0
Tuesday 20 Sep 2022 16:23

وفاقی شرعی عدالت میں ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف درخواست کی سماعت

وفاقی شرعی عدالت میں ٹرانس جینڈر  ایکٹ کے خلاف درخواست کی سماعت
اسلام ٹائمز۔ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف درخواست کی سماعت میں وفاقی شرعی عدالت نے سینیٹر مشتاق احمد خان اور فرحت اللہ بابر کی فریق بننے کی درخواستیں منظور کر لیں۔ وفاقی شرعی عدالت میں خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سینیٹر مشتاق احمد خان، فرحت اللہ بابر، الماس بوبی سمیت دیگر افراد کی فریق بننے کی درخواستیں منظور کرلیں۔ عدالت نے تمام فریقین کو اپنی گزارشات تحریری طور  پر جمع کروانے کی ہدایت کردی۔
 
درخواست گزار فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ بل بنتے وقت پوری اسمبلی نے بل کو منظور کیا تھا، بل بنتے وقت میں اس سارے عمل میں شامل تھا، بل پر کیا اعتراضات تھے اور کیا بحث ہوئی عدالت کو بتانا چاہتا ہوں، دو بلوں کو ملا کر ایک بل بنایا گیا تھا۔ سینیٹر مشتاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں نیا بل جمع کروایا گیا ہے، کسی کو اپنی مرضی سے جنس بدلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ خواجہ سرا نایاب نے دوران سماعت ٹرانس جینڈر کی جانب سے سوشل میڈیا بحث پر پابندی کی استدعا کی۔
 
قائم مقام چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ خواجہ سراؤں کے حقوق کا ہے، جس کے بھی جو حقوق ہیں وہ ملنے چاہئیں، کمیونٹی کو تحفظ اور حق دینا ہی اصل مقصد ہے، کوئی آنکھیں بند کرلے تو وہ نابینا نہیں بن جائےگا۔ قائم مقام چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خواجہ سراؤں کے کوٹے کے لیے حکومت کا کیا طریقہ کار ہے؟ یہ نہ ہو کہ نوکری کے لیے کوئی خواجہ سرا کا شناختی کارڈ بنوالے۔ نمائندہ وزارت انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کے ایکٹ پر عمل درآمد سے ہم جنس پرستی کو فروغ نہیں ملتا، خواجہ سراؤں کو نوکریاں دینے کا باقاعدہ طریقہ کار ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
خبر کا کوڈ : 1015321
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش