0
Saturday 6 Aug 2022 21:24

پی ٹی آئی کا 13 اگست کی شب اسلام آباد میں جلسہ اور آزادی کا جشن منانے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کا 13 اگست کی شب اسلام آباد میں جلسہ اور آزادی کا جشن منانے کا فیصلہ
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف نے 13 اگست کی شب اسلام آباد میں بڑا پاور شو کرنے کے ساتھ 14 اگست کا جشن بھی جلسے میں منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا نیوز کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا ہے، جس میں 13 اگست کی شب اسلام آباد میں جلسہ کرنے اور جلسے میں ہی 14 اگست آزادی کا جشن منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اس میگا پاور شو کیلیے ایک لاکھ افراد کو جلسے میں لانے کا ٹاسک دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی قیادت کو ذمے داریاں بھی سونپ دی ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اس میگا شو میں شرکت کیلیے ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کا آئیں گے اور جلسے سے خطاب میں ہی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان حکومت مخالف تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں حکومت مخالف جارحانہ حکمت عملی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پاور شو کے ذریعے پی ٹی آئی نئے انتخابات کے لیے راہ ہموار کرے گی اور حکومت کو اسمبلیوں کی تحلیل کیلیے واضح پیغام دے گی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اجلاس میں نئے انتخابات کے لیے صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے بھی غور و خوض کیا گیا۔ 

گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء فواد چودھری نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ چند روز میں اسلام آباد میں بڑا جلسہ کرینگے، اس میں حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی ڈیڈ لائن دیں گے، حکومت کو زیادہ سے زیادہ اس کیلئے ایک ماہ سے زائد کا وقت نہیں دے سکتے۔ عمران خان، تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن بہت جلدی میں ہے، چیف الیکشن کمشنر اور ان کے ممبران کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں، ممکن نہیں کہ یہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کرا سکے گا۔ اسی لیے الیکشن کمیشن کی تبدیلی ناگزیر ہے، سیاسی اور معاشی استحکام کا واحد راستہ عام انتخابات ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں اسلام آباد میں بہت بڑا جلسہ کیا جائے گا، جلسے میں حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی ڈیڈ لائن دیں گے، اس حکومت کو زیادہ سے زیادہ انتخابات کا اعلان کرنے کے لیے ایک ماہ سے زائد کا وقت نہیں دے سکتے، اس سے زیادہ وقت دینے کا مقصد یہ ملک کی معیشت تباہ کر دیں گے۔

اس سے قبل پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کو تحلیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی کو خدشہ ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کیں تو وفاقی حکومت گورنر راج لگا سکتی ہے، قومی اسمبلی تحلیل نہ ہوئی تو دونوں صوبائی اسمبلیاں مدت پوری کریں گی، دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوئیں تو الیکشن کمیشن انتخابات کرا دے گا۔ قانونی ٹیم نے رائے دی ہے کہ اگر پی ٹی آئی وفاقی حکومت کو انتخابات کے لیے پریشر میں ڈالنے کے لیے اسمبلیاں تحلیل کرتی ہے تو وفاقی حکومت آئنی طور پر ان صوبوں میں گورنر راج لگا سکتی ہے، جبکہ حکومت صوبائی سطح پر الیکشن کروا سکتی ہے، اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسمبلیاں اپنی آئنی مدت پوری کریں۔
خبر کا کوڈ : 1007990
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش