم آواز بنانے کے لئے عمل میں لایا گیا ہے۔ مسلم نوجوانوں میں دینی تعلیم و ماڈرن ایجوکیشن کے لئے امام کونسل آف انڈیا کا اہم رول ہے، مولانا مقصود الحسن قاسمی اوکھلا نئی دہلی میں امام جمعہ والجماعت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں، موصوف نئی دہلی اور اس کے اطراف میں اہم دینی امور اور اتحاد و اتفاق بین المسلمین کے حوالے سے بہت ہی فعال ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، اسلام ٹائمز نے مولانا مقصود الحسن قاسمی سے نئی دہلی میں ملاقات کے دوران ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ) 
 
اسلام ٹائمز: وحدت اسلامی کے حوالے سے بھارت میں کیا صورتحال ہے اور آپ کی اس حوالے سے کیا فعالیت ہے۔؟
مولانا مقصود الحسن قاسمی:
کلمہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کی وحدت اشد ضروری ہے۔ آج نہ صرف بھارت میں بلکہ عالمی سطح پر کچھ اسلام دشمن قوتوں نے حقیقی اسلام کو مسخ کیا ہوا ہے اور مسلمانوں کو دہشتگرد کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ دشمن کی تمام تر سازشیں ناکام بنانے کے لئے بھی وحدت کی اشد ضرورت ہے۔ تکفیری عناصر کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی اتحاد کی ضرورت ہے۔ باہمی روابط مسلمانوں کے لئے بہت اہم ہیں۔ باہمی گفت و شنید سے ہی مسلمانوں کے تمام فرقوں کے درمیان اتحاد قائم ہوسکتا ہے۔ یہاں تو ہم صرف مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی ہی بات نہیں کرتے بلکہ اگر ہندو اور مسلمان بھی اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہوتے ہیں تو ان کے لئے اس میں خیر ہی خیر ہے۔ ہم تمام مسالک و مذاہب کے درمیان اتحاد، امن اور امان کی بات کرتے ہیں۔ ہم تمام مسالک و مذاہب کو اچھائیوں کی جانب دعوت دینے کے لئے اتحاد کی بات کرتے ہیں۔ ہم نے اس حوالے سے مختلف افراد اور مختلف مذاہب کے سربراہان سے ملاقاتیں اور مذاکرے جاری رکھے۔ اور بھی دیگر دینی مدارس ہیں جن کی معاونت سے ہم یہ مشترکہ کام انجام دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو متحد کرنے کا کام ہم نے مساجد سے  شروع کیا ہے۔
 
اسلام ٹائمز: سالہا سال تک وحدت اسلامی کے حوالے سے کوششیں ہوئی ہیں اس کے کیا مثبت اثرات یہاں مرتب ہوئے ہیں۔؟
مولانا مقصود الحسن قاسمی:
دیکھیئے برسوں سے یہاں اتحاد کے لئے کوششیں ہورہی ہیں اور ان کوششوں کے نمایاں اثرات ابھی تک مرتب ہوئے ہیں، لیکن کبھی کبھی ایک پانی کے بڑے ٹب میں گندگی کی ایک بوند اسے خراب کر دیتی ہے۔ تو اگر ایک طرف دین اسلام کے دردمند حضرات وحدت کے حوالے سے کوششیں کررہے ہیں تو دوسری طرف بعض شرپسند عناصر تفرقے کی آگ بھڑکانے سے باز نہیں آتے۔ یہ عناصر ہمیشہ تفرقہ و تضاد کے درپے رہتے ہیں۔ یہ عناصر نئے ناموں اور نئے عناوین سے تفرقے کو ہوا دیتے  ہیں۔ ایسے میں ہمارے ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہیں ہمیں لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیئے۔ دراصل اسلام دشمن طاقتیں یا صہیونی عناصر مسلمانوں کو ہی آلہ کار بنا کر مسلمانوں کے خلاف اکساتے ہیں۔ ان کی تمام تر توانائی مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ ہماری ایک کوشش یہ بھی ہے کہ دشمن کی سازشوں اور منصوبوں سے مسلمانوں کو خبردار کیا جائے۔ انہیں دوست اور دشمن کی شناخت کرائی جائے۔ ہماری کوشش رہتی ہے کہ مسلمان ایک چھوٹی سی افواہ پر جذباتی نہ ہوجائیں بلکہ ہمیشہ حقیقت کے متلاشی ہوجائیں۔ ابھی حال ہی میں شیعہ وقف بورڈ کے نام نہاد چیئرمین وسیم رضوی نے بابری مسجد کو لیکر مسلمانوں میں تفرقہ ایجاد کرنے کا سازش رچائی تھی لیکن ہم نے اسے بروقت ناکام بنایا۔ غرض یہ کہ ہر معاشرے میں ہمیں ایسی مہم چلانی چاہیئے جس کے نتیجے میں دشمن کی تمام سازشیں خاک میں مل جائیں۔ ان کوششوں کے لئے اخلاص اولین ضرورت ہے۔
 
اسلام ٹائمز: کیا آپ ایسا محسوس نہیں کررہے ہیں کہ یہاں مسلم قیادت کے بیانات صرف اپنے ذاتی مفادات تک محدود ہوتے ہیں اور اخلاص جس کا آپ نے ذکر کیا دور دور تک نہیں ہے۔؟
مولانا مقصود الحسن قاسمی:
دیکھیئے یہاں چاہے ہندو قیادت ہو یا مسلم قیادت ہو سب کی ایک ہی چال ہے اور وہ ووٹ کی چال ہے۔ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے وہ سب جانتے ہیں لیکن اس سے انہیں کوئی لین دین نہیں ہوتا۔ اکثر حق کو چھوڑ کر ووٹ بنک کی حفاظت کی جاتی ہے۔ حق بات کریں گے تو پارلیمنٹ یا اسمبلی میں کہاں پہونچیں گے، اس لئے انہیں صرف اپنے ووٹ کی فکر کرنی ہے۔ اسلئے میں کہتا ہوں کہ یہاں کی سیاسی قیادت سے اچھائی کی کوئی امید ہرگز نہیں کی جاسکتی ہے۔ بھارتی عوام میں انتشار برپا کرنے اور انہیں تقسیم کرنے کی کوششیں اگرچہ پہلے بھی ہوئی ہیں لیکن حکومت اس میں بھرپور رول ادا کرے یہ پہلی بار ہوا ہے۔ لیکن ہمیں اب بھی امید ہے کہ بھارتی عوام اس سازش کو سمجھیں اور ایک ملک کے باشندے ہونے کے ناطے مل جل کر رہیں۔

اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر مسلمان کا سب سے بڑا دشمن کون ہے۔؟
مولانا مقصود الحسن قاسمی:
دیکھیئے ہم مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن خود ہم ہی ہیں۔ ہمارے درمیان ایک دوسرے کے خلاف جو منافرت پائی جاتی ہے یہی ہمارے لئے بڑی مصیبت ہے۔ ہم ایک دوسرے کو برداشت کیوں نہیں کرتے۔ ایک دوسرے پر اعتماد کیوں نہیں کرتے۔ صہیونی طاقتوں کا تو کام ہی مسلم دشمنی ہے لیکن ہم نے خود اپنے ساتھ کیا کیا ہمیں سوچنا ہوگا۔ بیرونی دشمن سے زیادہ نقصان دہ اندرونی دشمن ہوتا ہے۔ جب ہمارے دلوں میں ہی ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور کدورت بھری پڑی ہو تو وحدت کیسے ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دن بدن ایک دوسرے کے قریب آںے کے بجائے دور ہوتے جارہے ہیں۔ دن بدن انتشار اور منافرت کی فضا بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ہمارے ملک بھارت میں مسلمانوں کے درمیان اس قدر انتشار و تضاد نہیں ہے ہمیں اپنے آپ کو دیگر ممالک کی صورتحال سے بچائے رکھنا چاہیئے۔
 
اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بھارتی حکومت کے موقف میں تبدیلی کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا مقصود الحسن قاسمی:
دیکھیئے گذشتہ برسوں سے ہماری حکومت کی خارجہ پالیسی بالکل تبدیل ہوکر رہ گئی ہے، خاص طور پر فسطین کے حوالے سے ہماری حکومت کی پالیسی شک و شبہات کی شکار ہوکر رہ گئی ہے، کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔ ورنہ بھارت ہمیشہ فلسطین کی مظلومین کا حامی رہا ہے۔ جواہر لعل نہرو کے زمانے سے ہی ہم نے فلسطین کی کھل کر حمایت کی ہے۔ اسی لئے ہمارے ملک کے لئے پوری دنیا سے آواز اٹھ رہی تھی کہ بھارت کو سیکرٹری کونسل میں مستقل ممبرشپ دی جائے لیکن ہمارے رویے کی وجہ سے وہ آواز غائب ہوگئی۔ وہ بات ہی ختم ہوگئی اب کوئی ذکر ہی نہیں ہوتا۔ یہ سب ہماری خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ہم ایک بہت بڑے نقصان سے دوچار ہورہے ہیں۔ اب جو بھی محب وطن ہیں انہیں بھارتی حکومت کی اس روش پر فکرمندی لاحق ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں سدھار لایا جائے۔
 
اسلام ٹائمز: کیا بھاجپا حکومت کے ہوتے ہوئے یہ سدھار ممکن ہے، یا پھر کانگریس حکومت کا انتظار کرنا ہوگا۔؟
مولانا مقصود الحسن قاسمی:
کانگریس دور حکومت میں بھارت کی خارجہ پالیسی کچھ واضح تھی، اس لئے وہاں کچھ امید تھی۔ لیکن بھاجپا حکومت کی خارجہ پالیسی من مانیوں پر مبنی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بی جے پی کے اندر بھی مختلف نظرے موجود ہیں یعنی خود یہ پارٹی بھی اندرونی انتشار کی شکار نظر آرہی ہے۔ بی جے پی نے اپنے مقتدر لیڈروں کو برطرف کیا جو تشویشناک بات ہے۔ اب پارٹی کے  بھاگ ڈور جن لیڈروں کے ہاتھوں میں ہے وہاں ایسا ہی ہوگا جو ہورہا ہے۔ جسونت سنہا کہاں گئے، ایل کے ایڈوانی جی کو کیوں پارٹی سے دور رکھا گیا، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کل کی جماعت نہیں ہے یہ بہت پرانی جماعت ہے اور اس کا ماضی بہت اچھا رہا ہے۔ تب تعلیم یافتہ اور تجربہ کار اور دنیا بھر کی سیاست پر نظر رکھنے والے افراد بی جے پی کا حصہ تھے اور آج جو کچھ ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔
خبر کا کوڈ : 813275
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب