0
Wednesday 11 Sep 2019 21:57
بیک وقت تین طلاقوں کو قابل تعزیر جرم بنا رہے ہیں

پاکستان کو ریجنل بلاک کو مضبوط کرنے کیلئے سپیس پیدا کرنی چاہیئے، ڈاکٹر قبلہ ایاز

داعش کا خطرہ موجود ہے، جس سے نمٹنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے
پاکستان کو ریجنل بلاک کو مضبوط کرنے کیلئے سپیس پیدا کرنی چاہیئے، ڈاکٹر قبلہ ایاز
پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ہیں۔ وہ 6 اکتوبر 1953ء کو بنوں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی شہر سے حاصل کرنے کے بعد پشاور یونیورسٹی سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں برطانیہ سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کی۔ وہ 1976ء سے لیکر 2013ء تک پشاور یونیورسٹی میں مختلف عہدوں پر خدمات بھی سرانجام دے چکے ہیں۔ 3 نومبر 2017ء کو اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین تعینات کئے گئے۔ "اسلام ٹائمز" نے پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو محترم قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: آپ ڈیڑھ سال سے اسلامی نظریاتی کونسل میں بطور چیئرمین خدمات انجام دے رہے ہیں، اس عرصہ میں کن چیزوں پر فوکس رہا اور زیادہ تر کن امور پر سفارشات مرتب کی ہیں۔؟
ڈاکٹر قبلہ ایاز:
ہمارے ہاں جو بھی چیز آتی ہے، ہم اس پر کام کرتے ہیں، جو بھی نئے مسائل آتے ہیں، ان پر سفارشات مرتب کی جاتی ہیں، ابھی خواتین کے ایشوز پر زیادہ کام کر رہے ہیں، طلاق کا مسئلہ سرفہرست ہے، اسی طرح ہمارے پاس پیغام پاکستان کا معاملہ آیا، اب ہم نے میراث کا مسودہ بنایا ہے، اس سے پہلے میراث کے معاملے پر کام نہیں کیا گیا، عدالتوں میں لوگوں کو بڑی تکلیف ہوتی تھی، آپ کے علم ہے کہ ملک میں کفر کے فتوے دیئے جاتے تھے، ہم نے نیا بیانیہ بنایا کہ یہ فتوے کسی فرد یا جماعت کا کام نہیں، یہ ریاست کا کام ہے کہ کب جہاد فرض ہونا ہے، کب نہیں۔

اسلام ٹائمز: طلاق پر سفارشات مرتب کر رہے ہیں تو یہ بتایئے کہ خلع کے معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل کا کیا موقف ہے، خواتین عدالت جاکر طلاق لے سکتی ہیں، کیا یہ اسلامی طریقہ ہے۔؟
ڈاکٹر قبلہ ایاز:
خلع پر ہماری اپنی سفارش موجود ہے، ایک خلع ہے، دوسرا فسخ نکاح ہے، دونوں میں مختلف صورتیں ہیں، جو فقہ کے اندر موجود ہیں، ہم نے زیادہ کام کیا ہے، وہ تین طلاقوں سے متعلق ہے، اس معاملے میں عورت کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے، ملک میں تین طلاقوں کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے، حنفی فقہ میں تو بیک وقت تین طلاقیں ہو جاتی ہیں، لیکن باقی میں نہیں، اس اہم ایشو پر ہم نے بہت کام کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اسے قابل تعزیر جرم بنایا جائے۔

اسلام ٹائمز: جو پیغام پاکستان بیانیہ ترتیب دیا ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ ریاست کیلئے بڑی کامیابی ہے، اس سے فرق کیا پڑیگا۔؟
ڈاکٹر قبلہ ایاز:
جی میں سمجھتا ہوں کہ پیغام پاکستان بہت بڑی کامیابی ہے، ریاست نے ملک میں امن کو یقینی بنانے کیلئے یہ بیانیہ ترتیب دیا ہے، اس کیلئے ضروری تھا کہ پشت پر مذہبی تائید حاصل ہو، شرعی پابندی ہو، اس صورت میں یہ بہت بڑی سپورٹ دی گئی ہے۔ تمام مکاتب فکر نے پر اس دستخط کیے ہیں۔ اونر شپ دی ہے پیغام پاکستان بیانیہ کو۔

اسلام ٹائمز: آپ سمجھتے ہیں کہ گذشتہ ان دو تین برسوں میں دہشتگردی اور خاص طور پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں اضافہ ہوا ہے، فرقہ وارانہ مسائل سامنے نہیں آئے۔؟
ڈاکٹر قبلہ ایاز:
جی بالکل درست کہا ہے آپ نے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں بہتری آئی ہے اور جو خودکش حملے تھے یا ریاست کے اندر ریاست تھی، اس میں بہت بہتری آئی ہے۔ اس کاوش میں سب ملکر کھڑے ہوئے، اس میں بتاتا چلوں کہ ریاستی اداروں نے لیڈ کیا، مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے مکمل طور پر سپورٹ کیا۔

اسلام ٹائمز: مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر امہ کا ردعمل نظر نہیں آرہا، اسکی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔؟
ڈاکٹر قبلہ ایاز:
دیکھیں دو باتیں ہیں، اگر امت کو اس طریقے سے لیں کہ مسلمان تو وہ درد محسوس کرتے ہیں اور احساس بھی کرتے ہیں، ایک ہے ریاستی ماحول یا ریاستی نظم تو ظاہر ہے ریاستی نظم میں وہ اپنے مفادات کے تابع ہوتے ہیں، انکی خارجہ پالیسی مفادات کے تابع ہوتی ہے، تو وہاں سے تو حمایت نہیں مل رہی، لیکن عمومی طور پر پوری دنیا کے مسلمان وہ اس ظلم کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: یہ بھی تو حدیث ہے کہ عوام حکمرانوں کے نقشے قدم پر چلتے ہیں۔؟
ڈاکٹر قبلہ ایاز:
نہیں وہ ایک اور حوالہ سے یہ حدیث ہے، اسکا مقصد کچھ اور ہے، یعینی عوام روزمرہ کی زندگی میں اپنے حکمرانوں کو فالو کرتے ہیں، جبکہ مظالم پر وہ درد جو عوام محسوس کرتے ہیں، وہ ریاستی کارندے محسوس نہیں کرتے یا ہم آہنگ نہیں ہوتے۔

اسلام ٹائمز: ترکی اور ایران دو واحد ملک ہیں جو کشمیر کے معاملے میں ہمارے ساتھ نظر آئے ہیں، دیگر ممالک ساتھ کھڑے نہیں ہوئے، کیا اس سے عوام میں مایوسی پیدا نہیں ہوئی، جنکو بار بار امہ کا درس پڑھایا گیا۔؟
ڈاکٹر قبلہ ایاز:
یہی ہے ناکہ ہر ملک کے اپنے مفادات ہیں، ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ہمیں کوشش کرنی چاہیئے، مسلسل اپنے روابط بڑھانے چاہیئں، تاکہ عالمی سپورٹ حاصل ہوسکے اور کشمیر پر حمایت میں اضافہ ہو۔

اسلام ٹائمز: ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ داعش کا خطرہ موجود ہے اور ہماری اس پر نگاہ ہے، کہیں امریکا ہمیں طالبان سے مذاکرات کے نام پر دھوکہ تو نہیں دے رہا۔؟
ڈاکٹر قبلہ ایاز:
جی بالکل، داعش کا خطرہ موجود موجود ہے، اس کے لئے ہمیں چاہیئے کہ ہم باخبر رہیں اور اس سے نمٹنے کیلئے الرٹ رہیں۔

اسلام ٹائمز: آپکو لگ رہا ہے کہ ریجنل سطح پر امریکا مخالف بلاک بننے جا رہا ہے۔؟
ڈاکٹر قبلہ ایاز:
ہونا تو یہی چاہیئے کہ ہم خطے کے اندر سپیس پیدا کریں اور خطے کے اندر سمجھوتے اور امن کو بہتر بنائیں اور پاکستان کو معاشی حب بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ پاکستان میں پوٹینشل بہت ہے۔

اسلام ٹائمز: حکومت کیا اپنی پالیسیوں میں کامیاب جا رہی ہے۔؟
ڈاکٹر قبلہ ایاز:
میرے خیال میں کرپشن کیخلاف حکومت کی ترجیح درست ہے، تاہم تجربہ کم دکھائی دیتا ہے، جس کی وجہ سے معاملات پر جلد قابو نہیں پایا جاتا۔
خبر کا کوڈ : 815323
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے