0
Sunday 27 Oct 2019 14:40

کشمیر کے تشویشناک حالات بھارتی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، عاشق حسین خان

کشمیر کے تشویشناک حالات بھارتی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، عاشق حسین خان
عاشق حسین خان کا تعلق ریاست جموں و کشمیر سے ہے۔ آپ جموں خطے میں ایک سرگرم و فعال سیاسی و سماجی کارکن کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ عاشق حسین خان شیعہ فیڈریشن آف جموں و کشمیر کے چیئرمین بھی ہیں۔ جموں خطے میں اہل تشیع کی سیاسی و سماجی ترقی میں آپ اہم رول نبھائے ہوئے ہیں۔ پونچھ، مینڈھر اور جموں خطے کے دیگر دور درواز علاقوں میں پسماندہ طبقے کی ترقی و پیشرفت آپ تقریباً چالیس برسوں سے فعال ہیں۔ شیعہ فیڈریشن کے زیر اہتمام ہر سال ہفتہ وحدت کی مناسبت پر ایک عظیم الشان و منفرد کانفرنس منعقد ہوتی آئی ہے، جس میں بھارت اور بیرون ملک کے مقتدر علماء تشیع و تسنن شریک ہوتے ہیں۔ کانفرنس کی تیاریوں اور خطے کی عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے اسلام ٹائمز نے عاشق حسین خان سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)
 
اسلام ٹائمز: کہا جارہا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں خاص طور پر جموں خطے میں اہل تشیع کے ساتھ بھید بھاؤ کیا جارہا ہے، تعلیمی اداروں سے لیکر حکومتی اداروں میں نوکریوں کو لیکر ہر جگہ اس طبقے کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔؟
عاشق حسین خان:
پہلے تو میں یہ بات وثوق کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ریاست جموں و کشمیر میں اور بھارت کے دیگر ریاستوں میں ہمارے خطے کے نوجوان سب سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں۔ پونچھ، میندھر، گرسائی وغیرہ میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں بچے اعلٰی تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب ملازمت کے لئے انٹرویو دینے جاتے ہیں تو انتظامیہ میں بیٹھے کالے بھیڑیے ان نوجوانوں کے نام پڑھ کر تعصب کی بنا پر رجیکٹ کردیتے ہیں۔ اس بات کو لیکر ہمارے پاس ثبوت ہیں اور یہ ہمارا تلخ تجربہ ہے۔ ہمارے ان علاقوں میں حکومت کا کوئی آفسر جانا پسند نہیں کرتا ہے تاکہ وہ دیکھتا کہ اس علاقے کے لوگوں کے مسائل کیا ہیں۔ آج کے اس زمانے میں بھی ہمارے علاقوں میں سڑکیں، بجلی اور پانی نہیں ہے۔ حکمرانوں کو جب ووٹ چاہیئے ہوتا ہے تو ہماری  بستیوں سے دور رہ کر ہی جلسوں کا اہتمام کرتے ہیں اور الیکشن کے وقت بھی اس بستیوں کا دورہ نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے بچوں کو آٹھویں جماعت سے کہیں دور اسکول جانا پڑتا ہے۔ ہماری بستیوں میں کوئی اعلٰی تعلیمی ادارہ بھی نہیں ہے۔ ہماری بستیوں کو ہر لحاظ سے نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ایک طرف سے ہمیں کشمیری بھائی جموں کے ڈوگرہ کا نام دیتے ہیں اور وہ ہمیں اپنا نہیں سمجھتے تو جموں کے لوگ ہمیں کشمیری مسلمانوں کا رنگ دیکر خود سے دور کرتے ہیں۔ ہمیں دونوں اطراف سے نظرانداز کیا جارہا ہے۔
 
اسلام ٹائمز: کیا اس بستی سے کوئی ایسا فرد اس کام کے لئے آمادہ نظر نہیں آرہا ہے جو اپنے اس قوم کی نمائندگی کرے اور اسے انصاف دلائے۔؟
عاشق حسین خان:
آپ کی خدمت میں عرض کروں کہ روز اول سے ہی بھارتی حکومتوں سے ہمارا شکوہ رہا ہے کہ انہوں نے ہمیں پستی کی جانب ڈھکیلا ہے، دوسرا ہمیں اپنی بستی کے خواص سے غلہ ہے کہ انہوں نے اپنے مفادات کی خاطر عوام جذبات کو مجروح کیا۔ یہاں کی اکثریت نے کبھی نہیں چاہا کہ ہمارے حقوق ہمیں دلائے جائیں۔ کبھی ہماری نمائندگی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ ایک بڑی آبادی کو اس طرح سے نظرانداز کرنا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ تو وہ دوسری کسی قیادت کو برداشت کرنے کا کلیجہ نہیں رکھتے یا انہیں اپنے ذاتی مفادات کو خطرہ لاحق ہے۔ اگر یہاں سے ایک آواز بلند ہوگی تو انکی بڑے بڑے ناموں کی تنظیموں کا کیا ہوگا، انکے مفادات کا کیا ہوگا۔ آج جموں میں کربلا کمپلیکس کی زمین جو ستر سالوں سے کربلا کمپلیکس کی زمین ہے، تقریباً چالیس سال پہلے پولیس نے زبردستی ہم سے چھین لی۔

تب سے لیکر آج تک ہم اس زمین کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن کوئی ہماری حمایت نہیں کرتا۔ ہماری اپنی برادری میں بھی سیاسی لیڈروں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن انہوں نے عوام مسائل کو کبھی بھی ترجیح نہیں دی۔ شیعہ فیڈریشن نے اپنے قیام سے ہی اس زمین کی واپسی کو لیکر احتجاجات کئے اور جب تک یہ زمین ہمیں واپس نہیں ملتی ہے ہم آواز بلند کرتے رہیں گے، لیکن افسوس تو ان لیڈروں کا ہوتا ہے جو ہماری نمائندے ہونے کی بات تو کرتے ہیں لیکن قوم کے لئے ایک چھوٹے سے چھوٹا کام بھی نہیں کرتے ہیں۔ حکومت ہر قوم کو ہر مذہب کے ماننے والوں کو پانچ یا دس کنال زمین انکے عبادت خانوں وغیرہ کے لئے مہیا تو کرتی ہے لیکن ہم سے ہماری خود کی زمین چھین لی گئی۔ ہم کسی اور جگہ یا ملک سے یہاں رہنے نہیں آئے ہیں ہم بھی اسی ملک کے باشندے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمیں ابھی تک شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔
 
اسلام ٹائمز: قوم کی ترقی و پیشرفت کے لئے آئندہ کیا لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔؟
عاشق حسین خان:
ہماری قوم نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا عہد کررکھا ہے۔ ہر میدان میں ہمارے نوجوان مثالی رول نبھائے ہوئے ہیں۔ علاقے کو لوگوں نے محنت و مشقت کے ذریعے دیگر اقوام کے ساتھ چلنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جو امور انجام پانے چاہیئے تھے وہ لوگوں کی ذاتی کوششوں سے انجام پاتے ہیں۔ ہماری ترقی و پیشرفت میں حکومت کا کوئی رول نہیں ہے۔ آج اگر ہماری بستی سے اعلٰی تعلیم یافتہ نوجوان معاشرے کے لئے کام کررہے ہیں تو یہ انکی ذاتی کاوش ہے۔ آج تجارت میں ہمارے نوجوان دلچسپی دکھا رہے ہیں یہ بھی خوش آئند بات ہے۔ آج ہمارے علاقے میں ہی کچھ بستیوں کو حکومت کی جانب سے ہر چیز مہیا رکھی گئی ہے اور ہماری بستیوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے لیکن ہمارے افراد نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ کچے مکانوں میں رہ کر اور دس کلو میٹر اسکول کی دوری طے کرکے وہ اپنے بلند حوصلوں کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ آئندہ بھی ہم اپنی سرگرمیاں، محنت و مشقت اور تعلیمی میدان میں پیشرفت کے عزم کو جاری رکھیں گے اور دیگر اقوام کے شانہ بشانہ چل کر دکھائیں گے۔ آج اگر ہمیں علی، حسین اور جعفر کے ناموں کی وجہ سے نظرانداز کیا جارہا ہے تو کل انہی ناموں پر لوگ رشک کریں گے۔ آج اسی نفرت کی وجہ سے ہمارے نوجوانوں میں بھی حکومت کے خلاف باتیں ہورہی ہیں، اس کی ذمہ داری انہی کالے بھیڑیوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنے فرائض سے کنارہ کشی اختیار کی ہوئی ہے۔
 
اسلام ٹائمز: اس پسماندہ طبقے کو کیسے ان مشکلات سے نجات دلائی جاسکتی ہے، شیعہ فیڈریشن کا اس حوالے سے کیا برنامہ ہے۔؟
عاشق حسین خان:
سب سے پہلے ہم کشمیری عوام خاص طور پر پونچھ میندھر اور گرسائی علاقہ کو موجودہ تشویشناک دور سے نکالنے کے خواہشمند ہیں۔ آج آپ جانتے ہیں کہ یہاں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ جب تک امن و شانتی اور مساوات بحال نہیں کئے جاتے ہیں تب تک ترقی و پیشرفت کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ممکن نہیں ہے۔ حکومتوں کی جانب سے ہر ایک طبقے کو جینے اور پنپنے کا موقع دیا جانا چاہیئے۔ اگر حکومتوں کی جانب سے ہی جانبدارانہ رول ادا کیا جائے تو پھر ترقی کیسے ہوسکتی ہے۔ آج یہاں حکومتی عہدے بھی فروخت ہورہے ہیں۔ ایک بڑی سازش کے تحت کشمیری عوام کو پسماندہ بنایا جارہا ہے۔ حکومتیں اپنے ووٹ بنک کے لئے ہمیں استعمال تو کرتی ہیں لیکن جب ہمارے حقوق کی بات آتی ہے تو ہمیں ہر لحاظ سے نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ترقی تمام مسالک و اقوام کو ساتھ لیکر چلنے سے ہی ممکن ہوتی ہے۔ آج کشمیر میں حالات خراب ہیں تو یہ بھارتی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہیں۔ بھارتی حکومت نے کبھی بھی ہمیں اپنا نہیں سمجھا ہے جس کا وہ دعوی کرتی پھرتی ہے۔ ہم سب کو ساتھ لیکر چلنے کی بات کرتے ہیں جو حق کی آواز ہے اور اسے دبانے کی کوششیں و سازشیں بھی ہورہی ہیں۔ میں نے اپنی زندگی کے چالیس سال وحدت اسلامی حتی کہ ہندو مسلم اتحاد میں صرف کی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کشمیر کے حالات یکدم خراب نہیں ہوئے بلکہ اس میں وقت لگا ہے اور اگر حکومت نے یہی روش اپنائی تو حالات بھارت کی دیگر ریاستوں میں بھی خراب ہوسکتے ہیں۔ حکومت کی موجودہ روش کے جو بھی نتائج ہونگے وہ بھارت کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہم ایک بار پھر امن، سلامتی اور مساوات برقرار رکھنے کا حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: موجودہ پُرفتن دور میں وحدت اسلامی کی ضرورت و اہمیت جاننا چاہیں گے۔؟
عاشق حسین خان:
دیکھیئے اسلام ہمیں امن، شانتی، اخوت و مساوات اور باہمی مفاہمت کی تعلیم دیتا ہے۔ ہم جب بھی قرآن کو چھوڑ کر لوگوں کی سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے بیٹھیں تو نتیجہ یہی ہونا ہے جو آج عالم اسلام کی حالت بنی ہوئی ہے۔ ہمارے مشکلات و مسائل قرآن سے دوری کا ہی نتیجہ ہیں۔ جب تک ہم قرآن کریم کو اپنی زندگیوں میں عملاتے نہیں ہیں تب تک ہماری حالت تبدیل نہیں ہوسکتی ہے۔ آج اگر برما، یمن، کشمیر، فلسطین، افغانستان، پاکستان، عراق اور شام میں حالات بد سے بدتر ہیں تو کہیں نہ کہیں ہم مسلمان بھی اس خون خرابے کے ذمہ دار ہیں۔ دشمن تو چاہتا ہی ہے کہ ہم یکجا و یکسو نہ ہوجائیں، وہ تو ہمیں توڑنے کی ہر لمحے کوشش کرتا ہے لیکن ہم نے کتنا اسلام اور احکامات اسلام کی پیروی کی۔ ہم تو برابر دشمن اسلام کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے خود دشمن کا کام آسان کردیا ہے۔ دشمن کا پروگرام خود مسلم حکمران ہی دنیا بھر میں ترویج دے رہے ہیں۔ بجائے یہ کہ ہم متحد ہوتے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن بیٹھے ہیں۔ جب تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہیں گے دشمن کا کام چلتا رہے گا۔ میری التماس ہے کہ مسلمان قرآن کریم سے تمسک استوار کریں۔ سیرت النبی (ص) کا دامن تھام لیں۔ عالمی امن کے لئے ایک ہوجائیں۔ متحد ہوکر دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملائیں۔
 
اسلام ٹائمز: آنے والے دنوں میں شیعہ فیڈریشن کے زیر اہتمام جموں میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہورہی ہے، کیا اغراض و مقاصد پیش نظر ہیں۔؟
عاشق حسین خان:
دیکھیئے ہر سال کی طرح اس سال بھی شیعہ فیڈریشن جموں میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کرنے جارہی ہے۔ کانفرنس میں ہمیشہ شیعہ و سنی علماء کرام اور دیگر مذاہب کے دانشور حضرات شرکت کرتے ہیں۔ ہفتہ وحدت کی مناسبت پر یہ کانفرنس منعقد ہوتی ہے، ہمارا ماننا ہے کہ تمام انسانیت کو رسول اکرم (ص) کی ذات ہی متحد کرسکتی ہے۔ 17 نومبر کو یہ کانفرنس جموں میں منعقد ہوگی جس میں ایران سے بھی اہل سنت و اہل تشیع کے علماء کرام تشریف لائیں گے اور بھارت کے مقتدر علماء کرام اور دانشور حضرات بھی کانفرنس کی رونق بنیں گے۔ کانفرنس کی تیاریاں چل رہی ہیں، امید ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس سال بھی کانفرنس کامیاب رہے گی اور تمام مذاہب سے وابستہ رہنما وحدت، مساوات، اتحاد اور امن کا پیغام دیں گے۔ رسول اکرم (ص) کی ولادت باسعادت کی برکت و طفیل کے نتیجے میں ہی تمام انسانیت نجات پا سکتی ہے۔ آج اور کل ہماری کوشش ہمیشہ جاری رہے گی۔ اسلام کا پیغام آفاقی ہے، اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، اسے سمجھنے اور عام کرنے کی ضرورت ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 824205
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب