0
Tuesday 20 Sep 2022 21:43

کشمیر میں زیارتگاہوں، آستانوں اور خانقاہوں میں سیاستدانوں کی دستاربندی پر پابندی

کشمیر میں زیارتگاہوں، آستانوں اور خانقاہوں میں سیاستدانوں کی دستاربندی پر پابندی
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر وقف بورڈ نے وقف ایکٹ کے دائرے میں آنے والے تمام مذہبی مقامات پر سیاستدانوں کی دستار بندی پر پابندی عائد کردی۔ تاہم وقف حکمنامے کے مطابق مذہب کے لئے نمایاں کارکردگی انجام دینے والوں کی ان مقامات پر پیشگی اجازت حاصل کرنے کے بعد دستار بندی کی جاسکتی ہے۔ زیارت گاہوں اور آستانوں پر مجاوروں کی جانب سے جبری چندہ وصولنے پر پابندی عائد کرنے کے بعد جموں و کشمیر وقف بورڈ نے پیر کے روز ایک غیر معمولی فیصلے کے تحت تمام مذہبی مقامات پر لوگوں خاص کر سیاستدانوں کی دستار بندی پر مکمل پابندی عائد کی۔ حکم نامے کے مطابق جموں و کشمیر وقف بورڈ کو مسلسل شکایتیں موصول ہو رہی تھیں کہ آستانوں، زیارت گاہوں اور خانقاہوں میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کی ان مقامات پر حاضری کے دوران اُن کی دستار بندی کی جاتی ہے۔

حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ سیاسی رہنماؤں کو مزارات پر مدعو کرکے اُن کی دستار بندی پارٹی وابستگیوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے تاکہ مقدس مذہبی مقامات پر سیاسی ایجنڈے کو فروغ دیا جاسکے۔ جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے آفیسران کو ہدایت دی کہ اس پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی مقامات جن میں خانقاہ، مساجد اور دارالعلوم شامل ہیں کو صرف مذہبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے استعمال میں لایا جاسکتا ہے اور ایسی جگہوں پر ان لوگوں کی دستاربندی ہونی چاہیئے جنہوں نے اس فیلڈ میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہوں۔ آرڈر میں مزید لکھا گیا ہے کہ لوگوں کے جذبات و احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے وقف ایکٹ 1995 کو بروئے کار لا کر زیارتگاہوں، آستانوں اور خانقاہوں میں سیاسی لیڈروں کی دستار بندی پر مکمل طورپر پابندی عائد کی گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 1015337
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش