0
Sunday 26 Jun 2022 01:25

امپورٹڈ حکمرانوں کی خواہش ہے کہ ڈیڑھ سال حکومت کی جائے، شاہ محمود قریشی

امپورٹڈ حکمرانوں کی خواہش ہے کہ ڈیڑھ سال حکومت کی جائے، شاہ محمود قریشی
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امور مملکت چلانا امپورٹڈ حکمرانوں کے بس میں نہیں۔ حکومت اپنا وقت پورا کررہی ہے۔ تحریک انصاف کو اقتدار تباہ حال معیشت کے ساتھ ملا ساڑھے تین سالہ کارکردگی و اقدامات کی بدولت معیشت کو بتدریج مضبوط کیا۔ ٹیکس ریکوری ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی۔ لوگوں کو روزگار کے مواقع مل رہے تھے۔ اکنامک گروتھ 6فیصد ہوگئی تھی۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق معاشی اشارے مثبت سمت گامزن تھے۔ ہمارے دور میں معیشت مضبو ط ہو رہی تھی۔ پھر مداخلت کی وجہ سے معیشت کا پہیہ رک گیا۔ ملک میں  سیاسی عدم توازن کی وجہ سے معیشت بتدریج زوال پذیر ہے۔ پاکستان کو جو اکنامک چینلجز درپیش ہیں وہ پچھلے ساڑھے تین سال کے نہیں بلکہ کئی دہائیوں کے ہیں۔ ان دہائیوں میں ن لیگ پی پی اور فوجی ادوار رہے۔ یہ تاثر دینا غلط ہے کہ معیشت کا زوال تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت کی پالیسیوں و اقدامات کا نتیجہ ہے۔ حکومت حقائق سے توجہ ہٹا رہی ہے۔ پی اور ن لیگ کی حکومت کرپشن کے خاتمے کو اہمیت نہیں دیتی۔ ٹیکس ریکوری کا پیسہ ذاتی اکانٹس میں اور منی لانڈرنگ کے ذریعے سوئس اکانٹس میں چلا جائے گا تو قومی خزانہ خالی ہونا ہے۔ کرپشن کا تدارک اور اداروں کی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کی ترجیح ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور اداروں کی اصلاحات تھیں۔ مداخلت اور سازش کے ذریعے کرپشن کے دروازے ایک بار پھر کھول دیئے گئے۔ ترقی کا سفر رک گیا ہے۔

 مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا امپورٹڈ حکمرانوں کی خواہش ہے کہ ڈیڑھ سال حکومت کی جائے۔ حکومتی کارکردگی سے عوام خوش ہیں اور نہ حکومتی حلقے سکون سے ہیں۔ عوامی رائے ان کے حق میں نہیں ہے۔ اگر حکمران عوامی رائے عامہ دیکھنا چاہتے ہیں تو سروے کروا لیں۔ لوگ سمجھ چکے ہی کہ ان کو ارینجمنٹ کے تحت مسلط کیا گیا ہے۔ عوام کے سامنے سازش عیاں ہو گئی ہے اور ان کا بیانیہ قبول نہیں کر رہے۔ عوام نے عمران خان کا بیانیہ قبول کیا ہے۔ یہی وجہ ہے عمران خان کے جلسوں میں رکاوٹوں اور گرمی کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا پنجاب کی 20 سیٹوں پر ضمنی اتنخاب ہونے جا رہا ہے۔یہ ضمنی انتخابات20 نشستوں کا نہیں بلکہ حمزہ کے مستقبل کا الیکشن ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اداروں کی امداد سے من پسند نتائج حاصل کئے جائیں۔ جوڑ توڑ ہو رہاہے لوگو ں کی وفا داریاں خریدی جا رہی ہیں۔ پیسے کا بے تحاشہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ پوری انتظامیہ اور فنڈز کو الیکشن کمپیئن کیلئے جھونک دیا گیا ہے۔ لیکن عوام ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ حکومت کو تمام تر وسائل طاقت اور اختیارات کے باوجود بھرپور شکست ہوگی۔

انہوں نے کہا ہر ادارے کا ایک آئینی رول ہے، اگر کوئی ادارہ اپنے آئینی رول  سے تجاوز کرے گا تو اس سے نہ صرف مشکلات پیدا ہونگی۔ بلکہ اداروں کا تشخص بھی متاثر ہوگا۔ اس سے ملک کا نظام بھی متاثر ہوگا۔ اور جمہوریت پر سے عوام کا اعتماد بھی ختم ہوگا۔ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اور نظام کی بقا کیلئے تمام آئینی اداروں کو آئین میں دیئے گئے اختیارات کے تحت اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔


 
خبر کا کوڈ : 1001156
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش