QR CodeQR Code

السید القائد سے 25 سال کا سنا تو اندازہ لگایا کہ انہوں نے اسرائیل کو کچھ زیادہ وقت دیدیا ہے

اسرائیل کا خاتمہ وقوع پذیر ہونیوالا ہے، سید حسن نصراللہ کا خصوصی انٹرویو (حصہ دوئم)

ٹرمپ چاہتا ہے کہ ایران سمیت خطے کے تمام ممالک امریکہ کیلئے سعودیہ کیطرح ہو جائیں

5 Oct 2019 16:52

مجلہ مسیر کو اپنے خصوصی انٹرویو میں حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے بتایا ہے کہ معاہدہ صدی کے حوالے سے مختلف فلسطینی گروہوں اور تمام جماعتوں کے درمیان ایک ہی مشترکہ موقف پایا جاتا ہے، ایسا نہیں ہے کہ ان میں کچھ مانتے ہوں کچھ اس کا انکار کرتے ہوں، الفتح، حماس اور دوسرے فلسطینی گروہوں کے درمیان موجود اختلافات کے باوجود، معاہدہ صدی کے غلط اور ناقابل قبول ہونے پر سب ایک ہیں، کسی کو اس میں شک و شبہ نہیں، سب کا اس پر اتفاق ہے، فلسطینی قوم خواہ اس ملک کی سرحدوں کے اندر ہو یا باہر، سب یک زبان ہو کر معاہدہ صدی کو رَد کرتی ہے، اس منصوبہ کی مخالفت صرف ایران اور خطے میں مقاومتی گروہوں تک محدود نہیں بلکہ خود فلسطینیوں نے معاہدہ صدی کی مخالفت کی ہے۔


ادارہ حفظ و نشر آثار، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مجلہ ’’مسیر‘‘ کی ٹیم نے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ کیساتھ طویل دورانیئے پہ مشتمل انٹرویو کا اہتمام کیا۔ اس انٹرویو کو ذرائع ابلاغ کی دنیا کا طویل ترین انٹرویو بھی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ انٹرویو لگاتار دو راتوں پہ محیط ہے اور اس انٹرویو کی اہمیت یوں بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ طلسماتی شخصیت رکھنے والے سید حسن نصراللہ نے اپنی گفتگو میں کئی اہم باتوں اور رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ اس انٹرویو کا دوسرا حصہ پیش ہے۔ 

سوال: کیا حزب اللہ اور آیت اللہ خامنہ ای کے مابین رابطے کے لیے کسی خاص شخص کو مقرر کیا گیا تھا۔؟ 
سید حسن نصراللہ:
(اس سوال کا نصف جواب حصہ اول میں دستیاب ہے)، اس زمانہ میں خطے کے اندر پیش آنے والے اہم واقعات میں سے کچھ معاہدے تھے، جنہیں مفاہمت کا عمل کہا جاتا تھا، یعنی اسرائیل اور عرب مذاکرات کا ایک دور شروع ہوا، جنہیں بعد میں صلح کا عمل کہہ کر پکارا گیا۔ یہ اتفاق و اتحاد کی لہریں عرب اسرائیل مذاکرات کے بعد اٹھنا شروع ہوئی تھیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 1993ء میں جناب یاسر عرفات اور اسرائیلیوں یعنی اسحاق رابن اور شمعون پرز کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ وہ معاہدہ جو ریاست متحدہ امریکہ کی زیر نظارت طے پایا تھا۔ اس معاہدہ کا نام معاہدہ اوسلو رکھا گیا تھا۔ واضح طور پر یہ مسئلہ بہت خطرناک مسئلہ تھا اور عرب اسرائیل جنگ پر منفی اثرات کا باعث تھا۔ اس کے خطرناک ہونے کی وجہ یہ تھی کہ طے شدہ معاہدے کے تحت تنظیم آزادی فلسطین نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کر لیا تھا اور اس طرح عملی طور پر انہوں نے صہیونی حکومت کی جانب سے 1948ء میں قبضہ کی جانے والی سرزمین سے ہاتھ اٹھا لیا تھا۔ اسی طرح اس معاہدہ میں تھا کہ مذاکرات کا موضوع، مشرقی قدس، کرانہ باختری اور غزہ پٹی ہو گا اور فلسطین کے دوسرے علاقوں کا کام تمام ہو چکا ہے، یہ ایک بڑی مشکل تھی۔ 

دوسری جانب مذکورہ معاہدہ نے دوسرے عربی ممالک کے لیے بھی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھول دیا تھا، نیز اس معاہدہ نے تل ابیب کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کا دروازہ کھولا۔ یہ بہت خطرناک مسئلہ تھا۔ اُس زمانہ میں السید القائد (سید علی خامنہ ای) اور فلسطینی مقاومتی تحریکیں جیسے حماس، جہاد اسلامی اور جبہہ ملی آزادی فلسطین اوسلو معاہدہ کے مخالف تھے۔ جبہہ عوامی آزادی فلسطین کی مرکزی کابینہ اور کچھ دوسرے فلسطینی گروہ بھی اس معاہدہ کے مخالف تھے۔ حزب اللہ اور لبنانی گروہ بھی اُس معاہدہ کے مخالفین میں سے تھے۔ ہم نے اس معاہدہ کے خلاف مظاہرے کیے، جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں ہم پر گولیاں برسائی گئیں اور اس راہ میں ہمارے کئی لوگ شہید ہو گئے۔ بہرحال یہ انتہائی خطرناک دور تھا۔ ہم نے غور و فکر کرنا شروع کیا کہ اوسلو معاہدہ کے خلاف کیا اقدامات ہونے چاہئیں؟ اس مسئلہ (اوسلو معاہدہ اور بعد کے حالات) کے بعد حزب اللہ اور فلسطینی گروہ منجملہ حماس اور جہاد اسلامی کے درمیان روابط میں تیزی اور استحکام آیا، جس سے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں تحریک مقاومت کو بھی تقویت ملی۔

یہاں ایک اہم بات ہے اور وہ یہ ہے کہ مستقبل کے بارے میں السید القائد (سید علی خامنہ ای) کی بصیرت دور رس اور فہم و فراست میں گہرائی پائی جاتی ہے۔ میرا اعتقاد ہے کہ مستقبل کے بارے میں اِن کا دقیق ادراک، اِن کی کرامات میں سے ہے، جو اِن کے ایمان، معرفت اور خداوند متعال کے ساتھ رابطہ کی بنا پر ہے اور اس میں خدائی مدد موجود ہے، اس میں صرف عقلی کاوش کا عنصر کار فرما نہیں۔ اُس زمانہ میں مذاکرات کی ہوا اڑی اور انہیں شام اسرائیل مذاکرات کہا گیا۔ اس دور میں حافظ اسد شام کا صدر اور اسحاق رابن صہیونی وزیراعظم تھا، ان کے درمیان ہونے والے مذاکرات پہلے خفیہ رکھے گئے تھے اور بعد میں اِنہیں منظر عام پر لایا گیا۔ ان دونوں نے امریکہ میں کلنٹن کی زیر نگرانی ملاقات کی اور اُن کے درمیان ہونی والی ملاقات، قریب الوقوع حوادث کی وجہ بن گئی۔ اُس وقت کہا گیا کہ اسحاق رابن شام کی جولان پہاڑیاں واپس کرنے پر متفق ہوگیا ہے۔ جو کچھ مشہور ہو رہا تھا، اس کی بنا پر خطے میں فضا بن گئی کہ اسرائیل اور شام کے درمیان صلح ہو جائے گی، یہ فضا شام، لبنان، فلسطین اور سارے خطے میں پائی جاتی تھی۔

مجھے یاد ہے کہ اُس موقع پر ہم میں سے بعض پوچھتے تھے کہ شام اسرائیل معاہدہ طے پانے کی صورت میں آپ یعنی حزب اللہ کیا کریں گے؟ اگر شام اور اسرائیل اتفاق کر لیتے ہیں تو حزب اللہ کی پوزیشن کیا ہوگی؟ اگر یہ صلح ہو جاتی ہے تو حزب اللہ اور اسلامی مقاومتی گروہوں کا کیا بنے گا؟ اس موضوع پر سوچ بچار کرنے کے لیے ہم متعدد اجلاس بلا رہے تھے، تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کر سکیں۔ اُس وقت ہم یہ تصور کر رہے تھے کہ اسد اور رابن کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ صرف حزب اللہ ہی نہیں بلکہ تمام لبنانی، شامی اور فلسطینی اس سمجھوتہ کو حتمی سمجھ رہے تھے۔ ہم نے ملکی سطح پر ایک بڑے اجلاس کا انعقاد کیا اور مستقبل کے بارے میں بحث کی۔ جس میں سیاسی، انتظامی اور عسکری موضوعات زیر بحث آئے، حتی ایک مشترکہ نام پر بھی بات ہوئی۔ کچھ کہہ رہے تھے کہ کیا ہمارا نام حزب اللہ، باقی رہے گا یا نئے حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے کوئی نیا نام رکھیں۔؟ علاوہ از این ہمارے کچھ دوست امریکی سی آئی اے کی بلیک لسٹ میں تھے اور بحث یہ تھی کہ انہیں لبنان میں رکھیں یا لبنان سے باہر پہنچا دیں۔ مثال کے طور پر شہید عماد مغنیہ، کا نام اُس لسٹ میں تھا۔ خلاصہ یہ کہ کئی ایک تجاویز کو تحریر کیا گیا۔ 

سوال: کیا اُس زمانہ میں حزب اللہ کی طرف سے کوئی ایسا شخص نہ تھا جو حافظ اسد کے ساتھ رابطہ میں رہتا اور اُس کے فیصلوں سے آگاہ کرتا؟ 
سید حسن نصراللہ:
نکتہ یہ ہے کہ تمام موصولہ اطلاعات ہمیں اطمینان دلا رہی تھیں کہ شام اسرائیل مذاکرات کامیاب رہیں گے۔ اُس وقت اسد کی اصل درخواست جولان کی پہاڑیوں کا حصول اور 4 جون 1967ء والی سرحدوں سے اسرائیل کی عقب نشینی تھی اور رابن نے یہ درخواست مان لی تھی۔ بالآخر ہم السید القائد (سید علی خامنہ ای) کے پاس پہنچے۔ انہوں نے ہمیں بہت برداشت کیا کیونکہ اُس ملاقات میں ہم نے اپنے مختلف افراد کی جانب سے بحث کی جانے والی ہر بات اور کہی جانے والی تمام تجاویز کو اُن کے سامنے تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔ انہوں نے بھی اس ملاقات، جس میں بعض ایرانی عہدیدار بھی شامل تھے، میں ہماری ہر بات کو بڑی بردباری کے ساتھ سنا۔ سارے ایرانی عہدیدار بالاتفاق یہ کہہ رہے تھے کہ (اب کیا ہو سکتا ہے) اب شام اسرائیل مذاکرات ہو چکے ہیں۔ لیکن انہوں نے فرمایا کہ آپ بدترین حالات کا تصور کر لیں، ہر برا احتمال دے لیں اور اِن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر منصوبہ بندی کر لیں لیکن میں آپ سے کہوں گا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ شام اور اسرائیل کے درمیان صلح نہیں ہو گی لہذا آپ نے جو کچھ لکھا اور تیار کیا ہے، سب کچھ ایک طرف رکھ دیں۔

جائیں، اپنے جہاد اور دفاع، تحریک مقاومت کو جاری رکھیں۔ اسلحہ حاصل کرنے، وسائل میں اضافہ اور افرادی قوت بڑھانے کی کوششوں کو تیز کر دیں۔ اس صلح کے حوالے سے پریشان نہ ہوں کیونکہ شام اور اسرائیل کے درمیان کوئی صلح نہیں ہو گی۔ اجلاس میں حاضر تمام ایرانی اور لبنانی  السید القائد کی اس دو ٹوک اور پختہ رائے کو سن کر حیران رہ گئے۔ انہوں نے نہیں کہا کہ میں اس امر کو بعید سمجھتا ہوں یا ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو اور کوئی دوسری صورتحال سامنے آ جائے بلکہ کہا کہ یقینی طور پر ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ انہوں نے حتمی انداز میں فرمایا کہ اس بات کو بھول جائیں اور اسے چھوڑ دیں۔ اپنے کام کو پہلے سے بہتر اور مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ بہرحال ہم حیرت زدہ تھے۔ ہم لبنان واپس آ گئے اور السید القائد کی رائے کے مطابق اپنے کام کو جاری رکھا۔ السید القائد سے ملاقات کو ابھی صرف دو ہفتے ہی گزرے تھے کہ تل ابیب میں ایک لاکھ عوام کی موجودگی میں ایک بڑا جشن ہوا، اور جب اسحاق رابن وہاں تقریر کر رہا تھا، انتہا پسند یہودیوں میں سے ایک شخص اُٹھا اور اس نے فائرنگ کر کے رابن کو قتل کر دیا۔ رابن کے بعد شمعون پرز صہیونی وزیر اعظم منتخب ہوا ۔ وہ ایک کمزور شخصیت رکھتا تھا۔ اسرائیلیوں کی نگاہ میں اُس کا فوجی سابقہ کم تھا اور وہ اسحاق رابن جتنا قابل اعتماد نہیں تھا۔ 

آپ کو یاد ہو گا کہ اُس زمانہ میں حماس اور جہاد اسلامی کے مجاہدین کی جانب سے تل ابیب و قدس میں ایک بڑا فدائی حملہ کیا گیا اور اسرائیلی حکومت کا اقتدار لرز اٹھا، یہ حملہ صہیونی حکام پر خوف اور وحشت طاری کرنے کا باعث بنا۔ اس عظیم فدائی حملہ کے بعد مصر کے شہر شرم الشیخ میں کلنٹن اور روس کے صدر یلسن کی شرکت کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس کیا گیا۔ دنیا کے بہت سے ممالک بھی اس اجلاس میں موجود تھے، جبکہ دوسری جانب شام کے صدر جناب حافظ الاسد نے اس اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ اجلاس نے آخر کار تین گروہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ پہلے نمبر پر حزب اللہ، دوسرا حماس اور جہاد اسلامی اور تیسرا خطے میں مقاومت کی حمایت کرنے کے جرم میں اسلامی جمہوریہ ایران تھا۔ اجلاس میں بھیڑ اور وسعت ہونے کے باوجود یہ اجلاس حزب اللہ اور خطے میں موجود دوسرے مقاومتی گروہوں کی صفوں میں خوف و ہراس پیدا نہ کر سکا۔ دوسری جانب اُس زمانہ میں السید القائد (سید علی خامنہ ای) کا مقاومت اور اسے جاری رکھنے کے بارے میں واضح اور دو ٹوک موقف تھا، لہذا اوسلو معاہدہ نے چند ایک حادثات کو جنم دیا جو کہ اس راستے میں بہت اہم اور خطرناک تھے۔ 

اس کے بعد 1996ء میں اسرائیل نے غصہ کی چنگاریاں، کے نام سے لبنان پر حملہ کیا اور قانا میں انتہا درجے کا ظلم کرتے ہوئے قتل عام کیا، یہ واقعہ قتل قانا، کے نام سے مشہور ہوا۔ ہم نے اسرائیلیوں کے مدمقابل استقامت کی اور کامیاب ہو گئے۔ کچھ بعد یعنی دو یا تین ہفتے بعد اسرائیل میں انتخابات منعقد ہوئے اور اِن میں شمعون پرز کو شکست ہو گئی۔ تحریک عمل کی جگہ تحریک لیکود برسر اقتدار آ گئی اور بنیامین نتانی اہو اسرائیل کا وزیراعظم بن گیا۔ اس نے عہدہ سنبھالتے ہی اعلان کیا کہ میں اسحاق رابن اور شمعون پرز کے کسی معاہدہ، خاص طور پر شام اور حافظ الاسد کے ساتھ کیے جانے والے مذاکرات کا پابند نہیں ہوں۔ یہ وہ موقع تھا کہ جب شام اسرائیل مذاکرات کی افواہیں دم توڑ گئیں۔ ہم نے سن 1996ء کی بات کی ہے اور اب سن 2019ء ہے، جبکہ آج مفاہمت کا عمل اپنی بدترین شکل میں موجود ہے۔ 

سوال: جیسا کہ آپ نے اشارہ کیا، جو فضا بن چکی تھی، یہ احساس ہو رہا تھا کہ صلح ہونے والی ہے اور اس دوران فلسطینی عوام ذبح ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اِس دوران صلح کرنے والے ممالک کی جانب سے آپ کے ساتھ کوئی رابطہ کیا گیا تاکہ حزب اللہ بھی اس راہ پر گامزن ہو جائے؟ کیا انہوں نے اسرائیل کے ساتھ صلح کو قبول کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے آپ کی طرف کوئی پیغام بھیجا۔؟ 
سید حسن نصراللہ:
 
اس حوالے سے حزب اللہ کے ساتھ براہ راست کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ وہ ہم سے نا اُمید تھے کیونکہ ہماری عقل، ہمارے ارادہ، ایمان و عزم کو اچھی طرح جانتے تھے، لیکن کلی طور پر کچھ عربی ممالک نے لبنان پر دباؤ بڑھایا ہوا تھا۔ وہ لبنانی عوام اور حکومت کے خلاف دباؤ میں اضافہ کرتے تھے تاکہ ہم  اسرائیل کے ساتھ صلح کی طرف بڑھیں۔ وہ دھمکی دیا کرتے تھے کہ صلح قبول نہ کرنے کی صورت میں اسرائیل لبنان کو تباہ کر دے گا اور عرب دنیا لبنان سے منہ موڑ لے گی۔ اس قسم کے دباؤ پائے جا رہے تھے لیکن براہ راست رابطہ نہیں ہوا کیونکہ وہ ہمارے موقف کو جانتے تھے اور مکمل طور پر ہم سے نا اُمید تھے۔ یہ ہم پر خداوند عزوجل کا لطف و کرم تھا۔ 

سوال: کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور حزب اللہ لبنان، امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی کسی بھی تجویز یعنی اوسلو سے لے کر صدی کے معاملہ تک، کو کیوں قبول نہیں کرتے؟ یعنی یہ شبہ ہوتا ہے کہ ایران اور حزب اللہ اِن تنازعوں کو ختم کرنے کے مقدمات کیوں فراہم نہیں کرتے؟ ایک نکتہ فلسطین کے متعلق بھی ہے کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ خود فلسطینی مصالحت اور صلح کرنا چاہتے ہیں۔ اس شبہ سے متعلق آپ کی رائے کیا ہے؟ جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ بعض شخصیات اور عرب دنیا کے حکام خود کو مسئلہ فلسطین کے خیر خواہ اور فلسطینی مقاصد کو بلند کرنے والے کہتے ہیں۔ آپ بتائیے کہ اس مسئلہ اور تفکر کے حقیقی علمبرداروں کو پہچاننے کی کیا علامات ہیں؟ 
سید حسن نصراللہ:
 
سوال کے پہلے حصے کے حوالے سے کہوں گا کہ مسئلہ فلسطین پر پیش کی جانے والی تمام تجاویز، فلسطینیوں کے حقوق و مفادات کو ضائع اور غصب کرنے والی رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اوسلو معاہدے کے تحت 1948ء والی زمین گفتگو کے دائرے سے باہر ہے، یعنی دو تہائی فلسطین کی سرزمین گفتگو کے دائرہ سے باہر رکھی جائے۔ ہمارے نزدیک یہ ایک بڑا ظلم شمار ہوتا ہے، یعنی ابتداء اور بنیاد ایک بڑا ظلم ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ باقی ماندہ ایک تہائی زمین بھی انہیں دینے کو راضی نہیں ہیں، یعنی انہیں نہیں کہتے کہ ہم کرانہ باختری آپ کو دیتے ہیں بلکہ صرف مشرقی قدس پر بات کرتے ہیں۔ اُس زمانہ میں صہیونی لوگ غزہ پٹی کے بارے میں لیت و لعل سے کام لے رہے تھے۔ مثلاً شمعون پرز کہتا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ ایک نیند سے جاگوں اور مجھے بتایا جائے کہ سمندر کے پانی نے غزہ کو غرق کر دیا۔ اس سرزمین کے متعلق اُس کی یہ نظر تھی۔ 

قدس کے حوالے سے یہ ہے کہ جتنی بھی تجاویز پیش کی گئی ہیں، اِن میں امریکیوں اور اسرائیلیوں نے کبھی بھی مشرقی قدس فلسطینیوں کو دینے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ حتیٰ آخری مذاکرات جو کیمپ ڈیوڈ میں یاسر عرفات اور ایہود باراک کے درمیان ہوئے، وہاں جب بیت المقدس کی بات آئی تو اسرائیلیوں نے کہا کہ بیت المقدس میں جو کچھ زمین کے اوپر ہے، وہ آپ کا اور جو کچھ بیت المقدس کی زمین کے نیچے ہے وہ ہمارا۔ اسی طرح فلسطینی پناہ گزینوں کے بارے میں اسرائیلی واضح طور پر کہتے ہیں کہ انہیں اِن کی زمینوں میں واپسی کی اجازت نہیں دیں گے۔ جبکہ لاکھوں بے گھر فلسطینی لبنان، شام، اردن اور دنیا کے دوسرے ممالک میں بکھری حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کون عقل مند انسان ہے جو ایسی باتوں کو مان لے گا؟ فرض کریں ہم مذکورہ بالا تجاویز کو مان بھی لیں، جن میں  ظاہراً دو حکومتوں اسرائیل و فلسطین کی تشکیل ہے۔ تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ کونسی فلسطینی حکومت؟ عوامی حاکمیت سے خالی، بغیر سرحد کے، جس کے آسمان و ساحل نہیں، جس کا کوئی ائیرپورٹ نہیں۔ یہ کیسی حکومت ہے؟ 

لہذا کافی عرصہ سے جو تجاویز پیش کی جا رہی ہیں یعنی میڈرڈ مذاکرات سے لے کر دو طرفہ مذاکرات اور معاہدہ صدی، یہ سب مسئلہ فلسطین کے لیے تھیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صورتحال روز بہ روز بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ حال ہی میں آپ نے دیکھا کہ جیریڈ کشنر نے معاہدہ صدی پر بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ اس منصوبہ کے تحت قدس، اسرائیل کا ہے۔ اُس نے اعلان کیا ہے کہ کرانہ باختری میں موجود صہیونی بستیاں اسرائیل کے ساتھ ملحق ہونگی۔ اس بنا پر بنیادی طور پر دو حکومتوں کے راہ حل میں فلسطینیوں کی حقیقی حکومت نہیں ہے۔ خود فلسطینی بھی اِس قسم کے منصوبوں کو قبول نہیں کریں گے۔ اسی بنا پر تدریجاً ہم اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران، حزب اللہ لبنان اور دوسرے مقاومتی گروہ مسئلہ فلسطین کے بارے میں پیش کی جانے والی تجاویز اور منصوبوں کو قبول نہیں کرتے، اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ ایسے سارے منصوبے فلسطینی قوم اور امت مسلمہ پر بہت بڑے ظلم کے مترادف ہیں۔ دوسرا یہ کہ فلسطینی قوم کی اکثریت بھی اِن منصوبوں پر راضی نہیں ہے۔ آج بالکل واضح ہے کہ معاہدہ صدی کے حوالے سے مختلف فلسطینی گروہوں اور تمام جماعتوں کے درمیان ایک ہی مشترکہ موقف پایا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان میں کچھ مانتے ہوں کچھ اس کا انکار کرتے ہوں۔ الفتح، حماس اور دوسرے فلسطینی گروہوں کے درمیان موجود اختلافات کے باوجود، معاہدہ صدی کے غلط اور ناقابل قبول ہونے پر سب ایک ہیں، کسی کو اس میں شک و شبہ نہیں، سب کا اس پر اتفاق ہے۔ فلسطینی قوم خواہ اس ملک کی سرحدوں کے اندر ہو یا باہر، سب یک زبان ہو کر معاہدہ صدی کو رَد کرتی ہے۔ اس منصوبہ کی مخالفت صرف ایران اور خطے میں مقاومتی گروہوں تک محدود نہیں بلکہ خود فلسطینیوں نے معاہدہ صدی کی مخالفت کی ہے۔ 

دوسری جانب ہمیں امام خمینی، اسلامی جمہوریہ ایران سے رہبر معظم، اِسی طرح حزب اللہ لبنان، اور مقاومتی گروہوں کے موقف کو سمجھنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ اسرائیل کی حکومت کا استحکام صرف فلسطنیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام عربی و مسلمان ممالک کے لیے خطرہ ہے۔ اس حکومت کا استحکام، شام، لبنان، عراق حتیٰ اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے بہت بڑا خطرہ شمار ہوتا ہے۔ اسرائیل کے پاس ایٹمی اسلحہ ہے نیز اس کے پاس 200 ایٹمی وار ہیڈ موجود ہیں۔ یہ حکومت سارے خطے اپنے لیے آہنی حفاظتی دیوار بنانا چاہتی ہے۔ ایک اور اہم نکتہ جسے ہم نے حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ اور اسی طرح السید القائد (سید علی خامنہ ای) سے سیکھا ہے کہ اسرائیل، امریکہ سے الگ حکومت نہیں بلکہ خطے میں امریکہ کا بازو تصور کی جاتی ہے۔ خطے میں جنگ کی آگ کو بھڑکاتا ہے؟ کون قبضے اور تجاوز کرتا ہے؟ کون دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کرتا ہے؟ اس اعتبار سے اسرائیل کی موجودگی، اس کی بقاء، اسرائیل کی طاقت اور حیثیت میں اضافہ، چاہے صلح کے ذریعہ سے ہو یا صلح کے بغیر، خطے کے سارے ممالک، ایران سے لے کر پاکستان، حتیٰ وسطی ایشیا کے ممالک اور ترکی تک کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ 

جو آج اسرائیل کے مد مقابل کھڑے ہیں، در حقیقت فلسطینی قوم اور اُن کے غصب شدہ حقوق کا دفاع کر رہے ہیں اور اسی طرح مقدسات کا دفاع کر رہے ہیں، لبنان، شام، اردن، مصر، عراق اور دوسرے ممالک کا دفاع کر رہے ہیں۔ اسرائیل، نیل سے فرات تک حکومت کی تشکیل کے منصوبہ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ یہ حکومت، اُس کا خواب ہے، جس کی تعبیر کے لیے وہ کوشاں ہے۔ اسرائیل خطے میں ایک فوجی چھاونی سمجھا جاتا ہے جوکہ امریکی مفادات کے حصول اور دفاع میں لگی رہتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران انقلاب سے پہلے والے دور یعنی شہنشاہی دور میں پلٹ جائے اور امریکہ کے لیے سعودی عرب کے جیسا بن جائے تاکہ جب چاہے تیل کی ڈیمانڈ کر سکے اور اسے تیل کی ترسیل کر دی جائے، جب تیل کی قیمت میں کمی کا مطالبہ کرے تو اس پر عملدر آمد کیا جائے۔

آپ نے دیکھا کہ ٹرمپ نے سعودیہ سے 450 ملین ڈالر لے لیے اور ٹرامپ نے واضح طور پر کہا کہ میرے لیے یہ 450 ملین ڈالر حاصل کر لینا، نیویارک کی سڑک پر کسی غیر قانونی دکان سے 100 ڈالر وصول کرنے سے بھی آسان تھا۔ ٹرمپ چاہتا ہے ایران بھی سعودیہ جیسا بن جائے۔ بلکہ خطے کے سارے ملک سعودیہ جیسے ہو جائیں۔ سعودیہ نے کس پر انحصار کیا ہے؟ خطے میں موجود داعش پر، اسی طرح اسرائیل پر، جس کے پاس ایٹمی اسلحہ ہے اور وہ خطے کے ممالک کو دھمکیاں دیتا رہتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ بہترین حکمت عملی، جس پر حضرت امام خمینی رضوان اللہ تاکید کرتے تھے، یہ تھی کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں امن قائم رہے، صلح و صفائی کے ساتھ زندگی گزاریں، عوامی حاکمیت پائی جائے اور اپنی سرزمین کا دفاع کر سکیں نیز خطے کے سارے ملک قومی حاکمیت اور سچی آزادی رکھتے ہوں، تو یہ سب کچھ اسرائیل کی موجودگی میں نہیں ہو سکتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ صلح کے نام سے معاہدوں کے ذریعہ اسرائیل کے وجود کو دوام دیں۔ 

سوال: سن 2000ء میں اسرائیل اور اس کے اعلیٰ حکام نے اعلان کیا کہ وہ جنوب لبنان سے نکل جائیں گے اور انہوں نے کوشش کی کہ اس بات کو رضاکارانہ قدم ظاہر کریں، تو کیا سچ میں وہ خیرسگالی جذبہ کے تحت نکلے تھے یا وہ ایسا کرنے پر مجبور تھے؟ 
سید حسن نصراللہ:
 
اسرائیل کو مقاومت کی جانب سے بڑے جانی و مالی نقصان کا خدشہ تھا، لہذا وہ جنوب لبنان سے عقب نشینی کرنا چاہتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقاومت اور اس کی کارروائیاں تھیں، جس نے اسرائیل کو جنوب لبنان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ لبنان میں کسی کو اس حوالے سے شک نہیں ہے یعنی سب اس مسئلہ پر اتفاق رائے رکھتے ہیں۔ اگر مقاومت کی جانب سے ہر روز کارروائیاں نہ ہوتیں تو اسرائیل اُسی طرح جنوب لبنان میں براجمان رہتا۔ البتہ جب اسرائیلی، مقاومت کی جانب سے سخت دباؤ میں آتے تو وہ کوشش کرتے کہ اپنے مدمقابل سے اپنی حیثیت تسلیم کروانے کی خاطر لبنان اور شام پر اپنی شرائط لاگو کریں، لیکن اُس زمانہ میں لبنان اور اسی طرح شام، جس کے صدر حافظ اسد تھے، نے اسرائیل کی ہر حیثیت کو ماننے سے انکار کر دیا۔ شام کے لبنانی حکومت کے ساتھ گہرے مراسم تھے، اس نے مدد کی تاکہ اسرائیلی شرائط کو قبول نہ کرے۔ 

یہاں رُک کر بریکٹس میں اسحاق رابن اور حافظ الاسد کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا، وہ یہ کہ شام اسرائیل مذاکرات کے نتیجہ خیز نہ ہونے کے اسباب میں حافظ اسد کا موقف تھا، کیونکہ جب اسرائیلی چار جون والی سرحد پر آئے تو حافظ اسد نے طبریہ دریاچہ واپس لینے کی بحث چھیڑ دی۔ اُس کا کہنا تھا کہ یہ دریاچہ شام سے تعلق رکھتا ہے اور ہر صورت اِسے واپس ملنا چاہیے۔ یہ بات اُن اہم اسباب میں سے ایک تھی، جس کی بنا پر شام اسرائیل مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہو سکے اور یہ معاملہ اسحاق رابن کی موت کے بعد شمعون پرز کی حکومت میں سرد خانے کی نظر ہو گیا۔ اب ہم پھر سے جنوب لبنان کے مسئلہ کی طرف پلٹتے ہیں، یہاں پہنچے تھے کہ اسرائیلیوں نے کوشش کی کہ شام اور لبنان سے اپنے لیے کچھ نمبر حاصل کرتے ہوئے اپنی شرائط اِن پر لاگو کریں، جبکہ شامی اور لبنانی حکومت نے اس حوالے سے اپنی مخالفت کا واضح اعلان کر دیا۔ لبنان میں حزب اللہ اور مقاومت نے بھی اِسے ماننے سے انکار کر دیا۔ دوسری جانب حزب اللہ مقاومت جاری رکھتے ہوئے اپنی کارروائیوں کو جاری رکھا، جس کی بنا پر اسرائیلی اس نتیجہ پر پہنچے کہ اب لبنان میں ٹھہرنا صرف اخراجات کو برداشت کرنا ہے اور لبنان سے وہ اپنے لیے کوئی نمبر حاصل نہیں کر سکتے، لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ بغیر کسی شرط و شروط کے جنوب لبنان سے نکل جائیں۔

یہ بات بھی مد نظر رہے کہ اُس زمانہ میں شام و لبنان سے اسرائیلی انخلاء کے حوالے سے مقبوضہ زمین سے شہریوں کا اندرونی دباؤ بھی تھا۔ خاص طور سے مارنے جانے والے اسرائیلیوں اور دوسرے اسرائیلی فوجیوں کے خاندان لبنان سے اسرائیلی انخلاء کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس سے زیادہ دلچسپ یہ ہے کہ انہوں نے پہلے سے ہی  ماہ جولائی سال 2000ء کو لبنان سے نکلنے کا وقت قرار دے دیا تھا۔ مقاومت کی کارروائیوں میں تیزی نے تل ابیب کے لیے اسرائیل کی لبنان سے عقب نشینی کے سوا انتخاب کا کوئی خانہ باقی نہ چھوڑا تھا۔ یوں بفضل خداوند اِس حکومت کے فوجی انتہائی ذلت و خواری کے ساتھ، بری طرح سے گھبرائے ہوئے اور جلد بازی میں جنوب لبنان سے بھاگے۔ یہ وہ واقعہ ہے جو لطف خداوند سے پیش آیا۔ یہاں مجھے السید القائد (سید علی خامنہ ای) کا ایک اہم واقعہ یاد آ رہا ہے، آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے کہا تھا کہ 1996ء میں انہوں نے فرمایا تھا کہ شام اور اسرائیل کے درمیان کوئی صلح نہ ہو گی۔ سن 2000ء میں، جنوب لبنان سے اسرائیلی انخلاء سے کچھ مہینے پہلے ہم یعنی شورایٰ حزب اللہ، پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت السید القائد اور ایرانی حکام سے ملاقات کی خاطر تہران پہنچے۔ اس سفر میں پہلی مرتبہ مقاومتی محاذ کے فوجی سربراہان بھی ہمارے ہمراہ تھے، تقریباً پچاس مقاومتی فوجی سربراہان ہمارے ساتھ تھے۔ 

اس زمانہ میں، ہمارا خیال یہ تھا کہ اسرائیل 2000ء تک لبنانی سرزمین سے عقب نشینی نہیں کرے گا۔ ہم مطمئن نہ تھے، اور سن 2000ء میں اسرائیل کی عقب نشینی کو بعید سمجھ رہے تھے کیونکہ ہمارا یقین تھا کہ اسرائیل بلا مشروط عقب نشینی نہیں کرے گا۔ ہم نے السید القائد سے کہا کہ ہم تو بعید سمجھتے ہیں کہ اسرائیل، جنوب لبنان سے عقب نشینی کرے۔ لگتا ہے کہ وہ لبنان میں یونہی قابض رہے گا، اور ہمیں زیادہ وقت چاہیے ہو گا، اُسے بلامشروط کے نکلنے پر ابھارنے کے لیے ہمیں زیادہ کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ اس مسئلہ کو بعید کیوں سمجھتے ہیں؟ ہم نے جواب میں کہا کیونکہ یہ اقدام اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ ہو گا۔ جنوب لبنان سے اسرائیل کی بلامشروط عقب نشینی یعنی مقاومت کی واضح جیت اور یہ مقاومت کی پہلی واضح جیت شمار ہو گی۔ فطری طور پر اس کے اثرات فلسطین میں اندرونی طور پر اور فلسطینی قوم کے لیے بھی گہرے ہونگے۔ یہ مسئلہ اسرائیل کے لیے ایک اسٹراٹیجک دھمکی شمار کی جائے گی۔ اس سے فلسطینیوں کو پیغام ملے گا کہ اصل راستہ مقاومت ہے ، مذاکرات نہیں ۔ ایسا پیغام جس میں کہا جائے گا : مذاکرات نے تمہاری زمین اور تمہارے مقدسات کو چھین لیا جبکہ مقاومت نے لبنان اور جنوب لبنان کو آزاد کروا لیا۔ یہ وہ موقعہ تھا کہ جب السید القائد نے فرمایا کہ میں آپ کو تجویز دیتا ہوں کہ سنجیدگی کے ساتھ اپنے اذہان کو اس پر مرکوز کریں کہ اسرائیل لبنان سے نکل جائے گا اور آپ کو فتح حاصل ہو گی۔ آپ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے معاملات کو ترتیب دیں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کریں۔ بیٹھیں اور منصوبہ بندی کریں کہ اسرائیل کی لبنان سے عقب نشینی کو سامنے رکھتے ہوئے کیونکر ہمیں عسکری اعتبار سے، میڈیا میں، سیاسی اور دوسرے میدانوں میں آگے بڑھنا ہے۔ 

اُن کی یہ باتیں سن کر ہم حیران رہ گئے کیونکہ سب کا یقین تھا کہ ایہود باراک جو اُس زمانہ میں انتخابی میدان پر کامیاب ہوا تھا، اپنے عقب نشینی والے وعدہ پر عمل نہیں کرے گا، کیونکہ ابھی اس چیز کے لیے حالات ساز گار نہ تھے۔ بالخصوص امن عامہ کے حوالے سے اُس نے وعدے پورے نہ کیے تھے۔ یعنی نہ لبنانی حکومت، نہ شامی حکومت اور نہ حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ امن کا معاہدہ نہ کیا تھا۔ اس بنا پر سوال یہ تھا کہ کیسے ممکن ہے کہ وہ عقب نشینی کر لے؟ یہ قدم، غیر عقلی اور غیر منطقی تھا۔ اہم یہ ہے کہ اس اجلاس کے بعد رات کا وقت تھا، میں اپنے مقاومت کے دوستوں کے ہمراہ منجملہ عماد مغنیہ، سب السید القائد (سید علی خامنہ ای) کے گھر گئے۔ ہمارے ساتھ وہ مجاہد تھے جو اگلے مورچوں پر جنگ لڑ رہے تھے اور کسی بھی وقت اِن کی شہادت کا امکان پایا جاتا تھا۔ میں اور میرے دوسرے دوست السید القائد کے گھر داخل ہوئے تو سامنے ایک بڑے ہال میں نماز جماعت ہو رہی تھی۔ ہمارے دوستوں نے فوجی لباس پہن رکھا تھا اور اِن کی گردن میں چیفہ رومال بھی تھا، اِن کی شباہت ایرانی بسیجیوں کے ساتھ ہو رہی تھی جو ایرانی محاذ پر جنگ لڑتے ہیں۔ پروگرام صرف اتنا تھا کہ ہم نے السید القائد کی اقتدا میں نماز جماعت ادا کرنی تھی۔ عرض ادب اور اظہار عقیدت کے بعد وہاں سے رخصت ہو جانا تھا۔ السید القائد نے نماز جماعت کی امامت کی، نماز عشاء کے بعد وہ لبنانی مہمانوں سے معانقہ کرنے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھے۔ 

پھر السید القائد (سید علی خامنہ ای) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ذرا پیچھے ہٹیں۔ پھر مجھ سے کہا کہ میں حاضر ہوں۔ اتنے میں ہمارا ایک دوست آگے آیا اور اس نے السید القائد کے ہاتھ پر بوسہ دیا۔ ہمارے کچھ دوست گریہ کرنے لگے۔ کچھ نے تو اتنا گریہ کیا کہ زمین پر گر گئے۔ پھر وہ آگے آئے اور ایک دوست نے السید القائد کے ہاتھ پر بوسہ دیا پھر جب ایک دوست السید القائد (سید خامنہ ای) کے پاؤں پر بوسہ دینے کے لیے جھکا، انہوں نے اس کام کی اجازت نہ دی۔ وہ پیچھے چلے گئے اور مجھ سے کہا کہ اُن سے کہو، بیٹھ جائیں اور پُر سکون ہو جائیں تاکہ ہم آپس کچھ بات کر سکیں۔ طے نہیں تھا کہ اُس محفل میں السید القائد (سید علی خامنہ ای) ان سے بات کریں گے۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ پُرسکون ہو جائیں۔ پھر میں السید القائد کی باتوں کا ان کے لیے ترجمہ کرنے لگا۔ جن اہم امور کا انہوں نے ذکر کیا، البتہ میری نظر میں یہ باتیں اُن کی کرامات میں سے ہیں، نہ کہ سیاسی تجزیہ یا بصیرت بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہری بات ہے۔ انہوں فرمایا کہ آپ ان شاء اللہ کامران ہونگے۔

آپ کی فتح اُس چیز سے بہت بہت اور بہت قریب ہے، جس کا تصور بعض لوگ کرتے ہیں۔ انہوں نے میری طرف اشارہ کیا کیونکہ میں کہہ چکا تھا کہ اسرائیل کی عقب نشینی اس طرح  بعید ہے۔ وہ اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ تم میں سے ہر ایک اپنی آنکھوں سے دیکھو گے کہ فتح یاب ہوگئے ہو۔ یہ ملاقات ختم ہوگئی اور ہم لبنان واپس آگئے۔ اس وقت ہم نے ایک بڑی کارروائی کا اہتمام کیا البتہ اس میں مقاومت کے بڑی تعداد میں جوان شہید ہو گئے۔ 25 مئی آگئی اور اسرائیل کی جنوب لبنان سے ذلت آمیز، حیرت انگیز اور ناقابل یقین عقب نشینی شروع ہو گئی، جبکہ سرحدوں کی طرف جاتے ہوئے ہمارے کئی جوان شہید ہوئے۔ یہ وہ موقع تھا کہ جب رہبر انقلاب کی دونوں پیش گوئیاں سچ ثابت ہو گئیں اور جیسا کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ ایک یہ کہ آخری ملاقات کے صرف چند مہینے بعد ہی، نہایت جلد  مقاومت کو فتح نصیب ہوئی۔ دوسرا یہ کہ جتنے بھی لوگ السید القائد (سید علی خامنہ ای) کے ساتھ ملاقات میں شامل تھے، سب اگلے مورچے پر بڑی کارروائی میں شامل ہوئے تھے۔ سب زندہ تھے اور انہوں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ اس عظیم فتح و کامیابی کو دیکھا تھا۔ 

سوال: حضرت آقا نے چند سال پہلے فرمایا تھا کہ اسرائیل آئندہ 25 سال نہیں دیکھ سکے گا۔ اس کے بعد حضرت آقا کے اس جملہ کی تشریحات سامنے آئیں۔ کچھ نے اس جملہ کو حتمی قرار دیا بلکہ اس پر تو دن بھی گن لیے گئے ہیں۔ دوسری جانب استکباری محاذ نے اس کی بعض تشریحات کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے۔ آپ مختلف مواقع پر صہیونی حکومت کے مد مقابل ہوئے ہیں اور کئی ایک محاذ پر آپ نے اس کا مقابلہ کیا ہے، آپ کے جو تجربات ہیں انہیں مد نظر رکھتے ہوئے، جب آپ نے حضرت آقا کا یہ جملہ سنا تو آپ نے کیا سمجھا اور آپ کے جذبات کیا تھے اور کیا ہیں؟ 
سید حسن نصراللہ:
پہلے تو میں یہ کہوں گا کہ میں ذاتی طور السید القائد کے اس جملہ پر حیران نہیں ہوا تھا کیونکہ ہم نےگزشتہ سالوں کے دوران اپنی نجی نشستوں میں اس قسم کے جملے سن رکھے تھے۔ بالخصوص سن 2000ء میں یعنی صیہونی حکومت پر کامیابی کے بعد، اُس کامیابی کے کچھ مہینے بعد ہم السید القائد (سید علی خامنہ ای) کی خدمت میں آئے، وہ اس کامیابی سے بہت خوش تھے۔ وہاں مستقبل کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ اُس وقت وہ کہہ رہے تھے کہ اگر فسلطینی قوم، لبنان میں مقاومت اور خطے کی دیگر اقوام اپنی ذمہ داریوں پر صحیح عمل کریں اور اس راستے پر آگے چلیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل خطے میں زیادہ وقت نہیں نکال سکے گا۔ اس بنا پر جب السید القائد سے 25 سال کا سنا تو میں نے اندازہ لگایا کہ انہوں نے اسرائیل کو کچھ زیادہ وقت دے دیا ہے۔ اسی وجہ سے میں حیران نہیں ہوا تھا۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اسرائیل کے بارے میں السید القائد کی پشین گوئی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ہمیں جو مشاہدات ہیں اور اِن میں بعض کی طرف اشارہ ہو چکا ہے، ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ السید القائد وہ شخصیت ہیں جنہیں خداوند متعال کی تائید و نصرت حاصل ہے۔

وہ جو کچھ کہتے ہیں بعض دفعہ کسی دوسری جگہ سے الہام گرفتہ بات ہوتی ہے۔ جیسا کہ 33 روزہ جنگ میں ایسا ہی ہوا تھا۔ ضروری ہے کہ میں ذکر کروں کہ تمام معلومات، تحقیقات اور اطلاعات بتا رہی ہیں کہ ایسا واقعہ (اسرائیل کا خاتمہ) وقوع پذیر ہونے والا ہے، لیکن اس کا وقوع پذیر ہونا بلا مشروط نہیں ہے، اس کی کچھ شرائط ہیں۔ اس کی ایک شرط یہ ہے کہ خطے میں مقاومت اپنا کام جاری رکھے، اسرائیل کے سامنے تسلیم نہ ہو جائے نیز اسلامی جمہوریہ بھی خطے میں مقاومت کی حمایت جاری رکھے لہذا اگر ہم مقاومت کریں، اس راستے پر چلتے رہیں تو زمینی حقائق یہی ہیں کہ اسرائیل اس قابل نہ رہے گا کہ خطے میں آئندہ 25 سال گزار سکے۔ میں مثال پیش کرتا ہوں تاکہ بات زیادہ واضح ہو جائے۔ ہم نے ماضی میں اسرائیلی حکومت سے متعلق کئی ایک موضوعات پر تحقیقات انجام دی ہیں اور ہر بات کا جائزہ لیا ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس حکومت کی بنیاد کیا ہے؟ یعنی یہ حکومت کن بنیادوں پر استوار ہے، اس  کی موجودگی اور اس کی بقاء میں کونسے عوامل پوشیدہ ہیں؟ اس حکومت کی کمزوریاں اور نقاط قوت کیا ہیں؟

اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مقاومت ہمیشہ اپنے کاموں کو تحقیقات کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے، جس میں عقل و فکر کی قوت و کاوش کار فرما ہوتی ہے، اگرچہ اس میں بلند سطح کے احساسات و جذبات، اعتماد بنفس اور صہیونیوں کے ساتھ جنگ کی انقلابی روح بھی موجود ہوتی ہے، لیکن اس کا معنی یہ ہرگز نہیں ہے کہ جنگ کے لیے زمان و مکان کی شناخت، دشمن کے نقاط ضعف و قوت پر تحقیقات انجام نہیں دی جاتیں یا عقلی بنیادوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یہ ہماری نظر ہے اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ جزئیات میں جائیں تو مجھے کوئی مشکل نہیں۔ میں اپنی آگاہی کی بنیاد پر دشمن حکومت کی بناوٹ، اس کی بنیادوں پر، چاہے اندرونی، چاہے بیرونی عناصر کے لحاظ سے ہو اور اسی طرح اِس کے نقاط ضعف و قوت پر بات کر سکتا ہوں۔ البتہ میں السید القائد کی گفتگو کے پوشیدہ پہلووں سے آگاہی نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود انجام دی جانے والی تحقیقات اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہم واضح طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اسرائیل زیادہ دیر تک اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتا۔ کیونکہ خطے میں اسرائیل کا وجود فطری نہیں، بلکہ اس کا وجود خطے کی ماہیت کے ساتھ متضاد ہے۔ اس کے وجود کو زبردستی خطے میں باقی رکھا گیا ہے۔ اس کی موجودگی ایک معمولی، عادی و طبیعی امر میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔ 

حتیٰ اگر سارے بادشاہ، اُمرا اور عرب حکام بھی چاہیں لیکن خطے کی تمام اقوام اسرائیل کے وجود کی مخالف ہیں اور پُر زور انداز سے اس ناجائز حکومت کی موجودگی سے انکار کرتی ہیں۔ اسرائیل کی موجودگی میں نقاط ضعف بہت زیادہ ہیں اور اس حکومت کے سقوط یا اس کے ٹکڑے ہو جانے کے حتمی احتمال پائے جاتے ہیں۔ اسرائیل کے نقاط ضعف کی دو واضح مثالیں پیش کرتا ہوں۔ پہلی یہ کہ فی الحال اسرائیل کا مکمل انحصار امریکی طاقت و قدرت پر ہے، اس لحاظ سے امریکہ کے لیے اگر کوئی حادثہ پیش آتا ہے، جس میں امریکہ اُلجھ جاتا ہے، جس سے خطے میں اس کا اثر و نفوذ کم ہو جاتا ہے، جیسے ریشئن فیڈریشن کے ساتھ ہوا، اب یہ حادثہ چاہے معاشی ہو یا اندرونی سیاسی و سماجی ہو، کوئی قدرتی آفت ہو یا کوئی اور پریشانی بن جائے، آپ دیکھیں گے کہ اس خطے سے  اسرائیلی انتہائی کمترین وقت میں اپنا بوریا بستر سمیٹ کر فرار کر جائیں گے، لہذا لازمی طور پر  اِن کی تباہی صرف جنگ و عسکری اقدامات کے ساتھ نہیں جڑی ہوئی۔ بنا بر این فلسطین میں اسرائیل کا باقی رہنا، چاہے معنوی، نفسیاتی، چاہے فوجی، معاشی ہو یا امریکی حمایت کے ساتھ ہو، دیر پا نہیں۔ اب اگر امریکہ کہیں بھی اُلجھ جاتا ہے، اسرائیل خود پر انحصار کرتے ہوئے یہاں نہیں ٹھہر سکتا، اس کے ساتھ جنگ کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک مثال ہے جوکہ زمینی حقائق پر مبنی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ سالانہ تین بلین ڈالر اسرائیل کی مالی مدد کرتا ہے۔ اسی طرح امریکی بینکوں سے اسرائیلیوں کو سالانہ دس ملین ڈالر کی چھوٹ دی جاتی ہے۔ امریکہ میں وصول کیے جانے والے بعض ٹیکس اسرائیلیوں کی جیب میں جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں ہر جدید ترین ٹیکنالوجی امریکہ سے اسرائیل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی حمایت اور مدد، واضح ترین اور آشکار ترین بات ہے۔ عرب حکومتوں کے ذلت آمیز رویہ اور موقف کے پیچھے بھی امریکہ کا خوف ہے، خود اسرائیل سے ڈر و خوف نہیں ہے۔ اگر کوئی دن ایسا آ جائے کہ جب عرب حکومتیں  امریکی فوج کے نفسیاتی دباؤ سے باہر آ جائیں تو اُس دن اسرائیل کے بارے میں اُن کی رائے مختلف ہو گی۔ اب میں دوسری مثال پیش کرتا ہوں۔ دنیا کی حکومتیں عام طور پر اپنے لیے فوج بناتی ہیں، لیکن اسرائیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی فوج ہے جس کے لیے ملک بنایا گیا ہے۔ دنیا میں ممکن ہے کہ کسی ملک کی فوج سرنڈر کر جائے لیکن ملک باقی رہتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کی عراق کے خلاف جنگ کے بعد امریکیوں نے عراقی فوج کو ختم کر دیا لیکن ملک عراق باقی رہا اور ختم نہیں ہوا۔ دنیا میں ایسے ممالک ہیں کہ جہاں یا فوج نہیں پائی جاتی یا اِن کی فوج کمزور ہے، لیکن اسرائیل ایک ایسی حکومت کہ جو مضبوط فوج کے بغیر اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتی۔ اگر اس کی فوج شکست کھاتی ہے یا اس کی کمزوری اور سستی اس کے شہریوں پر واضح ہو جاتی ہے اور وہ جان جاتے ہیں کہ یہ فوج اِن کی حفاظت نہیں کر سکتی تو آپ دیکھیں گے کہ اسرائیلی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر فرار ہونا شروع ہو جائیں گے۔ میرے عزیز بھائیو! اسرائیل کی کمزوریاں، اس کے نقاط ضعف بہت زیادہ ہیں اور وہ اس کی تباہی کے اسباب ہیں۔ اسی وجہ سے میرا اعتقاد ہے کہ اس حکومت کے مخالف ایک مضبوط قومی اور اجتماعی ارادہ کے ساتھ خطے اور بین الاقوامی سطح پر ایسے حالات و واقعات رونما ہوں گے، جن کی بنا پر اس حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ میں اُن لوگوں میں سے ہوں جو موجودہ نسل کی طاقت پر ایمان رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ یہ نسل فلسطین میں داخل ہو گی اور قدس میں نماز قائم کرے گی اور پھر اسرائیلی موجود نہ ہونگے۔ 

نوٹ: یہ سید حسن نصراللہ کے انٹرویو کا دوسرا حصہ ہے، ذرائع ابلاغ کے اس منفرد اور طویل ترین انٹرویو کا اگلا حصہ آئندہ پیش کیا جائے گا، یہ انٹرویو کل پانچ حصوں پہ مشتمل ہے، جو یکے بعد دیگرے قارئین کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے۔ (ادارہ)


خبر کا کوڈ: 820085

خبر کا ایڈریس :
https://www.islamtimes.org/ur/interview/820085/اسرائیل-کا-خاتمہ-وقوع-پذیر-ہونیوالا-ہے-سید-حسن-نصراللہ-خصوصی-انٹرویو-حصہ-دوئم

اسلام ٹائمز
  https://www.islamtimes.org