0
Tuesday 22 Oct 2019 15:28

بھارت میں مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ہجومی تشدد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، پروفیسر بھیم سنگھ

بھارت میں مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ہجومی تشدد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، پروفیسر بھیم سنگھ
جموں و کشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کے چیئرمین پروفیسر بھیم سنگھ کا تعلق جموں و کشمیر کے ان ماہرینِ سیاست میں سے ہے، جنہوں نے ہر سطح پر حق گوئی کا سہارا لیکر میدان سیاسیات میں اپنا لوہا منوایا ہے، پیشے سے وکیل رہ رہے پروفیسر بھیم سنگھ برسوں سے جموں و کشمیر اسمبلی میں سرگرم رول نبھائے ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے پروفیسر بھیم سنگھ کے ساتھ جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ دفعہ 370 کی منسوخی اور بھارت بھر میں ہجومی تشدد کے واقعات کو لیکر ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ ’’دفعہ 35 اے‘‘ اور ’’دفعہ 370‘‘ کی منسوخی کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ: اس حوالے سے میری رای مختلف ہے کہ 1975ء سے آج تک اس قانون کے نتیجے میں کشمیریوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔ بھارت کے دیگر شہریوں کے ساتھ وہ مظالم نہیں ڈھائے جارہے ہیں جو اس قانون اور امتیازی پوزیشن کے نتیجے میں کشمیریوں پر ڈھائے جارہے ہیں۔ شیخ محمد عبداللہ نے بھی اس قانون کی اذیت جھیلی ہے۔ کتنے ہی سیاسی کارکن اس قاانون سے متاثر ہوئے۔ 1966ء میں جموں سائنس کالج میں کانگریس کی حکومت کے دوران چار طلباء کو کالج کے احاطہ میں شہید کردیا گیا، جس کی رپورٹ مکھرجی کمیشن نے پیش کی تھی۔ یہ داستان صرف جموں سائنس کالج کی نہیں تھی بلکہ مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں لوگوں کو حق و انصاف بندوق کی نوک پر ہی ملتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ دفعہ 370 جو ایک عارضی قانون تھا اور 65 برسوں سے کشمیریوں کے سروں پر تلوار بن کر لٹکا ہوا ہے۔ جموں، کشمیر و لداخ کے لوگوں پر کتنے ظلم ڈھائے گئے، ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں بند کردیا گیا اور ہزاروں نوجوان اور طلباء حکومت کی گولیوں سے شہید بھی ہوگئے۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے جس کا ذکر ایک نہ ایک دن جموں و کشمیر کی تاریخ میں ضرور ہوگا۔ اب اگر بھاجپا خود کہہ رہی ہے کہ کشمیر بھارت کے ساتھ ضم ہوگئے اور اب ترقی ہوگی تو دیکھنا یہ ہے کہ ترقی کب اور کیسے ہوگی۔

اسلام ٹائمز: مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کیا تھا اور اس کی بنیاد یہی دفعہ 370 تھا، اب اگر یہ دفعہ منسوخ کی گئی تو الحاق بھی ختم ہوجاتا ہے۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ:
یہ ایک حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر 1947ء کو یونین آف انڈیا سے الحاق نامہ پر دستخط کئے تھے لیکن اس الحاق نامہ کو بھارتی پارلیمنٹ نے آج تک عملی جامہ نہیں پہنایا ہے، جموں و کشمیر کو ہمیشہ آئینی طور پر بھارت سے الگ رکھا گیا ہے۔ جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ عملاً انضمام آج تک نہیں ہوسکا ہے۔ دفعہ 370 کو عارضی طور پر بھارت کے آئین میں جوڑنا جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے، یعنی دفعہ 35 اے ایک غیرقانونی قدم تھا اور نہ ہی بھارتی صدر کو بھارتی آئین کے تحت ایسا قانون بنانے کی اجازت حاصل تھی۔ میری نظر میں دفعہ 370 کی وجہ سے جموں و کشمیر کے عوام کو بھارت کے آئین میں مراعات سے محروم رکھا گیا جبکہ دفعہ 35 اے سے جموں و کشمیر میں رہنے والے لوگوں کو ان کے انسانی حقوق سے آج تک محروم رکھا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں دہلی کی حکومتیں لوگوں کو بھیڑ بکری سمجھ کر ان کے انسانی حقوق پر چھاپہ مارتی رہی ہیں۔ ہم نے اس بات کا عہد کر رکھا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو انسانی حقوق دلانے کے لئے قانونی جنگ جاری رکھے گی۔
 
اسلام ٹائمز: بھارت بھر میں ہجومی تشدد کے واقعات خاص طور پر بہار اور جھارکھنڈ ریاستوں میں ایسے واقعات کے بارے میں آپ کی تشویش جاننا چاہیں گے۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ:
دیکھیئے محمد اخلاق سے لے کر پہلو خان، اکبر خان اور حافظ محمد جنید کے واقعات قابل تشویش ہیں۔ جھارکھنڈ کی بات آپ نے کی تو جھارکھنڈ کو بھاجپا لیڈ ررگھورداس کا لنچستان کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ریاست جھارکھنڈ کے موجودہ بھاجپا کے وزیراعلٰی رگھورداس کی مدت کار میں ہجومی دہشتگردی کے کل دس واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس وقت ہجومی تشدد کے دہشتگردوں کی جس طرح مودی کی حکومت اور بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستی حکومتیں درپردہ پشت پناہی کررہی ہیں اور جن کی ہر ممکن کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی طرح بھی لاٹھی یا پیسے کے زور پر سچ پر مبنی خبریں دبادی جائیں۔ ایسے حالات میں صحیح اعداد و شمار تک پہنچنا مشکل ہے، تاہم اس پر گہری نظر رکھنے والے اور ہندو دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے اعداد و شمار جمع کرنے والے ملکی وعالمی ادارے، غیر جانبدار تجزیہ نگار، سماج کی بہتری اور رفاہ کے لئے دن رات سرگرم عوامی نمائندے اس بات سے ہرگز انکار نہیں کرسکتے کہ رگھور داس کی ریاست میں اس قسم کے بے شمار ایسے واقعات بھی ہوئے ہوں گے جو میڈیا یا سوشل میڈیا میں نہیں آسکے ہیں۔ انتہا پسند بھگوا لیڈر رگھور داس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے صرف جھارکھنڈ میں ماہ جون 2019ء کے آخر تک ماب لنچنگ کے کم از کم دس واقعات رونما ہوچکے تھے، جن میں کل 18 اموات ہوئی تھیں اور ان ہلاک شدگان میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی بتائی جاتی ہے، ایسے واقعات پر صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ تمام انصاف اور اعتدال پسند افراد کو تشویش اور افسوس ہے۔
 
اسلام ٹائمز: ہجومی تشدد کے پس پردہ مقصد اور بھاجپا ان واقعات کا جواب کیا دے رہی ہے۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ:
بھاجپا کے کارندے جس انتہاء پسندی سے جرائم کو انجام دے رہے ہیں، بھاجپا کے لیڈروں کے لئے ضروری ہے کہ اس انتہاء پسندی کو جھوٹ اور منفی پروپیگنڈے سے چھپائے، بھارت میں افراتفری اور نفرت کی فضا پیدا کرنا اور ہندوستان سے مسلمانوں، عیسائیوں سمیت دیگر اقلیتوں کا صفایا کرکے ملک کو ہندو راشٹر بنانا ہے۔ مختار نقوی اور رگھورداس جیسے لیڈروں کے بیانات سے بھی ہندو انتہا پسند عناصر کے حوصلے بڑھتے جارہے ہیں اور اپنی بزدلانہ دہشتگردی پر دہشتگردوں کا یہ گروہ کھلے عام ایک دوسرے کی پیٹھ بھی ٹھوک رہا ہے اور بھاجپا لیڈر مختار نقوی اس کا یہ جواب دے رہا ہے کہ ملک میں فرقہ ورانہ فسادات کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ ایسے بیانات اور جوابات سے واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی کے لیڈر ہجومی تشدد کی سرپرستی کررہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: بھاجپا کے لئے ضروری ہے کہ وہ حقیقت کو چھپائے لیکن آپ اصلیت و واقعیت کو ہمارے لئے بیان فرمائیں۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ:
دیکھیئے نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی اقلیتوں اور دلتوں کو ہجومی تشدد کے ذریعہ ہلاک کئے جانے کے واقعات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھاجپا لیڈروں کے پاس جھوٹ اور جملے بازی کے علاوہ کوئی اثاثہ ہے ہی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 2014ء کے بعد سے بھارت میں ہجومی تشدد نے اقلیتوں اور دلتوں کا عرصہ حیات تنگ کردیا ہے۔ امریکہ میں قائم آزادی مذاہب کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان میں مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد اس نوعیت کے ہجومی تشدد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ باتیں یرقانی جماعت کے عہدیداران اور مرکزی حکومت کے وزراء بالخصوص مودی کو معلوم نہیں ہیں۔ آپ دیکھیئے کہ جس انتہا پسند جماعت کی سرگرمیوں پر امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت درجنوں ممالک میں مذمت کی جارہی ہے۔ ہر طرف سے ہجومی تشدد کو روکنے کے مطالبے کئے جارہے ہیں، جس کی آواز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھائی جاچکی ہے، بلکہ (USCIRF) یعنی یونائٹیڈ اسٹیٹ کمیشن فار انٹرنیشنل رلجیس فریڈم نے اپنے تحریری بیان میں یہاں تک دعویٰ کیا ہے ہجومی دہشتگردی میں شامل انتہاپسندوں کو بھارتی حکومت اور بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستی حکومتوں کی پوری حمایت حاصل ہے۔
 
اسلام ٹائمز: ان واقعات میں سب سے خطرناک اور افسوسناک چیز کون سی ہے۔؟
پروفیسر بھیم سنگھ:
دیکھیئے سب سے بڑا المیہ تو یہی ہے کہ جہاں کہیں سے بھی ہجومی دہشتگردوں کی غنڈہ گردی کے واقعات کی ویڈیو کلپس موصول ہوئی ہیں، ان میں سے بیشتر واردات میں مقامی پولیس بھی موجود نظر آتی ہے۔ جبکہ تبریز انصاری اور اس سے قبل راجستھان میں اکبر خان کے قتل میں تو پولیس کی کارکردگی ابھی شک کے گھیرے میں ہے۔ جھارکھنڈ اور راجستھان دونوں ریاستوں کی پولیس غنڈوں اور انتہا پسندوں کی صف میں ہی رہی ہے۔ ہجومی تشدد پر بھاجپا لیڈروں کا ردعمل خود اس بات کی شہادت رہا ہے کہ ان کے پاس مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ڈھائی جارہی ہجومی تشدد کا کوئی مثبت جواب نہیں ہے اور یہ کہ 2014ء سے مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں پر دراز ہورہے تشدد اور غارتگری کے کارناموں میں بی جے پی اور اس کے وزراء کے ہاتھ بھی سنے ہوئے ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہجومی تشدد میں مرکزی حکومت کی پشت پناہی اور خاص طور پر پولیس کا رول سب سے زیادہ خطرناک اور مجرمانہ ہے۔ آج بھارت کے حالات اس قدر خوفناک ہیں کہ اقلیتوں اور دلتوں کا ایک ایک فرد ڈرا و سہما ہوا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ایک مظلوم اپنی شکایت لے کر پولیس تھانوں میں بھی نہیں جاسکتا ہے۔ اس لئے کہ اب پولیس کا ہندوتوا چہرہ بھی بے نقاب ہوچکا ہے۔ عدالتوں کا رویہ بھی کچھ اطمینان بخش نہیں ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 823410
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب