?>?> گلگت بلتستان میں ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک کے اتحاد کیلئے عملی کام کر رہے ہیں، الیاس صدیقی - اسلام ٹائمز
0
Saturday 7 Dec 2019 17:45
آئی ٹی پی ایک قدم بڑھائے تو ہم سو قدم آگے بڑھانے کیلئے تیار ہیں

گلگت بلتستان میں ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک کے اتحاد کیلئے عملی کام کر رہے ہیں، الیاس صدیقی

پچھلے الیکشن میں ہمارے مینڈیٹ کو چرایا گیا، اس دفعہ بھی چرایا گیا تو خاموش نہیں رہیں گے
گلگت بلتستان میں ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک کے اتحاد کیلئے عملی کام کر رہے ہیں، الیاس صدیقی
محمد الیاس صدیقی مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان ہیں، انکا تعلق گلگت کے علاقے بگورو سے ہے۔ سیاست کا آغاز زمانہ طالب علمی سے ہی کیا، آئی ایس او گلگت ڈویژن کے صدر بھی رہے، بعد میں چیئرمین بلدیہ بھی منتخب ہوئے۔ مشرف دور میں مسلم لیگ قاف میں شمولیت اختیار کی۔ بعد میں ایم ڈبلیو ایم میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے انہیں صوبائی ترجمان مقرر کیا۔ الیاس صدیقی ایک متحرک سیاستدان ہونے کیساتھ ساتھ جی بی کے اندرونی و بیرونی معاملات سے بخوبی آگاہی رکھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے الیاس صدیقی سے جی بی کے آنیوالے انتخابات اور دیگر امور پر گفتگو کی ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: جی بی کے انتخابات نزدیک آرہے ہیں، پچھلے الیکشن میں توقعات کے برعکس نتائج آئے، اس دفعہ کیا صورتحال ہوگی۔؟
الیاس صدیقی: پچھلے الیکشن میں عوامل کچھ اور تھے۔ کچھ مقتدر قوتیں یہ نہیں چاہتی تھیں کہ یہاں وفاق کیخلاف کوئی حکومت آئے، کیونکہ یہاں سی پیک تھا، سی پیک کیلئے ضروری تھا کہ یہاں کوئی ریمورٹ کنٹرول حکومت ہو، جی بی میں مسلم لیگ نون کا کوئی وجود ہی نہیں تھا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جی بی کے اندر نون لیگ کی حکومت بنے گی، لیکن کچھ مقتدر قوتوں کی کوششوں سے نون لیگ کی حکومت آگئی، اس حکومت کے قیام کے پیچھے عزائم سی پیک تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سی پیک جی بی کا گیٹ وے ہے، اس کے باؤجود سی پیک کے حوالے سے ایک پراجیکٹ بھی جی بی کے اندر نہیں ہے، اگر یہاں پر وفاق کا کوئی پٹھو نہیں ہوتا، وفاق میں جن کے باپ بیٹے بیٹھے ہوئے ہیں، ان کے بچے یہاں نہ ہوتے تو ظاہر ہے مزاحمت ہوتی، آواز اٹھتی، اس لیے پلان کے تحت ہمیں خصوصاً ایم ڈبلیو ایم کو شکست سے دوچار کیا گیا۔ آپ کے علم میں ہے کہ سب سے زیادہ عوام کی حمایت ایم ڈبلیو ایم کے ساتھ تھی اور عام تاثر بھی یہی تھا کہ اس دفعہ ایم ڈبلیو ایم حکومت بنائے گی، لیکن نتیجہ آیا تو پتہ چلا کہ صرف دو ہی سیٹیں مل سکی ہیں، وہ جو ہمارا مینڈیٹ تھا، اس کو پچھلی دفعہ چرایا گیا۔

اسلام ٹائمز: وہی صورتحال اسوقت بھی وفاق میں ہے، وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے تو پھر یہاں بھی تحریک انصاف کی ہی حکومت بنے گی، اس صورت میں عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو بچانے کیلئے کیا اسٹریٹجی ہوگی، پارٹی کا الیکشن پلان کیا ہوگا۔؟
الیاس صدیقی:
ہاں، اس کیلئے ابھی سے کام شروع ہوگیا ہے، چیف الیکشن کمشنر کو لایا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے ہمارے جو تحفظات تھے، وہ اس لیے تھے کہ ایک ایسے بندے کو اٹھا کر لایا گیا، جو چیف الیکشن کمشنر کیلئے اہل ہی نہیں، اب آنے والے الیکشن بھی مشکوک ہیں، اس کے باؤجود بھی ہم قطعاً الیکشن نہیں چھوڑیں گے اور پھرپور طریقے سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ اسٹریٹجی یہی ہے کہ ان کے جو عزائم ہیں، وہ لوگوں کو آگاہ کرینگے اور بھرپور طریقے سے عوامی مہم  چلائی جائے گی، جس طرح پچھلے الیکشن میں ہمارے ووٹرز کو دروازے پہ روکا جاتا تھا، اس دفعہ اگر الیکشن کے دن کوئی ایسی حرکت نظر آئی تو اسی دن ہم مزاحمت کرینگے، پھر الیکشن ملتوی بھی ہوسکتے ہیں، کوئی الیکشن نہیں کروا سکے گا۔

اسلام ٹائمز: مینڈیٹ چرانے پر کوئی مزاحمت نہیں ہوئی، احتجاج بھی نہیں ہوا، کیا وجہ تھی۔؟
الیاس صدیقی:
دیکھیں، اس میں ہم نے مصلحتاً خاموشی اختیار کی تھی، چونکہ گلگت بلتستان کے حالات پچھلے کچھ عرصے سے خراب رہے ہیں، خصوصاً فرقہ وارانہ طور پر حالات خراب رہے ہیں، جی بی کے لوگ بڑی مشکل سے ایک عرصے کے بعد سکھ کا سانس لے رہے ہیں، اس لیے وسیع تر مفاد میں ہم نے قربانی دی، تاکہ یہاں پھر سے کوئی شورش پیدا نہ ہو۔ اس دفعہ کم از کم یہ قربانی کی توقع ہم سے نہ رکھی جائے، جن کو جو بھی مینڈیٹ ملتا ہے، اس مینڈیٹ کو چرانے والی پالیسی گلگت بلتستان کے اندر انتہائی تباہ کن اور انارکی کا باعث بنے گی۔

اسلام ٹائمز: کسی جماعت کیساتھ اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا امکان ہے۔؟
الیاس صدیقی: 
میرے خیال میں یہاں پہلے مائنس پیپلزپارٹی اور نون لیگ ہوگی، اس کے بعد بات چلے گی۔ کیونکہ پیپلزپارٹی کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں پر مسائل کی جڑ پی پی ہے، کیونکہ یہاں سٹیٹ سبجیکٹ رول کے خاتمے کے بعد جو مسائل پیش آئے، وہ پیپلزپارٹی کی وجہ سے آئے۔ اب یہاں پر یہ لوگ حق ملکیت و حق حاکمیت کی تحریک چلا رہے ہیں، انہوں نے حق ملکیت کو 1976ء میں ہی ہم سے چھینا تھا، اس کے بعد 2009ء کا جو آرڈر دیا گیا، وہ بھی بذات خود ایک ظلم تھا۔ آپ دیکھیں کہ خود ان کے مطابق جی بی ایک متنازعہ علاقہ ہے، اپ اگر متنازعہ ہے تو پھر متنازعہ حیثیت ہی دینا چاہیئے، لیکن 2009ء کا جو آرڈر دیا تو انہوں نے ہمیں اس حوالے سے کوئی حق نہیں دیا بلکہ ملازمتوں میں وفاقی کوٹہ مختص کرکے مقامی ملازمین کے ساتھ ظلم کیا گیا، یہ آرڈر تو ایک قسم کا ایٹمی حملہ تھا۔

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی کیساتھ بھی نہیں۔؟
الیاس صدیقی:
پچھلے دنوں آغا علی رضوی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی کرپٹ جماعت کے ساتھ الائنس کبھی نہیں ہوسکتا، پی پی اور نون لیگ نے دو مرتبہ پاکستان پر حکومت کی ہے، ہمارے بنیادی حقوق کو انہوں نے پس پشت ڈالا۔ اب پی ٹی آئی نئی حکومت ہے، ان سے ہمیں توقعات بھی وابستہ ہیں تو ان کے حوالے سے بات چیت ہوسکتی ہے، لیکن یہ کوئی حتمی نہیں ہے کہ ہم ان کے ساتھ کوئی الائنس کریں، ہم اپنے طور پر بھی الیکشن لڑیں گے، ان شاء اللہ ہمیں امید ہے کہ اس دفعہ گلگت بلتستان میں عوامی مینڈیٹ جس طرح مجلس وحدت مسلمین کو حاصل ہے، وہ کسی جماعت کو نہیں۔

اسلام ٹائمز: اسلامی تحریک اور ایم ڈبلیو ایم کے نظریات بھی ایک ہیں، لیکن پارٹی الگ، آئی ٹی پی کیساتھ الائنس کیوں نہیں۔؟
الیاس صدیقی:
جی ہاں، ہمارا فطری اتحاد اسلامی تحریک کے ساتھ ہی ہوسکتا ہے، کیونکہ جس موقف پہ وہ کھڑی ہے، اس پہ ایم ڈبلیو ایم بھی ہے، جس نظام ولایت فقیہ کو وہ فالو کر رہے ہیں، وہی نظریہ ہمارا بھی ہے۔ میرے مطابق جی بی کے اندر ان دونوں جماعتوں کا اتحاد انتہائی ضروری ہے، اس حوالے سے مقامی سطح پر ہماری بات چیت چل رہی ہے، ہم نے عملی طور پہ بھی کرکے دکھایا ہے۔ حلقہ فور کے اندر جو ضمنی الیکشن ہوئے، وہاں پیپلزپارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں ہم نے اسلامی تحریک کو سپورٹ کیا اور وہاں جتنا ہم سے ہوسکتا تھا، ان کیلئے ورک کیا۔ اس کے بعد جب اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا معاملہ آیا تو اس وقت بھی ہم نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں اسلامی تحریک کے امیدوار کو سپورٹ کیا، جس کیوجہ سے آج اپوزیشن لیڈر اسلامی تحریک کا ہے۔ ہم تو ہر سطح پہ ساتھ دینے کیلئے تیار ہیں، اگر یہ ایک قدم آگے بڑھائیں گے تو ہم سو قدم آگے بڑھانے کیلئے تیار ہیں۔

اسلام ٹائمز: مرکزی سطح پہ بھی اس حوالے سے کوئی بات ہوئی ہے۔؟
الیاس صدیقی:
مرکزی سطح پہ پچھلے دنوں ہمارا اجلاس ہوا تھا، اس میں بھی بات ہوئی ہے، ہم نے اپنے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ قائد ملت علامہ ساجد نقوی سے گلگت بلتستان کے آنے والے الیکشن کے بارے میں بات کریں۔

اسلام ٹائمز: نون لیگ کی صوبائی حکومت کی کارکردگی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
الیاس صدیقی:
ایک تو ہمارے یہاں کچھ ملٹی پل ایشوز ہیں، کچھ ایشوز ہمارے آئینی حقوق کے ساتھ وابستہ ہیں۔ مسلم لیگ نون کے نزیک گلگت بلتستان کسی ایجنڈے میں ہی نہیں کہ انہوں نے کبھی جی بی کو حقوق دینے کے حوالے سے سوچا بھی ہو۔ جہاں تک ڈویلپمنٹ کی بات ہے، اس حوالے سے ان کا سٹائل ہمیشہ سے ہی یہی رہا ہے کہ وفاق سے یہاں تک جب بھی نون لیگ کی حکومت آگئی تو انہوں نے سڑکوں اور پلوں، عمارتوں پر توجہ اس لیے دی کہ بظاہر ڈویلپمنٹ نظر آرہی ہوتی ہے، اندر سے اس ڈویلپمنٹ کی آڑ میں بہت بڑی کرپشن ہوتی ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے، جس طرح وفاق میں انہوں نے منصوبوں کی آڑ میں کرپشن کی، وہی سٹال گلگت بلتستان میں اپنایا گیا۔ ڈویلپمنٹ میں بھی ڈنڈی ماری ہے، کچھ سلیکٹڈ حلقے ہیں، جہاں پر ڈویلپمنٹ ہوگئی ہے، خصوصاً آپ گلگت شہر کو لے لیں تو اس شہر کے دو حلقے ہیں، ایک حلقہ ون اور دوسرا حلقہ ٹو۔ دونوں حلقوں سے مسلم لیگ نون کے ممبر جیتے ہیں، اب حلقہ ٹو پر انتہائی فوکس کیا ہوا ہے اور نصف سے زیادہ بجٹ حلقہ ٹو پر لگایا جا رہا ہے۔

اس وقت یہاں پلوں کا جو ایشو چل رہا ہے، اس کی اندر کی کہانی یہ ہے کہ تین آر سی سی پل وہاں بنائے جا رہے ہیں، جہاں صرف بنجر اراضی ہے۔ جہاں آبادی ہے وہاں نہیں بنائے جا رہے، مثال کے طور پر بارگو میرا حلقہ ہے، اس گاؤں میں کوئی آر سی سی پل نہیں ہے، لوگ وہاں تین چار لکڑی کے پلوں پر گزارہ کر رہے ہیں۔ کہنے کا مطلب ہے کہ منصوبے صرف سلیکٹڈ علاقوں تک ہی محدود ہیں، اس کے پیچھے بھی کرپشن کی بڑی کہانیاں ہیں۔ سارے ٹھیکے ان کے اپنے بندوں کے پاس ہیں، گلگت میں چار پانچ ٹھیکیدار ایسے ہیں، جن کے پاس تمام بڑے منصوبے ہیں۔ اس کے بائوجود چیف سیکرٹری نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اس سال کی اے ڈی پی میں وزیراعلیٰ نے جگلوٹ میں پانچ کروڑ روپے ایک مسجد کیلئے رکھے ہیں، کیا یہ سیاسی رشوت نہیں ہے؟ اس حکومت کے دور میں میرٹ جس طرح پامال ہوا، منصوبوں کے نام پر جو کرپشن ہوئی، اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

انتخابی مہم کا آغاز کب سے ہوگا۔؟
الیاس صدیقی:
الیکشن شیڈول کا اعلان ہوتے ہی بھرپور طریقے سے مہم شروع کی جائے گی۔ یہاں پر کچھ پیسے والے لوگ الیکشن سے ٹھیک ایک سال پہلے ایک دم سے مہم چلاتے ہیں، لیکن چار سال تک وہی لوگ منظر عام سے غائب رہتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی ہم ایسا نہیں کرینگے۔ جب الیکشن شیڈول کا اعلان ہوگا تو ہم اپنی حکمت عملی کا بھی اعلان کرینگے اور بھرپور طریقے سے اپنی کمپیئن شروع کرینگے۔
خبر کا کوڈ : 831357
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش