0
Monday 27 Apr 2020 13:16
عوام کو بھکاری بنانے کی بجائے بجلی، گیس اور تیل کی قیمتیں کم کی جائیں

مقامی رضاکاروں کو روک کر امریکہ سے امداد مانگنے والے کس منہ سے ریاست مدینہ کا نام لے رہے ہیں، فرید پراچہ

مقامی رضاکاروں کو روک کر امریکہ سے امداد مانگنے والے کس منہ سے ریاست مدینہ کا نام لے رہے ہیں، فرید پراچہ
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اپریل 1950ء کو سرگودھا کے ایک اعلیٰ علمی گھرانے میں پیدا ہوئے، انکے والد جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے رکن اور جمعیت اتحاد العلماء پاکستان کے مرکزی صدر تھے، ڈاکٹر صاحب نے جامعہ قاسم العلوم سرگودھا سے دینی تعلیم حاصل کی اور ادیب عربی اور عالم عربی کے امتحانات لاہور بورڈ سے پاس کیے۔ پنجاب یونیورسٹی سے 1975ء میں ایل ایل بی اور 1976ء میں علوم اسلامیہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور ہی پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی ڈگری بھی حاصل کی۔ زمانہ طالب علمی میں جمعیت طلبہ عربیہ اور اسلامی جمعیت طلبہ میں فعال کردار ادا کیا۔ 1990ء میں لاہور سے ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ مختلف آمریتوں کے خلاف 16 مرتبہ پابند سلاسل رہے۔ 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کی طرف سے لاہور کے حلقہ این اے 121 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بحثیت رکن اسمبلی، قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ سوالات، تحاریک التوا، توجہ دلاؤ نوٹس، قراردادیں اور پرائیویٹ بل پیش کرنیوالے رکن قرار پائے۔ اپنے حلقہ میں 22 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کرائے، حلقہ کے عوام کی خوشی و غم میں ہمیشہ شریک رہتے ہیں اور مسلسل رابطہ رکھتے ہیں۔ علماء اکیڈمی منصورہ لاہور سمیت متعدد تعلیمی اداروں کے سربراہ بھی ہیں، جبکہ WAMY (ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ) سعودی عرب کے ممبر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سعودی عرب، ترکی، چین، بنگلہ دیش، ایران اور کینیڈا کے سفر نامے لکھ چکے ہیں، تدریس القرآن، تدریس الحدیث، عربی زبان و ادب، مطالعہ مذاہب عالم، ایک تحریک ایک انقلاب، سید مودودیؒ کے سیاسی افکار (مقالہ پی ایچ ڈی) بھی انکی تصانیف میں شامل ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر کیساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: لاک ڈاون کے تسلسل سے بے روزگاری اور بھوک میں اضافہ ہو رہا ہے، ایسی حالت میں کیا ڈاکٹرز کیطرف سے مطالبات اور احتجاج درست ہے۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کوحفاظتی لباس اور سامان مہیا کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ لیکن حکومت نے اپنی اس ذمہ داری سے غفلت برتی جس کی وجہ سے ملک بھر میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ کورونا کاشکار ہورہاہے۔ اگر ڈاکٹرز ہی بیماری سے محفوظ نہ رہے تو مریضوں کا علاج کون کرے گا۔ ایک طرف کورونا وباسے پورا پاکستان متاثر ہورہاہے لیکن حکومت ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو عالمی معیار کے مطابق حفاظی لباس، کٹس اور آلات فراہم نہیں کر رہی جس کی وجہ سے اب تک کئی ڈاکٹرز و نرسز جاں بحق اور درجنوں کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے ہیں لیکن حکومت کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگ رہی۔ جماعت اسلامی ینگ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کے جائز مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

حکومت ڈاکٹرز اور طبی عملہ کے خلاف انتقامی کاروائیاں بند کرے اور انہیں ان کے جائز حقوق دے اگر حکومت کی ہٹ دھرمی سے ڈاکٹرز اور دیگر عملہ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس مجرمانہ غفلت کی حکومت خود مجرم ہوگی۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں وہ کرونا کے خلاف لڑیں نہ کے ڈاکٹروں کے۔ کورونا وباء کے مقابلہ میں پوری قوم متحد ہے۔ ڈاکٹرز اور میڈیکل عملہ فرنٹ لائن پر برسر پیکار ہیں لیکن لاک ڈاﺅن ہے یا نہیں کے الجھاﺅ میں قومی وحدت پارہ پارہ کر دی گئی ہے۔ حکومت ریاست اور سیاست کی کشمکش میں کورونا وائرس بڑھ رہاہے، انسان متاثر ہو رہے ہیں حکومت بے حسی، ہٹ دھرمی انتہا پر ہے۔ تعلیم صحت سماجی خدمات اور اقتصادی بنیادیں بری طرح متاثر ہیں۔ پورا نظام ناکارہ فرسودہ ثابت ہوگیا ہے۔ عالمی معاہدے جس پر پاکستان نے دستخط کئے ہیں ایک ہزار لوگوں پر دو ڈاکٹرز اور ایک ڈینٹس ضروری ہے مگر پاکستان میں ایک ہزار لوگوں پر بھی ایک ڈاکٹر نہیں ہے۔

کورونا کی وجہ سے لاہور میں دو درجن سے زائد ڈاکٹرز اور طبی عملہ وائرس کا شکار ہو گئے۔ ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کہ پہلے ان کا ٹیسٹ ہو جائے تاکہ مریض محفوظ رہیں ڈاکٹروں کا یہ مطالبہ سو فیصد جائز ہے۔ حکومت مسلسل وعدے اور اعلانات کرتی ہے اور پھر یوٹرن لے لیتی ہے۔ چین سے سامان آیا مگر پھر بھی ڈاکٹرز محروم ہیں۔ حکومت اندھی گونگی اور بہری بنی ہوئی ہے۔ حکومت صرف ٹی وی پر نظر آ رہی ہے عملی اقدامات نہیں ہیں ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ایڈہاک والوں کو پبلک سروس کمیشن سے کنفرم کیا جائے کمیشن اگر پاس نہ کرے تو ان کو بیشک نکال دیا جائے۔ افسوس ہے کہ جو ڈاکٹرز اور نرسیں کورونا کے مریضوں کو بچاتے ہوئے خود شہید ہو گئے حکومت اب تک ان کوبھی شہیدوں میں شمار نہیں کررہی۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے جسطرح فلاحی منصوبے بنائے اور چلائے ہیں، اسی تجربے کی روشنی میں وہ اب بھی بحرانوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں، کیا کہیں گے۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
یہی وزیراعظم کی غلط فہمی ہے اور لوگوں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ خدمت اور سیاست دو الگ میدان ہیں لیکن جو خدمت میں ناکام ہیں وہ سیاست اور اقتدار میں بھی ناکام اور خدمت کے محاذ پر کامیاب ہی سیاست اور معیشت کو بحرانوں سے نکال سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ صوبائی اسمبلیوں کا نظام معطل ہے۔ بجٹ سازی کا معاملہ آئینی بحران کا شکار ہے۔ انکا دو سالہ دور یہ واضح طور پر ثابت کر چکا ہے کہ ان تلوں میں تیل نہیں۔ یہ وقت سیاست کرنیکا نہیں ہے، لیکن حقائق چھپانا اور جھوٹ اور فریب کو دیکھتے ہوئے اپنی آنکھیں بند رکھنا یہ بی ایک طرح کا ظلم ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہنگامی حالات کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کس و ناکس کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے ناجائز طریقے سے مفادات حاصل کرے، اپنے قریبیوں کو نوازے یا اپنی نااہلی کو چھپائے۔

اسلام ٹائمز: وزیراعظم نے امریکی صدر سے ٹیلی فون پہ بات کی ہے اور انہوں پاکستان کو وینٹی لیٹرز دینے کا عندیہ دیا ہے، چین اور دوسرے دوست ممالک سے تعاون کے بعد امریکہ سے یہ رابطہ کیا ہے۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
اس حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی ہے نہ کوئی ماڈل، پہلے بھی حکومت نے چین کے طریقہ کار کو اپنانے کی بجائے اٹلی کے طرز عمل کو اپنایا۔ غیر سنجیدگی پر اٹلی کو نقصان اٹھانا پڑا۔ کہا جارہا ہے کہ کورونا 6 ماہ مزید رہے گا، مگر حکومت کی کوئی تیاری نہیں۔ حکومت کورونا وائرس کے مسئلے کو غیر سنجیدگی سے ڈیل کر رہی ہے۔ ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں حکومت سنجیدہ نہ ہوئی تو اسپتال بھر جائیں گے۔ موجودہ اور سابقہ حکمران ہیلتھ سیکٹر کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ حکومتیں اپنے حصے کا کام کرتیں تو ہم طبی آلات کے لئے امریکہ کی طرف نہ دیکھتے۔ حکومتیں جب بھی فنڈز قائم کرتی ہیں، ان کی تقسیم کاکوئی پتہ نہیں چلتا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پوری انسانیت مشکل میں ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ امداد ابھی تک 25 فیصد متاثرین تک بھی نہیں پہنچ سکی۔ وزیراعظم کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان بناتے تو آج حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر ہوتی۔ یہ ملک کا المیہ ہے کہ آج تک کسی حکومت نے تعلیم اور صحت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ قومی بجٹ کا صرف تین فیصدان دو اہم ترین شعبوں پر خرچ کیا جارہاہے۔ جہالت اور بیماریوں کے پھیلنے کے اصل ذمہ دار وہ حکمران ہیں جو قومی دولت اپنے اللے تللوں پر خرچ کرتے رہے اور ملک کو اندھیر نگری بنائے رکھا۔ 22 کروڑ عوام اور ایٹمی قوت کے پاس صرف 1700 وینٹی لیٹر تھے اور جب وبا پھیلی تو ان میں سے بھی بہت سے خراب تھے۔ حکومت خود تو کچھ کرنے کو تیار نہیں اور جو لوگ مستحقین کی مدد کر رہے ہیں، ان کے راستے میں بھی روڑے اٹکا رہی ہے۔

جماعت اسلامی اور الخدمت فاﺅنڈیشن کے ایک لاکھ رضا کار ملک بھر میں عام لوگوں کو کورونا وباء سے بچاﺅ کا سامان اور راشن پہنچا رہے ہیں اور اب تک ایک ارب روپے سے زائد کا سامان مستحقین تک پہنچایا جا چکاہے۔ ریاست مدینہ کا نام لینے والے یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مقامی رضا کاروں کو امداد سے روک کر امریکہ سے بھیک مانگنا، کیا ظاہر کرتا ہے، یہی کہ ہمارے حکمران ملک و قوم سے مخلص نہیں۔ صدر ٹرمپ کیخلاف امریکہ میں بھی مخالف آوازیں اٹھ رہی ہیں، اسی طرح ہم دیکھ رہے ہیں کہ مہلک کرونا وبا کے ماحول میں بھی امریکہ کا رویہ انسان دشمن ہے۔ چین کے خلاف الزام تراشیاں اور ایران میں کرونا وبا پھیلی ہوئی ہے، اس کے باوجود پابندیوں میں نرمی کی بجائے سختی، صریحاً ظالمانہ اقدام اور انسانوں کے قتل کے مترادف ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری قوم کو اللہ سے دعا کے لیے کہا ہے کہ لیکن دعا کے ساتھ اللہ کی مخلوق سے ظالمانہ روش تضاد اور منافقت ہے۔ پوری دنیا کرونا کےخلاف جنگ لڑ رہی ہے امریکہ اپنے مفادات ، مقاصد کی جنگ لڑ رہاہے۔

امریکی قیادت اس روش سے اپنے آپ کو دنیا سے الگ تھلگ کر کے تنہا ہورہی ہے۔ دنیا بھر میں امریکہ کےخلاف مزید نفرتیں بڑھیں گی۔ امریکہ چین کے خلاف منفی پراپیگنڈا بند کرے اور ایران کے عوام کی مدد کے لیے انسانی بنیادوں پر پابندی ختم کرے۔ ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کو خدا سمجھا ہوا ہے، جب خود امریکی عوام، میڈیا، یورپ امریکی حکمرانوں پر اعتراض کر رہا ہے اور انہیں سمجھ بھی نہیں آ رہی کہ کیا انتظامات کریں ساتھ ہی وہ چین پر الزامات لگا رہے ہیں اور چین پہلے ہی امدادی سامان دے رہا ہے تو یہ اس وقت بھی امریکی صدر کو ٹیلی فون کر رہے ہیں کہ آپ ہماری امداد کریں، نہ کشمیر میں ہونیوالے مظالم کا ذکر ہے نہ افغانستان میں امن تباہ کرنیکی امریکی سازش کا پردہ چاک کیا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: حکومتی عمائدین روزانہ قوم سے بات کرتے ہیں، صدر مملکت بھی کوششوں میں مصروف ہیں، احساس پروگرام بھی جاری ہے، کیا امید کا دامن ہاتھ چھوڑ دینا ضروری ہے۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
ملک پر ایسے نااہل اور بے حس حکمران مسلط ہیں جو اب تک کورونا متاثرین کے ٹیسٹ بھی نہیں کروا سکے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور جیلوں میں قیدی کورونا وبا میں مبتلا ہورہے ہیں۔ حکومت اب تک کورونا متاثرین کی اصل تعداد کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ حکمران جہالت اور بیماری کے بجائے ہر وقت اپنے لوگوں کے خلاف آمادہ جنگ رہتے ہیں۔ جو حکومت اپنے پہلے دن سے لے کر آج تک خود وینٹی لیٹر پر ہے، وہ مریضوں کو کیا وینٹی لیٹر دے گی۔ حکومت عام حالات میں عوام کے مسائل حل نہیں کرسکی، موجودہ حالات کا مقابلہ کیسے کرے گی۔ چیف جسٹس نے بجا فرمایا ہے کہ وزیروں مشیروں کی ایک فوج ظفر موج ہے مگر کام کچھ بھی نہیں۔ حکومت نے مصیبت کی اس گھڑی میں اوورسیز پاکستانیوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ احساس پروگرام والوں کو لوگوں کی عزت نفس کا کوئی احساس نہیں ہے۔ امداد لینے آئے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لوگوں کی مدد کرنا حکومت کا فرض ہے وہ کسی پر احسان نہیں کر رہی۔ حکمرانوں کو لوگوں کی عزت نفس سے کھیلنے کا کوئی حق نہیں۔

لاک ڈاﺅن کے دوران ضروری انتظامات کرنے میں خود حکومت کی ناک ڈاﺅن ہو گئی ہے۔ حکومت امدادی رقوم تقسیم کرنے کے انتظامات کو بہتر بنائے، لوگوں کی جانوں سے نہ کھیلے۔ حکومت نے اس موقع پر بھی عوام کو ریلیف نہ دیا اور مستحقین کی امداد میں ناکام رہی تو اس سے بڑا کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ ملک بھر میں لوگوں کے کاروبار بند ہیں۔ چھوٹا کاروباری طبقہ پس کر رہ گیاہے اور ان کے کاروبار ہی ختم ہوچکے ہیں۔ مزدوروں ، خاص طور پر دیہاڑی داروں کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت ہے۔ حکومت کے پاس نادار اور حق دار لوگوں کا کوئی ڈیٹا نہیں۔ امدادی رقوم کی چھینا جھپٹی کے واقعات معمول بن گیا ہے۔ حکومت بتائے کہ ڈیٹا بیس کی بنیاد پر وہ امدادی رقوم تقسیم کر رہی ہے اگر مستحقین کی امداد غیر مستحق لوگوں میں بانٹ دی گئی تو تحریک انصاف کی حکومت کی یہ ناانصافی نا قابل تلافی ہوگی۔

اسلام ٹائمز: سخت ترین حالات میں ملک کھولنا بہت بڑے المیے کا سبب بن سکتا ہے، احساس پروگرام میں اربوں کا ریلیف دیا جا رہا ہے، یہ ناکافی ہے تو کیا ہونا چاہیئے۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
دنیا بھر کے پسماندہ، غریب اور ترقی پذیر ممالک کا معاشی نظام کورونا وبا کا طویل جھٹکا برداشت نہیں کر سکتا۔ عالمی اقتصادی قوتوں اور اداروں کو قرضے معافی اور اقتصادی ریلیف کا ہمہ گیر ٹھوس اقدام کرلینا چاہیے۔ ایٹم بم، توپ و تفنگ کے مقابلہ میں وینٹی لیٹر زیادہ اہم بن گیا ہے۔ جنگیں نہیں دنیا کو علم و تحقیق اور مضبوط سماجی رابطوں کی ضرورت ہے۔ مالک کائنات کی طرف لوٹ آنا ہی مسائل کا حل ہے۔ معاشی ناانصافی اور ظلم و ستم کی شکار اقوام کو آزادی اور حق خود ارادیت ملنا چاہیے۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے لاک ڈاﺅن میں قوم کو بھکاری بننے پر مجبور کرنے کی بجائے حکومت پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی، بجلی وگیس کے بل معاف اور روزمرہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر کنٹرول کیا جائے۔

کورونا وائرس پوری انسانیت کیلئے وارننگ اور قوم کیلئے آزمائش ضرور ہے مگر حکومت ومیڈیا اس کو خوف وافراتفری کا سبب نہ بنائے، حکومتی اعلان اسکیموں کے شفاف ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ امدادی کاموں میں کرپشن کی تاریخ موجود ہے۔ ملک اور اس وقت نازک صورتحال سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ ملک میں قومی یکجہتی کی فضا کو برقرار، امدادی اسکیموں کو شفاف وغیر سیاسی بنانے کیلئے واضح اقدامات کئے جائیں۔ ملک کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے، پارٹی نوازی کی بجائے پاکستان نوازی کو ترجیح دی جائے، حکومت و میڈیا صرف خوف پھیلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جبکہ رجوع الی اللہ اور احتیاطی تدابیر سے خیر و امید کے پہلو کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ لوگوں کے اندر اس مہلک وبا کے معاملے میں حوصلہ کے ساتھ اللہ پر توکل اور امید پر زندگی گذار سکیں۔

اسلام ٹائمز: اس صورتحال میں حکومتی اقدامات ناکافی ہیں اور پوری دنیا میں ایسا ہی ہے، اس صورت میں عام آدمی کیا کرسکتا ہے۔؟
ڈاکٹر فرید پراچہ:
ناامید اور مایوسی تو گناہ عظیم ہے، لیکن لوگوں کی ایک دوسرے کے متعلق ذمہ داریاں بھی ہیں، سب سے پہلی اور بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت کی ہے، اس لیے عام آدمی کو ریاست اور حکمرانوں سے توقع رکھنا جائز ہے، لیکن جب یہ ناناہل ہیں اور کرپٹ ہیں تو یہ بھی عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس نظام کو بدلیں اور تبدیلی لائیں آئندہ ان لٹیروں کے دھوکے میں نہ آئیں۔ ایک بڑی مشکل ان پاکستانیوں کیلئے ہے جو ملک سے باہر ہیں، بیرون ملک پھنسے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں لانے کے لیے حکومت خصوصی پروازوں کا انتظام ہونا چاہیے۔

اگر حکومت اپنے شہریوں کو سنبھال نہیں سکتی تو ہمیں بتائے ہم اپنے بھائیوں کی مہمان نوازی کریں اور ان کو قرنطینہ سنٹرز میں رکھ کر ہر سہولت دیں گے۔ اسی طرح لوگ بھوک کے ہاتھوں خود کشیوں پر مجبور ہیں مدینہ کی ریاست کا دعویٰ کرنے والوں کو لوگوں کی پریشانیوں اور مشکلات کم کرنے کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ کوئی بھی مجبور اور پریشان خود کشی جیسے جرم کا ا رتکاب نہ کرے وہ اپنے ڈپٹی کمشنر کو فون کرے اگر ڈپٹی کمشنر ان کی فریاد نہ سنے تو جماعت اسلامی اور الخدمت کو آگاہ کرے، ہم اس کے لیے ہر سہولت کا بندوبست کریں گے اور ان سرکاری اہلکاروں کو بھی توجہ دلائی جائے گی۔
خبر کا کوڈ : 859256
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش