0
Saturday 17 Sep 2022 20:53

حزب اللہ بڑی جنگ کی تیاری میں، ٹارگٹ لاک ہوگیا، حسن نصر اللہ کا کھلا پیغام

حزب اللہ بڑی جنگ کی تیاری میں، ٹارگٹ لاک ہوگیا، حسن نصر اللہ کا کھلا پیغام
اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے سنیچر کے روز بعلبک مین امام حسین علیہ السلام کے چہلم کی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے وہاں منعقدہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اربعین مارچ کی عظمت، اس کی وسعت اور اس کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے صرف یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ اللہ کے معجزے سے کم نہيں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو اربعین کے پیغامات کو یاد رکھنا چاہیئے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ یزید کے دربار میں امام زین العابدین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے سلوک نے یہ ظاہر کردیا کہ مشکلیں چاہے کتنی ہی کیوں نہ ہو، ان کے سامنے نا امید نہيں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہر حالت میں انسان کو اللہ کے وعدے پر پورا اعتماد کرنا چاہیئے۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ عراق میں اربعین مارچ کے اندر موجود کروڑوں لوگ درحقیقت کروڑوں دل ہیں جو امام حسین علیہ السلام کی محبت اور عشق میں وہاں موجود ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ ہمارے میزائلوں نے کاریش گیس فیلڈ کے ٹارگٹ کو لاک کرلیا ہے اور دشمن جانتا ہے کہ ہم سنجیدہ ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل نے اربعین امام حسین (ع) کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ مزاحمتی تحریک کبھی بھی لبنان کے حقوق سے سمجھوتہ نہیں کرے گی اور صیہونی حکومت کو کاریش گیس فیلڈ سے گیس نکالنے کی اجازت نہیں دے گی۔

انہوں نے "کاریش" گیس فیلڈ اور صیہونی حکومت کی طرف سے لبنان کے علاقائی پانیوں میں گھسنے کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حقوق کی بازیابی کا واحد راستہ مزاحمت ہے اور یہ مقصد بھیک مانگ کر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے تمام مزاحمتی قوتوں کو متحد کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لبنانیوں، فلسطینیوں اور شامیوں کی اپنی زمین، تیل، گیس اور عزت کے حصول کی واحد امید مزاحمت ہے۔ بحری سرحدوں کی وضاحت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ لبنان کو اپنے وسائل کو سمندر میں جمع کرکے اقتصادی، معاشی اور بنیادی بحرانوں کو ختم کرنے کا سنہری موقع ہے۔

سید حسن نصراللہ نے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے چالیس سال قبل صبرا اور شتیلا میں انتہائی بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں اور لبنانیوں کے قتل عام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قتل عام میں نہ صرف 3500 فلسطینی شہید ہوئے بلکہ 1900 لبنانی بھی شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صبرا اور شتیلا کا قتل عام، عرب اسرائیل جنگوں کی پوری تاریخ کا سفاکانہ ترین قتل عام تھا اور اس کے مجرموں کو بھی کوئی سزا نہیں مل سکی۔" حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے ایسے افراد کے جواب میں جو یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ "ہمارا لبنان تمہارا لبنان نہیں ہے"، کہا کہ صبرا اور شتیلا آپ کی ثقافت کا حصہ ہے اور ہم خدا کا شکر کرتے ہیں کہ آپ جیسے نہیں ہیں۔
خبر کا کوڈ : 1014849
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش