0
Monday 11 Nov 2019 09:50
داعش کیخلاف فتح میں ایران ہمارا پاٹنر ہے

حضور اکرم (ص) کی پیروی کیلئے ہمیں ریاست مدینہ میں وضع کئے گیے راستے پر چلنا ہوگا، شیخ عمار الھلالی

پاک فوج دہشتگردوں کیخلاف جو جنگ لڑ رہی ہے، یہ عالم اسلام کی جنگ ہے
حضور اکرم (ص) کی پیروی کیلئے ہمیں ریاست مدینہ میں وضع کئے گیے راستے پر چلنا ہوگا، شیخ عمار الھلالی
انٹرنیشنل سیرت النبی (ص) کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان آئے عراق کے ممتاز عالم دین شیخ عمار الھلالی کا تعلق بصرہ سے ہے، وہ 1977ء کو عراق میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم بصرہ میں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے نجف الاشرف کا رخ کیا اور تاریخ اسلامی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری الصدر یونیورسٹی نجف الاشرف سے حاصل کی۔ نجف الاشرف کے جید علماء کی موجودگی میں اپنا تحقیقی مقالہ درس خارج پیش کیا اور سند حاصل کی۔ وہ اسوقت آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی کی نمائندگی کر رہے ہیں اور انکے رفاہی، تعلیمی اور میڈیا کے پراجیکٹس کو دیکھتے ہیں۔  انہوں نے اپنے تجربے اور سیاسی بصیرت کے بدولت عراقی پارلیمان کو کئی بہترین ایم این اے تیار کرکے دیئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: سب سے پہلے اپنے بنیادی تعارف سے آغاز کیجیے گا۔؟
شیخ عمار الھلالی:
 میں شیخ عمار الھلالی، نمایندہ مرجع عالی قدر آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی ہوں۔ اور ان کیطرف سے افغانستان، پاکستان، بھارت اور دکچھ دیگر ممالک میں ذمہ داری ادا کر رہا ہوں۔ میں آج یہاں پاکستان میں وزارت مذہبی امور کی دعوت پر ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے موجود ہوں۔ میلاد نبوی (ص) کے حوالے سے ہمیں دعوت دی گئی ہے، جو کہ مسلمانوں کی وحدت اور یکجہتی کا ایک اہم موقع سمجھا جاتا ہے۔

اسلام ٹائمز: محسن انسانیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مسلمانوں کیلئے نقطہ وحدت ہے، آج مسلم امہ کو اتحاد کی کس حد تک ضرورت ہے۔؟
شیخ عمار الھلالی:
حضور اکرم (ص) نے اپنی ابتدائی زندگی میں ایک جاہلیت بھرے معاشرے میں اپنی تبلیغ کا آغاز کیا۔ آپ نے تبلیغ کے ذریعے ایک محبت بھرے معاشرے کی بنیاد رکھی، جو آپس میں اتفاق اور اتحاد سے رہتے تھے۔ آج ہم مذہب پرستی اور قوم پرستی جیسے نعروں میں بٹ چکے ہیں، اگر ہم حضور اکرم (ص) کے بتائے راستے پر چلنا چاہتے ہیں تو ہمیں ریاست مدینہ میں وضع کئے گیے راستے پر چلنا ہوگا۔ اس ریاست کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس معاشرے میں تمام ادیان کے لوگ مل جل کر رہا کرتے تھے۔ یہ ایام مبارکہ ہمارے لیے بڑا موقع ہیں کہ اس مدنی معاشرے کو ہم دوبارہ اجاگر کریں۔

اسلام ٹائمز: ایام میلاد پیعمبر گرامی (ص)، آپکی ذات ایک مکمل نمونہ اور خلق عظیم ہے، یہ ایام اور آپکی ذات مبارکہ ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے۔؟
شیخ عمار الھلالی:
سب سے پہلے تو میں امت مسلمہ کو اس اہم مناسب کی مبارک پیش کرتا ہوں، ہم ان شخصیات کو اپنا آییڈیل قرار دیتے ہیں اور ان کی سیرت اور ان کے قصوں سے استفادہ کرتے ہیں، اسی طرح ان کی ولادت اور شہادت کے ایام کو مناتے ہیں، تاکہ ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے دین و دنیا سنوار سکیں۔

اسلام ٹائمز: استعماری طاقتوں نے عراق کو تاراج کیا، اس حوالے سے صدام کا کردار انتہائی اہم ہے،  آج کا عراق کس قدر محفوظ اور مضبوط ہے۔؟
شیخ عمار الھلالی:
 صدام کے بعثی فاسٹ نظام کے ذریعے لسان، قوم پرستی اور مذہب پرستی کو ترویج دی گئی، ہم نے اس نظام کے وضع کردہ سسٹم کے خلاف کام کیا۔ عراق میں امریکی استعمار داخل ہونے کے بعد مذہبی انتہاء پسندی کو فروغ اور مذہبی تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، تاکہ عراق کو کمزور کیا جا سکے۔

اسلام ٹائمز:  آپ ایک بہترین مدیر اور میڈیا آرگنایزیشن کے عراق میں سربراہ رہ چکے ہیں، داعش کی پشت پناہی میں عالمی میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالیں۔؟
شیخ عمار الھلالی:
 دہشت گرد تنظیم داعش کو فروغ دینے میں عالمی میڈیا نے بڑا کردار ادا کیا، اس کرائے کے میڈیا نے عراقی عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی اور ایسا پیغام پہنچایا کہ اس دہشت گرد تنظیم کو آسانی سے شکست نہیں دی سکتی، تاہم اللہ کی قدرت اور مرجعیت نے اس خطرے کا مقابلہ کیا اور اللہ کا شکر ہے کہ اسے شکست فاش سے دوچار کیا گیا، حالانکہ امریکہ کا کہنا تھا کہ اس تنظیم کو پچاس سال تک شکست نہیں دی سکتی۔ تاہم اب صورتحال کو کنٹرول کیا جا چکا ہے، یہ سب اللہ کی مہربانی اور مرجعیت کے ٹھوس اقدامات کے بدولت ممکن ہوا ہے۔  اس فتح میں جمہوری اسلامی ایران نے اہم کردار ادا کیا ہے، اس فتح میں ایران ہمارا پارٹنر ہے اور یہ سب کچھ اڑھائی سال میں کرکے دکھایا گیا ہے۔

اسلام ٹائمز: پاک عراق تعلقات کے بارے میں بتایئے، ان میں مزید بہتری کیسے لائی جاسکتی ہے۔؟
شیخ عمار الھلالی:
بلاشبہ پاکستان اور عراق برادر اسلامی ممالک ہیں اور ان کے درمیان خوشگوار تعلقات پائے جاتے ہیں۔ تاہم یہ تعلقات اس سطح پر نہیں ہیں، جس سطح پر انہیں ہونا چاہیئے، جبکہ ان تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اربعین کے دوران ایک لاکھ سے زائد پاکستانی زائرین عراق آئے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عراق کو محفوظ سمجھتے ہیں، یہ سوچ اگر نہ ہوتی تو وہ کبھی زیارت کے لئے نہ آتے، شیعہ کے ساتھ ساتھ لاتعداد سنی بھائیوں نے بھی زیارت کا شرف حاصل کیا اور امید ہے کہ آئندہ عراق اور پاکستان کے درمیان پیار، محبت اور بھائی چارہ کو مزید فروغ ملے گا۔ چونکہ ہم سب حضور (ص) اور اہل بیت (ع) کی محبت میں جڑے ہوئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: جس انداز میں حشد الشعبی نے داعش کے مقابل عراقی مقدسات کا دفاع کیا، اسی طرح پاک فوج دہشتگردوں کیخلاف ملک کے طول و ارض میں لڑ رہی ہے، اس پر کیا کہنا چاہیں گے۔؟
شیخ عمار الھلالی:
گذشتہ سال ہمارے ملک کے سفیر نے پاکستان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا تھا کہ ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں، جن کی حمایت کے بدولت عراق اور عراقی قوم نے داعش کو شکست فاش سے دوچار کیا،  یہ فتح صرف عراقی قوم نہیں بلکہ عالم اسلام کی فتح ہے۔ اسی طرح پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف جو جنگ لڑ رہی ہے، یہ عالم اسلام کی جنگ ہے، اگر پاک فوج ان دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں کرے گی تو کل یہ عراق تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز:  اربعین حسینی کے موقع پر عراقیوں کا جذبہ دیدنی ہوتا ہے, جس سے وہ زائرین کی خدمت کرتے ہیں، اس جذبہ میں کیا طاقت کارفرما ہے۔؟
شیخ عمار الھلالی:
 مرجع عالی قدر آیت اللہ یعقوبی نے فرمایا ہے کہ یہ ایک معجزہ کہ عراقی اس طرح ٹوٹ کر زائرین کی خدمت کرتے ہیں۔ چونکہ عراق میں سرکاری سطح پر انتظامات نہ ہونے کے باوجود عراقی عوام اپنا فرض سمجھ کر ان کی خدمت کرتے ہیں اور یہ سب کچھ امام حسین (ع) اور اہل بیت (ع) کی محبت اور ان کی تعلیمات سے جڑے رہنے کی بدولت ہے۔

اسلام ٹائمز: عراق کے دوست، ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ایران کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں، خاص طور پر دہشتگردی اور داعش کیخلاف جنگ میں ایران نے عراق میں کیا کردار ادا کیا۔؟
شیخ عمار الھلالی:
اسلامی جمہوری ایران نے عراقیوں کا بڑے پیمانے پر ساتھ دیا اور ان کی مدد کی، جب عراقی فورسز اور حشد الشعبی کو اسلحہ درکار تھا تو ایران نے بھرپور مدد کی۔ اس دور میں عراق کے دوست ممالک نے بھی عراق کو اسلحہ دینے سے انکار کیا۔ اس مشکل گھڑی میں ایران ہمارے ساتھ کھڑا رہا، اس موقع پر ایرانیوں نے حیدری غیرت دکھائی، علاوہ ازیں انہوں نے ہماری افرادی اور لاجسٹک مدد بھی کی اور بہت سارے ایرانیوں نے عراق اور تشیع کے مذہب کا دفاع کرتے ہویے جام شہادت نوش کیا، ہم تہ دل سے اسلامی جمہوری ایران کا شکریہ ادار کرتے ہیں۔ اللہ انہیں اس کا اجر عظیم دے۔ اس کے علاوہ اگر قم اور نجف کے درمیان ہم آہنگی نہ ہوتی تو عراقیوں کو یہ کامیابی حاصل نہ ہوتی۔ جس کی بدولت عراق بھی باقی ہے اور عراق میں اسلام بھی باقی ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکی کھیل کے باعث عراق تاراج ہوا، اس پر کیا کہیں گے۔؟
شیخ عمار الھلالی:
خطے میں امریکہ کا کردار بہت پرانا ہے، امریکہ اسرائیل اور دیگر اسلام دشمن ممالک کی کوشش رہی ہے کہ اسلام پروان نہ چڑھ پائے اس مقصد کے لیے یہ ممالک مسلمان ممالک کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایسا نہیں ہوگا اور ان ممالک کو ذلت اور رسوائی کا سامنا پڑیگا اور ان کے مقاصد کبھی پورے نہیں ہونگے، چونکہ اللہ تعالیٰ خود اس دین مبین کا محافظ ہے۔ وہ دور آئے جب امام زمانہ (عجل) کی حکومت قائم ہوگی اور دنیا میں امن کا بول بالا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: مرجع عالی قدر آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی کیجانب سے کیا پیغام دینا پسند کرینگے۔؟
شیخ عمار الھلالی:
میلاد النبی کی مناسبت سے آیت اللہ یعقوبی کا یہ پیغام ہے کہ مذہب پرستی اور تفرقہ بازی سے دور رہیں اور ایک دوسرے سے پیار محبت سے رہیں اور دشمنوں کو اس کمزوری سے فائدہ نہ اٹھانے دیں۔ خواہ یہ مسلمان سنی ہوں یا شیعہ۔

اسلام ٹائمز: وحدت کیلئے عراق کا کردار کیا ہونا چاہیئے۔؟
شیخ عمار الھلالی:
عراق کا وحدت اسلامی کے لیے اہم کردار ہونا چاہیئے۔ عراق کا ایک اہم تاریخی اور ثقافتی کردار ہے۔ عراق میں جید علماء موجود ہیں، جو ملک سے باہر وحدت اسلامی کی کانفرنسز میں بھی شرکت کرتے ہیں اور امت مسلمہ کے مسائل سے واقفیت رکھتے ہیں۔ عراقی علماء اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمان پیار و محبت سے رہیں اور ایک دوسرے کے اعتقادات کو محبت کی نگاہ دیکھیں۔
خبر کا کوڈ : 826764
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب