0
Friday 1 Jul 2022 14:40

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب، آج 4 بجے ووٹنگ کا عمل نہیں ہوگا، جسٹس اعجاز الاحسن

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب، آج 4 بجے ووٹنگ کا عمل نہیں ہوگا، جسٹس اعجاز الاحسن
اسلام ٹائمز۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے آج شام 4 بجے ووٹنگ نہیں ہوگی، چیف جسٹس نے کہا سب راضی ہیں کہ آج انتخابی عمل نہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے خلاف اپیل پر سماعت جاری ہے، چیف جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندو خیل سماعت کر رہے ہیں، چیف جسٹس نے حمزہ شہباز اور پرویز الہیٰ کو ویڈیو لنک پر لاہور رجسٹری میں طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانچ درخواستیں ہیں، کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہو رہا ہے وہ بتائیں، بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہو رہا ہوں۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے۔ جسٹس اعجاز لاحسن نے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے، اس کے ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ہیں، سادہ سی بات ہے کہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لئے ہیں، ان میں سے 25 ووٹ نکال دیئے ہیں، جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چار ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں، اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج کا فریضہ ادا کرنے گئے ہیں، ووٹنگ کے دوران جتنے بھی میمبر ایوان میں موجود ہونگے، اس پر ووٹنگ ہونی ہے، جو کامیاب ہوگا، وہ کامیاب قرار پائے گا۔ آپ کی درخواست ہے کہ وقت کم دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ میمبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں، ہم آپ کی درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں، بنیادی طور پر اپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ اصولی طور پر اس فیصلے کو مانتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ چار ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے، کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں۔؟

جسٹس اعجاز لاحسن نے کہا کہ جو ممبران کہیں گئے ہوئے ہیں، وہ 24 اور 48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں، بابر اعوان نے استدعا کی کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، لیکن لیول پلینگ فیلڈ کے لئے وقت دیا جائے، ہمیں سات دن کا وقت دیا جائے۔ جسٹس اعجاز لاحسن نے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں، بابر اعوان نے جواب دیا کہ ہم تو دس دن چاہتے تھے۔ جسٹس اعجاز لاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیئے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے، اس کو سامنے رکھا جائے۔ عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ 7 دن صوبہ وزیراعلیٰ کے بغیر رہے گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کیا لکھا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ موجود نہ ہو تو صوبہ کون چلائے گا۔
خبر کا کوڈ : 1002135
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش