0
Friday 8 Nov 2019 01:18
 اپنے بچوں کی سالگرہ دھوم دھام سے منانے والے سرکار کی آمد کا جشن نہیں مناتے

 بعض لوگوں کو سرکار کے مہینے سے الگ ہی جلن ہے، وہ اس مہینے میں رونا روتے نظر آرہے ہیں، علامہ فاروق خان سعیدی 

 ہفتہ وحدت کی مناسبت سے تقریبات کا اہتمام ملک کی اہم ضرورت ہے
 بعض لوگوں کو سرکار کے مہینے سے الگ ہی جلن ہے، وہ اس مہینے میں رونا روتے نظر آرہے ہیں، علامہ فاروق خان سعیدی 
علامہ فاروق خان سعیدی مشہور بریلوی اہلسنت عالم دین ہیں، ابتدائی دینی تعلیم جامعہ انوار العلوم ملتان سے حاصل کی، انکے اساتذہ میں اہلسنت کے بڑے عالم دین علامہ صاحبزادہ مظہر سعید کاظمی، علامہ حامد سعید کاظمی، علامہ ارشد سعید کاظمی سمیت دیگر شامل ہیں، وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور تبلیغ دین کے سلسلے میں دنیا کے 20 ممالک کا سفر کرچکے ہیں، ایک عالم دین کیساتھ ساتھ اچھے مقرر اور خطیب بھی ہیں، وہ شروع سے ہی جماعت اہلسنت کیساتھ وابستہ ہیں، مختلف ذمہ داریوں پر کام کیا اور آج کل جماعت اہلسنت پنجاب کے ناظم اعلیٰ ہیں۔ ''اسلام ٹائمز'' نے ملک کی موجودہ صورتحال، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور ہفتہ وحدت کے حوالے سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا، جسکا احوال حاضر خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: آپ نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی مخالفت کیوں کی۔؟ 
علامہ فاروق خان سعیدی:
بسم اللہ الرحمن الرحیم، پہلی بات تو یہ ہے کہ اختلاف رائے رکھنا میرا اور ہر شہری کا حق ہے، جسے کوئی بھی سلب نہیں کرسکتا، کئی ایسے مواقع آئے، جہاں مولانا صاحب نے ہماری (جماعت اہلسنت) مخالفت کی، لیکن ہم نے اس پر کچھ نہیں کہا، کیونکہ یہ اُن کا حق تھا، لہذا آج اگر ہم (اہلسنت عمائدین) نے اس مارچ کی مخالفت کی ہے تو یہ ہمارا حق ہے، لیکن یہ مخالفت ہم نے کیوں کی، سب سے اہم سوال ہے۔ ہم نے اس مارچ سے پہلے مختلف چینلز کے ذریعے جمعیت کے اکابرین تک یہ پیغام پہنچایا کہ احتجاج، دھرنا یا مارچ آپ کا حق ہے، لیکن وقت کا انتخاب ٹھیک نہیں کیا جا رہا، لیکن اس بات کو اہمیت نہیں دی گئی، ہم نے کہا آپ آزادی مارچ کریں، لیکن سرکار دو جہاں (ص) کے میلاد کا احترام ملحوظ خاطر رکھیں، ان ایام میں قوم کو دھرنوں پر نہ لگائیں، پاکستان میں سب سے زیادہ سنی آباد ہیں، لیکن سرورکائنات کا میلاد سنی کے ساتھ ساتھ تمام مکاتب جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں، لہذا اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔ لیکن مولانا صاحب نے اس پر توجہ نہ دی، جس کے بعد مجبوراً ہم نے اپنی قوم کی ترجمانی کی، میلاد کے مہینے میں قوم کو تقسیم کرنے والوں کو بے نقاب کیا اور اس دھرنے کی مخالفت کی۔

اسلام ٹائمز: بعض افراد کیجانب سے بریلوی جماعتوں کے اس اقدام کو دیوبندی مکتب فکر کے سامنے صف آراء کرنے سے منسوب کیا گیا ہے۔؟
علامہ فاروق خان سعیدی:
ایسی سوچ کے حامل افراد ہر دور اور ہر زمانے میں ہوتے ہیں، پست سوچ اور ذہنیت کے افراد ایسی قیاس آرائیاں کرتے ہیں، ہم نے ایک مضبوط موقف پر اپنا نکتہ نظر پیش کیا اور لوگوں کی مرضی کہ وہ اسے جس طرف لے جائیں، میں نے بھی سنا کہ لوگوں نے اسے اسٹیبلشمنٹ سے منسلک قرار دیا، لیکن ہمیں سرکار کی محبت میں دم بھرنے پر جو بھی الزام دیا جائے، اُس کی پرواہ نہیں، ہم کسی کے کہنے پر اکٹھے نہیں ہوتے، ہمارے اکابرین میں امام اہلسنت کے فرزندان اور جید علماء موجود ہیں، جو خود صاحب الرائے ہیں، نہ ہم کل کسی کے لیے استعمال ہوئے اور نہ آج ہوئے، جو ہمیں محسوس ہوا کہ ایک منظم منصوبے کے تحت میلاد کی مخالفت کی جا رہی ہے، پہلے پردے میں رہ کر میلاد والوں پر سب و شتم کیا جاتا تھا، لیکن آج آزادی مارچ کے نام پر میلاد کے خلاف کمپین چلائی جا رہی ہے، ہم اور ہمارے اکابرین اسے کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے، یہ مہینہ خوشیوں سے لبریز ہے، انسان تو کجا زمین و آسمان میں موجود ہر مخلوق خوش ہے، لیکن بعض لوگوں کو سرکار کے مہینے سے الگ ہی جلن ہے، وہ اس مہینے میں رونا روتے نظر آرہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کا مارچ اور دھرنا دونوں بری طرح سے ناکام ہو رہے ہیں اور یہ ناکام ہوں گے اور 12ربیع الاول سے پہلے ہی ناکام ہوں گے۔

اسلام ٹائمز: میلاد النبی کے جلوسوں میں تو یہ لوگ (دیوبند) پہلے ہی نہیں جاتے تھے، پھر ان سے گلہ کس بات کا۔؟
علامہ فاروق خان سعیدی:
ایک ہے جلوس میں یا محفل میلاد میں نہ جانا اور دوسرا ہے کہ ان جلوسوں اور محافل کی مخالفت کرنا، یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ جلوسوں میں اور میلاد کی محافل میں تو غیر مسلم بھی نہیں آتے، لیکن وہ ان کی مخالفت بھی نہیں کرتے، بیشک وہ اپنے نظریات پر قائم ہیں، لیکن ان محافل و مجالس کی مخالفت نہیں کرتے، لیکن آج کے کلمہ گو مسلمان جس نبی کا کلمہ پڑھتے ہیں، اُسی میں عیب اور اشکال تلاش کرتے ہیں، ایسے لوگ معلوم نہیں کیسے امام الانبیاء کا کلمہ پڑھتے ہیں، جن میں نقص اور عیب تلاش کرتے ہیں، یہ لوگ اسلام کے نہیں بلکہ پیسے کے پجاری ہیں، جنہیں اسلام کی نہیں پیسے کی ضرورت ہے، جب تک حکومت میں رہے، سب اچھا رہا لیکن جیسے ہی حکومت اور وزارت سے آئوٹ ہوئے پورا سسٹم دھاندلی زدہ ہوگیا، کسی نے خوب کہا تھا کہ یہ آزادی مارچ نہیں بلکہ فسادی مارچ ہے، آپ دیکھیں آج نام نہاد دھرنے میں کیا کچھ نہیں ہو رہا، ہر قسم کی تفریح اور کھیل کی اجازت اور جائز ہے، لیکن وجہ تخلیق کائنات کی آمد کی خوشی منانا جائز نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک خاص سوچ کے حامل افراد ہیں، جنہوں نے مدینہ منورہ میں بھی اسی سوچ کو پروان چڑھا رکھا ہے۔

اسلام ٹائمز: میلاد کی مخالفت کس بنیاد پر کی جاتی ہے اور میلاد کی مخالفت کرنیوالے کس سوچ کے مالک ہیں۔؟
علامہ فاروق خان سعیدی:
میلاد کی مخالفت تفریق کا پہلا زینہ ہے، جو لوگ سرور کائنات کو اپنے جیسا بشر سمجھتے ہیں، وہ سب سے پہلے میلاد کی مخالفت کرتے ہیں، حالانکہ اُن کے گھر کوئی بچہ پیدا ہو تو اُس کے شایان شان طریقے سے تقریبات منائی جاتی ہیں، سالہا سال اُن کی سالگرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے، لیکن جو اس کائنات کی تخلیق کی وجہ ہیں، جن کی وجہ سے آج ہم مسلمان ہیں، جن کی وجہ سے آج معاشرے میں مثبت جذبہ انسانیت موجود ہے، اُن کی ولادت منانا ایک خاص سوچ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک عالمی ایجنڈہ ہے، جسے انجام دینے کیلئے پاکستان میں کئی مہرے موجود ہیں، وہ سرکار کی شان میں نقائص ڈھونڈتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ان افراد کی وجہ سے مرزا غلام محمد قادیانی جیسے فتنے جنم لیتے ہیں، یہ سادح لوح مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں، اپنے بچوں کی سالگرہ دھوم دھام سے منانے والے اُس کی آمد کا جشن نہیں مناتے، جس کی آمد پر سوائے شیطان کے سبھی خوش ہیں اور یہ بات اُس وقت کی نہیں بلکہ آج بھی موجود ہے کہ سرکار کی آمد پر خوش ہونا رحمانی فعل ہے اور اُن کی آمد پر جلنا شیطانی فعل ہے۔

اسلام ٹائمز: ماہ ربیع الاول سرکار دو عالم کی آمد کا مہینہ ہے، اس میں 12 ربیع الاول سے 17 ربیع الاول تک ''ہفتہ وحدت ''منایا جاتا ہے، اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے۔؟
علامہ فاروق خان سعیدی:
میں سمجھتا ہوں کہ ویسے تو یہ پورا مہینہ ہی سرکار دو عالم سے منسوب ہے، لیکن جہاں تک ہفتہ وحدت کی بات ہے تو یہ خوش آئند ہے اور گذشتہ کئی سالوں سے ہم ملتان میں اس حوالے سے جوش و خروش دیکھتے ہیں، خاص طور پر 12 ربیع الاول کو شیعہ علمائے کرام کی جانب سے مختلف جلوسوں کے راستوں میں استقبالیہ کیمپ لگائے جاتے ہیں، جلوسوں کے منتظمین پر گل پاشی کی جاتی اور ان کی دستار بندی بھی کی جاتی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہفتہ وحدت کی مناسبت سے تقریبات کا اہتمام ملک کی اہم ضرورت ہے، سرکار دو جہاں کی ذات جو نقطہ اتحاد ہے اور ہمیں اس مہینے میں باہمی اتحاد اور وحدت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، ایک دوسرے مکاتب فکر کے پروگراموں، جلوسوں، میلاد اور محافل میں شرکت کرنی چاہیئے، تاکہ آپس میں الفت و محبت کا رشتہ پیدا ہو، سرکار دو عالم کی ہستی مسلمانوں کو جوڑتی ہے، ہمیں اس مہینے میں اس اتحاد کو فروغ دینا ہے، مجھے انتہائی خوشی ہوتی ہے، جب شیعہ علمائے کرام 12 ربیع الاول کو میلاد کے جلوسوں کا استقبال کرتے ہیں، میرے دل سے بے ساختہ اُن کے لیے دعا نکلتی ہے، میں ذاتی طور پر ہفتہ وحدت جیسی فکر کا قائل ہوں اور جو لوگ اس طرز پر کام کر رہے ہیں، وہ قابل ستائش اور خراج تحسین کے حقدار ہیں۔
خبر کا کوڈ : 826188
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب