0
Wednesday 13 Nov 2019 23:49

انسانی حقوق کے علمبردار آنکھیں کھولیں، کشمیری اب صرف اور صرف آزادی چاہتے ہیں، ارسلان جاوید

انسانی حقوق کے علمبردار آنکھیں کھولیں، کشمیری اب صرف اور صرف آزادی چاہتے ہیں، ارسلان جاوید
بھارت کیجانب سے کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے اور نافذ کرفیو کے نفاذ کو 100 دن مکمل ہوگئے ہیں، ارسلان جاوید جنکا تعلق مقبوضہ وادی کے ایک چھوٹے سے علاقے سے ہے، انہوں نے اسلام ٹائمز کو کشمیر کی اندرونی صورتحال پر ایک خصوصی انٹرویو دیا ہے اور کسی بھی کشمیری کا پہلا انٹرویو ہے، جو بھارتی جبر، تسلط اور کرفیو کے نفاذ کے بعد کسی ادارے کو دیا گیا ہے۔ ارسلان جاوید ایک قلمی نام ہے، جو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر رکھا گیا ہے، ارسلان جاوید اور انکا ساتھی کرفیو توڑ کر کربلا معلیٰ عراق پہنچے اور اربعین کی زیارات کیں، اس دوران ارسلان کی ملاقات اسلام ٹائمز کے نمائندے سے ہوتی ہے، جس کی وساطت سے وہ اپنی آواز دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ انٹرویو میں کشمیر کے اندرونی حالات، کشمیری کیا سوچ رہے ہیں اور کرفیو ہٹنے کے بعد کشمیری کیا ردعمل دے سکتے ہیں، اس صورتحال کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: کیا حالات دیکھ رہے ہیں، کشمیری کیا سوچ رہے ہیں، اتنے دن سے وہاں پر کرفیو ہے، اسکول کالجز بند ہیں۔؟
ارسلان:
دیکھیں اگر آپ آرٹیکل 370 اور 35 اے کے حوالے سے پوچھ رہے ہیں تو اس پر پورا کشمیر سراپا احتجاج ہے، ہم سے بہت بڑی زیادتی کی گئی ہے، پچھلے تین ماہ سے دکانیں، اسکول اور کالجز بند پڑے ہیں، سڑکیں بند ہیں، ایک غنڈا گردی ہے، جو بھارتی حکومت کی جانب سے کی گئی ہے، جس کو ہم کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔ ہمارا احتجاج تب تک جاری رہے گا، جب تک ان متنازعہ فیصلے کو واپس نہیں لیا جاتا، ہم مودی سرکار کی پرزور مذمت کرتے ہیں، جب تک ہماری آواز یو این او تک نہ پہنچے، ہمارا خاموش احتجاج جاری رہے گا، ہم گھروں میں قید ہوکر بھی سراپا احتجاج ہیں، ہمارے اسکول بند ہیں، بچے اسکول نہیں جا سکتے، مستقل طور پر خوف کی فضا ہے، اس صورتحال میں کوئی بھی بچہ اسکول نہیں جا سکتا، نہ ہی دکانیں کھلی ہیں۔

اسلام ٹائمز: اچھا یہ بھی بتایئے گا کہ سیاسی قیادت بھی تو قید میں ہے، کوئی آواز اٹھانے والا بھی نہیں، تو آخر کب تک اس آواز کو دبایا جا سکے گا۔؟
ارسلان جاوید:
یہی تو دکھ کی بات ہے، ہماری قیادت گھروں میں بند ہے، حریت رہنما جیلوں میں ہیں، ان کو بھی بند کیا گیا ہے، سیاسی لیڈرز بھی نظر بند ہیں، پورا انٹرنیٹ سسٹم بند ہے، موبائل سروس بھی معطل ہے، ہم لوگ پوری دنیا سے کٹے ہوئے ہیں، انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا سلسلہ جاری ہے، ہم دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس کا نوٹس لے، انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پر نوٹس لیں۔ کشمیر کے کیا حالات ہیں، آپ سب سے یہ اوجھل ہے، ہمارے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو رہی ہے، لوگ تو گھروں سے نہیں نکل سکتے، کہیں جا نہیں سکتے۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں سناٹا چھایا ہوا ہے، یہ دنیا خاموش تماشائی بن کر بیٹھی ہے۔

اسلام ٹائمز: تو اب آپکا مطالبہ کیا ہے، کشمیری اسوقت کیا چاہتے ہیں۔؟
ارسلان جاوید:
ہمارا صرف یہ کہنا ہے کہ ہر ایک کو چاہیئے کہ کشمیر کی آزادی کیلئے اور کشمیر میں جو ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے، اس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائے، ہماری دبی آواز کو اٹھائیں، مودی نے جو ظلم اور زیادتی کی ہے، اس پر خاموش نہ بیٹھیں، آرٹیکل 370 کشمیریوں کی شناخت تھی، اس کو ختم کر دیا گیا ہے، اس آرٹیکل کو غیر قانونی طور پر ہٹایا گیا ہے، مودی نے صرف ووٹوں کیلئے یہ اقدام کیا ہے، یہ اقدام پورے ہندوستان کو غیر مستحکم کرے گا، مودی کی پالیسی سے ہندوستان کی اقتصادی حالت مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا کشمیری اس غیر منصفانہ اقدام پر چپ ہو جائینگے۔؟
ارسلان جاوید:
ابتک اگر کرفیو نہیں ہٹا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے اس جبر کو قبول نہیں کیا، ہمارا بزنس تباہ ہوگیا ہے، اسکول بند ہیں، معیشت برباد ہوگئی ہے، لوگوں کے کاروبار کا کوئی حال نہیں، اس سب کے باوجود مودی اپنے ہدف کو حاصل نہیں کرسکا، وہ جو چاہتا ہے، ہم نے اسے مسترد کر دیا ہے، یہ صورتحال اس بات کی گواہ ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: اب کیا آپکی یہی ڈیمانڈ ہے کہ آرٹیکل 370 بحال کیا جائے۔؟
ارسلان جاوید:
اس سب نقصان کے بعد اب ہمارا یہ مطالبہ نہیں رہا، اب ہم یہ نہیں چاہتے ہیں کہ متنازعہ اقدام واپس لیا جائے، اب ہم آزادی چاہتے ہیں، اب ہم اپنی شناخت چاہتے ہیں۔ ہم آزاد تھے اور آزاد رہنا چاہتے ہیں، ہماری جدوجہد جاری رہے گی، اسے طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی ہم پیچھے ہٹنے والے ہیں۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم عمران نے اقوام متحدہ کے فورم پر جو تقریر کی ہے، اس پر کشمیریوں نے کیا ردعمل دکھایا ہے یا اسے کیسے دیکھا ہے۔؟
ارسلان جاوید:
ہم سمجھتے ہیں کہ پوری ستر سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہمارا مقدمہ اس انداز میں پیش کیا گیا ہے، عمران خان نے مودی حکومت کو بہت ہی عمدہ انداز میں بے نقاب کیا ہے، اس مسئلے کو بہتر انداز میں اجاگر کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ یہ مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر اور ڈسکس ہوا ہے۔ اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا تھا۔ اب عالمی میڈیا میں بات ہو رہی ہے، ہم اس اقدام کو سراہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پہلے کچھ کشمیری بھارت کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے تھے، اس اقدام کے بعد مجموعی طور پر کشمریوں کا کیا ردعمل ہے، کیا اب بھی کوئی تقسیم ہے یا کوئی مودی کے اقدام کی تعریف کرتا ہے۔؟
ارسلان:
یہ بات درست ہے کہ پہلے قومی دھارے کے لوگ ہندوستان کے وفادار تھے، کوئی چیف منسٹر رہا، یہ سب ان کے ساتھ تھے، لیکن آج جو زیادتی ہوئی ہے، اس پر سب نظر بند ہوگئے ہیں، سب کی آواز کو دبا دیا گیا ہے، اب جیلیں کم پڑ گئی ہیں، اس لیے قیادت کو ہوٹلوں اور گھروں میں بند کر دیا گیا ہے۔ جن کو کشمیری کاز سے کوئی دلچپسی نہیں تھی یا وہ آزادی کا نعرہ نہیں لگاتا تھا، وہ بھی مودی کے اقدام پر ہم آواز ہوگیا ہے اور سراپا احتجاج ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں کتنے لوگوں کو اٹھا لیا گیا، یعنی نظر بند کیا گیا ہے۔؟
ارسلان جاوید:
اعداد و شمار کے مطابق گیارہ سے ساڑھے گیارہ ہزار افراد مختلف جیلوں میں بند ہیں، مواصلات کا نظام بند ہے، کوئی رابطہ ہے نہیں، جو احتجاج کرتا ہے، اسے اٹھا لیا جاتا ہے، نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اٹھا لیا گیا ہے، اب یوں سمجھیں کہ پوری وادی متحد ہے، وہ اس جبر کو تسلیم نہیں کرتی۔

اسلام ٹائمز: اربعین پر شرکت کیلئے کیسے پہنچے؟، جب ہر طرف کرفیو نافذ ہے۔؟
ارسلان جاوید:
(لمبی سانس لیتے ہوئے) سفر عشق کیلئے صبح سویرے گھر سے نکلے، گاڑی لی، چھپ کر نکل آئے، بہت اشتیاق تھا کہ اربعین پر پہنچوں۔

اسلام ٹائمز: میں ایک مفروضہ قائم کر رہا ہوں کہ آج اگر اقوام متحدہ نوٹس لیتی ہے اور استصواب رائے کا حق دیتی ہے، یعنی تین آپشنز دیتی ہے، جن میں آزاد ریاست، بھارت یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں، اکثر کشمیریوں کا کیا ردعمل ہوگا۔؟
ارسلان جاوید:
میرے خیال میں کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد اپنے آپ کو پاکستان کے ساتھ ڈھونڈتی ہے یا پھر آزاد شناخت کی بات ہوتی ہے، بھارت کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ہیں، جو ساتھ دیں گے، ان کی تعداد شائد پانچ فیصد بھی نہ ہو۔
خبر کا کوڈ : 827079
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش