0
Friday 2 Oct 2020 01:14

ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ ارشاد علی کا خصوصی انٹرویو

ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ ارشاد علی کا خصوصی انٹرویو
علامہ ارشاد علی کا بنیادی تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو سے ہے، انکا شمار مجلس وحدت مسلمین کے دیرینہ کارکنوں میں ہوتا ہے، علامہ صاحب اسوقت ایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے ملی و قومی ذمہ داری نبھا رہے ہیں، جبکہ اس سے قبل ایم ڈبلیو ایم ضلع ہنگو کے سیکرٹری جنرل اور صوبائی سیکرٹری تربیت کی مسئولیت پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے کوہاٹ اور ہنگو میں امن و امان کی صورتحال اور ملک میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کے حوالے سے علامہ ارشاد علی کیساتھ ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: کوہاٹ میں گذشتہ ماہ پے در پے تین اہل تشیع کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، ہنگو میں کالعدم جماعتوں نے کھل کر شرانگیزی کا مظاہرہ کیا، موجودہ حالات کیسے ہیں۔؟
علامہ ارشاد علی:
بسم اللہ الرحٰمن الرحیم۔ سب سے پہلے تو میں اسلام ٹائمز کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس اہم مسئلہ پر ہمیں اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کا موقع دیا، گزارش یہ ہے کہ ماہ ستمبر میں بعض ملک و اسلام دشمن طاقتوں نے ایک مرتبہ پھر کوہاٹ اور ہنگو کے حالات ایک منظم سازش کے تحت خراب کرنے کی کوشش کی، ویسے بھی دس محرم کے بعد ملک میں پیدا ہونے والے حالات تو آپ ہم سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ کوہاٹ میں پہلے ابراہیم زئی ہنگو سے تعلق رکھنے والے ایک شیعہ نوجوان قیصر عباس کو اس کی دکان پر بے دردی سے شہید کیا گیا، جس کی ویڈیو یقیناً سوشل میڈیا پر آپ نے بھی دیکھی ہوگی، اس کے چند روز بعد سید مرتضیٰ اور سید میر حسن جان کو ایک ساتھ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، ان دونوں کا تعلق بھی ابراہیم زئی سے ہی تھا۔ اس کے علاوہ کالعدم جماعت نے کوہاٹ میں اپنی ریلیوں کے ذریعے بھی امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی اور اسی طرح ہنگو میں بھی تکفیریوں نے اپنی مزموم کوششیں کیں۔ تاہم اس کے بعد انتظامیہ اور سیاسی شخصیات کو حالات خراب ہونے کا ادراک ہوا اور انہوں نے جرگے شروع کئے، جس کے بعد حالات میں قدرے بہتری آنا شروع ہوئی ہے، تاہم ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے شہداء کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے جرگوں کا ذکر کیا، آج بھی شہریار آفریدی کی سربراہی میں گرینڈ جرگہ ہوا، جس میں کرم، ہنگو اور اورکزئی سے بھی عمائدین شریک ہوئے، کیا طے پایا اس جرگے میں۔؟
علامہ ارشاد علی:
یہ جرگہ بھی سابقہ دو جرگوں کا تسلسل تھا، ایک نشست میں ہمارے مرکزی رہنماء علامہ اقبال بہشتی بھی شریک ہوئے تھے، دیکھئے بات یہ ہے کہ مکتب تشیع نے کبھی بھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا، ہم کسی کی تکفیر یا گستاخی پر بھی یقین نہیں رکھتے، ادارے اچھی طرح واقف ہیں کہ ہم پرامن لوگ ہیں۔ ہم تو ہمیشہ سے مذاکرات اور بات چیت کے قائل ہیں، ہمیں اہلسنت سے تو کوئی مسئلہ نہیں، وہ تو ہمارے بھائی ہیں۔ مسئلہ تو دہشتگردوں اور فرقہ پرست جماعتوں کا ہے، وہ ملک کا امن تہہ و بالا کرنے پر تلے ہوئی ہیں۔ ہمارے مشران نے ان جرگوں میں اسی بات پر زور دیا کہ بے گناہ افراد کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے، ہم تو کسی کو بھی بے گناہ قتل کرنے کی مذمت کرتے ہیں، چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم یہ جرگہ خوش آئند اقدام ہے، اس میں کچھ فیصلہ جات بھی ہوئے، مین بات یہ ہے کہ امن و امان کے قیام کیلئے سب کو تعاون کرنا ہوگا، ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنا ہوگا، بدامنی پھیلانے کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی، وغیرہ۔

اسلام ٹائمز: آپ نے فرمایا، مسئلہ دہشتگردوں اور تکفیریوں کا ہے تو پھر یہ شیعہ، سنی عمائدین کے جرگوں کو کیوں منعقد کیا جا رہا ہے، امن و امان خراب کرنیوالے عناصر کو قانون کی گرفت میں لائے بغیر کیسے امن قائم کیا جاسکتا ہے۔؟
علامہ ارشاد علی:
آپ نے درست فرمایا، مسئلہ تو یہی ہے، دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے، بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں بعض لوگ تعصب کی بنیاد پر تکفیریوں اور دہشتگردوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، انہیں اب معلوم ہو جانا چاہیئے کہ دہشتگرد کسی کے نہیں، ان تکفیریوں نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ شیعہ، سنی کو ملکر دہشتگردوں کے مقابلہ میں کھڑا ہونا چاہیئے، عوام و عمائدین کی طرف سے سپورٹ ہوسکتی ہے، امن قائم کرنا تو ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اسلام ٹائمز: ملک میں جاری اس فرقہ وارانہ کشیدگی کو کنٹرول کرنے کیلئے اب تک کوئی عملی اقدامات بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں یا حکومت اس مسئلہ کو سیریس نہیں لے رہی، کیا کہیں گے۔؟
علامہ ارشاد علی:
یہ ملک کے خلاف بہت بڑی سازش تھی، بعض بابصیرت علماء نے تو اس پر اپنا بہترین کردار ادا کیا، تاہم کچھ شرپسند عناصر نے فرقہ وارانہ آگ لگانے کی بھرپور کوشش کی اور ان کی یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ بعض نام نہاد مفتیوں کا کردار تو اب سب کے سامنے عیاں ہوچکا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو فرقہ واریت کی اس آگ کو بجھانے کیلئے ازخود آگے آنا ہوگا، اس حوالے سے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ گڑبڑ جو بھی کرے، اس کو قانون کی گرفت میں آنا چاہیئے۔ قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تو قوم کو روڈ میپ دے دیا ہے، ہمارے اہلسنت بھائیوں کو ہوشیار رہنا ہوگا، انہیں چند زرخرید ملاوں سے خود کو دور ہی رکھنا ہوگا۔ پاکستانی قوم کو بیداری اور ہوشیاری کیساتھ اس سازش کا مقابلہ اتحاد و وحدت کیساتھ ہی کرنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کیا یہ سازش بین الاقوامی حالات کے تناظر میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔؟
علامہ ارشاد علی:
یقینی طور پر ایسا ہی ہے، تانے بانے تو باہر سے ہی مل رہے ہیں، سب سے اہم بات عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا، امریکہ کی خطہ میں شکست اور یورپی ممالک میں قرآن مجید اور رسول اکرم (ص) کی توہین کے اقدامات، یہ سب ایک کڑی نظر آتی ہے۔ پاکستان مسلم دنیا کا اہم ملک ہے، اور یہاں حالات فرقہ واریت کو فروغ دیکر آسانی سے خراب کیے جاسکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ دشمن نے ایک تیر سے کئی شکار نشانہ بنانے کی کوشش کی ہو۔ مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس سازش میں بیرونی ہاتھ ضرور ہے۔ ہماری حکومت کو اس سازش کو ضرور بے نقاب کرنا چاہیئے، میڈیا پر جن ممالک کا نام اس حوالے سے آرہا ہے، ان کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم سازشوں کو بے نقاب نہیں کرینگے، اس وقت تک ہمارے ساتھ اغیار اس قسم کے کھیل کھیلتے رہیں گے۔
خبر کا کوڈ : 889654
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش