0
Monday 8 Aug 2022 19:14

حسینیت اور پاکستانیت ہماری شناخت، ہمارا تعارف اور ہماری پہچان ہے، علامہ شہنشاہ نقوی

حسینیت اور پاکستانیت ہماری شناخت، ہمارا تعارف اور ہماری پہچان ہے، علامہ شہنشاہ نقوی
اسلام ٹائمز۔ خطیب اہلبیتؑ علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا ہے کہ محبان اہلبیت علیہ السلام کی وطن عزیز پاکستان سے عقیدت و محبت ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے، ہماری قیادت کا واضح موقف ہے کہ ہم پاکستان کے بانی، وارث اور مالک ہیں، ہمارے اجداد اور رہنماؤں نے قیام پاکستان میں دامے درمے قدمے سخنے اپنا کردار ادا کیا اور آج بھی ہم وطن عزیز پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی متواتر اور مسلسل قربانیاں پیش کرتے ہوئے حفاظت کررہے ہیں اور مستقبل میں بھی اس کی حفاظت کے عہد کی تجدید کرتے ہیں۔ نو محرم الحرام کی مرکزی مجلس عزا سے ملت جعفریہ پاکستان کا قومی موقف پیش کرتے ہوئے علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ مکتب تشیع ایک مسلمہ اسلامی مکتب فکر کا نام ہے، جس کے متعلقین آئین و قانون کے پاسدار اور اخلاقی لحاظ سے آراستہ و پیراستہ ہیں، ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ عزاداری امام حسینؑ ہماری شہ رگِ حیات ہے اور ہمارا شہری، بنیادی اور مذہبی حق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ البتہ بدقسمتی سے ملک کے بدخواہوں کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں، انتظامیہ اور تکفیری طرزِ تفکر کے مالک افراد نے عزاداری امام حسینؑ پر طرح طرح کی بندشیں، رکاوٹیں اور پابندیاں لگاکر آئین پاکستان میں مشخص شدہ بنیادی اور مذہبی حقوق کو پامال کرنے کی کوششیں کیں جن کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ ہم ان بوگس اقدامات کو عوام کی شہری، بنیادی اور مذہبی آزادیوں کو سلب کرنے کے مترادف سمجھتے ہوئے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ ہمارے لئے یہ اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے اکثر علاقوں میں ظالم و مظلوم، قاتل و مقتول اور جابر و مجبور کی تمیز کئے بغیر مکتب تشیع کے محب وطن اور قانون پسند شہریوں کو فورتھ شیڈول میں ڈال کر توہین آمیز رویہ ایک مہذب قوم کی اہانت و تذلیل ہے جو قابل مذمت ہے جبکہ دوسری جانب مشی واک، چار دیواری کے اندر محافل عزا، جلوسوں پر ایف آئی آرز کا اندراج ریاست پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محرم سے قبل جید علماء کرام پر پابندیوں اور امتناع گویائی کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ نصاب تعلیم کو یکساں مرتب نہ کرنے اور مکتب تشیع کے نمائندوں کے اعتراضات کو نظر انداز کرنا قومی زیادتی ہے جس سے قومی و ملی وحدت کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو نقصان پہنچے گا، ہمارا مطالبہ ہے کہ سانحہ پشاور اور ملک کے دوسرے شہروں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے حقائق منظر عام پر لائے جائیں۔ علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ ہم اپنے اصولی مطالبے کو دہراتے ہیں کہ سانحہ پشاور کی بلاتاخیر جوڈیشل انکوائری کرانے اور شہداء کے خانوادوں اور مجروحین کو ریلیف فراہم کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ اس کے علاوہ زائرین عظام سے متعلق مکتب تشیع کے قومی موقف کے مطابق تمام رکاوٹوں کو ختم کیا جائے تاکہ عوام میں پائی جانے والی بےچینی اور اضطرابی کیفیت کا سدباب ممکن ہو۔
خبر کا کوڈ : 1008181
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش