0
Wednesday 3 Aug 2022 18:01

دیگر اداروں کا احتساب ہوسکتا ہے تو نیب کا کیوں نہیں ہوسکتا، خواجہ آصف

دیگر اداروں کا احتساب ہوسکتا ہے تو نیب کا کیوں نہیں ہوسکتا، خواجہ آصف
اسلام ٹائمز۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر فرد کو پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے اس کی کمیٹیوں کو جوابدہ ہونا چاہیئے، دیگر اداروں کا احتساب ہوسکتا ہے تو قومی احتساب بیورو کے ادارے کا احتساب کیوں نہیں ہوسکتا، کیا وہ قانون سے بالاتر ادارہ ہے، یہ سلسلہ اس ملک کے وجود کے لئے خطرناک اور تشویشناک ہے۔ قومی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کی تائید کرتے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ اداروں کو احتساب سے استثنیٰ پارلیمان کی بالادستی کی نفی ہے، یہ بالادستی آئین کے تحت پارلیمان کو حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نور عالم نے اہم نکتہ اٹھایا ہے، آئین کے مطابق جب ہمارا ادارہ پارلیمان کے سپریم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس ادارے کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیئے، پی اے سی اس ہاؤس کی سب سے بااثر کمیٹی ہے، اپنے کام، حدود کے اعتبار سے اس کو کوئی چیلنج کرے تو ہمیں اس کو ہاؤس میں لانا چاہیئے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ساری دنیا میں یہ روایت ہے، لوگوں کو ہاؤس میں بلایا جائے، جو اپنے آپ کو مقدس گائے سمجھتے ہیں، میں بھی گواہ ہوں، کئی بار بلانے پر ایک مرتبہ بھی نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہائیکورٹ کہتی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد مداخلت نہیں کرنی، صوبہ خیبر پختونخوا میں احتساب کمیشن بند کر دیا گیا، لیکن عدالت خاموش رہی، باقی سارے صوبوں میں احتساب ہوا، خیبر پختونخوا میں کیوں بند ہوا، ادارے کو تالا لگا دیا گیا، خود کو مدینہ کی ریاست کہتے رہے، جہاں اپنی حکمرانی ہے، وہاں ادارہ بند کر دیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ان کا احتساب کیا، جعلی حلف نامے دیتے رہے، اس ایوان کی بالادستی کا تحفظ ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ لینے والے لوگ اس ادارے کے تحفظ اور اس کی بالادستی پر سمجھوتہ کرتے ہیں، ادارے سائلین کو بلا کر ان کی توہین کرتے ہیں، آئینی ادارہ بلاتا ہے تو وہاں پیش نہیں ہوتے، احتساب کا دروازہ بند کرنے پر کسی کا ضمیر نہیں جاگا۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار کی تبدیلی پر ہمارے اوپر امریکا کا ملبہ ڈالنے والے خود ہندوستان، اسرائیل اور امریکا سے پیسے لیتے رہے، جس کو پی اے سی بلائے، اس کو خود حاضر ہونا چاہیئے، اس بارے میں چیئر سے رولنگ دی جائے، اگر اس کا کوئی فعل اس کے عہدے سے مطابقت نہیں رکھتا، اگر اس نے اپنے عہدہ کا غلط استعمال کیا ہے تو وہ کوئی بھی ہے، اسے پی اے سی میں پیش ہونا چاہیئے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کو 50 ارب روپے کے حوالے سے نیشنل کرائم ایجنسی نے حکومت کو براہ راست پیسے بھیجے، جنہیں ایڈجسٹ کر لیا گیا، القادر یونیورسٹی اور انٹرچینجز کے لئے اراضی کی مد میں یہ پیسے ایڈجسٹ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ دن دیہاڑے ڈاکے ڈالنے والوں کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ایماندار ترین شخص ہے، ان کی حکومت آئین اور قانون کے تحت چلانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، ہمیں اس ایوان کی کمیٹیوں کو موثر بنانا ہوگا، یہ کمیٹیاں دراصل اسی ایوان کی ایکسٹینشن ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہر فرد کو پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے اس کی کمیٹیوں کو جوابدہ ہونا چاہیئے، ہم نے سیاسی جماعت سے وابستگی کی بنیاد پر جیلیں کاٹیں، انصاف کے بغیر ریاستیں یا ملک اس طرح قائم نہیں رہتے، دیگر اداروں کا احتساب ہوسکتا ہے تو نیب کے ادارے کا احتساب کیوں نہیں ہوسکتا، کیا وہ قانون سے بالاتر ادارہ ہے، یہ سلسلہ اس ملک کے وجود کے لئے خطرناک اور تشویشناک ہے، اس ادارے نے ناانصافی، عدم توازن اور استحصال کی حدود پار کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز ایک آئینی ادارے نے ایک شخص کی چوری کو پکڑا، وہ لوگوں کو کہتا ہے کہ جو میرے ساتھ نہیں کھڑا ہوگا تو وہ شرک کرے گا، اگر کوئی غیر مسلم ہمارے نبیﷺ، دین کے خلاف بات کرتا ہے تو اس وقت ہم دھرنے دے کر ملک جام کرتے ہیں، اس کے خلاف اپنے دین اور نبیﷺ کی حرمت کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے، یہ لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکالتے رہے، اس ملک کے وسائل استعمال کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ادارے کو مضبوط کرنا ہے، آئین کے مطابق اس کو مؤثر بنانا ہے، یہ اس ایوان، حکومت، اپوزیشن، اسپیکر سمیت سب کی ذمہ داری ہے، ہم اس کو تحفظ نہیں دیں گے، موثر نہیں بنائیں گے تو پارلیمنٹ کی بالادستی قائم نہیں ہوسکتی، پارلیمان بالادست ہوگی تو پاکستان کے عوام کو انصاف ملنا شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے، پارلیمنٹ کو بھی اپنی کارکردگی کو احتساب کے پیش کرنا چاہیئے، انہوں نے کہا کہ 75 سال میں سب سے زیادہ یہ ادارہ نشانہ بنا، کبھی آمریت اور کبھی 58 (2) بی کا نشانہ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 14 سال سے خوش قسمتی سے اس ادارے کے ساتھ کوئی حادثہ نہیں ہوا، ہم نے اس ادارے کا وجود برقرار رکھا، کئی بار ہم ایسی مداخلت کے قریب پہنچے، جب یہ کہا جا رہا تھا کہ آج گئے یا کل گئے، لیکن اس ادارے نے اپنا وجود برقرار رکھا، اس کا احساس پورے پاکستان کو ہونا چاہیئے، پارلیمنٹ ایک بالادست ادارہ ہے، اگر اس کی کسی کمیٹی کو کوئی چیلنج کرے تو پورے پارلیمان کو اس کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 1007429
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش