0
Friday 5 Aug 2022 09:00

حکمرانوں کی لڑائی عوام کے لیے نہیں ذاتی مفادات کے لیے ہے، سراج الحق

حکمرانوں کی لڑائی عوام کے لیے نہیں ذاتی مفادات کے لیے ہے، سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سات دہائیوں سے ملک میں اسلامی نظام نافذ نہیں ہو سکا یہی وجہ ہے کہ آدھا پاکستان ہم سے چلا گیا اور آج بھی ہم آئی ایم ایف کے غلام ہیں۔ ملک میں غربت اور بھوک کی وجہ عدل و انصاف کی عدم دستیابی ہے۔ دوسروں کو قرض دینے کی بجائے ہم دنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں۔ ملک تماشا بنا ہوا ہے، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی والے ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں، حکمرانوں کی لڑائی عوام کے لیے نہیں ذاتی مفادات کے لیے ہے۔ پی ٹی آئی اور گیارہ جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم ملک میں اسلامی نظام کی بات نہیں کرتا جو ہمارے مسائل کا حل ہے۔ 9 سالوں سے کے پی میں تحریک انصاف، 14برسوں سے سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت میں ہے، پنجاب میں بار بار مسلم لیگ(ن) کو اقتدار ملا، یہ تینوں جماعتیں مرکز سمیت بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی اقتدار کے مزے لیتی رہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا ان حکمران جماعتوں نے غریبوں کے حقوق کے لیے کوئی قدم اٹھایا؟ ملک کی بہتری کے لیے کوئی قانون سازی کی؟ کیا ان وڈیروں، جاگیرداروں نے عدالتی، تعلیمی اور صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی ایکشن لیا؟۔

سراج الحق نے کہا کہ عدالتوں سے فیصلے ان حکمرانوں کے حق میں آ جائیں تو خوشیاں مناتے ہیں، خلاف آئیں تو اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں حکمران جماعتوں نے تمام حدیں عبور کر دیں، کبھی سپریم کورٹ تو کبھی الیکشن کمیشن پر دباو ڈالا جاتا ہے۔ اگر فیصلے کرنے اور قبول کرنے کا یہی طریقہ عام ہوا تو پھر قانون صرف غریبوں کی گردن دبوچنے کے لیے رہ جائے گا۔ ملک میں طاقتور کو کوئی نہیں پوچھتا، جس کے ساتھ ہزار دو ہزار کا جتھا ہے وہ بھلے من مانیاں کرے اور قانون روندتا پھرے۔ مغرب میں انصاف کی بالادستی کی مثالیں دینے والوں کو پتا ہونا چاہیے کہ وہاں کے وزرائے اعظم، صدور اور اعلی عہدیدار عدالتی احکامات کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ ملک میں کوئی وی پی آئی، سیاسی لیڈر عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سات دہائیوں سے یہ کھیل جاری ہے۔ پوری سیاست پیسے کی بنیاد پر چلتی ہے اور دولت کے زور پر ہی الیکشن لڑے جاتے ہیں۔ پاکستان کو بچانا ہے تو قرآن وسنت کے نظام کو نافذ کرنا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 1007705
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش