0
Sunday 22 Sep 2019 19:24
استعماری و طاغوتی قوتیں لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت مسلم ممالک کو کمزور کر رہی ہیں

جہاد کے علاوہ مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نہیں، حکومت عوام کو مقبوضہ کشمیر جانیکی اجازت دے، کاشف سعید شیخ

جہاد کے علاوہ مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نہیں، حکومت عوام کو مقبوضہ کشمیر جانیکی اجازت دے، کاشف سعید شیخ
کاشف سعید شیخ اسوقت جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں، اسکے ساتھ ساتھ وہ جماعت اسلامی سندھ کی مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ کے بھی رکن ہیں۔ 1991ء میں انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے تنظیمی فعالیت کا آغاز کیا تھا، وہ جمعیت لاڑکانہ اور سندھ کے ناظم بھی رہ چکے ہیں، 2006ء میں انہوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی، وہ لاڑکانہ کے امیر اور سندھ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مسجد قبا گلبرگ کراچی میں قائم جماعت اسلامی سندھ کے دفتر میں انکے ساتھ مسئلہ کشمیر سے متعلق حالیہ بھارتی سازش، پاکستانی حکومت کے اقدامات و دیگر موضوعات کے حوالے سے ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: بھارت کیجانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف پاکستانی حکومت کے اقدامات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
کاشف سعید شیخ:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ میں پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہوں، مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر آج تک تمام سول و فوجی حکومتوں نے سوائے بیانات دینے اور مذمت کرنے کے کوئی اور اقدامات نہیں اٹھائے، اسی طرح حالیہ قضیئے میں بھی عمران خان نے ٹوئٹ کرنے، قوم سے خطاب کرنے اور بھڑکیں مارنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا، جبکہ بھارت نے کئی اقدامات کئے، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے بارہ تیرہ ممالک کے دورے کئے، بھارتی وزیر خارجہ نے چالیس ممالک کے دورے کئے، ہم تو او آئی سی اجلاس، مکہ کانفرنس میں بھی مسئلہ کشمیر کو اجاگر نہیں کرسکے، او آئی سی میں ہم کوئی بات لیکر جانے کیلئے تیار نہیں ہیں، ایک طرف بھارت پے در پے اقدامات کر رہا ہے، جبکہ ہم اس کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں، کبھی ہم کرتارپور راہداری کھولنے کے چکر میں ہیں، کبھی گرفتار پائلٹ ابھی نندن کو اس کے حوالے کر دیتے ہیں، کبھی سلامتی کونسل میں رکنیت کیلئے بھارت کا ساتھ دیتے ہیں، آج تک بھارت کیلئے پاکستانی فضائی حدود کھلی ہوئی ہے۔

حال ہی میں ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی حکومت کوئی فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں رہی، سوائے اپنی عوام کو خوش فہمی میں مبتلا کرنے کے، سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کیلئے جو تاثر ابھر رہا ہے کہ انہوں نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے، ان کے اب تک کے اقدامات سے تو اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے اور لگتا ہے کہ انہوں نے واقعی کشمیر کا سودا کر لیا ہے، جس طرح فلسطین کو اقوام متحدہ میں جا کر کچھ فائدہ نہیں ہوا، اسی طرح مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے نہیں بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے ہی حل ہوگا، آج کشمیر کا جو حصہ آزاد ہے، وہ بھی جہاد کے نتیجے میں آزاد ہوا تھا۔

اسلام ٹائمز: حکومت کیجانب سے مؤثر اقدامات نہ ہونے کی کیا وجہ نظر آتی ہے۔؟
کاشف سعید شیخ:
اس حوالے سے صورتحال واضح ہو بھی چکی ہے اور مزید واضح ہو رہی ہے کہ جو لوگوں کا ایک تاثر بنا ہوا ہے کہ یہ ایک انٹرنیشنل گیم تھی، جس میں امریکا اور اسرائیل کی پشت پناہی اور منصوبہ بندی کے ساتھ یہ سارے اقدامات ہوئے ہیں، لہٰذا ہمیں تو کشمیر کے سودے والی بات ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ یہ ہوا ہے، لیکن پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات، سارے طرز عمل اور روئیوں سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ یہ معاملہ اسی طرف جا رہا ہے، کیونکہ پی ٹی آئی حکومت تو ہمیں سنجیدہ نظر نہیں آرہی۔

اسلام ٹائمز: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے حالیہ پریس کانفرنس میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو کسی صورت بھارتی رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، پاک فوج جنگ کیلئے بھی بالکل تیار ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
کاشف سعید شیخ:
اللہ کرے کہ جیسا وہ کہہ رہے ہیں ویسا ہی ہو، فوج کے ہوتے ہوئے پہلے بھی ایک بچاؤ کا معاملہ رہا ہے، مگر جمہوری حکومتوں نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ خراب کیا ہے، پاک فوج بھی حکومت کی پشت پر اسی صورت میں کھڑی ہوگی، جب حکومت بھی کوئی اقدامات اٹھائے، ابھی بھی سارے منظر نامہ میں محسوس تو یہی ہوتا ہے کہ حکومت مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں کوئی اقدامات نہیں اٹھا رہی ہے اور مقبوضہ کشمیر کا ایشو جو تھوڑا بہت زندہ ہے، وہ پاک فوج کی وجہ سے ہی ہے۔

اسلام ٹائمز: عرب ممالک کیجانب سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ اعزاز دیئے جانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے یا کچھ اور۔؟
کاشف سعید شیخ:
پاکستانی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے کہ اسے دوست اور دشمن کی پہچان نہیں ہے، پاکستان امریکا سے امید رکھتا ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرائے گا، ہمارا کردار بحیثیت امت مسلمہ کے انتہائی کمزور ہوچکا ہے، ستاون اسلامی ممالک بہت بڑی قوت ہیں، لیکن آپس میں الجھے ہوئے ہیں، ایک طرف سعودی عرب قطر کا معاملہ چل رہا ہے، ایک طرف سعودی عرب اور ایران کا مسئلہ چل رہا ہے، تیسری طرف شام میں ہمیں پتہ نہیں چلتا کہ کون کس کے ساتھ لڑ رہا ہے، مصر میں کس طرح اسلامی ممالک نے مل کر ایک منتخب اسلامی حکومت کا تختہ الٹ دیا، یہ ہمارے سامنے موجود ہے، بہتر سالوں سے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر سے متعلق قراردادیں التوا کا شکار ہیں، ان قراردادوں سے متعلق کوئی سننے کیلئے تیار نہیں ہے، اگر کبھی کوئی قرارداد سامنے آتی بھی ہے تو اسے ویٹو کر دیا جاتا ہے، اسی طرح مسئلہ فلسطین کو بھی کوئی سننے کیلئے تیار نہیں ہے، اسی طرح ایران کے معاملے پر بھی کوئی سننے کیلئے تیار نہیں ہے، عراق کا ہم نے کیا حشر کر دیا، افغانستان کا کیا حشر کر دیا ہے، امت مسلمہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہوئی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ استعماری و طاغوتی قوتیں لڑاو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت مسلم ممالک کو کمزور کر رہی ہیں۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ کشمیر پر حالیہ بھارتی اقدام کے تناظر میں جسطرح ایران اور ترکی پاکستان کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں، کیا دیگر مسلم ممالک بھی کھڑے ہوتے نظر آرہے ہیں۔؟
کاشف سعید شیخ:
اگر ایران اور ترکی کی طرح دیگر مسلم ممالک بھی مسئلہ کشمیر کو لیکر پاکستان کی حمایت میں نہیں کھڑے ہوتے تو کل ان ممالک کیلئے بھی برا وقت آسکتا ہے، اگر مسلم ممالک عالمی استعمار و طاغوت کے خلاف ایک پیج پر نہیں آئے تو اس کا نقصان پوری امت مسلمہ کو اٹھانا پڑے گا۔

اسلام ٹائمز: اگر مسلم امہ کی یہی صورتحال رہی تو مسئلہ کشمیر کیسے حل ہوگا۔؟
کاشف سعید شیخ:
مسئلہ کشمیر کا حل سوائے جہاد فی سبیل اللہ کے اور کوئی نہیں ہے، پاکستانی حکومت سرحد کھول کر عوام کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دے، پھر دنیا دیکھے گی کہ جس طرح امریکا اور سوویت یونین کیلئے افغانستان ایک قبرستان بنا تھا، اسی طرح جہاد کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر بھی پندرہ لاکھ بھارتی فوجیوں کیلئے قبرستان بنے گا۔

اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ چھڑے گی، جسے ختم کرانے کے بہانے عالمی طاقتیں خطے میں آکر بیٹھ جائیں گی، تاکہ ایران، چین، پاکستان سمیت خطے کے ممالک پر نظر رکھی جاسکے، کیا کہیں گے ان خبروں کے حوالے سے۔؟
کاشف سعید شیخ:
یہ صرف افواہیں نہیں ہیں، بلکہ ایک بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں، یہ سب ممکن ہے، لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو یہ گذشتہ بہتر سالوں میں تمام تر ظلم و ستم کے باوجود نہیں دبا سکے، ختم نہیں کرسکے، جس طرح امریکا آج تک افغانستان پر قابض نہیں ہوسکا، اسے مزاحمت کا سامنا ہے، جیسے سویت یونین کو سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں وہ تقسیم کا شکار ہوگیا، ان عالمی طاقتوں کی تمام مکاریاں اللہ تعالیٰ کی تدبیروں کے سامنے ہوا ہو جائیں گی اور تمام سازشیں دشمنان اسلام کے گلے پڑ جائیں گی۔
خبر کا کوڈ : 817698
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے