0
Sunday 31 Jul 2022 21:58

جلوس عزا بھی ہوگا اور مجلس بھی بپا ہوگی لیکن حکومت کا چہرہ کالا ہوجائے گا، شیعہ تنظیمیں

جلوس عزا بھی ہوگا اور مجلس بھی بپا ہوگی لیکن حکومت کا چہرہ کالا ہوجائے گا، شیعہ تنظیمیں
اسلام ٹائمز۔ سندھ بھرخصوصاً کراچی میں محرم الحرام کے آغاز کے باوجود مجالس وجلوس ہائے عزا کے مقامات اور راستوں پر صفائی ستھرائی، روشنی اور سٹرکوں کی استر کاری کے کام شروع نہ کئے جانے کے خلاف جعفریہ الائنس پاکستان کی جانب سے کراچی نشتر پارک میں شیعہ تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔ پریس کانفرنس میں ملت جعفریہ کی تنظیموں کے ذمہ داران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مجالس و عزاداری کے دوران کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیئے، اگر کسی بھی قسم کا کوئی واقعہ رونما ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ کراچی نشتر پارک میں شیعہ علما کونسل، مجلس وحدت مسلمین، آئی ایس او، مجلس ذاکرین امامیہ، امامیہ آرگنائزیشن، تنظیم عزا، تنظیم عزاداری، پاک محرم، ہیئت آئمہ مساجد و علماء امامیہ، ڈسٹرکٹ کے کوآرڈینیٹر، اسکاؤٹس کے نمائندگان اور دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی۔ رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کا آغاز ہوچکا ہے اور چودہ سو سال پہلے کربلا میں بلند ہونے والی آواز حق کی یاد میں مجالس و عزاداری کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے آج 1444 ہجری کا آغاز ہوچکا ہے لیکن انتظامیہ کی نااہلی کے باعث عزاداران سید الشہدا (ع) سخت اذیت اور مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند روز سے وزیراعلیٰ سے لیکر نچلی سطح پر صرف ملاقاتیں اور اجلاس ہورہے ہیں لیکن صرف وعدوں، باتوں اور فوٹو سیشن کے کوئی اور چیز نظر نہیں آتی جس کو دیکھ کر یہ محسوس کیا جاسکے کہ عملی اقدامات ہورہے ہیں۔

رہنماؤں نے مزید کہا کہ شہر کراچی گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے، وزیراعلیٰ اور ان کے وزراء یا تو اقرار کریں کے وہ ناکام ہوچکے ہیں یا پھر جو وعدے کئے گئے ہیں انہیں پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جلوس بھی ہوگا اور مجلس بھی بپا ہوگی لیکن صوبائی حکومت کا چہرہ کالا ہوجائے گا، یہ بارش کوئی اچانک نہیں ہوئی، گذشتہ تین چار سالوں سے محرم الحرام بارشوں کے موسم میں آرہا ہے لیکن حکومت سندھ کی جانب سے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کئے جاتے۔ رہنماؤں نے کہا کہ اربوں روپے کا بجٹ کہاں جاتا ہے، کراچی کی ترقی کے لئے بجٹ آیا تھا وہ کہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، کے الیکٹرک مافیہ بنی ہوئی ہے جس نے شہر میں لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے، کے الیکٹرک نے اربوں روپے شہر قائد کے باسیوں سے بٹورے ہیں عزاداری سید شہدا میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنی چاہیئے، اگر عزاداری اور مجلس کے دوران کوئی واقعہ رونما ہوا تو اس کی ذمہ داری وزیراعلیٰ، آئی جی اور کے الیکٹرک پر عائد ہوگی، کراچی کے سوک معاملات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، ملت جعفریہ اقلیت نہیں ہے بلکہ لارجر ٹیکسٹ پیئر ہیں لہذا جو مسائل ہیں وہ سننے جائیں اور اسے فوری حل کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 1006971
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش