0
Thursday 31 Oct 2019 17:38
پشاور میں ایک لہر چلتی ہے اور کرائمز کی شرح بڑھ جاتی ہے

ہم دہشتگردی کی بہت بڑی جنگ سے گزر رہے ہیں اور اسکے اثرات ابھی بھی باقی ہیں، محمد کریم خان

جرائم پیشہ عناصر کے دل میں پولیس کا خوف ہونا چاہیئے نہ کہ عام آدمی پولیس سے ڈرے
ہم دہشتگردی کی بہت بڑی جنگ سے گزر رہے ہیں اور اسکے اثرات ابھی بھی باقی ہیں، محمد کریم خان
محمد کریم خان کا شمار پولیس فورس میں انتہائی محنتی اور قابل ترین آفیسرز میں ہوتا ہے۔ محمد کریم خان 1968ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پشاور سے حاصل کی، اس کے بعد میٹرک اور ایف ایس سی ایبٹ آباد پبلک اسکول سے کی۔ اس سے قبل کریم خان نے کیڈٹ کالج کوہاٹ سے بھی کچھ تعلیم حاصل کی، پھر سول انجینئرنگ اور امریکہ سے ماسٹرز کیا۔ ٹرانسپورٹ اور اربن پلاننگ کے بعد پروینشل پبلک سروس میں پہلے پبلک ہیلتھ اور سی اینڈ ڈبلیو میں اسسٹنٹ انجینئر کی خدمات سرانجام دیں۔ بعدازاں سی ایس ایس کیا اور پہلی تعیناتی بطور اے ایس پی ٹانک میں ہوئی۔ بعد میں راولپنڈی، مری، کوہاٹ، ایس ایس پی آپریشن پشاور اور ڈی پی او ایبٹ آباد رہے، پھر انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) پشاور میں بطور ڈائریکٹر خدمات سرانجام دیں۔ ڈی آئی جی ٹریننگ کے بعد ڈی آئی جی ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اسپیشل برانچ میں بھی رہے۔ آپ کو بہترین کارکردگی کے پیش نظر چیف کیپیٹل سٹی پولیس تعینات کیا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ پشاور ہر لحاظ سے حساس ہے، یہاں تمام اداروں کے ہیڈ کوارٹرز موجود ہیں، وہیں غیرملکی قونصل خانوں سمیت بین الاقوامی اداروں کے دفاتر بھی قائم ہیں۔ ان اداروں کی موجودگی میں پشاور کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، تاہم اس کیساتھ دہشت گردی کی سب سے زیادہ کارروائیاں بھی اسی شہر میں ہوئیں۔ پشاور تاحال وار زون کا حصہ ہے، بم دھماکوں، خودکش حملوں کے بعد بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ نے پشاور میں دہشت اور خوف کے سائے مزید گہرے کئے۔ ان حالات کا مقابلہ کرنے کی ذمہ دار فورس پولیس کی کارکردگی اور ان حالات سے نمٹنے کیلئے اقدامات جاننے کیلئے چیف کیپٹل سٹی پولیس آفیسر پشاور (سی سی پی او) محمد کریم خان سے خصوصی گفتگو کی گئی جو قارئین کی نذر ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: قبائلی ضلع خیبر اب صوبے کا حصہ بن چکا ہے، آپ پشاور کیساتھ وہاں کے بھی پولیس سربراہ ہیں، اسوقت کن مشکلات کا سامنا ہے؟
محمد کریم خان:
جی بالکل! سی سی پی او پشاور تعیناتی سے قبل جب اسپیشل برانچ میں تھا تو اسوقت سے یہ معاملات چل رہے ہیں، اِسوقت تقریباََ 29 ہزار کے قریب لیویز و خاصہ دار فورس ہے۔ وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کے احکامات تھے کہ خاصہ داروں اور لیویز کو 6 ماہ میں پولیس میں ضم کیا جائے گا، لیکن آگے بجٹ آ گیا اور پھر ان کی ساری مراعات پولیس کے برابر کی گئیں اور ساتھ میں ایک مکمل سسٹم بنایا گیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کچھ حد تک معاملات ختم ہوئے ہیں، جبکہ آئندہ چند ہفتوں میں مزید کلیئر ہو جائیں گے، نیا نیا سسٹم ہے تو ضرور پولیس کو مشکلات کا سامنا ہے، لیکن ابھی تو ابتداء ہے وقت کیساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ خیبر میں لیویز اور خاصہ دار پولیس ڈیوٹی احسن طریقے سے نبھا رہی ہے، حالیہ دنوں میں پشاور سے لے کر طورخم بارڈ تک دورہ کر کے چیک پوسٹوں کا معائنہ کیا ہے۔

اسلام ٹائمز: پہلے خاصہ دار اور لیویز، پولیس میں ضم ہوئی، اب پھر پولیس سے خاصہ دار اور لیویز بن گئی اس کی کیا وجہ ہے؟
محمد کریم خان:
 جیسا کہ پہلے بھی کہا کہ بجٹ میں خاصہ دار اور لیویز کی تنخواہ پولیس کے برابر کی گئی، لیکن پولیس کے بجٹ میں یہ چیز شامل نہیں تھی، اس کی اپنی ایک حیثیت تھی، کیونکہ وفاق کے مطابق جو قبائلی اضلاع پر خرچ ہوگا اسے اسی طرح رکھا جائے، جیسے پولیس کا بجٹ ہے تو اس سے شکوک و شبہات نے جنم لیا، ان شکوک و شبہات کو ختم کرنے کیلئے آئی جی پی خیبر پختونخوا نے مداخلت کرتے ہوئے تمام معاملات کو دیکھا اور یہ نتیجہ نکالا کہ جتنے بھی خاصہ دار ہیں ان کی سیٹیں پولیس میں نکالی جائیں جس کا باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری ہوا اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کو کہا گیا کہ ضم ہونیوالے رولز پر جلد از جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے، لیکن ایسے ہی تو نہیں ہوسکتا رولز بننے کے بعد لاء ڈیپارٹمنٹ بھیجے گئے، لاء ڈیپارٹمنٹ نے یہ آرڈیننس دیکھا تو موقف اختیار کیا کہ آرڈیننس 10 دن بعد ختم ہونے والا ہے، جب آرڈیننس ہی نہیں رہے گا تو یہ رولز بھی نہیں رہیں گے، تو ضم کیسے ہوں گے۔ اس کو لاگو کرنے کیلئے یہ بل ہنگامی بنیادوں پر اسمبلی میں پیش کیا گیا اور ایکٹ کی شکل میں منظور کیا گیا۔ اب ان کو چار سے چھ ہفتے کا ٹائم دیا گیا کہ رولز کی روشنی میں ان کو ضم کیا جائے، انشاء الله مسئلہ جلد کلیئر ہو جائے گا۔

اسلام ٹائمز: صوبہ بھر میں قبضہ مافیا، جرائم پیشہ عناصر، آئس اور منشیات ڈیلروں کیخلاف فیصل کن معرکہ شروع کیا جا رہا ہے، پشاور پولیس کی تیاری کہاں تک پہنچی ہے؟
محمد
 کریم خان:
قبضہ مافيا، جرائم پیشہ عناصر اور آئس ڈیلروں کی آڑ میں بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے کیلئے پشاور پولیس کی تیاری مکمل ہے۔ مختلف حساس اداروں کی جانب سے فہرستیں فراہم کی گئی ہیں، جس کی روشنی میں تھانوں کی سطح پر کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے، جبکہ اس بار مضبوط ہاتھ ڈالنے کیلئے پرسنل فائلیں بھی تیار کی جارہی ہیں جس میں ان کی پوری زندگی کا ریکارڈ ہوگا، جس کے مطابق ان کیخلاف ایکشن لیا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: پشاور کی آبادی کی نسبت پولیس کی نفری اور وسائل کتنے ہیں اور کتنے ہونے چاہئیں؟
محمد کریم خان:
قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے خلاف ہونے والے آپریشنز کے بعد ہماری آبادی میں بہت اضافہ ہوا، چونکہ پشاور میگا سٹی ہے اس لئے یہاں پر پریشر زیادہ ہے۔ دیکھا جائے تو کراچی پہلے، لاہور دوسرے اور پشاور تیسرے نمبر پر ہے۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے، لیکن اب ہم بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ جس طرح نفری کی بات ہے تو وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کی مہربانی ہے جنہوں نے تمام اسپیشل پولیس فورس کو مستقل کرنے کے احکامات جاری کئے، لیکن پشاور جیسے شہر کی پولیس نفری ابھی بھی کم ہے، کیونکہ دیکھا جائے تو پشاور میں مجموعی طور پر 8 ہزار کے قریب پولیس فورس ہے۔ یہ ایک پرانا سسٹم ہوتا تھا کہ 450 لوگوں کیلئے ایک پولیس سپاہی ہے، لیکن اب وہ دور ختم ہوگیا ہے، پہلے وہ زمانہ تھا جب گاؤں میں کوئی باہر کا بندہ چلا جاتا تھا تو پتہ چلتا تھا کہ کوئی باہر کا آدمی آیا ہے، مگر اب ایسا نہیں ہے، اب آپ صرف پشاور کی ہی مثال لے لیں، یہاں افغان مہاجرین اور قبائل بھی آباد ہیں، خیر اب تو وہ علاقے بھی خیبر پختونخوا کا حصہ بن گئے ہیں، مگر جب تک آپریشن ہوتے رہتے تھے وہ یہاں آتے رہتے تھے۔ پشاور کی ایک بہت بڑی آبادی ہے، روزانہ کی بنیاد پر ہمارے 4 بڑے آپریشنز ہوتے ہیں، اسوقت جس صورتحال کا ہمیں سامنا ہے تو اس کے تناظر میں آپ دیکھیں تو صرف جنرل کرائمز نہیں ہیں، دہشت گردی کی بہت بڑی لہر سے بلکہ ایک بہت بڑی جنگ سے ہم گزر رہے ہیں اور اس کے اثرات اب بھی باقی ہیں، یہ جنگ ابھی مکمل نہیں ہوئی، اس حوالے سے ہر بلڈنگ، سکول، یونیورسٹی، ہر محلہ، بلکہ جتنی بھی بلڈنگز، مارکیٹیں، بس سٹینڈز ہیں وہ سکیورٹی مانگ رہے ہیں۔ پشاور کی آبادی کتنی ہے اگر آبادی کی ساتھ ہم اس نفری کو تقسیم کریں تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔

اسلام ٹائمز: محکمہ پولیس پشاور میں کرپشن کے خاتمے کیلئے نیا میکنزم تیار کیا گیا ہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ نئے طریقہ کار سے کرپشن ختم ہو پائے گی؟
محمد کریم خان:
جی بالکل اس کی تفصیل میں آپ کو بتاتا چلوں پورے پاکستان کیلئے وزیراعظم ہاؤس سے ایک مراسلہ جاری ہوا ہے جس میں واضح طور پر احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ غیرضروری ناکے ختم کئے جائیں، جس کی روشنی میں پشاور میں 10 غیرضروری ناکے ختم کئے گئے ہیں، جبکہ پشاور کے داخلی اور خارجی راستوں پر 26 ناکے بدستور قائم ہیں جو بہت ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ ناکوں سے متعلق جو منفی تاثر پھیلا ہوا ہے اسے ختم کرنے کیلئے 15 روز کے بعد انچارچ سمیت تمام عملے کو تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ناکوں اور مین شاہراہوں پر قائم چوکیوں میں مہمانوں کے آنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہر ناکہ بندی اور چوکی کے باہر بورڈ آویزاں کئے جائیں گے جن پر اعلٰی پولیس افسران کے نمبر درج ہوں گے، تاکہ کوئی اہلکار رشوت کا مطالبہ کرے تو مذکورہ شخص ان نمبرز پر رابطہ کر کے اطلاع دے سکے۔ اس کے علاوہ ناکہ بندی پر تعینات اہلکار کی جیب میں 1 ہزار روپے سے پیسے زائد نہیں ہوں گے، اگر ایک ہزار سے زائد نقدی نکلی تو اسے جواب دینے پڑے گا اور اس کی باقاعدہ تحقیقات کی جائیگی۔ دوسرا کرپشن ختم کرنے کی بات ہے تو اس کیلئے ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ہے کہ جس سے ناپ تول کیا جا سکے، لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ کہ پولیس نے جتنا کرپشن کیخلاف کام کیا ہے شاید ہی کسی محکمہ نے نہیں کیا ہو۔ گذشتہ تین چار سال میں ساڑھے چار ہزار افسران و اہلکاروں کو سزا دی گئی، ساڑھے چار ہزار بندوں میں کچھ کو برخاست، کچھ کو سزا ہوئی۔ میرے خیال میں محکمہ پولیس سے کرپشن کافی حد تک ختم ہوچکی ہے، اس اقدام سے عوامی اعتماد بھی بڑھا جو خوش آئند بات ہے۔

اسلام ٹائمز: امن و امان کی صورتحال قدرے بہتر ہو چکی ہے، لیکن سٹریٹ کرائم کی شرح بڑھتی جا رہی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟
محمد کریم خان:
سٹریٹ کرائم کی وارداتیں ہو رہی ہیں، میں یہ نہیں کہوں گا کہ بالکل نہیں ہور ہیں، لیکن ان وارداتوں میں اضافہ اس لئے نظر آرہا ہے کہ ہم واردات کے فوراََ بعد ایف آئی آر درج کر رہے ہیں، ماضی میں جرائم کی وارداتیں چھپائی جاتی تھیں، لیکن اب ایسا نہیں ہے کیونکہ ہم نے ایسے بہت سے گروہ پکڑے ہیں جنہوں نے دوران تفتیش کئی وارداتوں کا اعتراف کیا، لیکن ریکارڈ پر ایف آئی آر تک موجود نہیں ہوئیں جس کا فائدہ ملزم کو پہنچتا ہے۔ کافی حد تک سٹریٹ کرائمز پر قابو پا لیا گیا ہے، بڑے بڑے گروہ پکڑے گئے ہیں، لیکن پشاور کا آپ کو پتہ ہے ایک لہر چلتی ہے اور کرائمز کی شرح بڑھ جاتی ہے، کچھ روز بعد پھر خاموشی ہو جاتی ہے۔ یہ بات بھی نہیں کہ چوریاں ڈکیٹیاں یا رہزنیاں ہوتی رہیں اور پولیس آرام سے بیٹھی رہے، ہرگز نہیں، بدقسمتی یہ ہے ہم ملزموں کو پکڑ کر جیل بھیج دیتے ہیں اور وہ چند روز بعد رہا ہو کر دوباره وارداتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں، آئندہ چند دنوں میں آپ کو بھی کافی بہتری نظر آئے گی۔

اسلام ٹائمز: اس تاثر میں کتنی حقیقت ہے کہ سٹی پٹرول فورس‘‘ جس مقصد کیلئے بنائی گئی ہے وہ ناکام ہوچکی ہے، اس کی کیا وجوہات ہیں؟
محمد کریم خان: میں آپ کی بات سے اتفاق نہیں کرتا، حالیہ محرم اور چہلم میں میں خود کنٹرول رومز کی نگرانی کرتا رہا اور سٹی پٹرول فورس کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھا۔ ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ جو ناکامی کا تاثر پھیل رہا ہے وہ بی آر ٹی منصوبے کے باعث ہے، کیونکہ کیمروں کا سسٹم شدید متاثر ہوا ہے، ورنہ کیمروں سے ہمیں بہت سپورٹ مل رہی تھی۔ بہرحال ہم اس فورس کو مزید بہتر بنا رہے ہیں اور ان کو ان کا کام بھی سمجھانا ہے۔ اس میں میرے خیال میں ٹائم لگے گا، مگر آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ سٹی پیٹرول فورس کا بہت رول ہے، جس کا دائرہ کار مزید بڑھا رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پشاور میں ایس ایچ اوز کی پوسٹنگ ٹرانسفر کا نہ رُکنے والا سلسلہ شروع ہوا ہے، جس سے پولیس میں افراتفری کا ماحول ہے، کیا اس سے فورس کی کارکردگی متاثر نہیں ہو رہی؟
محمد کریم خان:
میں آپ کو آسان لفظوں میں کہوں کہ جو کام کرے گا وہ رہے گا اور جو کام نہیں کرے گا وہ جائے گا۔ میری پالیسی یہ ہے کہ بغیر سفارش کسی بھی ایس ایچ او کو ایک چانس دیتا ہوں، اگر اس نے ڈیلیور کیا تو اچھی بات ہے ورنہ کسی اور کو موقع ملنا چاہیئے۔ رہی بات پولیس فورس کی کارکردگی متاثر ہونے کی تو حالیہ چند ماہ کی کارکردگی دیکھ لیں صورتحال خود بخود واضع ہو جائے گی۔

اسلام ٹائمز: سیف سٹی پراجیکٹ منصوبہ التواء کا شکار ہے، کام کہاں تک پہنچا، مکمل ہونے میں مزید کتنا وقت لگے گا؟
محمد کریم خان:
سیف سٹی کا اپنا ڈائریکٹر ہے، اس پر بہت تیزی سے کام جاری ہے۔ 4 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کیلئے پوائنٹس کا تعین کیا گیا ہے، علاوہ ازیں سیف سٹی طرز پر اندرون شہر کی نگرانی کیلئے تھانہ خان رزاق شہید میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں سے شہر کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: لوگوں میں پولیس کا خوف کم کرنے کیلئے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟ لوگ اپنی فریاد لے کر تھانے نہیں جاتے وہ خوف ابھی تک قائم ہے۔
محمد کریم خان: دیکھیں اب لوگ بہت ایڈوانس ہو چکے ہیں، جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس لئے پولیس بھی جدید ہو رہی ہے۔ ہم ایک ویب سائٹ بنا رہے ہیں، اس میں ہم نے ایسا نظام بنایا ہے کہ بندے کی نشاندہی اگر وہ نہ بھی کرنا چاہے تو بھی وہ رجسٹریشن کر سکتا ہے۔ اس میں ایک ماہ مزید لگے گا، جتنی رسائی عام آدمی کی افسران تک ہوگی اتنا خوف کم ہوتا جائے گا۔ اس سلسلے میں گذشتہ دنوں ایک اجلاس میں واضح طور پر احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر کے دل میں پولیس کا خوف ہونا چاہیئے نہ کہ عام آدمی پولیس سے ڈرے۔

اسلام ٹائمز: پشاور میں تھانوں کی عمارتیں انتہائی خستہ حال ہیں، اہلکاروں کیلئے کوئی مناسب رہائش کا بندوبست بھی نہیں، اس کیلئے کیا اقدامات کئے جا رہے۔
محمد کریم خان:
ہماری کوشش ہے کہ پولیس اہلکاروں کے رہن سہن کو کیسے بہتر کیا جائے، اس حوالے سے گذشتہ چار پانچ سال سے ماڈل پولیس اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ ابتداء تھانہ گلبہار، فقیر آباد اور ٹاؤن پولیس اسٹیشن سے کی گئی۔ اس کے بعد مزید 13 پولیس اسٹیشنوں کو بھی ماڈل بنایا جا رہا ہے اور سالانہ ترقیاتی پروگرامز میں تمام پولیس اسٹیشن اسی طرز پر بنائے جا رہے ہیں۔ اس کیساتھ ان کی رہائش گاہ کا بھی بندوبست ہوگا۔

اسلام ٹائمز: پشاور میں بڑھتے ہوئے آئس نشہ کی روک تھام کیلئے پولیس کیا اقدامات کر رہی ہے؟
محمد کریم خان:
دو باتیں ہیں، ایک تو یہ ہے کہ آئس نشے کی روک تھام کیلئے موژ سزا ہونی چاہیئے، کیونکہ مشیات ایکٹ میں اس کیخلاف کوئی دفعات نہیں۔ اصل میں پولیس جو آئس پکڑتی ہے تو وہ گرام کے حساب سے ہوتی ہے۔ ایک گرام یعنی ایک چرس کی سگریٹ، اس کیخلاف پولیس نائن سی این ایس (اے) کا پرچہ کاٹ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کے پاس نائن سی این ایس ( سی) کا دفعہ ہے، لیکن وہ تقریبا ایک کلو گرام سے زائد چرس پر لگتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ آئس گرام میں ہوتی ہے، اس لئے نائن سی کا مقدمہ درج نہیں ہوتا، لیکن پولیس پھر بھی نائن سی کا مقدمہ درج کر لیتی ہے، کچھ عرصہ میں 115 ملزموں کو گرفتار کر کے تقریباََ 85 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ میں آپ کو بتاتا چلوں پشاور پولیس منشیات پر کافی حدتک قابو پا چکی ہے، اس سلسلے میں چلائی گئی مہم میں علمائے کرام، وکلاء اساتذہ، ڈاکٹر، میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت دیگر مکاتب فکر کے لوگوں کو بھی شامل کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ سمجھتے ہیں کہ تھانہ کلچر تبدیل ہوچکا ہے؟
محمد کریم خان:
تھانہ کلچر پہلے سے بہت بہتر ہوا ہے، تاہم اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔ ہمارے کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل، محرروں کی ڈیوٹی ٹائمنگ بہت زیادہ ہے، جب بندہ تھک جائے تو لازمی اس کے اثرات آتے ہیں۔ ان تمام باتوں کا میں ایک ہی جواب دونگا کہ آپ انفراسٹر کچر میں بہتری لائیں گے تو لازمی طور پر کام اور رویئے بہتر ہونگے۔
خبر کا کوڈ : 824850
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے