0
Wednesday 29 Jun 2022 23:57

اہم اپنے ڈیڑھ سالہ دور حکومت کے پائی پائی کا حساب دینے کو تیار ہیں، خالد خورشید

اہم اپنے ڈیڑھ سالہ دور حکومت کے پائی پائی کا حساب دینے کو تیار ہیں، خالد خورشید
اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو ستر سالہ بوسیدہ نظام ورثے ملا اور ہم اپنے ڈیڑھ سالہ دور حکومت کے ایک ایک پائی کا حساب دینے کو تیار ہیں لیکن ستر سالوں سے ملک کو لوٹنے والے تجربہ کار اپنے ادوار کا حساب کب دینگے؟ بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی گلگت بلتستان نے اپوزیشن لیڈر کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ پر اظہار خیال کے بجائے اپوزیشن لیڈر کی تقریر تضادات سے بھرپور تھی اور انہوں نے جذبات میں آکر اپنی ہی حکومت کی کرپشن کے کارنامے دہرائے۔ اپوزیشن لیڈر کو چاہئے کہ وہ غلط اعداد و شمار اور مفروضات سے عوام کو گمراہ نہ  کریں۔ اپوزیشن لیڈر نے ڈیزل جنریٹر کے حوالے سے ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی حالانکہ ہماری حکومت سے قبل جی بی میں 25 میگا واٹ کے ڈیزل جنریٹر موجود تھے اور مزید 13 میگا واٹ کے ڈیزل جنریٹر خریدنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا جسے ہماری حکومت نے ختم کرکے سردیوں میں بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کرائے کے جنریٹرز منگوائے، چنانچہ سابقہ ادوار کے برعکس سردیوں میں بجلی کی فراہمی میں بہتری لائی گئی۔

خالد خورشید نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے اعتراف کرلیا کہ انہی کے حلقے میں ہماری حکومت نے بجلی کا نیا منصوبہ مکمل کرایا۔ اپوزیشن لیڈر نے اسمبلی کے فورم سے بے بنیاد دعوی کیا کہ صوبائی حکومت نے صرف اٹھائیس فیصد بجٹ خرچ کیا ہے، میں اپوزیشن لیڈر کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ریگولر اور ترقیاتی بجٹ میں صرف 5 فیصد لیپس کے ثبوت مہیا کر دیں، ہم پورا بجٹ ان کی منظوری سے بنائیں گے۔ جی بی واحد صوبہ ہے جس کا وفاق نے تیسرے کوارٹر کا بجٹ بھی کاٹا، ہمارے سخت احتجاج پر 2.2 ارب دیا گیا جس کا ہم نے فوری استعمال یقینی بنایا۔ میں اپوزیشن کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ آج وفاق سے 5 ارب گرانٹ کی فراہمی کروائے، ہم اگلے چوبیس گھنٹوں میں اس گرانٹ کا عوامی مفاد میں استعمال یقینی بنائیں گے۔ اپوزیشن لیڈر کی پارٹی کے دور حکومت میں نوکریوں کی فروخت اور ٹھیکوں میں کمیشن کی باتیں زبان زد عام تھیں لیکن ہمارے دور حکومت میں کرپشن کا کوئی ایک  الزام بھی ہم پر نہیں لگا ہے۔ ہمیں اس پر فخر ہے۔

وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے گندم سبسڈی کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اپنے ڈیڑھ سالہ دور حکومت میں نہ صرف گندم کی سبسڈی 6 ارب سے بڑھا کر 8 ارب کروا دی بلکہ وفاق کے دباو کے باوجود آسان نرخوں پر گندم کی فراہمی یقینی بنائی اور اپنے عوام کیلئے ایک ارب مالیت کی گندم خرید کر پہنچائی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے ادوار حکومت میں گلگت بلتستان کے عوام گندم کی عدم دستیابی کی وجہ سے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوگئے اور تمام اضلاع میں دھرنوں کے علاوہ اسلام آباد کی جانب مارچ کیلئے کمربستہ ہوئے۔ وزیر اعلی نے اس موقع پر مزید کہا کہ میں اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ وفاق میں اپنی حکومت سے جی بی کیلئے اضافی بجٹ منظور کروائیں، ہم ان کا اسمبلی کے فورم پر شکریہ ادا کرینگے۔ جب وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت تھی اور جی بی میں اپوزیشن بر سر اقتدار تھی تو تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے پی ایس ڈی شئیر کو دو ارب سے بڑھا کر دس ارب کر دیا جس کی بدولت جگلوٹ سکردو روڑ، نلتر ایکسپریس وے سمیت دیگر پی ایس ڈی پی کے منصوبہ جات پر عمل درآمد  یقینی بنایا گیا۔

اگر ہماری  وفاقی حکومت اس سلسلے میں تعاون سے گریز کرتی تو سابق دور کی مہیا کردہ گرانٹ سے جگلوٹ سکردو روڑ 25 سال میں بھی مکمل نہیں ہو پاتا جبکہ اس کے برعکس موجودہ وفاقی حکومت نے جی بی کے لئے بجٹ میں کٹوتی کی اور تمام صوبوں کا بجٹ 25 فیصد بڑھایا گیا لیکن گلگت بلتستان کے بجٹ میں اضافہ کرنے کے بجائے کٹوتی کی گئی اور ہمارے مسلسل احتجاج کے بعد بجٹ کو محض پچھلے سال کی سطح پر بحال کیا گیا۔ خالد خورشید نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے ادوار حکومت میں 4 ہزار اسامیاں تخلیق کی گئیں لیکن انتظامیہ اور پولیس کی اہم آسامیوں کو نظرانداز کیا گیا، 2005 سے پولیس کی ایک اسامی بھی تخلیق نہیں کی گئی اور 2012 سے لیکچررز کی ایک بھی آسامی تخلیق نہیں کی گئی اور محکمہ صحت عامہ میں صرف 75 نرسوں کی بھرتی کی گئی جبکہ اس کے برعکس ہماری حکومت نے پہلے ہی سال 1000 پولیس، 1300 اساتذہ اور صحت عامہ کے شعبے میں 1500 تربیت یافتہ عملے کی آسامیاں منظور کروائیں۔ 

وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے مزید کہا کہ سابق وزرائے اعلی نے اسلام آباد میں رہ کر جی بی ہاوس سے باہر قدم نہیں نکالا جب کہ ہم نے اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں میں جی بی کا کیس لڑا اور قلیل عرصے میں گلگت بلتستان کے لئے اہم نتائج حاصل کئے۔ پہلے سال ہی جی بی کا ریگولر بجٹ 45 فیصد اضافے کیساتھ 32 سے 47 ارب کرایا۔ پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی شئر بڑھایا۔ 370 ارب کا مالیاتی پیکیج منظور کروایا اور غذر شندور روڑ، استور شونٹر روڑ، شاہراہ نگر، عطا آباد پاور پراجیکٹ، غواڑی پاور پراجیکٹ، داریل تانگیر ایکسپریس وے کے منصوبے منظور کروائے اور ان میں سے بیشتر ابھی ٹینڈر کے مراحل میں ہیں۔ ہم نے وفاق سے پرنسپل اکاونٹنگ آفیسر کا اختیار گلگت بلتستان منتقل کرایا۔ جس کی واپسی کے لئے وزارت امور کشمیر نے وزیراعظم ہاؤس کو سمری بھیجی ہے۔ میں پوزیشن کو دعوت دیتے ہوں کہ وہ اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔
خبر کا کوڈ : 1001843
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش