0
Monday 19 Sep 2022 19:55
آئی اے ای اے کیجانب سے 3 مقامات کی انکوائری بند کرنیکا عندیہ

آئی اے ای اے صادق اور نئی پیشکش کے ذریعے زیادہ دباؤ کی پالیسی آگے بڑھانے سے باز رہے، محمد اسلامی

آئی اے ای اے صادق اور نئی پیشکش کے ذریعے زیادہ دباؤ کی پالیسی آگے بڑھانے سے باز رہے، محمد اسلامی
اسلام ٹائمز۔ ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ اور ملک کے نائب صدر محمد اسلامی نے قومی ٹیلیویژن کے ساتھ گفتگو کی ہے جس میں انہوں نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ ردوبدل ہونے والے حالیہ پیغامات پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان پیغامات میں عندیہ دیا گیا ہے کہ آئی اے ای اے 3 ایرانی مقامات کے حوالے سے جاری انکوائری کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ قومی نیوز چینل کے ساتھ گفتگو میں محمد اسلامی کا کہنا تھا کہ علاج معالجے کے میدان میں حال ہی میں تہران کے 3 مریضوں پر پلازما تھراپی ایپلائی کی گئی ہے جس کے مثبت نتائج رونما ہوئے ہیں جبکہ ان تجربات سے ہمارا مقصد اپنی جوہری صنعت کی گوناگوں کامیابیوں کے ذریعے اس پرامن جوہری پروگرام کا رستہ روکنے والے سیاسی ماحول کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نالج بیسڈ کمپنیوں کے میدان میں بھی ہم نے ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے تحت محققین و سرمایہ کاروں کے درمیان رابطہ کاری کا ایک مرکز ترتیب دیا ہے درحالیکہ غاصب صہیونیوں اور مغربی ممالک کی جانب سے گذشتہ 20 سالوں سے ہمارے پر امن جوہری پروگرام کے خلاف پراپیگنڈوں و بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی جیسے عالمی پلیٹ فارموں میں غاصب صیہونی رژیم کی ایماء پر منافقین کی جانب سے 20 سال قبل ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف ایک کمپین شروع کی گئی تھی جو بالآخر ایران کے خلاف سنگین پابندیوں کے عائد کئے جانے پر منتج ہوئی۔

ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جاری ایرانی جوہری مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف رہنماؤں کی جانب سے گذشتہ 20 سال کے عرصے میں مذاکرات انجام دیئے جاتے رہے جن کے نتیجے میں ایک معاہدہ حاصل ہوا جس کے 2 اصلی حصے تھے؛ ایک حصے کے مطابق ہم نے شفافیت اور اعتماد سازی کے لئے اپنی پیشرفت کی رفتار کو کم کر دیا اور انہوں نے اپنی نگرانی کی شرح بڑھا لی جبکہ اس معاہدے کے دوسرے حصے کے خلاف مغرب نے اپنے بے بنیاد الزامات کے سلسلے کو روکا اور نہ ہی اپنے عہدوپیمان پر عملدرآمد کیا بلکہ وہ معاہدے سے ہی یکطرفہ طور پر دستبردار ہو گیا! محمد اسلامی نے کہا کہ اب وہ دوبارہ ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) میں شمولیت کے خواہاں ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ مسائل نئے اور ایرانی جوہری معاہدے سے جدا ہیں درحالیکہ یہ مسائل سال 2003ء سے موجود ہیں اور آج 2022ء میں کوئی نیا حادثہ وقوع پذیر نہیں ہوا! انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات اسرائیل کی جانب سے لگائے گئے ہیں جبکہ اس وقت غاصب صیہونی رژیم عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے لئے نمونہ عمل بن چکی ہے جبکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم ان منافقین (مجاہدین خلق) کی پیروی شروع کر دے کہ جن کے ہاتھ ہزاروں بے گناہ ایرانیوں کے ناحق خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

ایرانی نائب صدر نے کہا کہ گذشتہ حکومتوں کی جانب سے انجام پانے والے مذاکرات میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ہمیں کچھ اطلاعات موصول ہوئی ہیں لہذا ہمیں 4 جوہری مقامات تک دسترسی دی جائے تاکہ ہم ان سے متعلق انکوائری کیسز کو ختم کر دیں تاہم اس حوالے سے بھی ان کے پاس کوئی معتبر شواہد موجود نہ تھے۔ محمد اسلامی نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ کے ساتھ گذشتہ سال دستخط ہونے والی مفاہمت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رافائل گروسی کے ساتھ ہمارا اتفاق نظر ہوا اور وہ بیان جاری کیا گیا جس میں ہم نے کہا تھا کہ آپ اپنے سوالات ہمارے حوالے کر دیں جن کے جوابات ہم انکوائری کیسز کے خاتمے پر آپ کو مہیا کر دیں گے جس پر آئی اے ای اے کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے 2 جوہری مقامات کے کیسز بند کر دیں گے جبکہ مزید 2 کے بارے ایران بیشتر شفافیت ظاہر کرے جس کے بعد ان 2 مقامات میں سے بھی 1 کے بارے انکوائری بند کی گئی جو پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ شروع کر دی گئی جبکہ وہ ایک متروکہ مائن تھی جس پر گذشتہ 30 سالوں سے کوئی کام ہی انجام نہیں دیا گیا۔

انہوں نے ایران کی جانب سے عدم جوہری پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) پر مکمل عملدرآمد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں ایسی کوئی جوہری سرگرمی نہیں جس کے بارے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو مطلع نہ کیا گیا ہو یا آئی اے ای اے اس سے بے خبر ہو جبکہ ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے زیر نگرانی انجام پا رہی ہیں تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی اور اس کے سربراہ کو آئی اے ای اے کی قانونی حیثیت کا تحفظ کرنا چاہیئے۔ محمد اسلامی نے کہا کہ اب عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے پیغامات ارسال کے گئے ہیں کہ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس کیس کو بند کرنا چاہتی ہے البتہ ہمیں امید ہے کہ آئی اے ای اے صادق رہے گی اور ہمارا وقت مزید ضائع نہ کرے گی اور یوں ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی اپنی پالیسی آگے بڑھانے سے بھی باز رہے گی البتہ اس حوالے سے مذکورہ انکوائری کیسز کے خاتمے سے متعلق سیاسی عزم کی موجودگی اہم ہے جبکہ اس وقت یہ سیاسی ارادہ دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے جو مذکورہ کیسز کے خاتمے کے لئے استعمال ہونا چاہیئے۔

ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو دی جانے والی ایرانی پیشکش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ای اے کی جنرل اسمبلی میں ہماری جانب سے پیش کی گئی حتمی و واضح پیشکش جوہری ہتھیاروں سے عاری مشرق وسطی پر مشتمل ہے۔ محمد اسلامی نے کہا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے حالیہ اجلاس میں ایران کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کا بہت سے ممالک کی جانب سے منفی جواب دیا گیا جس میں ایک اہم پیغام پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پھر صرف 4 شقوں پر مبنی ایک بیان ہی جاری ہوا جس کی چوتھی شق میں یورپی ممالک کا موقف بیان کیا گیا تھا۔ انہوں نے عالمی سطح پر کی جانے والی صیہونی سازشوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس دوران غاصب صیہونی رژیم این پی ٹی معاہدے میں تبدیلیاں لا کر اس میں اپنا کردار بھی شامل کرنا چاہتی ہے تاہم اس مقصد میں اسے تاحال باقی اراکین کی حمایت حاصل نہیں ہو پائی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے یورپی ممالک کی نیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 1 سال کے دوران ایسی علامات و شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی ممالک معاہدے میں واپس آنا چاہتے ہیں تاہم ان کی حقیقی نیت ایران کو تنہاء کرنا ہے جبکہ وہ معاہدے کے ذریعے ایک طرح سے ایران کو کمزور کرنے کے لئے مزید وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی گفتگو کے آخر میں انہوں نے تاکید کی کہ یورپی ممالک، ایران کی جانب سے فیول سائیکل کے حصول کے مخالف ہیں کیونکہ فیول سائیکل کا حصول طاقت کی علامت ہے جبکہ یورپی ممالک انقلاب اسلامی کی کامیابی سے قبل بھی اس بات کے خلاف تھے۔
خبر کا کوڈ : 1015176
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش