0
Wednesday 12 Aug 2020 02:05

مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے رہنماء اسرار اللہ ایڈووکیٹ کا انٹرویو

مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے رہنماء اسرار اللہ ایڈووکیٹ کا انٹرویو
اسرار اللہ خان ایڈووکیٹ مسلم لیگ نون خیبر پختونخوا کے جوائنٹ سیکرٹری کی حیثیت سے اپنا سیاسی کردار ادا کر رہے ہیں، اس سے قبل وہ جماعت اسلامی کے قافلے میں شامل تھے اور وہاں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اور ترجمان کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ انتہائی خوش اخلاق صفت کے مالک اسرار اللہ خان پیشے کے لحاظ سے وکیل رہ چکے ہیں۔ وہ انتخابی سیاست میں بھی حصہ لے چکے ہیں، انکا شمار میڈیا دوست شخصیات میں ہوتا ہے، ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے اسرار اللہ خان کیساتھ آج مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر ہونیوالی ہنگامہ آرائی، ملکی سیاسی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر ایک انٹرویو کا اہتمام کیا۔ جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: کہا جا رہا ہے کہ جسطرح مسلم لیگ نون نوے کی دہائی میں سپریم کورٹ پر حملہ آور ہوئی، اسی طرح آج نیب پر حملہ کیا گیا، آپکا کیا موقف ہے۔؟
اسرار اللہ خان ایڈووکیٹ:
جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے، انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا ہے لیکن وہ میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں پر ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں کرسکی۔ سپریم کورٹ نے خواجہ برادران کے کیس میں نیب کے حوالے سے جو آبزرویشن دی ہیں، اس کے تناظر میں جب بھی کوئی سیاسی تبدیلی کا موقع آتا ہے تو نیب حرکت میں آجاتا ہے۔ نیب ایک ریاستی ادارہ ہے اور اس سے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلاتفریق احتساب کرے۔ مسلم لیگ نون تو یہ کہتی رہی ہے کہ نیب احتساب کرے لیکن بلاتفریق ہو۔ ہر پارٹی کا ہونا چاہیئے، یہ نہ ہو کہ جو پی ٹی آئی میں ہے تو اسے چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ جب سب کیساتھ احتساب ہو تو یہ نیب کیلئے بھی اچھا ہے اور ملک کیلئے بھی اچھا ہے۔

اسلام ٹائمز: آج کی ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار کسے سمجھتے ہیں۔؟
اسرار اللہ خان ایڈووکیٹ:
دیکھیں یہ تو سب کا حق ہے، کوئی ریلی کی شکل میں جاتا ہے، کوئی جلوس کی شکل میں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سیاسی شخصیات اور کارکنوں کو تحفظ فراہم کرے، مریم نواز کی گاڑی پر بھی حملہ ہوا ہے، جو کہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، وہ اس وقت پاکستان کی سب سے زیادہ مقبول لیڈر ہیں۔ حکومت کی اپنی معاشی پالیسیاں ناکام جا رہی ہیں، مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے، بے روزگاری عام ہوتی جا رہی ہے، عام انسان کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔ ان مسائل کی جانب توجہ دینے کی بجائے حکومت صرف اور صرف اپنے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ آپ دیکھیں کہ ہر قومی مسئلہ پر اپوزیشن نے حکومت کیساتھ تعاون بھی کیا ہے۔ ان کی سیاست صرف یہی ہے کہ وہ مخالفین پر الزام تراشی کرتے رہیں اور انہیں تنگ کرتے رہیں، تاکہ لوگوں کی توجہ اصل عوامی مسائل سے ہٹ جائے۔ درحقیقت آج عوام کیلئے زندگی گزارنا بھی مشکل ہوگیا ہے، اگر کسی شہری کے گھر کا ماہانہ خرچ بیس ہزار تھا تو وہ اب چالیس ہزار پر پہنچ چکا ہے، لیکن اس کی آمدنی بیس ہزار سے بھی کم ہوگئی ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ ملک کے حالات انتہائی بدتری کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں تو حکومت کو زیادہ بردباری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ حکومت کی جانب سے اب تک جو رویہ اپنایا گیا ہے، اس میں ہمیں کوئی سنجیدگی یا میوچرٹی نظر نہیں آئی ہے۔ 

اسلام ٹائمز: ایف اے ٹی ایف سمیت بعض قومی مسائل کے حوالے سے پیش ہونیوالے بلز پر اپوزیشن نے حکومت کو سپورٹ بھی کیا، جس سے یہ تاثر قائم ہو رہا تھا کہ پی پی اور نون لیگ حکومت کے حکومت کیساتھ معاملات بہتر ہو رہے ہیں، کیا وجہ ہے کہ اچانک سیاسی عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے۔؟
اسرار اللہ خان ایڈووکیٹ:
 اپوزیشن نے جو تعاون کیا ہے وہ قومی مفاد میں کیا ہے، اس میں حکومت کو کوئی کریڈٹ نہیں جاتا، اب ایف اے ٹی ایف کے مسئلہ کو دیکھ لیں تو یہ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی نے بردباری کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ جو اپوزیشن کے ساتھ سلوک کر رہے ہیں، اس میں ان کا تو کوئی جواز ہی نہیں بنتا کہ اپوزیشن ان کے کسی اقدام کی حمایت کرے۔ لیکن پھر بھی مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی ایشوز پر حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ 

اسلام ٹائمز: پیپلزپارٹی کی اپنی پالیسی نظر آتی ہے، مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بھی یہ باتیں منظر عام پر آتی ہیں کہ کے پی کی سطح پر وہ حکومت کی درپردہ حمایت کرتے ہیں، بظاہر منتشر اپوزیشن قومی معاملات پر کس طرح حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔؟
اسرار اللہ خان ایڈووکیٹ:
سیاسی جماعتیں چاہے اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں، ان کی اپنی اپنی پالیسیاں ہوتی ہیں، اسی وجہ سے تو وہ الگ الگ پارٹیاں ہوتی ہیں۔ تھوڑے بہت مسائل رہیں گے اور رہتے بھی ہیں، لیکن اوور آل اپوزیشن کی تمام جماعتیں بشمول مسلم لیگ نون، جے یو آئی، پیپلز پارٹی، نیشنل پارٹی، اے این پی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی وغیرہ، اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حکومت کا مزید اقتدار میں رہنا ملک کیلئے خطرہ ہے۔ حکومت کئی ملکی اور بین الاقوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ اپوزیشن ان مسائل پر متحد ہے، البتہ پھر بھی تھوڑے بہت مسائل ہوتے ہیں، کبھی نقطہ نظر کا فرق ہوتا ہے، کبھی جماعتوں کی اندرونی پالیسیاں بھی ہوتی ہیں۔ مسلم لیگ نون کی تو کوشش ہے کہ ان تمام اپوزیشن جماعتوں کیساتھ تعلقات بھی اچھے ہوں اور قومی مسائل پر متفقہ لائحہ عمل اپنایا جاسکے۔

اسلام ٹائمز: لبنان میں ہولناک دھماکہ ہوا، جسکے اشارے اسرائیل کیجانب جا رہے ہیں، تاہم امت مسلمہ اپنے دشمن کو جانتے ہوئے بھی منتشر اور بعض تو دشمن کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں، کیا کہیں گے۔؟
اسرار اللہ خان ایڈووکیٹ:
یہ دھماکہ انتہائی افسوسناک ہے، آپ نے درست فرمایا، امت میں کئی مسائل موجود ہیں، او آئی سی بھی اس طرح فعال نہیں ہے جس طرح اسے ہونا چاہئے تھا۔ جتنے بھی مسلم ممالک ہیں، تھوڑے بہت اختلاف کے باوجود انہیں چاہیئے کہ وہ بڑے مسائل پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔ اس سلسلے میں ماضی میں پاکستان کردار ادا کرتا رہا ہے، موجودہ ہماری وہ پوزیشن نظر نہیں آتی، تاہم پھر بھی ہماری یہ خواہش ہے کہ مسائل حل ہوں۔ میاں نواز شریف میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ بات کرسکتے تھے اور مسلم ممالک میں بھی ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اسرائیل کی تو ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ امت مسلمہ کو کمزور سے کمزور تر کیا جاسکے، تاہم اسرائیل کا مقابلہ ہم متحد ہوکر ہی کرسکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: چند دنوں سے پاکستان اور سعودی حکومت کے مابین کشیدہ حالات کی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں اور سعودی حکومت نے پاکستان سے پیسوں کی واپیس کا مطالبہ بھی کیا ہے، ہم کب تک دوسروں کے سہاروں پر چلتے رہیں گے۔؟
اسرار اللہ خان ایڈووکیٹ:
دیکھیں، بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ جب تک ہم اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہونگے، ہماری معیشت درست نہیں ہوگی، جب تک ہماری معیشت مضبوط نہیں ہوگی تو یہ مسائل رہیں گے۔ ان مسائل کا یہی حل ہے کہ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں۔ جب مسلم لیگ نون کی گذشتہ حکومت تھی تو ہمارا گروتھ ریٹ ہر سال بڑھ رہا تھا۔ جب ہم مضبوط ہونگے تو ہماری اگر کسی ملک سے دوستی ہوگی تو وہ بھی کچھ اصولوں کی بنیاد پر ہوگی اور ضروریات کی بنیاد پر کم ہوگی۔ پھر بھی تمام اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیئے، خطہ کے ممالک مثلاً سعودی عرب اور ایران کیساتھ تعلقات میں توازن رکھنا ہمارے لئے بہت ضروری ہے۔
خبر کا کوڈ : 879740
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش