0
Sunday 6 Sep 2020 21:23

مقبوضہ کشمیر سے دفعہ 370 کی منسوخی آر ایس ایس کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے، محمد یوسف تاریگامی

مقبوضہ کشمیر سے دفعہ 370 کی منسوخی آر ایس ایس کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے، محمد یوسف تاریگامی
محمد یوسف تاریگامی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکس) جموں و کشمیر کے صدر ہیں، وہ 1967ء میں اس پارٹی سے منسلک ہوئے اور آج اس پارٹی کے ریاستی صدر ہیں، محمد یوسف تاریگامی نے اپنی زندگی کے سات سال ریاست کی مختلف جیلوں میں گزارے ہیں، وہ ہمیشہ ظلم و ناانصافی و بربریت کیخلاف نبرد آزما رہے، اسلام ٹائمز نے محمد یوسف تاریگامی سے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن دفعہ 370 کے خاتمے کے ایک سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: کشمیر جیسے حساس مسئلے کو ابھی تک بھارت نے نظر انداز کیا اور اسکے حل کیطرف کوئی توجہ نہیں دی، اسکی کیا وجوہات ہیں۔؟
محمد یوسف تاریگامی:
سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں دور اندیش سیاست دانوں اور لیڈروں کا فقدان ہے، اگر آج مسئلہ کشمیر اتنا پیچیدہ ہوا ہے تو یہ ہندوستانی سیاست دانوں کی غلطیاں اور غلط پالیسیاں ہیں اور یہ سلسلہ 1947ء سے چلا آرہا ہے، بھارت میں برسر اقتدار آنے والی تمام حکومتوں نے اس حساس مسئلے کو نظرانداز کیا، آج نریندر مودی کی حکومت جو اپنے آپ کو کٹر ہندو قوم پرست کہتی ہے، اس حکومت میں اس مسئلہ کے حل کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ہندوستانی آئین کے اعتبار سے جتنی بھی آئینی ضمانتیں جموں و کشمیر کو ملی ہیں، مودی حکومت ان کو ختم کرنے کے درپے ہے، جیسے کہ اہم ضمانت دفعہ 370 کو ختم کیا گیا، جس کے تحت جموں و کشمیر کو ایک منفرد مقام حاصل تھا، اس دفعہ کے خاتمے کے بعد اب مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہوگیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہندوستان میں دور اندیش سیاسی لیڈران پیدا نہیں ہوں گے، تب تک مسئلہ کشمیر حل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن دفعہ 370 کے خاتمے اور کشمیر کے بھارت کیساتھ نام نہاد الحاق کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
محمد یوسف تاریگامی:
دیکھیئے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام نے عملاً پاکستان کے بجائے سیکولر بھارت کا انتخاب کیا تھا اور وہ بھی صرف قانونی طور پر الحاق نامہ کی توثیق کے ساتھ ہی نہیں کیا بلکہ اس سے بھی اہم ان وعدوں کی وجہ سے کیا، جن میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایک خاص درجہ اور زیادہ سے زیادہ خود مختاری حاصل تھی۔ یہ وعدے ہندوستانی آئین کی دفعہ 370 اور خود جموں و کشمیر کے آئین میں موجود تھے۔ یہ آئینی ذمہ داریاں ہیں، جن کے بغیر الحاق نامہ بے معنی قرار دیا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے جس کا میں نے پہلے ذکر کیا کہ دہائیوں سے آہستہ آہستہ ان آئینی ضمانتوں کا خاتمہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے لوگوں میں انتشار بڑھتا گیا، جس نے کشمیری لوگوں کو ایک موقع فراہم کیا کہ وہ بھارت سے الحاق کے خلاف ہوگئے۔

اسلام ٹائمز: کیا مودی حکومت نے دفعہ 370 کے خاتمے کیلئے پہلے سے تیاری کی ہوئی تھی اور کیا اس کیلئے زمین ہموار تھی، کشمیری سیاسی قائدین کیوں کوئی عکس العمل نہیں دکھا سکے۔؟
محمد یوسف تاریگامی:
1990ء کے بعد سے ابھی تک بڑے پیمانے پر سیاسی بدامنی سے نمٹنے کے لئے کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے، حالانکہ یہاں انتخابات ہوئے اور ریاست کی ختم شدہ خود مختاری کی بحالی کے لئے قراردادیں منظور کی گئیں۔ ان کے علاوہ علاقائی خود مختاری کی منظوری کے لئے کچھ قابل اعتبار میکانزم تیار کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ خطوں اور ذیلی خطوں کے جائز خدشات دور کرنے کے لئے کوششیں کی گئیں، لیکن بدقسمتی سے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔ 5 اگست 2019ء کے بدقسمت دن ایک زبردست کریک ڈاؤن کے ذریعہ یہاں کی پوری سیاسی قیادت سمیت سابق وزرائے اعلیٰ، وزراء، ارکان قانون سازی اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور پوری وادی کو عملی طور پر بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کر دی گئیں اور تمام مواصلات بند کر دیئے گئے۔ قیادت کا عکس العمل کیسے سامنے آتا، جب تمام چھوٹے بڑے قائدین جیلوں میں بند تھے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں بی جے پی حکومت نے بہادری اور غیر آئینی طور پر دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا اور ریاست کو دو مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ دفعہ 370 کے تحت جو کچھ بھی باقی رہ گیا، وہ چھین لیا گیا۔ ریاست جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019ء کے تحت کشمیر، جموں اور لداخ کے لوگوں کو گہرا صدمہ پہنچا۔

اسلام ٹائمز: آج پوری دنیا سمیت مقبوضہ کشمیر کووڈ 19 وبائی امراض سے دوچار ہے، بھارت نے غیر جمہوری اور من مانی انداز میں اس خطے کے لوگوں کو پریشان کرنے کیلئے نئے ڈومیسائل قوانین منظور کئے، اس پر آپ کیا کہنا چاہیں گے۔؟
محمد یوسف تاریگامی:
کشمیر عوام کا غالب خیال یہ ہے کہ نیا نوٹیفکیشن (ڈومیسائل لاء) بی جے پی کی ایک چال ہے کہ وہ اس خطے کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرے اور سیاسی، معاشی اور ثقافتی طور پر لوگوں کو مزید تقسیم اور بے دخل کرے۔ جموں و کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے الگ کرکے اسے دو مرکزی اکائیوں میں تقسیم کرنے تک آئین کی دفعہ 35 اے نے ریاستی اسمبلی کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ جموں و کشمیر کے شہری کی وضاحت کرے۔ صرف ریاست کے رہائشی ہی ملازمت کے لئے درخواست دینے کے اہل تھے یا ریاست جموں و کشمیر میں غیر منقولہ جائیداد کے مالک تھے۔ نہ صرف وادی کے لوگ، بلکہ جموں اور لداخ علاقوں کے رہائشی بھی نئے اقامتی قانون کے بارے میں فکرمند ہوگئے ہیں۔ اس سے تمام طبقات میں گہرا صدمہ اور غصہ ہے۔ اراضی کے حصول سے متعلق مرکزی قانون کو جموں و کشمیر تک بڑھائے جانے کے بعد انتظامیہ نے 1971ء کا ایک سرکولر واپس لے لیا ہے، جس میں فوج، بی ایس ایف، سی آر پی ایف اور اسی طرح کی دیگر تنظیموں کے حق میں اراضی کے حصول کے لئے محکمہ داخلہ سے این او سی درکار تھی۔ یہ مقامی آبادی میں بے چینی کو مزید گہرا کرنے کا باعث ہے۔

اسلام ٹائمز: اب دفعہ 370 کے خاتمے کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے، ابھی تک اس دفعہ کے خاتمے کے نتائج کیا سامنے آئے ہیں اور بھاجپا کے ترقی کے دعوے کیا ہوئے۔؟
محمد یوسف تاریگامی:
دفعہ 370 کو منسوخ کرنے سے جموں و کشمیر میں جو واحد چیز حاصل کی گئی ہے، وہ جموں و کشمیر میں جمہوریت کا مکمل خاتمہ اور شہری اور جمہوری حقوق کی بیخ کنی ہے۔ یو اے پی اے، پبلک سیفٹی ایکٹ وغیرہ جیسے کالے قوانین کے اندھا دھند استعمال نے لوگوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگی دکھی کر دی ہے۔ بھارتی فورسز پر اس طرح کے اقدامات اور خصوصی انحصار نے کشمیری عوام اور ہندوستانی ریاست کے مابین کسی بھی قسم کے تعلقات کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔ حقائق خطے کی ترقی سے متعلق مودی اور امت شاہ کے دعوؤں کی سچائی بیان کرتے ہیں۔ ہاں بی جے پی حکومت یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ دفعہ 370 جموں و کشمیر میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اس کے بعد سے اب تک کتنی ترقی ہوئی ہے۔ سرمایہ کاری اور ملازمت کے مواقع کہاں ہیں، جن کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا۔؟ ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھول گئے، ہزاروں یومیہ مزدور، کیجول لیبر، سکیم ورکرز اور دیگر مہینوں سے اجرتوں سے محروم ہیں۔ گذشتہ چھ برسوں سے اقتدار میں رہنے والی بی جے پی جموں و کشمیر میں ترقی کے بارے میں فخر کر رہی ہے، لیکن قومی شاہراہ پر رام بن سے رامسو تک ایک پیچ کی مرمت نہیں کرسکی۔ جموں و کشمیر انتظامیہ لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ہر سطح پر بری طرح سے ناکام رہی ہے۔ 5 اگست 2019ء کے بعد بی جے پی حکومت کے اقدامات کا اقتصادی، سماجی اور سیاسی اثر تباہ کن رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: وادی کشمیر میں ایک سال کے لاک ڈاؤن کا یہاں کی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔؟
محمد یوسف تاریگامی:
آپ جانتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے ایک سال کے عرصہ کے دوران وادی کشمیر کی معیشت کو کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی خسارے کی رپورٹ کے مطابق 40 ہزار کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ اس عرصے کے دوران نجی شعبے میں کئی لاکھ ملازمتوں میں کٹوتی کی اطلاع ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کی بے روزگاری کی شرح قومی اوسط سے تقریباً دوگنا ہے۔ اگست 2019ء کے بعد کاروبار کے ایام کی ایک منفی تعداد رہی ہے۔ معیشت سے جڑا ہر طبقہ خسارے سے دوچار ہے۔ سیاحت، ٹرانسپورٹ، دستکاری کے شعبوں خصوصاً زراعت اور باغبانی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور ان شعبوں سے وابستہ لاکھوں افراد مالی پریشانیوں سے دوچار ہیں۔ سیاحت کی صنعت کے متعلقین کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مذہبی سیاحت سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار ہاتھ سے چلا گیا ہے۔ گذشتہ 5 اگست سے وادی کشمیر میں ہزاروں کاریگر بے کار بیٹھے ہیں۔ مواصلاتی ناکہ بندی اور مجموعی طور پر بند ہونے سے وادی میں آنے والے سیاحوں میں کمی واقع ہوئی، جس سے دستکاری صنعت کو دھچکا لگا، جو اگست 2019ء کے بعد بھاری نقصانات کی زد میں ہے۔ باغبانی کے شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد کی بقا خطرے میں ہے۔ 4G انٹرنیٹ سروس کی مسلسل معطلی نے طلبہ کو مایوسی کی حالت میں چھوڑ کر پریشان کر دیا ہے، جبکہ دوسری ریاستوں میں طلباء زیادہ تر آن لائن طرز تعلیم پر منحصر ہیں، جموں و کشمیر میں حکام تیز رفتار انٹرنیٹ پر پابندی لگا کر ایک جاہلانہ سلوک کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: بی جے پی کا دعوٰی ہے کہ دفعہ 370 کلی خاتمے کے بعد یہاں عسکریت پسندوں کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے، اس زمینی صورتحال سے ہمیں آگاہ فرمائیں۔؟
محمد یوسف تاریگامی:
سب سے اہم بات جو میں یہاں کہنا چاہوں گا کہ یہاں اب مقامی مقتول عسکریت پسندوں کے اہل خانہ کو ان کے لواحقین کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور اس کے بجائے نعشوں کو دور بغیر نشان کے قبروں میں دفن کیا جانا بدقسمتی ہے۔ لوگوں کو حق ہے کہ وہ اپنے مردوں کی تدفین کریں۔ ہر کسی مذہب کے مطابق لواحقین کو انسانی نعش کو قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے اور اس معاملے میں اقدار ایک جیسی ہیں۔ آپ نے پوچھا کہ بی جے پی حکومت کا یہ دعویٰ کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرکے عسکریت پسندی کا خاتمہ کیا گیا، یہ حقائق کے بالکل منافی ہے۔ متعدد عسکریت پسندوں کے مارے جانے کے دعوؤں کے باوجود، مبینہ طور پر نئے مقامی نوجوان صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ دراندازی کی اطلاعات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایل او سی پر حالات کشیدہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، وہ ہندو راشٹرا کے قیام کے آر ایس ایس کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ سیکولر جمہوری قوتوں کو لازمی طور پر موروثی خطرات کا ادراک کرنا چاہیئے اور ہمیں ان پے در پے حملوں کے خلاف وسیع مزاحمت کے لئے متحد ہوکر کام کرنا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 884494
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش