0
Friday 27 Sep 2019 21:57
ملک میں مدینہ کی ریاست نہیں محض ریاست کے دعوے کئے جا رہے ہیں

امریکی جنگ میں پاکستان کی شمولیت کو اب غلطی تسلیم کر لینے سے کچھ نہیں بنے گا، میاں افتخار حسین

امریکی صدر کی انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر پر ثالثی کے کردار کو تسلیم کرنا پاکستانی قیادت کی غلط فہمی ہے
امریکی جنگ میں پاکستان کی شمولیت کو اب غلطی تسلیم کر لینے سے کچھ نہیں بنے گا، میاں افتخار حسین
عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما میاں افتخار حسین 5 اپریل 1958ء کو پبی ضلع نوشہرہ میں پیدا ہوئے۔ انکے والد میاں محمد رفیق نے فوج میں بطور وائرلیس آپریٹر فرائض انجام دیئے۔ میاں افتخار نے 1990ء کا الیکشن لڑا اور جیت گئے۔ صوبائی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی سیکرٹری اور ضلعی ڈیڈک کمیٹی کے چیئرمین بنے۔ 1993ء کا الیکشن پی پی پی کے مقابلے میں صرف 149 ووٹوں سے ہارا۔ 1997ء کا الیکشن پھر جیتا۔ 2002ء کا الیکشن پھر پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ہارا، لیکن 2008ء کا الیکشن جیت لیا اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور کلچر مقرر کئے گئے۔ میاں افتخار 2013ء کے انتخابات میں پھر ناکام ٹھہرے۔ اسوقت وہ اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔ دہشتگردوں کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں، یہی وجہ بنی کہ انکا ایک بیٹا بھی اس راہ میں شہید ہوگیا۔ اسلام ٹائمز نے میاں افتخار سے ملکی حالات اور خطے کی بدلتی صورتحال پر ایک انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: وزیراعظم پاکستان نے پوری دنیا کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ کی جنگ میں حصہ بننا سب سے بڑی غلطی تھی، اس بات کے پسِ پردہ حقائق کیا ہیں۔؟ 
میاں افتخار حسین:
 ہم یہ بات روز اول سے دوہراتے آرہے ہیں کہ پرائی جنگ میں حصہ لینا سب سے بڑی غلطی تھی، بہرحال دیر آید درست آید کے مصداق ہی پاکستان نے یہ بات تسلیم کر لی کہ نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں پاکستان کی شمولیت تاریخی اور بہت بڑی غلطی تھی۔ نائن الیون کے وقت پاکستان میں پرویز مشرف فوجی وردی میں پاکستان کا حکمران تھا۔ وہ سیاہ و سفید کا مالک تھا، وہ تمام فیصلے کرنے میں بااختیار تھا۔ پرویز مشرف کی قیادت میں عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان نے مل کر امریکی جنگ میں حصہ لیا، جس کی بدولت امریکہ نے پاکستان کے تعاون سے افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا خاتمہ کیا۔ امریکی جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے باعث ملک کو بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ پاکستان کا اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ 75 ہزار کے قریب سکیورٹی فورس، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سمیت عام پاکستانی شہید ہوئے اور ہزاروں افراد عمر بھر کیلئے معذور ہوئے۔

امریکی جنگ میں شمولیت نے پاکستان کو مسائل میں دھکیلا، ملک کے اندر دہشت گردی نے سر اُٹھایا۔ آج خود اسٹیبلشمنٹ اور اُن کا سلیکٹڈ پوری دنیا پر واضح کر رہا ہے کہ نائن الیون میں شمولیت کے باعث پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ چند افراد کے غلط فیصلوں کی وجہ سے نقصان اٹھانے کے باوجود دنیا پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے اس پر دہشت گردوں کو پالنے کا الزام لگا رہی ہے۔ خود عمران خان نے حقائق سے پردہ اٹھا کر عسکری قیادت کے اُسوقت کے فیصلوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ پوری دنیا کا خیال ہے کہ القاعدہ اور دہشت گردوں کو تربیت پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں اور پاک فوج نے دی ہے، جب میاں محمد نواز شریف وزیراعظم تھے تو ایک اعلٰی سطحی اجلاس میں انہوں نے عسکری قیادت اور ٹیلی جنس اداروں کے سربراہان کو ایک بات کہی تھی کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ملک نے بے پناہ نقصان اٹھایا ہے، اس کے باوجود ہماری قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے، اب ہمیں اپنا قبلہ درست کرنا چاہیئے۔

اجلاس کی گفتگو لیک ہوئی، جس کو ڈان لیکس کا نام دیا گیا، جس پر عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کی ناراضگی اس حد تک بڑھنے لگی کہ نواز شریف کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا۔ امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کے دوران عمران کی جانب سے نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں شمولیت کو سب سے بڑی غلطی قرار دینے کا بنیادی مقصد جنرل پرویز مشرف کے دور میں عسکری قیادت کے فیصلوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے، جس طرح پرویز مشرف نے نائن الیون کے بعد بہت بڑی غلطی کی تھی، اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو سے اسلحہ کی نوک پر اقتدار چھینے والے جنرل ضیاء الحق بھی غلطیوں کے مرتکب ہوئے تھے۔ وہ بھی سوویت یونین کی افغانستان میں جارحیت کے بعد امریکہ کے اتحادی رہے

امریکہ نے پاکستان کی مدد اور تعاون سے جہادی تنظیموں کے ذریعے افغانستان میں سوویت یونین کو شکست دی، جس کے باعث سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہوا، جس کی بدولت امریکہ دنیا کا واحد سپر پاور اور چوہدری بن گیا۔ سوویت یونین کے تقسیم ہونے سے قبل ازیں دنیا میں دو بڑی طاقتیں یعنی سپر پاور امریکہ اور سوویت یونین تھیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں سوویت یونین کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں حصہ لینے سے کلاشنکوف اور ہیرون کلچر متعارف ہوا، جو پاکستان کے گلے کی ہڈی بنا۔ فوجی آمروں کے ادوار میں عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کی غلطیوں کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ عمران خان کے خیالات اور موقف کی اس لئے حمایت کی جاسکتی ہے کہ ملک کی تباہی فوجی آمروں کی مرہون منت ہے۔

اسلام ٹائمز: مان لیتے ہیں کہ اسوقت کی قیادت نے غلط فیصلے لئے، مگر ابھی بھی دیکھا جائے تو عسکری قیادت اور عمران خان کشمیر کے معاملے میں امریکہ پر اندھے اعتماد کی روش کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔؟
میاں افتخار حسین:
اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عمران خان اور عسکری قیادت کے امریکہ پر اندھا دھند اعتماد کرنے کی روش نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہیوسٹن میں ہزاروں افراد کے اجتماع سے نریندر مودی کے خطاب کے موقع پر امریکی صدر اور امریکی کانگریس کے ارکان نے ان کی جو حوصلہ افزائی اور عزت افزائی کی ہے، اس سے پاکستان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ امریکی صدر اور کانگریس کے ارکان نے نریندر مودی کا جو استقبال کیا اور ان کی ہاں میں ہاں ملا کر پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اب وہ تاریخ کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں قرارداد سے متعلق امریکہ اور بعض اسلامی ممالک کا کردار شرمناک رہا۔

سعوی عرب، بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر اسلامی ممالک نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔ انسانی حقوق کونسل کے ارکان کی تعداد 48 ہے، 16 ارکان کے تعاون سے قرارداد پیش ہونا تھی۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ دعوے کر رہے تھے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیخلاف پاکستان کو واضح اکثریت حاصل ہوگی، پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے، جب قرارداد پیش کرنے کا وقت آیا تو اسلامی ممالک میں سے دوست ممالک نے پاکستان کا ساتھ چھوڑ کر انڈیا کا ساتھ دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انڈیا اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے کردار کو تسلیم کرنا پاکستانی قیادت کی غلط فہمی ہے۔

اسلام ٹائمز۔ جیسا کہ اب پاکستان اقرار کرتا ہے کہ امریکی جنگ کا حصہ بننا غلطی تھی، کیا اب ہماری خارجہ پالیسی سابقہ غلطیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کوئی منفرد طریقہ کار اپنائے گی۔؟
میاں افتخار حسین:
 پہلی بات تو میں یہ واضح کر دوں کہ امریکی جنگ میں پاکستان کی شمولیت کو بہت بڑی غلطی تسلیم کر لینے سے اب کچھ نہیں بننا، پاکستانی قیادت مایوسی کا شکار ہے۔ مودی پاکستان کے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر امریکی صدر کی ثالثی کی بات کر رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم کا رویہ اور لب و لہجہ انتہائی جارحانہ اور غیر مناسب ہے۔ یہ ملک و قوم کی بڑی بدقسمتی ہے کہ خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی پارلیمنٹ میں ڈسکس نہیں ہوتی، عسکری قیادت کی مرضی کے بغیر خارجہ اور داخلہ پالیسیاں نہیں بنتی ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان کہتے ہیں کہ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی انتہائی متحرک رہتے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ محاذ پر کامیابی مل رہی ہے، وہ نواز شریف کے دور حکومت میں وزیر خارجہ کی جگہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی کے ذریعے خارجہ پالیسی چلانے پر کڑی تنقید کرتے تھے۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ منتخب وزراء اعظم اور ان کی کابینہ کو خارجہ پالیسی بنانے کا مکمل اختیار حاصل نہیں ہے۔ موجودہ دور حکومت کے مقابلے میں ماضی کی منتخب حکومتوں کی خارجہ پالیسی بہتر رہی۔ پاکستان کو کبھی بھی وہ خفت نہیں اُٹھانا پڑی، جو موجودہ دور حکومت میں اُٹھانی پڑ رہی ہے۔ نائن الیون اور سوویت یونین کی جارحیت کے بعد امریکہ کی مدد کرنا غلطی تھی تو غلطیاں کرنے والوں کا تعین ہونا ضروری ہے۔ اگر انہیں ان کی غلطیوں پر سزا ملتی تو بار بار یہ غلطیاں نہ دوہرائی جاتیں۔ 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے دوران عسکری قیادت نے جو غلطیاں کیں، اب اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ناقص خارجہ پالیسی کی بدولت پڑوسی ممالک چین، ایران، افغانستان اور انڈیا سمیت بہت سے دوست ممالک پاکستان سے ناراض ہیں۔

اسلام ٹائمز: مودی کے ہیوسٹن جلسے میں ٹرمپ نے مسلمانوں کیخلاف جو زہر اگلا، اسلامی دنیا میں اسکا ردعمل کیسا ہونا چاہیئے۔؟
میاں افتخار حسین:
آپ امریکہ کی بات کرتے ہیں ہماری بدقسمتی ہے کہ ایک انڈیا کے مقابلے میں بہت سے اسلامی دوست ممالک پاکستان کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں، امریکہ کے خلاف کوئی کیا بات کرے گا؟ اگر دیکھا جائے تو پاکستان سمیت اسلامی ممالک کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نریندر مودی کے ہیوسٹن کے جلسے میں امریکی صدر نے مسلمانوں کیخلاف جو لب و لہجہ استعمال کیا ہے، اس کے خلاف احتجاج کریں، پوری دنیا کے مسلمانوں کو دہشت گردوں کی نظر سے دیکھنا سراسر ظلم و زیادتی ہے، اسلام امن اور محبت کا دین ہے اور محبت کا درس دیتا ہے۔ اسلامی دنیا مغربی ممالک کو اسلام سے متعلق اچھا پیغام دینے میں ناکام رہی ہے، مغربی دنیا کے اس موقف کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی کہ تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔

اسلام ٹائمز: خیبر پختونخوا حکومت کا اسکولوں میں طالبات کیلئے عبایا/ چادر کا لازمی قرار دینا اور پھر اس فیصلے کو واپس لے لینا کیسا اقدام ہے۔؟
میاں افتخار حسین:
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ خیبر پختونخوا کی سرزمین غیرت مندوں، بہادروں، مہمان نوازوں، دلیروں اور پردہ پر مر مٹنے والوں کی ہے۔ خیبر پختونخوا بھر کے سرکاری سکولوں میں طالبات کیلئے پردہ لازمی قرار دینے کا فیصلہ قابل تعریف تھا، لیکن میڈیا نے اس فیصلے کے خلاف آسمان سر پر اُٹھا لیا، جس کے باعث صبح کو جاری ہونے والا نوٹیفیکیشن شام کو واپس لے لیا گیا۔ غیرت پر مر مٹنے والی سرزمین سوات سے تعلق رکھنے والے وزیراعلٰی میڈیا کی شدید تنقید کے سامنے ڈھیر ہوگئے، وہ ڈٹ جانے کی بجائے ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہوئے، جو قابل افسوس بات ہے۔ خیبر پختونخوا کے غیرت مند مسلمانوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے طالبات کو باپردہ بنانے کے اقدام کو سراہا تھا۔

اگر موجودہ حکومت کے اندر ریاست مدینہ کا تصور موجود ہے اور اس کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو پھر نوٹیفیکیشن واپس لینے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ملک میں مدینہ کی ریاست نہیں محض ریاست کے دعوے کئے جا رہے ہیں، جس طرح نجی میڈیا کنٹرولڈ ہے، وفاقی حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ پیمرا کے ذریعے چادر اور برقعہ میں سے ایک پہننے کو لازمی قرار دینے والے نوٹیفیکیشن کے خلاف گفتگو اور شور شرابہ کرنے والے ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کرتے تو بہتر ہوتا، محض میڈیا کی تنقید پر نوٹیفیکیشن واپس لینا بزدلی ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور آئین میں پاکستان کا نام اسلامی جمہوری پاکستان لکھا گیا ہے، ایک اسلامی ریاست میں طالبات کو باپردہ ہو کر سکولوں میں جانے کا پابند بنانا عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔
خبر کا کوڈ : 818673
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب