0
Saturday 25 Jun 2022 10:13

رجیم چینج آپریشن اور چوہدری خاندان کی تقسیم

رجیم چینج آپریشن اور چوہدری خاندان کی تقسیم
رپورٹ: توحید عباس

پاکستان کی سیاست میں پنجاب کے چند خاندان ہی قابض رہے ہیں، ان میں سے بڑا نام چوہدری خاندان کا بھی ہے۔ چوہدری ظہور الہٰی کے بیٹوں اور بھتیجوں نے دہائیوں تک مشترکہ پلیٹ فارم سے سیاست کی، فتح اور شکست ان کے حصے میں آئی۔ نواز شریف کیساتھ اختلافات کی وجہ سے انہوں نے الگ جماعت بنائی، جنرل مشرف کا ساتھ دیا، پرویز الہٰی پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے، تب بھی اور جب چوہدری شجاعت وفاقی کابینہ میں رہے اور وزیراعظم کے عہدے پر بھی براجمان رہے، تب بھی پورا خاندان متحد رہا۔ اسی طرح پنجاب کے دوسرے علاقوں میں سیاست کرنیوالے جاگیرداروں کو رشتہ داریوں کے ذریعے اپنے ساتھ ملا کر رکھا اور سیاسی حیثیت کو مضبوط بنائے رکھا۔ حتیٰ کہ گذشتہ دور حکومت میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ہوتے ہوئے چوہدری پرویز الہٰی اس وقت کے وزیراعظم کو یہ تک کہتے رہے کہ ہم عمران خان کی نیپیاں تبدیل کرتے رہے ہیں۔

پنجاب میں چند سیٹوں کے بل بوتے پر سیاست کے ان داتا بنے چوہدری برادران کی اگلی نسل کی سیاست میں انٹری سے مفادات کا کھیل خاندان کی تقسیم کے آغاز کا سبب بنا۔ رجیم چینج آپریشن کے دوران وفاق اور پنجاب میں جو سیاسی افراتفری مچی، اس سے چوہدری خاندان کی سیاست بکھر کر رہ گئی۔ دور نزدیک کے رشتہ داروں میں سے ایک طارق بشیر چیمہ بھی تھے، جو رجیم چینج آپریشن کے جھٹکے برداشت نہیں کرسکے، اس کے اثرات چوہدری خاندان کی تور پھوڑ پر نمایاں طور پر پڑے۔ ماضی میں متعدد بار چوہدری خاندان میں اختلافات پیدا ہوئے، لیکن چوہدری شجاعت حسین کو آخری اور حتمی فیصلہ دینے والے کی حیثیت حاصل رہی۔ جیسا کہ مارچ اختلافات کے حوالے آنے والی خبروں پر چوہدری شجاعت حسین نے کہا تھا کہ جو افواہیں چل رہی ہیں اور چلوائی جا رہی ہیں، وہ غلط ہیں، اب تک پارٹی یا گھر میں جو بھی فیصلے ہوئے ہیں، وہ میری مشاورت اور رضامندی کے ساتھ ہوتے ہیں، وضاحت پر یقین نہیں رکھتا، لیکن اس کے باوجود میں کہنا چاہوں گا کہ مجھے خاندان کا سربراہ سمجھا جاتا ہے۔

چوہدری پرویز الہیٰ کو پنجاب اسمبلی میں پڑنے والی مار اور چوہدری مونس الہٰی کیخلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات سامنے آنے کے بعد یہ دراڑ گہری ہوئی اور بالآخر چوہدری وجاہت حسین نے گجرات میں کارکنوں کو اکٹھا کرکے سیاسی تقسیم کا اعلان کر دیا۔ واضح رہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کے کیمپ میں موجود چوہدری وجاہت حسین گجرات میں مقامی سطح پر کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور پارٹی کو طاقتور بنانے کے لیے پیچھے رہ کر کام کرتے ہیں۔ چوہدری وجاہت نے کہا ہے کہ طارق بشیر چیمہ نے ان کے خاندان کو تقسیم کر دیا جبکہ چوہدری شجاعت حسین کو ان کے بیٹوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس طرح مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے چھوٹے بھائی چوہدری وجاہت نے نئی پارٹی بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر چوہدری وجاہت حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے بیٹوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماء آصف علی زرداری سے مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت بننے والی موجودہ مخلوط حکومت کی حمایت کرنے کے لیے ڈالرز طلب کیے ہیں۔

ظہور الٰہی ہاؤس میں پارٹی کے گجرات شہر سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین کے بیٹوں کا کردار ہمارے خاندان کے سیاسی سفر پر ایک بدنما داغ ہے کہ ہمارے خاندان سے تعلق رکھنے والے لوگ انتخابی سیاست میں اس قدر پستی میں گر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گذشتہ پانچ ماہ سے دونوں بھائیوں کو اکٹھا کرنے کی بہت کوشش کی، تاہم چوہدری شجاعت حسین اپنی اولاد کے ہاتھوں مجبور ہوچکے ہیں، جس نے انہیں یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ انہیں خراب کر رہی ہے۔ چوہدری وجاہت حسین نے اعلان کیا کہ ہم نئی جماعت بنائیں گے، الیکشن کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں۔ پی پی 31 سے ہمارے خاندان کے امیدوار میاں عمران مسعود ہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین نے انہیں کہا کہ عوام کو یہ پیغام دیا جائے کہ میں اور پرویز الٰہی ایک تھے اور ایک ہیں، کیا وقت آگیا ہے کہ ایک بھائی آگے ہے جبکہ دوسرے بھائی کے پیچھے پولیس نظر آتی ہے۔ چودھری ظہور الٰہی خاندان کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری جتنے پیسے بانٹتے پھرتے ہیں، اتنے پیسے تو شجاعت حسین خیرات میں دے دیا کرتے ہیں، ہمارے لیے یہ افسوس کی بات ہے کہ چوہدری شجاعت کا بیٹا آصف علی زرداری سے ڈالر مانگ رہا ہے، چوہدری سالک کا گجرات کی سیاست سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ سیاسی وفاداریاں بدلنے کے حوالے سے اس سے پہلے بھی باتیں سامنے آتی رہی ہیں، چوہدری شجاعت کے بیٹوں کے متعلق سیاسی رشوت لینے کے الزامات جب سامنے آئے تو انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تعداد موجودہ اسمبلی میں سابقہ اسمبلیوں سے زیادہ ہے، ان پر الزام لگانا اور شک کرنا غلط بات ہے۔ پیسے کے لین دین کے لفظ کا استعمال نہیں ہونا چاہیئے، خاص طور پر پڑھے لکھے لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے۔ غلط قسم کا پروپیگنڈا کرنا اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا یا کروانا انتہائی غیر مناسب ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ کے خاندان میں اختلافات ہیں، ایسی بے بنیاد خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ چوہدری شجاعت حسین کے ایک صاحبزادے سالک حسین موجودہ حکومت میں وفاقی وزیر ہیں، جبکہ دوسرے بیٹے شافع حسین مبینہ طور پر صوبائی سیٹ اپ میں اپنے لیے کوئی عہدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چوہدری وجاہت حسین نے دعویٰ کیا کہ سالک حسین پہلے ہی رقم حاصل کرچکے ہیں جبکہ ان کے چھوٹے بھائی کو پی پی پی رہنماء کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ چوہدری وجاہت حسین نے کہا کہ انہوں نے چوہدری شجاعت حسین سے کہا تھا کہ وہ 30 جون تک حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی سے متعلق فیصلہ کریں، جبکہ پارٹی کے کارکنوں اور اراکین اسمبلی کی بھاری اکثریت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان اور سپورٹرز انتخابات میں پی ٹی آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حق میں ہیں، اس لیے پارٹی کو مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کو ختم کرنا چاہیئے۔ کارکنوں کے لیے چوہدری شجاعت حسین کے اس پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہ پارٹی متحد رہے گی، چوہدری وجاہت حسین نے کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں جبکہ پارٹی کے ایک رکن سالک حسین کو پولیس کی سکیورٹی حاصل ہو اور دوسرے رکن یعنی مونس الہیٰ کو ایف آئی اے اور پولیس کے ذریعے گرفتار کرانے کی کوشش کی جا رہی ہو، پارٹی کے کارکنوں کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔

اپنے چھوٹے بھائی چوہدری شفاعت حسین کے حلقہ این اے 69 سے انتخاب لڑنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شفاعت حسین جو فیصلہ کرنا چاہیں، ان کی مرضی ہے، اس سلسلے میں وہ آزاد ہیں، قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 69 سے اس وقت سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی اس وقت ایم این اے ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین کے سب سے چھوٹے بھائی چوہدری شفاعت حسین نے 2016ء کے بلدیاتی انتخابات کے دوران ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر کزن چوہدری پرویز الٰہی سے اختلافات کے بعد پورے خاندان سے دوری اختیار کرلی تھی۔ چوہدری وجاہت حسین نے کہا کہ انہوں نے پارٹی سربراہ کی ہدایت پر گجرات میں پارٹی کارکنوں کا مشاورتی اجلاس منعقد کیا اور آئندہ ایک دو روز میں مقامی پارٹی کارکنوں کے تحفظات چوہدری شجاعت حسین تک پہنچائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مشاورتی اجلاس گذشتہ چند ماہ سے گجرات شہر میں چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے اور وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے بڑے بھائی چوہدری شافع حسین کی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منعقد کیا گیا، جبکہ چوہدری شافع حسین گجرات شہر کے پنجاب اسمبلی کے حلقے سے آئندہ انتخابات میں الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔

چوہدری وجاہت حسین کا کہنا تھا کہ ان کے چھوٹے صاحبزادے موسیٰ الٰہی این اے 71 سے مسلم لیگ (ن) کے رہنماء عابد رضا کوٹلہ کے خلاف الیکشن لڑیں گے اور موسیٰ الہیٰ کو سپورٹ کرنے کے لیے پی ٹی آئی کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی موسیٰ الہیٰ کو سپورٹ نہیں کرتی تو وہ اس حلقے سے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 2018ء میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت پی ٹی آئی نے مسلم لیگ (ق) کے قومی اسمبلی کے 2 امیدواروں اور پنجاب اسمبلی کے 3 امیدواروں کے خلاف اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے تھے اور مسلم لیگ (ق) نے ضلع گجرات کی 2 قومی اسمبلی اور 4 پنجاب اسمبلی کی سیٹوں پر پی ٹی آئی کو اسی طرح سے سپورٹ کیا تھا، جس کی وجہ سے اتحاد نے ضلع گجرات کی قومی اسمبلی کی 3 اور صوبائی اسمبلی کی تمام ساتوں نشستیں جیت لی تھیں۔

چند ہفتے قبل چوہدری وجاہت حسین کے بیٹے چوہدری حسین الہیٰ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ قاف لیگ کے ساتھ اپنا سیاسی سفر ختم کر رہا ہوں، ہمیشہ یہی کہا ہے کہ میرے لیے میرا ملک سب سے پہلے ہے، اس جماعت میں نہیں رہ سکتا، جو شہباز شریف کو سپورٹ کرتی ہے۔ حسین الہیٰ نے کہا کہ مستقبل کی سیاست کا فیصلہ مونس الہیٰ کے ساتھ کروں گا۔ 50 برسوں پر محیط چوہدری خاندان کی سیاست کا شیرازہ بکھر گیا، ذاتی مفادات، خاندانی جھگڑے اور بیرونی دباو کے بعد رجیم آپریشن کے اثرات نے خاندان کو دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے، نوبت باہمی طور پر سیاسی رشوت ستانی کے الزامات تک آپہنچی ہے۔ جس طرح پاکستان کی سیاست کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا اگرچہ مشکل ہے، اسی طرح پانچ دہائیوں تک پریشیر گروپ کا کردار ادا کرنیوالے ایک اور جاگیردارانہ پس منظر کے حامل سیاسی خاندان کا مستقبل کیا ہوگا، یہ واضح نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 1000990
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش