0
Monday 30 Sep 2019 18:30
عمران خان دوست ممالک سے کہتے ہیں کہ ہمیں ایڈ نہیں بلکہ ٹریڈ کی ضرورت ہے

اب ہماری خارجہ پالیسی صرف اور صرف میڈ اِن پاکستان ہے، شوکت یوسفزئی

اے این پی نے قوم پرستی نہیں کی بلکہ ڈالروں کے عوض پختونوں کے سروں کا سودا کیا
اب ہماری خارجہ پالیسی صرف اور صرف میڈ اِن پاکستان ہے، شوکت یوسفزئی
شوکت علی یوسفزئی پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ہیں۔ انکا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے گاؤں بشام سے ہے۔ یکم فروری 1963ء کو خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے بشام مین پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم شانگلہ سے حاصل کی اور پھر سوات کے جہانزیب کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا۔ انہوں نے ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور سے ایم ایس سی مکمل کی۔ 1996ء میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور ڈسٹرکٹ شانگلہ سے الیکش میں حصہ بھی لیا۔ اسی وقت سے وہ سیاست میں سرگرم رہے اور خیبر پختونخوا کی سطح پر پارٹی کو اپنی خدمات پیش کرتے رہے۔ 2011ء میں انہیں عمران خان کا سیاسی مشیر بنایا گیا۔ اسکے بعد 2013ء میں وہ خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری رہے۔ 2013ء کے الیکشن میں انہوں نے پشاور کے صوبائی حلقے پی کے 2 سے حصہ لیا اور شاندار جیت اپنے نام کی۔ شوکت علی یوسفزئی صوبائی وزیر صحت اور وزیر اطلاعات بھی رہ چکے ہیں۔ انکا شمار صوبے کے انتہائی بااثر رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ 25 جولائی 2018ء کو انہوں نے شانگلہ پی کے 23 سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی، لیکن خواتین کے پول کردہ ووٹ 10 فیصد سے کم ہونیکے باعث الیکش کمیشن نے نتائج کالعدم قرار دے دیئے، جسکے بعد 10 ستمبر کو دوبارہ الیکشن منعقد کئے گئے، جس میں انہوں نے واضح اکثریت سے دوبارہ الیکشن جیت لیا اور اسوقت صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ کی ذمہ داری پر فائز ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے ان سے خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کے پیشِ خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: مولانا فضل الرحمٰن اکتوبر میں حکومت کیخلاف دھرنا دینے جا رہے ہیں، وہ اپوزیشن کی مختلف جماعتوں سے رابطے میں بھی ہیں، کیا اپوزیشن جماعتیں مولانا کے دھرنے میں شامل ہونگی؟ ایسی صورتحال میں حکومت کی کیا حکمت عملی ہوگی۔؟
شوکت یوسفزئی:
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اپوزیشن کے پاس کوئی ایشو نہیں ہے، خود مولانا فضل الرحمٰن کو بھی نہیں پتہ کہ وہ دھرنا کیوں اور کس کیلئے دینے جا رہے ہیں۔ ہاں صرف ایک ایشو مہنگائی کا ہوسکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں، وہ عوام کو پتہ چل گئے ہیں۔ گذشتہ 15 سے 20 سال کی غلط پالیسیوں، لوٹ مار اور کرپشن نے ہماری معیشت کو ڈبو دیا۔ اب آپ خود اندازہ کریں جب ہمیں حکومت ملی تو ایک طرف خزانہ خالی اور دوسری جانب 30 ہزار ارب کا قرضہ، گیس، بجلی، ریلوے، پی آئی اے، اسٹیل ملز، حتٰی کہ ہر ادارہ خسارے کا شکار ملا، جس ادارے کو ہاتھ لگاؤ وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ دراصل ماضی کے حکمرانوں نے ہمارے لئے صرف تباہی چھوڑی تھی اور میں اسے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی سمجھتا ہوں۔ درآمدات و برآمدات میں اتنا فرق جو اب بڑی مشکل سے ہم نے سنبھالا ہے۔ ماضی میں کمیشن کیلئے ایکسپورٹ کی بجائے امپورٹ پر زیادہ فوکس کیا جاتا تھا، ہمیں تاریخ کا سب سے بڑا کرنٹ بجٹ خسارہ ملا۔ اگر ہمیں ہر شعبے میں تباہی نہ ملتی تو آج ہم عوام کو بجلی اور گیس سمیت دیگر بنیادی اشیاء میں ریلیف دے رہے ہوتے۔

وزیراعظم عمران خان کی شروع دن سے خواہش تھی کہ عوام کو ہر مکن ریلیف دیا جائے، مختلف میٹنگز میں وزیراعظم ہمیشہ کہتے ہیں کہ عوام کیلئے کچھ کرنا ہے۔ پچھلے دنوں وہ طورخم سرحد کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ بعد ازاں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے بھی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے صوبائی حکومت اور وزراء کو ہدایت کی کہ عوام کیلئے سوچیں، عوامی مفاد کے منصوبے متعارف کرائیں، لیکن جو مشکلات ہیں وہ تو اپنی جگہ موجود ہیں، ہمیں کرنا کیا ہے، ہمیں درآمدات و برآمدات میں فرق ختم کرکے ایکسپورٹ بڑھانی ہے۔ انڈسٹری کو بجلی سستے داموں دینی ہے، ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کم ہے، کیونکہ ہمارے اپنے لوگ انویسٹمنٹ کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ 15، 20 سال سے دہشت گردی کی لہر نے بھی کاروبار اور سرمایہ کاری کو متاثر کیا، میں آپ کو بتاؤں کہ اب آہستہ آہستہ لوگوں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، کرپشن کا لیول نیچے آیا ہے، لوگ خوش ہیں کہ پاکستان میں ان کا سرمایہ محفوظ ہے۔

ماضی کے حکمرانوں نے ہمارے ساتھ کچھ ایسا کیا جیسے ایک بھائی جوئے میں گھر بار سب کچھ ہار جائے اور دوسرا بھائی کوشش کرے کہ اپنا گھر بار اور ہارا ہوا سب کچھ واپس لے آئے اور سب ٹھیک کر دے۔ تو پہلا والا بھائی باہر بیٹھ کر مذاق اڑائے اور کہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ سب کچھ تم کیسے ٹھیک کرتے ہو، یہی پاکستان کے ساتھ ہور ہا ہے۔ ملک کو لوٹنے والے تماشا کر رہے ہیں اور مذاق اُڑار ہے ہیں، اگر ہم سخت فیصلے نہ کرتے تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ پاکستان ڈیفالٹ ہو جاتا، ہم نے تمام تر مشکلات کے باوجود ڈالر کی قیمت میں استحکام لایا۔ اگر سخت فیصلہ نہ کرتے تو ڈالر 300 سے 500 تک چلا جاتا۔ عمران خان ہمیشہ کہتے ہیں، جب بھی مشکل وقت آیا قوم نے قربانی دی، لیکن بدقسمتی سے ماضی کے حکمرانوں نے ان لوگوں کی قربانی کو ضائع کیا، ہم قربانی اس لئے دے رہے ہیں کہ معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو۔ میں عوام کو خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ آئندہ 6، 7 ماہ سخت ہونگے، اس کے بعد عوام کو ریلیف ملے گا، ہم 1100 ارب قرضوں کی مد میں ادا کرچکے ہیں۔ ہم آئی ایم ایف کیوں گئے، ایک طرف خزانہ خالی تھا تو دوسری طرف پیسے بھی واپس کرنے تھے، ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے تھا؟ ہم نے ساری مشکلات اپنے سر لیں۔

اب میں آتا ہوں مولانا کے دھرنے کی جانب، دراصل یہ لوگ مذہب کے نام پر لوگوں میں اشتعال پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ختم نبوت ﷺ کا نام استعمال کرتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے ہم سب مسلمان ہیں، ختم نبوت پر ہم آنچ نہیں آنے دیں گے۔ وزیراعظم عمران خان خود پانچ وقت کے نمازی ہیں، مولانا مذہبی کارڈ استعمال کرکے لوگوں کو سڑکوں پر لانا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں تو اکثریت مسلمانوں کی ہے، کیا مولانا بتا سکتے ہیں کہ حکومت نے کب مخالفت کی، کیونکہ کسی کی جرات ہی نہیں کہ ختم نبوت ﷺ کے قانون کو چھیٹر سکے۔ مولانا کبھی ایک کے پاس سوال لے کر جا رہے ہیں اور بھی دوسرے کے پاس، لیکن اپوزیشن جماعتوں کو پتہ ہے کہ مولانا جو کرنے جا رہے ہیں، وہ انتہائی خطرناک ہے۔ مولانا کا جو بھی ساتھ دے گا، وہ بھی ڈوبے گا۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ مولانا کا آخری دھرنا ہوگا، ان کی سیاست ختم ہو جائے گی، کیونکہ وہ خطرناک کھیل کھیلنے جا رہے ہیں۔ مولانا مذہب کا نام استعمال کرکے کرسی تک پہنچنا چاہتے ہیں، پاکستانی سیاست میں ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔

آج بھی اسلامی انتہا پسندی کی بات ہوتی ہے، دہشت گردی کے خلاف بہت زیادہ قربانی فوج اور عوام نے دی ہے، لیکن اب بھی پاکستان کی طرف انگلیاں اُٹھ رہی ہیں، یہ سب ان نالائق لیڈروں کی وجہ ہے، جنہوں نے اپنی سیاست کی خاطر مذہب کو استعمال کیا۔ عمران خان جرات مند ہیں، انہوں نے اکیلے 126 دن دھرنا دیا، ہم نے کسی جماعت کے آگے ساتھ دینے کی بھیک نہیں مانگی، مولانا مدرسے کے طلبہ کو لے کر دھرنا دیں گے اور یہ بری طرح ناکام ہوں گے، کیونکہ پاکستان میں ختم نبوت ﷺ کا کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ دراصل یہ وقت اپنی سیاسی دکان چمکانے کا نہیں، ملک مشکلات میں ہے، ہمیں خارجہ اور داخلہ سطح پر خطرناک چیلنجز کا سامنا ہے۔ مشرقی و مغربی سرحدوں کی صورتحال آپ کے سامنے ہے، میں مولانا سے پوچھتا ہوں کہ آپ کتنی مرتبہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے اور کتنی مرتبہ کشمیریوں کیلئے دھرنے دیئے اور احتجاج کیا۔

دراصل مولانا نواز شریف اور زرداری کو بچانے کیلئے سڑکوں پر آرہے ہیں، مولانا بے روزگار ہیں، اپنے لئے روزگار اور چھتری کی تلاش میں ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ ہر وقت پیسہ نہیں کمایا جاسکتا، ملک کو اس طرح نہیں بیچنا چاہیئے، ہم نے پاکستان کو بچانا ہے، ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، جن لوگوں نے چوری کی، وہ جیلوں میں ہیں، یہ ٹاسک مولانا کو ملا ہے کہ انہیں جیلوں سے نکالنا ہے۔ میں واضح کر دوں کہ موجودہ سسٹم میں مولانا کو ایک پائی کا بھی فائدہ نہیں ہوگا، انہیں صرف اپنی ذات کا مسئلہ ہے۔ وہ وزراء کالونی میں بنگلہ چاہتے ہیں۔ میری تمام علماء، مذہبی سکالرز اور مدرسوں کے طلبہ سے درخواست ہے کہ وہ مولانا کہ سیاسی دھرنے میں کسی طور شرکت نہ کریں۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کو ہمیشہ دھرنے کیلئے کنٹینر کی فراہمی کی پیشکش کرتے ہیں، حکومت مولانا کے دھرنے سے خائف کیوں ہے۔؟
شوکت یوسفرئی:
مولانا صاحب اگر سیاسی ایشو اور عوام کیلئے دھرنا دیتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن مذہبی کارڈ استعمال کرکے عوام کو بے وقوف نہیں بنانے دیں گے۔ وہ سیاسی ایشوز پر دھرنا دیں، انہیں کنٹینر فراہم کریں گے اور جو سہولت چاہیں، وہ بھی دیں گے، لیکن میں پھر کہوں گا کہ اس وقت ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے، افغانستان، ایران اور انڈیا سے مسائل آرہے ہیں، ایران جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے، خیبر پختونخوا مشکل حالات سے گُزرا ہے۔ ان حالات میں لیڈر کا کام ہوتا ہے کہ ملک کو سنبھالا جائے۔ مولانا عوام کی بات کریں، مذہب کو استعمال نہ کریں۔ مذہب کو اللہ کے فضل سے کوئی خطرہ نہیں، پاکستان میں مذہب بالکل محفوظ ہے۔

اسلام ٹائمز: بھارت کیجانب سے مقبوضہ کشمیر کی مخصوص حیثیت ختم کرنے، کرفیو اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر پاکستان دنیا بھر میں کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس ایشو پر دنیا نے پاکستان کا ساتھ دیا؟ کیونکہ جن ممالک سے توقع تھی، وہ بھی کھل کر سامنے نہیں آئے۔؟
شوکت یوسفرئی:
دراصل ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہوتی ہے، جو ان کے اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، فوری طور پر کسی بھی ایشو پر کھل کر اظہار کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ہر ملک صورتحال کو دیکھتا ہے، لیکن میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ہم نے کشمیر کے ایشو پر زبردست کامیابی حاصل کی ہے، سب سے اہم بات اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اس ایشو پر بند کمرے میں اجلاس بلایا، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس اجلاس کی قرارداد سامنے نہیں آئی، انہیں نہیں معلوم کہ بند کمرے کی قرارداد نہیں ہوتی۔ دنیا نے تسلیم کیا ہے کہ یہ دو ممالک کا نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ او آئی سی نے بھی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کشمیر کے معاملے میں پر اسلامی بلاک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، وہ پاکستان کی مخالفت نہیں کرسکتے، کیونکہ بہت سے اسلامی ممالک کی پشت پر پاکستان کھڑا ہے۔ اللہ نے ہمیں ایسی پروفیشنل فورس دی ہے، ایسی فوج دنیا میں کہیں نہیں ہے، جو سرحد پر بھی لڑنا جانتی ہے اور اندورنی سکیورٹی صورتحال سے بھی نبرد آزما ہے۔ ہماری فوج نے 20 سال تک اندورنی دہشت گردی کا سامنا کیا اور یہ جنگ جیت کر دکھائی، ہم مضبوط عسکری قوت رکھتے ہیں، آسانی کے ساتھ کوئی ملک بھی پاکستان کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ ٹھیک ہے ماضی میں ملک پر چور لٹیرے حکمران مسلط رہے ہیں، لیکن ہم ریاستی طور پر کمزور نہیں ہیں۔

اسلام ٹائمز: ایسے حالات میں خارجہ پالیسی کو دیکھا جاتا ہے، پارلیمنٹ کے اندر حزب اختلاف کو ساتھ چلایا جاتا ہے، وزیراعظم ان معاملات میں قائد حزب اختلاف کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں، ذرائع ابلاغ کو استعمال کیا جاتا ہے، لیکن یہاں تو میڈیا ٹربیونلز بن رہے ہیں، جس پر صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں، ایسے میں حکومت تنہا کیسے تمام داخلی و خارجی حالات کا مقابلہ کرسکے گی۔؟
شوکت یوسفرئی:
سب سے پہلے میں میڈیا ٹربیونلز پر بات کروں گا، میری خواہش ہے کہ جتنی بھی صحافتی تنظیمیں ہیں، انہیں اعتماد میں لیا جائے، اسوقت جس طریقے سے صحافت ہو رہی ہے، وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ اگر کوئی ناراض ہو جاتا ہے تو پالیسیوں کی بجائے انفرادی طور پر اسے ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔ دراصل صحافت بڑا وسیع فیلڈ ہے، ہم میڈیا کے ذریعے بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں، لوگوں کے ذہن بدل سکتے ہیں، بدقسمتی سے اب بہت کم لوگ رہ گئے ہیں، جو اخبارات کے آرٹیکلز پڑھتے ہیں اور اپنی رائے بناتے ہیں۔ اب ہر کوئی ٹاک شو میں بیٹھا ہے، کوئی فیئر گیم نہیں کھیل رہا، ٹی وی اینکر اپنی مرضی کے لوگوں کو بلاتا ہے، اپنی مرضی کی چیزیں نکالتا ہے۔ ٹی وی پر چلنے والے پروگرام یا خبر تو کچھ وقت بعد غائب ہو جاتی ہے، لیکن پرنٹ میڈیا کی خبر ریکارڈ کا حصہ بن جاتی ہے، لہٰذا ہمیں پرنٹ میڈیا کو مضبوط کرنا ہوگا، کیونکہ الیکٹرانک میڈیا کسی اور کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔

جہاں تک سوال خارجہ پالیسی کا ہے تو نواز شریف کی حکومت میں وزیر خارجہ ہی نہیں تھا، ہمارے دور میں جتنے بھی پڑوس کے مالک ہیں، وہ ہمارے ساتھ ہیں، ہماری بہترین خارجہ پالیسی نے ہی بھارت کو اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار بنا دیا ہے، وہاں اپوزیشن حکومت کے خلاف کھڑی ہے، ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ بھارت کے اقدامات غلط ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری خارجہ پالیسی پچھلی حکومتوں سے کافی بہتر ہے، معیشت سمیت دیگر چیلنجز کے ساتھ پڑوس کے ممالک کو اعتماد میں لینا اچھا شگون ہے، آگے ہمارے لئے فائد ہوگا، دوستوں کا اعتماد بڑھا ہے۔ وزیراعظم عمران خان دوست ممالک سے کہتے ہیں کہ ہمیں ایڈ نہیں بلکہ ٹریڈ کی ضرورت ہے، ہم ملک میں سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اب ہماری خارجہ پالیسی صرف اور صرف ”میڈ ان پاکستان‘‘ ہے۔ دوسری بات اپوزیشن کا بڑا عجیب مسئلہ ہے، جب وہ اسمبلی میں آتی ہے تو انہیں آصف زرداری اور نواز شریف یاد آجاتا ہے، ان کے پاس کوئی ایشو نہیں ہے، وہ چاہتے ہیں ہمیں گرفتار نہ کریں، تاکہ ہم اکٹھے ہو جائیں، لیکن ان کا اکٹھا ہونا پاکستان کیلئے اچھا نہیں ہے۔

انہیں جب تک پاکستان کی سیاست سے واش آوٹ نہیں کریں گے، یہ لوگ ملک کو لوٹتے رہیں گے، اگر گرفتار سیاستدانوں کا فیصلہ نہیں ہوتا تو ملک کے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی۔ میں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ کشمیر کیلئے بندوق فوج نے ہی اُٹھانی ہے، میں اپوزیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ یکجہتی کی ایسی مثال قائم کریں کہ تمام لوٹے ہوئے پیسے قومی خزانے میں جمع کرا دیں اور اپنے کرپٹ لیڈروں کی تصاویر فریم کرا دیں، کیونکہ اب ان کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اگر ہم نے انہیں کھلا چھوڑ دیا تو لوگ مزید کرپشن کریں گے، لوگ اب ہوشیار ہوچکے ہیں، جو بچہ پیدا ہوتا ہے، سوا لاکھ روپے کا مقروض ہوتا ہے، ان سب چیزوں کو عمران خان ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، میں پوچھتا ہوں کہ کب عمران خان کو 20، 30 سال ملے، صرف ایک سال ہوا ہے، کم ازکم وہ ملک تو نہیں لوٹ رہا، بلکہ ملک کو ٹریک پر لایا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں رائج اپنے ہی بلدیاتی نظام پر عدم اعتماد کرکے نیا قانون بنایا ہے، کیا نیا بلدیاتی ایکٹ عوام کے مسائل حل کرسکے گا۔؟
شوکت یوسفزئی:
قانون سازی اسمبلی کا کام ہوتا ہے، بدقسمتی سے ہم گلی کوچے میں پھنسے ہوئے ہیں، ضیاءالحق کے دور سے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو گلی کوچوں میں لگا دیا گیا، جہاں تک بہتری کی گنجائش ہو، آپ قانون سازی کرسکتے ہیں۔ پچھلے نظام میں متوازی چیزیں آرہی تھیں، صوبائی اسمبلی، ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور ٹاونز تحصیل کی حکومتیں سڑکیں ہی بناتی رہیں۔ اس عمل سے کرپشن کو روکنا مشکل ہوگیا تھا، پیسے ضائع ہو رہے تھے، ہم نے نئے بلدیاتی ایکٹ میں خامیوں کو دور کیا، اصلاحات لائے ہیں۔ ڈسٹرکٹ اور ٹاؤن کا ایک ہی کام تھا، ہم نے ڈسٹرکٹ ختم کرکے تحصیل حکومتیں قائم کرنے کا قانون منظور کیا ہے، تاکہ ایک عام آدمی کی رسائی ممکن ہوسکے۔ بڑے شہروں میں سٹی میئر ہوگا۔ میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ خیبر پختونخوا اور ضم شده اضلاع میں ایک ساتھ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے، حلقہ بندیوں کے بعد کسی بھی وقت الیکشن ہوسکتے ہیں۔ ترقیاتی کاموں کیلئے پہلے ایم پی اے کو فنڈز ملتا تھا، اب ہم اسکیمیں دیتے ہیں، جن کی ای ٹینڈرنگ ہوتی ہے۔ ہمارا کام صرف مانیٹرنگ ہے، اب اپوزیشن ہم پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ پرانا نظام ٹھیک تھا۔

اسلام ٹائمز: امریکہ اور طالبان میں امن مذاکراتی عمل ٹوٹ چکا ہے، مذاکرات کی ناکامی سے پاکستان اور اسکے خطے پر کیا اثرات مرتب ہونگے اور پاکستان مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔؟
شوکت یوسفرئی:
افغاستان ہمارے لئے بہت اہم ہے، ہمارا پڑوسی ملک بھی ہے، وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت بھی افغانستان کے راستے ہوتی ہے۔ حالات خراب ہونے کے باعث تجارت کم ہوئی ہے اور تجارتی سرگرمیاں ماند پڑتی ہیں تو پھر بے روزگاری بڑھتی ہے۔ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ افغانستان میں امن ہو، تاکہ پاکستان اور پورے خطے میں پائیدار امن قائم ہو جائے۔ بدقسمتی سے امریکہ نے پہلے افغانستان میں طاقت کا استعمال کیا، اسوقت بھی عمران نے کہا تھا کہ طاقت کے زور سے افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، فریقین کو بٹھا کر مسئلہ حل کیا جائے۔ اسوقت خان صاحب کو طالبان خان کا طعنہ دیا گیا، آج وہی امریکہ پاکستان سے کہہ رہا ہے کہ ہماری مدد کرو۔

اب امریکہ کو پتہ چل گیا ہے کہ جنگ کے ذریعے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگرچہ امن مذاکرات میں بریک آیا ہے، لیکن بہت تھوڑے عرصے کیلئے ہوگا، کیونکہ اب امریکہ بھی جان گیا ہے کہ وہ کہاں پر پھنسا ہوا ہے۔ افغانستان کی تاریخ ہے، جب باہر کی فورسز آجائیں، وہاں مسئلہ ختم نہیں ہوتا، افغانیوں کو ہی بیٹھ کر معاملات طے کرنا ہوں گے۔ اس خطے میں پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، کیا بھارت بتا سکتا ہے کہ وہ کیوں افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، بھارت کے تمام سفارت خانے افغانستان میں بیٹھ کر جاسوسی کا کام کر رہے ہیں۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ پاکستان نے افغان بھائیوں کیلئے میڈیکل ویزے کا اجراء آسان بنا دیا ہے۔

اسلام ٹائمز: کابینہ میں ردو بدل کی بازگشت ہے، کیا کوئی وزیر فارغ بھی ہوگا اور نوزائیدہ جماعت کو کابینہ میں حصہ دیا جائیگا۔؟
شوکت یوسفزئی:
نوزائید جماعت کو کسی صورت کابینہ میں شامل نہیں کریں گے، ہمارے پاس اپنے لوگ کافی ہیں۔ وزیراعظم امریکہ سے واپس آگئے ہیں تو کابینہ میں ردو بدل کی منظوری دیں گے۔ وزراء کے قلمدان تبدیل کریں گے، لیکن میں واضح کر دوں کہ کسی وزیر کو فارغ نہیں کیا جائے گا۔ دراصل تحریک انصاف سے لوگوں کی توقعات بہت زیادہ ہیں، تمام وزراء کوشش اور محنت کر رہے ہیں، اپوزیشن وزیراعلٰی کے حوالے سے افواہیں پھیلاتی ہے۔ دراصل محمود خان باتیں کم کرتے ہیں، لیکن وہ کام کرتے ہیں اور ان کے کام بولتے ہیں۔ وزیراعلٰی مکمل بااختیار ہیں، میں نے تاریخ میں اتنا مضبوط وزیراعلٰی کبھی نہیں دیکھا۔

میں یہ بھی واضح کردوں کہ جب تک پی ٹی آئی کی حکومت ہے، محمود خان ہی وزیراعلٰی رہیں گے۔ وزیراعلٰی دیکھنے میں سادہ لگتے ہیں، لیکن اتنے سادہ ہیں نہیں، انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں قبائلی اضلاع کے انضمام، وہاں خاصہ دار اور لیویز جیسے دیگر مسائل کو اپنی فہم و فراصت سے حل کرکے دکھایا۔ ماضی میں سیاسی جماعتوں نے قوم پرستی اور پختونوں کے نام پر سیاست کی، لیکن اب عوامی نیشنل پارٹی کی پوری سیاست ڈوب گئی ہے، پھر قومی وطن پارٹی سے قوم پرستی کا نعرہ لگایا گیا، لیکن عوام نے انہیں بھی مسترد کر دیا۔ اے این پی نے قوم پرستی نہیں کی بلکہ ڈالروں کے عوض پختونوں کے سروں کا سودا کیا۔
خبر کا کوڈ : 819068
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب