0
Thursday 30 Jun 2022 16:51
چوروں کو اقتدار میں بٹھانا ہے تو پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں، عمران خان

میرا ذہن نہیں مان رہا تھا کہ شہباز شریف، زرداری اقتدار میں پھر سے آجائیں گے
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں، عمران خان
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ رجیم چینج کے بعد میڈیا پر پریشر ڈالا گیا، پاکستان بننے کی بڑی وجہ لوگ آزادی چاہتے تھے، قائداعظم کی ساری جدوجہد آزادی حاصل کرنا تھی، پاکستان اس لیے نہیں بنا تھا کہ ایک غلامی سے نکل کر دوسری غلامی میں آجائیں، ہمارا کلمہ انسان کو آزاد کر دیتا ہے، طاقتور کو این آر او دینے سے قوم تباہ ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب ممالک کا مسئلہ طاقتور کو سزا نہیں ملتی، ہر سال غریب ملکوں سے اربوں ڈالر چوری ہوتے ہیں، 7 ہزار ارب ڈالر غریب ملکوں کا آف شور کمپنیوں میں پڑا ہوا ہے، لبنان کے لوگ کرپشن کی وجہ سے 70 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے، اللہ نے حکم دیا اپنی نبیﷺ کی زندگی سے سیکھو، انگلینڈ میں پہلی دفعہ فلاحی ریاست دیکھی، بڑے، بڑے ڈاکوؤں کو 1100 ارب کی چھوٹ دیدی گئی ہے۔ پاکستان میں ساری سہولیات رولنگ کلاس کو حاصل ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سائفر میں کہا گیا عمران خان کو فارغ نہ کیا تو نتائج بھگتنا ہوں گے، کبھی کسی سیلف ریسپکٹ ملک کو اس طرح کا سائفر نہیں آسکتا، دھمکی آمیز مراسلہ یہ ملک کی توہین ہے، وزیراعظم تو میں تھا، کس کو حکم دیا گیا کہ وزیراعظم کو ہٹا دو؟ ایک دم عدم اعتماد آگئی اور ہمارے اتحادیوں نے کہا حکومت ٹھیک نہیں چل رہی، ایک دم سارے لوٹے بھی بن گئے۔ پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے کورونا کی وجہ سے پہلے دو سال بڑے مشکل تھے، اپوزیشن نے 3 ماہ لاک ڈاؤن لگانے کا پریشر ڈالا نہیں لگایا، ہماری حکومت کے دو سال بڑے مشکل تھے، سترہ سال بعد ہماری حکومت میں مستحکم گروتھ ہوئی۔ زراعت، کنسٹرکشن سیکٹر میں ریکارڈ گروتھ ہوئی۔ پاکستان کی 6 فیصد گروتھ ہو رہی تھی، شکر ہے اسمبلی میں ان کے منہ سے نکل گیا ہے کہ کدھر سے فون آرہے تھے، لوٹے امریکی سفیر سے ملاقاتیں کرتے رہے، اسی لیے چاہتا ہوں جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیئے، جوڈیشل انکوائری ہوگی تو پاکستان کو فائدہ ہوگا، تاکہ آئندہ غلطیوں کو نہ دہرایا جائے۔

میں نے اور شوکت ترین نے بھی نیوٹرل کو بتایا ملک میں عدم استحکام نہیں آنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ نیوٹرل ہونا بڑی اچھی چیز ہے، ما شاء اللہ آپ نیوٹرل ہی رہیں، ہم نے بتا دیا تھا کہ اگر سازش کامیاب ہوگی تو حالات خراب ہوں گے، شروع دن سے کہا تھا کہ یہ سب اکٹھے ہوں گے، مجھ سے این آر او لینے کے لیے بلیک میل کیا گیا، ایک سال سے پلان چل رہا تھا، میرا ذہن نہیں مان رہا تھا کہ شہباز شریف، زرداری اقتدار میں پھر سے آجائیں گے، تیس سال سے یہ دو خاندان ملک پر مسلط ہے، عالمی میڈیا نے ان کی کرپشن پر آرٹیکل، ڈاکیو منٹری بنائیں، پرویز مشرف نے ان کو این آر او دیا، میں نے احتجاج کیا تھا۔ نوازشریف کا حدیبیہ پیپر مل کا اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، این آر او ون میں ان کی ساری کرپشن معاف کر دی گئی، میری حکومت میں صرف مقصود چپڑاسی والا کیس بنا باقی توسارے پرانے کیسز تھے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو سزا ہونے والی تھی، کیسے کوئی آدمی اس کو اس ملک پر مسلط کرسکتا تھا، شائد وہ اس کو بڑا جنئس سمجھ رہے تھے کہ صبح جلدی اٹھتا ہے اور ملک کو بہتر کر لے گا، شہباز شریف نے اشتہارات میں 50 ارب خرچ کیا تھا، شائد وہ غلطی فہمی میں تھے، شائد ٹرن آؤٹ کر جائے گا، حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق ہماری حکومت میں ترقی ہو رہی تھی، ہماری حکومت میں ریکارڈ ایکسپورٹ ہوئی۔ آج مہنگائی آسمانوں پر اور ملک نیچے جا رہا ہے کون ذمہ دار ہے؟ صدر مملکت نے سپریم کورٹ کو سائفر بھیجا ہے کہ اوپن انکوائری کریں، تاکہ ذمہ داروں کا پتہ تو چلے، 25 سال بعد حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ آئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی خلاف جنگ میں 80 ہزار پاکستانی مارے گئے، آج بھی ہمارے فوجی قربانیاں دے رہے ہیں، ہم نے کیوں امریکا کی جنگ میں شرکت کی، سب سے زیادہ مغربی سوچ کو سمجھتا ہوں، عالمی دنیا میں کوئی دوستی نہیں، اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اتنی بڑی قربانی دی، کیا کبھی امریکا نے ہماری اتبی بڑی قربانی کو سراہا، رجیم چینج کے بینفیشری نہیں چاہتے سائفر کی انکوائری ہو، امریکا کو کرپٹ لوگ سوٹ کرتے ہیں، امریکا جیسے ملک میں کسی کرپٹ کو چپڑاسی بھی نہیں رکھا جاسکتا، امریکا کو پتہ ہے کرپٹ لوگ کنٹرولڈ ہوتے ہیں۔ عمران خان نے کہاکہ اگر اس طرح کے چوروں کو اقتدار میں بٹھانا ہے تو پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں، ہماری حکومت بھی آئی ایم ایف پروگرام میں تھی، ہمارے اوپر بھی پریشر تھا، اگر ہم ہی ذمہ دار تھے تو اتنی محنت کرکے کیوں ہٹایا، چوروں کا ٹولہ ملک کے اداروں کو تباہ کر رہا ہے، ان کی وجہ سے رول آف لا تباہ ہو رہا ہے، کرپٹ لوگوں نے اسمبلی میں اپنے 1100 ارب کے کیسز معاف کرا لیے، ہم سپریم کورٹ گئے ہوئے ہیں، نیب ترامیم کے بعد اب نیب کچھ نہیں کرسکتا۔
خبر کا کوڈ : 1001976
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش