0
Monday 9 Dec 2019 23:09

امریکہ اور اسکے حواری یمن شکست کا بدلہ ایران و عراق کے حالات خراب کرکے لینا چاہتے تھے، علی رضا طوری

امریکہ اور اسکے حواری یمن شکست کا بدلہ ایران و عراق کے حالات خراب کرکے لینا چاہتے تھے، علی رضا طوری
علی رضا طوری کا بنیادی تعلق ضلع کرم کے علاقہ پاراچنار سے ہے، وہ زمانہ طالب علمی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے منسلک رہے اور پھر مجلس وحدت مسلمین کے قیام کے بعد سے اب تک اس جماعت میں مختلف ذمہ داریوں پر فرائض کی ادائیگی کرتے آئے ہیں۔ علی رضا طوری آج کل ایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخوا کے سیکرٹری ایمپلائز ونگ ہیں۔ اسلام ٹائمز نے جناب علی رضا طوری کیساتھ مختلف امور پر ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین میں ایمپلائز ونگ نئے شعبہ کا اضافہ ہے، اس شعبہ کی ذمہ داریاں اور اہداف ہیں۔؟
علی رضا طوری:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ سب سے پہلے تو میں آپ اور آپ کے ادارے کا شکریہ ادا کروں گا، جیسے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ شعبہ تنظیمی سسٹم میں ایک نیا اضافہ ہے، اس شعبہ کی کمی محسوس کی جا رہی تھی، مجلس وحدت مسلمین کا تنظیمی ڈھانچہ شعبہ جاتی امور پر مبنی ہے اور یہاں شعبہ جاتی امور پر فوکس کرکے ملک و ملت کی خدمت کی جاتی ہے، اسی مناسبت سے شعبہ ایمپلائز ونگ ترتیب دیا گیا ہے۔ بنیادی اغراض و مقاصد یہی ہیں کہ ملک بھر میں ملازم پیشہ افراد کو ایک لڑی میں پرویا جائے، مختلف ادارہ جات میں موجود افراد کی تیکنیکی اور فنی صلاحیتوں سے مستفید ہونا، نوجوانوں کو روزگار کی طرف راغب کرنا اور وحدت خود روزگار اسکیم کا اجرا۔ جہاں ضرورت ہو وہاں لوگوں کو مقامی سطح پر موجود مخیر حضرات کے تعاون سے قرض الحسنہ کی فراہمی یقینی بنا کر انہیں کاروبار کا موقع فراہم کرنا ہماری پلاننگ کا حصہ ہے۔

اسلام ٹائمز: لوگوں کو روزگار فراہم کرنا یا کاروبار کیلئے معاونت کرنا تو ریاست کی ذمہ داری ہے، بہتر یہ نہیں تھا کہ آپکی جماعت اس حوالے سے عوام کو حکومت سے ریلیف پہنچانے میں معاون ثابت ہوتی۔؟
علی رضا طوری:
آپ نے ٹھیک کہا، لیکن بحیثیت ایک مذہبی و سیاسی جماعت یہ بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم سے جو کچھ ممکن ہو، وہ عوام کی بہتری کیلئے کیا جائے، حکومت کی جانب سے ریلیف لیکر عوام تک پہنچانے کی کوششیں پہلے بھی کی جا رہی تھیں اور اس شعبہ کے پلیٹ فارم سے اب مزید بہتر انداز میں کی جاسکیں گی۔ جہاں جہاں ہمارے لئے ممکن ہوگا، ہماری کوشش ہوگی کہ بے روزگاری کے خاتمے اور لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کیلئے تعاون فراہم کریں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں ہمیشہ سے مزدور اور پسے ہوئے طبقہ کا استحصال ہوتا آیا ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت نے اپنے منشور کر حصہ ہونے کے باوجود اس طبقہ کو نظرانداز کیا۔؟
علی رضا طوری:
پاکستان میں روز اول سے غریب محنت کش کیساتھ زیادتی ہوتی آئی ہے، پاکستان کے عوام نے عمران خان کو اپنے لئے ایک مسیحا کے طور پر دیکھا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کچھ تو سابقہ حکومتوں کی کوتاہیوں کی وجہ سے ملک کی اب بھی کوئی اچھی حالت نہیں ہوسکی اور دوسرا عمران خان اس طریقہ سے ڈیلیور نہیں کرسکے، جیسے انہوں نے انتخابی مہم کے دوران وعدے کئے تھے، اب سابقہ حکومتوں اور موجودہ اپوزیشن پر تنقید کی بجائے عملی کام بھی ہونے چاہئیں، مہنگائی اس وقت عوام کیلئے سب سے بڑی مشکل بنی ہوئی ہے، گذشتہ ایک سال کے دوران مہنگائی اس تیزی کیساتھ بڑھی ہے کہ غریب اور متوسط طبقہ کا جینا مشکل ہوگیا ہے، خان صاحب کے کچھ اقدامات کا نتائج بھی سامنے آئے ہیں، لیکن جب تک ہمارے ملک کی اکثریتی آبادی متاثر رہے گی، ہم ترقی نہیں کرسکتے۔

اسلام ٹائمز: خیبر پختونخوا میں کوٹلی امام حسین (ع)، بالش خیل، شیڈول فورتھ، شاہو خیل جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں، آپکی جماعت نے اس حوالے سے کیا اقدامات کئے ہیں۔؟
علی رضا طوری:
ان تمام ایشوز کو ہماری قیادت نے مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتوں کیساتھ اٹھایا ہے، اس حوالے سے وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء اور وفاقی وزراء تک سے بات ہوئی ہے۔ کچھ مسائل حل بھی ہوئے ہیں، کچھ یقین دہانیاں بھی کرائی گئی ہیں، تاہم اطمینان تو تب ہوگا جب یہ مسائل حل ہوں گے۔ ہم یا ہماری قیادت ان مسائل سے غافل بالکل نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام مسائل اور معاملات کو گفت و شنید سے حل کر لیا جائے، حکومت کے پاس اختیار ہوتا ہے، وہ ان تمام معاملات کو حل کرسکتی ہے اور مجھے ذاتی طور پر امید ہے کہ حکومت ہمارے ان مسائل کو بھی حل کرے گی۔

اسلام ٹائمز: آپ نے فرمایا کچھ مسائل حل بھی ہوئے ہیں، چند ایک بیان کریں گے۔؟
علی رضا طوری:
محرم الحرام کے دوران صوبہ میں مختلف مقامات پر ہمارے لوگوں کیخلاف بلاجواز ایف آئی آرز کا اندراج ہوا تھا، اس حوالے سے ہمیں کافی حد تک ریلیف ملا، اس کے علاوہ ہمارے کئی لاپتہ افراد واپس بھی آئے ہیں، پاراچنار میں سکیورٹی کے مسائل تھے، دہشتگردی اور بم دھماکے ہو رہے تھے، اس حوالے سے وہاں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، ڈیرہ اسماعیل خان میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، لہذا ہمیں کسی حد تک ریلیف ضرور ملا ہے، تاہم جن مسائل کا آپ نے ذکر کیا، وہ یقینی طور پر حل ہونے چاہئیں۔

اسلام ٹائمز: کوہاٹ میں تو نمازیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا جا رہا ہے، کیا یہ ریاست مدینہ کے دعویداروں کی حکمرانی پر بہت بڑا سوالیہ نشان نہیں۔؟
علی رضا طوری:
واقعاً یہ بہت بڑی زیادتی ہے، کوہاٹ اور ہنگو میں ڈی پی اوز ایسے افراد آئے کہ جنہوں نے وہاں مقامی شیعہ لوگوں کیلئے مسائل پیدا کئے، ہنگو میں اس مرتبہ قدیمی یوم عاشورہ کے جلوس کے شرکاء پر ایف آئی آرز بھی کاٹی گئی تھیں، یہ حکومت کی ناکامی ہے، نماز سے روکنا اور مسجد کو سیل کرنا ظلم ہے، اس حوالے سے حکومت کو فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے، ریاست کے ایسے اقدامات سے امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، لہذا میں حکومت سے مطالبہ کروں گا کہ کے ڈی اے کوہاٹ کے مسئلہ کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حکومت کی مجموعی کارکردگی کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
علی رضا طوری:
اس میں کوئی شک نہیں نے پوری پاکستانی قوم نے عمران خان کو سپورٹ کیا، اب ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی ڈیلیور کریں، تنقید اور سابقہ حکومتوں کو مورد الزام ٹہھراتے رہنے سے ملک ترقی نہیں کرے گا، بلکہ ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے۔ اہل افراد کو سامنے لایا جائے، معیشت کو بہتر کرکے مہنگائی کم ہونی چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: ایران و عراق حالیہ فسادات کے پیچھے کونسے عوامل کارفرما دیکھتے ہیں۔؟
علی رضا طوری:
مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے حواری عرب ممالک کو یمن میں شکست فاش ہوئی ہے، اب انہوں نے بدلہ تو لینا تھا، انہیں معلوم ہے کہ وہ مظلومین یمن کے حامی ایران کیساتھ جنگ تو نہیں کرسکتے، لہذا انہوں نے ایران اور عراق کے داخلی حالات خراب کرکے اس شکست کا بدلہ لینے کی کوشش کی، لیکن ہماری رہبریت اور مرجعیت نے دشمن کی ان سازشوں کو بھی ناکام بنا دیا۔ دشمن مستقبل میں ایسی مزید کوششیں بھی کرسکتا ہے، لیکن یہ ہماری رہبریت اور مرجعیت ہی ہے، جس نے ہر موقع پر تشیع اور مظلومین جہاں کا دفاع کیا۔
خبر کا کوڈ : 831779
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش