0
Saturday 28 Sep 2019 23:40
ڈی پی او ہنگو کو معطل کرکے اسکے خلاف انکوائری کی جائے

سٹیج حسینی (ع) سے نصیری عقائد کے پرچار کے سامنے بند باندھنا ہوگا، علامہ حمید امامی

ولایت فقیہ کے ماننے والے دنیا کے ہر کونے میں امریکہ کو جواب دینگے
سٹیج حسینی (ع) سے نصیری عقائد کے پرچار کے سامنے بند باندھنا ہوگا، علامہ حمید امامی
علامہ حمید حسین امامی کا تعلق کوہاٹ سے ہے۔ وہ شیعہ علماء کونسل اور اسلامی تحریک خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر ہیں، وہ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد علامہ شہید عارف حسین الحسینی کے مدرسہ جعفریہ میں دینی تعلیم کے حصول کیلئے گئے اور 6 سال تک علامہ عارف حسین الحسینی اور سید عابد حسینی کی شاگردی اختیار کرنے کے بعد انہوں نے مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے ایران کے شہر قم المقدسہ کا رخ کیا اور 14 سال تک وہاں تعلیم حاصل کی، اس دوران انہیں آیت اللہ فاضل لنکرانی، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، آیت اللہ مشکینی اور آیت اللہ جوادی آملی کی شاگردی کا اعزاز حاصل ہوا، انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری قم سے حاصل کی، 1996ء کے اواخر میں وطن واپس آئے اور اسلامی تحریک کیساتھ وابستہ ہوگئے، ایس یو سی خیبر پختونوا کے صوبائی صدر ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے ان سے عشرہ محرم کے دوران ہنگو، کوہاٹ اور ہری پور میں پیش آنے والے واقعات اور حالات حاضرہ پہ گفتگو کی، جو قارئین کی خدمت میں انٹرویو کی صورت پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: عشرہ محرم الحرام پرامن گزرا، اسکا کریڈٹ کسے دینگے۔؟ نیز کوہاٹ، ہری پور اور ہنگو میں کیا واقعات پیش آئے۔؟
علامہ حمید حسین امامی:
محرم الحرام پاکستان بھر میں کم و بیش پرامن گزرا ہے، جہاں تک اس کے کریڈٹ کی بات ہے تو اس کا سب سے زیادہ کریڈٹ بذات خود عزاداران امام مظلوم (ع) کو جاتا ہے۔ کہیں پہ کوئی زیادتی ہوئی بھی تو جواب میں عزادار پرامن رہے، جس کی وجہ سے پورے ملک میں تقریباً پرامن انداز میں محرم گزرا۔ ویسے بھی عزاداری ہمارا آئینی، قانونی حق ہے۔ ہم کہیں بھی ہوں، گھروں میں، امام بارگاہوں میں، مساجد میں یا جلوسوں کی صورت میں شاہراؤں پہ، ہم نے عزاداری امام مظلوم (ع) برپا کرنی ہے اور اس پہ کسی قسم کی کوئی قدغن نہ پہلے قبول کی اور نہ
قبول کر سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان کی ہمیشہ ہی یہ کوشش رہی کہ اس عزاداری کو محدود کیا جائے، تاہم عزاداروں کی ثابت قدمی اور اخلاص کی بدولت ایسا نہ ہو سکا۔ میں حالیہ محرم الحرام سے متعلق چند مقامات کی نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ہری پور، ہزارہ میں عزاداروں پہ بے بنیاد ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ شیعہ علماء کونسل کے عہدیداروں نے ڈی پی او سے بہت اچھے ماحول میں ملاقات کی۔ بڑے احسن طریقے سے اپنا موقف پیش کیا اور ان کا موقف سنا۔ اس ملاقات کے نتیجے میں ہمیں یہ یقین دلایا گیا کہ یہ مسئلہ بہت جلد احسن طریقے سے جل کیا جائے گا۔

ہنگو میں عزادار مکمل طور پہ پرامن تھے۔ کوئی بدمزدگی نہیں تھی، مگر بدقسمتی سے ہنگو جیسے حساس علاقے میں ایک ایسے شخص کو ڈی پی او تعینات کیا گیا کہ جس نے ماضی میں بھی بدامنی اور بدمزدگی پھیلانے والے عوامل کو بڑھاوا دیا۔ احسان اللہ نامی ڈی پی او نے بغیر کسی وجہ کے معزز مشران، معزز مولانا خورشید انور جوادی اور عزاداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ڈی پی او نے اس اقدام سے ہنگو کے اندر پرامن محرام الحرام میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی۔ ماضی میں یہی احسان اللہ جب ایس ایچ او تھا اور ہنگو میں ہی تعینات تھا تو اس وقت بھی اس نے محرم الحرام کے پہلے عشرے کے اندر ایسی ہی ایک کوشش کی تھی۔

ڈی پی او کے اس یک طرفہ اور زیادتی پہ مبنی اقدام کے باوجود اقوام، عزادار پرامن رہے اور انہوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ ہم نے پاک آرمی، انتظامیہ سے مسلسل ملاقاتیں کیں، ناراضگی کے باوجود امن عمل کو آگے بڑھایا، ان ملاقاتوں میں بھی ان بوگس ایف آئی آرز کے اخراج کا مطالبہ کیا۔ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ڈی پی او ہنگو احسان اللہ کے ان اقدامات کے خلاف حکومت ایکشن لے کہ جن سے محرم الحرام میں بدامنی کا خدشہ
پیدا ہوا۔ میرے مطابق ڈی پی او ہنگو کسی امن دشمن اور ملک دشمن کے پے رول پہ ہے۔ اس بات کی باقاعدہ تحقیقات کرائی جائیں کہ یہ متعصب ڈی پی او کس ملک دشمن ٹولے کی سازش پہ عمل کر رہا ہے۔

تیسرا اور اہم مسئلہ کوہاٹ میں کے ڈی اے مسجد و امام بارگاہ کا تھا کہ جسے انتظامیہ نے عزاداری، نماز اور اذان کیلئے بھی بند کر دیا۔ کوہاٹ انتظامیہ نے اس معاملے کو الجھانے میں شدید کردار ادا کیا۔ تمام اقوام کے مشران، علاقہ مکین اس بات پہ مکمل طور پر راضی بالرضا تھے کہ اس مسجد و امام بارگاہ کو اذان، نماز اور عزاداری کیلئے کھولا جائے۔ قانونی جنگ لڑنے کے بعد عدالت نے بھی آرڈر دیا کہ مسجد کو کھولا جائے۔ اب محرم شروع ہوچکا تھا۔ مسجد کو کھولنے کے حکم پہ پورا علاقہ مطمئن تھا، تاہم ایک شخص کہ جسے علاقے میں کوئی پوچھتا تک نہیں، جاوید ابراہم پراچہ، وہ انتظامیہ کی ملی بھگت سے عدالت سے سٹے آرڈر لیکر آگیا کہ نامعلوم خدشات کی بناء پہ مسجد کو سیل رکھا جائے۔ جس پہ انتظامیہ نے اتنی سرعت سے عملدرآمد کیا کہ جیسے اس آرڈر کا انتظار کر رہی ہو۔ نور مسجد و امام بارگاہ میں ایک فرد واحد ابراہیم پراچہ کے اعتراض کی وجہ سے عیدین، جمعہ، اذان، نماز اور عزاداری بند ہے۔ ہم صوبائی و وفاقی حکومت سے اب بھی پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ کوہاٹ، ہنگو اور ہری پور میں عزاداروں پہ درج کی گئی ایف آئی آرز فوراً ختم کی جائیں۔ ڈی پی او ہنگو کو معطل کرکے کارروائی کی جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان علاقوں میں امن و امان برقرار رہے، مگر حکومت اور انتظامیہ کو بھی ایسی زیادتیوں کا سلسلہ بند کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: خیبر پختوںخوا میں وقف املاک پہ ناجائز قابضین کا مسئلہ شدید نوعیت اختیار کر گیا ہے، آپکے نزدیک اسکا کیا حل، چہ جائیکہ صوبائی حکومت خود قابضین میں شامل ہو۔؟
علامہ حمید حسین امامی:
وقف املاک کا معاملہ ایک شرعی مسئلہ ہے۔ کوئی بھی زمین جس مقصد کیلئے، جس کاز کیلئے وقف کی جاتی ہے، تو اس کا مصرف صرف وہی ہوتا ہے، اس جگہ کو یا چیز کو کسی اور مقصد یا کام کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ خیبر پختونخوا میں جو املاک امام حسین (ع) کے نام سے وقف ہیں، المیہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے غیر منصفانہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس کی پہلی مثال تو ڈیرہ اسماعیل خان میں کوٹلی امام حسین (ع) کا معاملہ ہے۔ جب ایک زمین کا حصہ وقف امام حسین (ع) ہے تو کسی کو بھی یہ اتھارٹی یا حق حاصل نہیں ہے کہ اس کی حیثیت میں تبدیلی کرے، چاہے وہ حکومت ہو، کوئی تنظیم ہو، کوئی عالم ہو یا کوئی طالب علم۔ یہ مسلمہ اصول ہے کہ اس کی حیثیت میں نہ ہی آپ تبدیلی کرسکتے ہیں اور نہ ہی اسے کسی اور مقصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ ہمارا اس پہ واضح اور دوٹوک موقف یہی ہے۔ اب انتظامیہ اس تبدیلی کا کوئی بھی عذر پیش کرے، میرے نزدیک وہ ناقابل قبول ہے۔

اسلام ٹائمز: اربعین کی آمد آمد ہے، زائرین کے مسائل جوں کے توں ہیں، قومی تشیع جماعتیں اس اہم مسئلہ کے حل میں دلچسپی کیوں نہیں لیتیں۔؟
علامہ حمید حسین امامی:
اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ زائرین کے مسائل سے قومی تشیع جماعتیں غفلت کی مرتکب ہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ زائرین کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے۔ شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنماؤں نے اس سلسلے میں حکومت و وزراء سے باقاعدہ ملاقاتیں کی ہیں اور ان کے مسائل کو حل بھی کیا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تمام تر مسائل مکمل طور پر حل ہوچکے ہیں مگر یہ مسائل کم ضرور ہوئے ہیں۔ حال ہی میں تفتان میں پاکستان ہاؤس میں شیعہ علماء کونسل نے زائرین کیلئے مختلف انتظامات کئے ہیں۔ وہاں باتھ روم اور دیگر ضروریات کیلئے نئی تعمیرات بھی ہوئی ہیں۔ جہاں تک کانوائے کے مسائل ہیں تو وہ بھی کسی حد تک
حل ہوئے ہیں، ان میں مزید بہتری کی گنجائش بھی موجود ہے۔ تاہم پاکستان کے دشمن دہشتگردی کا ہتھیار استعمال کرکے ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ کانوائے وغیرہ کی تشکیل بھی اسی دہشتگردی کو مدنظر رکھ کر کی گئی تھی۔

اسلام ٹائمز: منبر و سٹیج حسینی (ع) سے تشیع عقائد سے متصادم پیغام جاری ہے، نصیریت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اسکا تدارک کیونکر ممکن ہے۔؟
علامہ حمید حسین امامی:
یہ لوگ منبر و سٹیج حسینی کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہو رہا بلکہ ایک منظم سوچی سمجھی سازش کے تحت اس کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ توحید رسالت کے بارے میں تشیع نظریہ بالکل واضح ہے۔ جو لوگ امام علی (ع) کو یا کسی اور امام (ع) کو خدا مانتے ہیں، ان سے اہل تشیع کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کفر و شرک پہ مبنی عقائد ہیں۔ ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت اہل تشیع کے خلاف کام کیا جا رہا ہے اور تشیع کے اندر سے سادہ لوح افراد کو بھٹکا کر تشیع کو تقسیم کرنے کی مذموم کوشش جاری ہے۔ ہمیں سٹیج حسینی سے نصیری عقائد کے پرچار کے سامنے بند باندھنا ہوگا۔ ہم نے اس اہم ترین مسئلہ پہ عوام میں شعور بیدار کیا ہے۔ کئی کانفرنسز منعقد کی ہیں۔ تمام علماء کرام نے باقاعدہ فتویٰ جاری کیا ہے کہ ایسے عقائد سے ہمارا، تشیع کا، کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم ایسے عناصر کے شدید خلاف ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ ایسے عناصر کو منبر حسینی (ع) سے دور رکھیں۔ عوام میں شعور بیدار کریں، تاکہ وہ خود ان کا مواخذہ کرسکیں۔ 

اسلام ٹائمز: کشمیر میں ظلم و جبر کا بازار گرم ہے، آپکی جماعت خاموش ہے، کیوں۔؟
علامہ حمید حسین امامی:
شیعہ علماء کونسل نے ہر موقع پہ کشمیر کے معاملے پہ بات کی ہے۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور ان کے حق خود ارادیت کے مکمل حامی ہیں۔ فقط کشمیر ہی نہیں بلکہ ہماری جماعت ہر مظلوم کی حامی ہے۔ چاہے وہ
مظلوم یمن کا باسی ہے، فلسطین کا یا کشمیر کا۔ ہم ظلم کے خلاف ہیں۔ ظالم کے خلاف ہیں۔ شیعہ علماء کونسل نے اس مسئلہ کو اپنی کانفرنسز میں مسلسل اجاگر کیا ہے۔ میں یہاں پہ یہ ضرور کہوں گا کہ اس بارے میں ہماری حکومتی پالیسیاں تذبذب کا شکار محسوس ہوتی ہیں۔ آپ اسے کچھ بھی کہیں مگر بات تو یہ ہے کہ آپ ظالم کے ساتھی ہیں یا مظلوم کے۔ اگر آپ مظلوم کے ساتھی ہیں تو پھر ہر مظلوم کو اپنا دوست ماننا ہوگا اور ہر ظالم کے ظلم کی مذمت کرنی ہوگی۔ آپ دنیا پہ دیکھ لیں کہ کون مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے اور کون ظالم کے ساتھ۔ یہ تقسیم بڑی واضح ہے۔ 

اسلام ٹائمز: امریکہ ایران پہ حملے کیلئے پر تول رہا ہے، عوامی سطح پہ کتنا ردعمل آئیگا۔؟
علامہ حمید حسین امامی:
برادر اسلامی ملک ایران نے مسئلہ کشمیر پہ واضح اور دوٹوک الفاظ میں کشمیریوں کی حمایت کی ہے۔ یمنیوں پہ ہونے والے مظالم، شام میں ہونے والے ظلم، فلسطین میں جاری مظالم سب کی مذمت کی ہے۔ ایران نے ہر جگہ مظلوم کی حمایت کی ہے، دوسری جانب عرب ممالک ہیں کہ جو ایران کو اپنا حریف گردانتے ہیں اور ہر جگہ پہ ظالموں کے حامی اور مددگار ہیں۔ یہی عرب ممالک اس امریکہ کے ساتھی ہیں، جو کہ اسلامی ممالک پہ حملہ آور ہے۔ اس اسرائیل کے دوست ہیں کہ جو اسلامی دنیا کو مسلسل انتشار میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ظالم ظالموں کے ساتھی ہیں اور مظلوم مظلوموں کے ساتھی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ کہ امریکہ یا اس کا کوئی کارندہ اول تو ایسی غلطی کر ہی نہیں سکتا کہ وہ ایران کے خلاف براہ راست کسی جنگی کارروائی کا مرتکب ہو۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا بھی تو دنیا کے کونے کونے میں موجود ولایت فقیہ سے متمسک ہر جگہ جارح قوتوں کو جواب دیں گے اور شائد اس کی ضرورت بھی پیش نہ آئے، کیوںکہ ایران خود بھی اس کا بخوبی جواب دیگا۔
خبر کا کوڈ : 818880
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب